نئی غزل کا نیا موسم


 

(ناصرہ زبیری کی شاعری کا نیا مجموعہ ”بے موسمی خواہشیں“ )

شاعری میں کچھ آوازیں ایسی ہوتی ہیں جو دھیرے دھیرے دلوں میں گھر کرتی ہیں، مگر ایک بار اگر سن لی جائیں تو پھر مدتوں ساتھ نہیں چھوڑتیں۔ ناصرہ زبیری کی آواز بھی ایسی ہی ہے۔ مہذب، شائستہ، دھیما لہجہ، جس میں نہ بلند آہنگی ہے نہ خطابت کی جھلک، بس ایک خاموش مکالمہ ہے جو قاری کے باطن میں اُترتا چلا جاتا ہے۔ اُن کی تازہ کتاب ”بے موسمی خواہشیں“ اُن کی اسی خاموش مگر گہرے مکالمے کا ایک خوبصورت تاثر ہے۔

”شگون“ سے ”بے موسمی خواہشیں“ تک ناصرہ زبیری کا تقریباً تیس برس کا سفر ہے، ایک شعری زندگی جو مسلسل ارتقاء کی راہ پر ہے۔ اس طویل تخلیقی سفر میں ان کی فکر کی گہرائی بھی بڑھی، اظہار میں نکھار بھی آیا اور شاعری میں وہ فنی پختگی پیدا ہوئی جو صرف وقت، مطالعے، اور داخلی مشاہدے سے آتی ہے۔ ہر نئے مجموعے کے ساتھ ناصرہ نے یہ ثابت کیا ہے کہ شاعری اُن کے لیے فقط اظہار نہیں بلکہ ایک مسلسل زیست ہے۔ ناصرہ زبیری کی مصروف زندگی میں بھی ان کی تخلیقی خواہش نمو جاگی رہتی ہے اور انہیں بھی جگائے رکھتی ہے۔ ان کی سخن طرازی کی آنچ کبھی دھیمی نہیں ہوئی اور شعری پیشرفت نے ہمیشہ ان کے ہونے کا اعلان کیا۔

افتخار عارف نے بجا طور پر لکھا ہے : ”ناصرہ زبیری، اردو شاعری کی عصری تاریخ میں نسائی روایت کے حوالے سے پروین شاکر کے بعد منظر عام پر آنے والی شاعرات میں بہت نمایاں نام ہے۔ ادب کے سنجیدہ ادبی حلقوں میں ان کا کلام توجہ سے پڑھا اور سنا جاتا ہے۔“ یہ بات نہ صرف ناصرہ کی نسائی پہچان کا حوالہ ہے بلکہ ان کے فکری مقام کی طرف بھی اشارہ ہے، کہ وہ انفرادیت کے ساتھ روایت میں نئی معنویت پیدا کرتی ہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں ناصرہ کی شاعری میں نسائیت بطور علامت نہیں بلکہ بطور شعور شامل ہے۔ ایسا شعور جو ہمدردی، سوال، اور خود آگہی کے دریچے کھولتا ہے۔ ان کی غزلوں میں عورت محض مظلوم کردار نہیں بلکہ ایک فاعل وجود ہے جو وقت، محبت، معاشرت اور تنہائی کے ساتھ نبرد آزما ہے۔ وہ نہ نعرہ بناتی ہیں، نہ مظلومیت کو رومانوی پیرایہ دیتی ہیں، بلکہ اپنے عہد کی پیچیدگیوں کو ذمہ داری سے بیان کرتی ہیں۔

ان کے اشعار کی سب سے بڑی خوبی یہی ہے کہ وہ روایت کی زبان میں غیر روایتی تجربہ رقم کرتی ہیں۔ وہ کسی خاص لب و لہجے کا تکلف روا نہیں رکھتیں۔ سیدھے سادے اشعار میں ایسی گہرائی پیدا کر دیتی ہیں جو چونکا دیتی ہے۔ جینوئن شاعر کا کمال یہی ہے کہ وہ پُرانے کو نیا کر کے پیش کر دیتا ہے اور ساتھ ساتھ ایک لطف اور مزے کا اہتمام بھی روا رکھتا ہے۔

ناصرہ زبیری کی غزل نہ صرف جذبے، خیال اور احساس کی عمدہ آمیزش ہے بلکہ وہ فن کی اصل روح۔ یعنی تاثیر۔ سے بھی مالا مال ہے۔ ان کی شاعری میں وہ تین بنیادی خوبیاں موجود ہیں جو کسی بھی فن کو بلندی عطا کرتی ہیں : اوریجنلٹی، سادگی، اور برجستگی۔ ناصرہ کی شاعری میں یہ تینوں خصوصیات اپنے ابتدا ہی سے پوری شدت و حدت کے ساتھ موجود رہی ہیں اور اس خوبصورتی سے کہ آدمی ایک ایک شعر پر چونک اٹھتا ہے۔

ان کی شاعری میں غم، تنہائی، محبت، سماجی تجربات، عورت کی داخلی کشمکش، اور وقت کی تلخیاں، سب ایک ایسے خوبصورت تخیل اور نازک احساس سے بیان ہوئے ہیں کہ قاری کی رگوں میں لہو کی طرح اترتے ہیں۔ وہ اپنے تجربے کو محض بیان نہیں کرتیں، اس میں ایک تخلیقی تخیل کی آمیزش سے فن کا درجہ عطا کرتی ہیں۔ ناصرہ زبیری نے روایتی غزل کو نئی جہات دی ہیں۔ انہوں نے بتایا ہے کہ کلاسیکی سانچوں میں بھی نئی روح پھونکی جا سکتی ہے، اور اظہار کا وہ لطف پیدا کیا جا سکتا ہے جو نہ صرف دل کو چھو لے، بلکہ ذہن کو جگا دے۔

یہاں میں ناصرہ زبیری کے دو تین اشعار اور صرف ایک نظم کا تجزیہ کرنا چاہوں گا۔ آپ کو اس مجموعے میں کئی ایسے اشعار مل جائے گے جن میں آپ کو نیا زاویہ نظر آئے گا۔ مثلاً ایک شعر دیکھیے :

بار ہیں نظارگی پہ کھیل تیرے زندگی
بند آنکھوں سے تماشا گاہ میں بیٹھے ہیں ہم

ناصرہ زبیری کا یہ شعر اپنے اندر عصرِ حاضر کی داخلی تھکن، نفسیاتی کشمکش، اور وجودی اضطراب کی گونج سموئے ہوئے ہے۔ یہاں ”نظارگی“ محض دیکھنے کی حالت نہیں بلکہ اُس ذہنی اور جذباتی کشش کی علامت ہے جو انسان کو زندگی کے مناظر سے جوڑتی ہے۔ لیکن شاعرہ اس صلاحیت کو بھی ”بار“ قرار دیتی ہیں۔ گویا وہ اب نظارہ کرنے سے، شرکت کرنے سے، یا جذبے کے ساتھ دیکھنے سے تھک چکی ہیں۔ زندگی، جسے یہاں کھیل کی مانند بیان کیا گیا ہے، اب دیکھنے کے قابل بھی نہیں رہی۔ دوسرے مصرعے میں یہ کیفیت مزید گہری ہو جاتی ہے جب وہ کہتی ہیں کہ ”بند آنکھوں سے تماشا گاہ میں بیٹھے ہیں ہم“ ۔ یہ تماشا گاہ وہی دنیا ہے، زندگی کا ہنگامہ ہے، مگر اب وہ اس میں نہ دیکھنے کی خواہش رکھتی ہیں، نہ شریک ہونے کی تاب۔ آنکھوں کا بند ہونا یہاں بے حسی نہیں بلکہ شعور کی ایک بلند تر حالت کی علامت ہے۔ وہ تھکن جو بہت کچھ دیکھ لینے کے بعد طاری ہوتی ہے۔ ناصرہ زبیری کی یہی قوتِ بیان، کہ وہ سادہ اور شائستہ زبان میں ایک پوری داخلی کائنات کی تصویر کھینچتی ہیں، اُن کی غزل کو محض غزل نہیں، ایک فکری تجربہ بنا دیتی ہے۔ اس شعر میں زندگی سے ایک خاموش احتجاج بھی ہے اور اپنی ذات کے ساتھ ایک گہری وابستگی بھی۔ جس کی گواہی اس کی بے نیاز مگر چبھتی ہوئی زبان دیتی ہے۔ ایک اور شعر دیکھیے :

پڑی ہے بارِدگر ناصرہ نظر اُن کی
دلِ تباہ کو اب اور بھی تباہ سمجھ

یہ شعر محبت کے جمالیاتی سانچے میں ڈھلا ہوا وہ دکھ ہے جو نہ محض ذاتی ہے، نہ سراسر رومانوی، بلکہ ایک فکری لطافت کے ساتھ جذبات کی تہہ سے ابھرتا ہے۔ اس میں ایک خاموش حسرت، ایک شکست خوردہ دل کی شکست کی تکرار، اور محبوب کی بے نیازی کے سامنے اپنی بے بسی کا وہ لمحہ ہے جو وقت کے کٹہرے میں جیسے منجمد ہو گیا ہو۔

پہلے مصرعے میں ”بارِ دگر“ یعنی دوبارہ نظر پڑنے کا ذکر ہے، مگر یہ نظر کوئی فیض رساں یا خوابناک کیفیت نہیں، بلکہ ایک پرانی کسک کو اور زیادہ گہرا کرنے والا تجربہ بن جاتی ہے۔ ”نظر اُن کی“ کا مطلب محض نگاہ ڈالنا نہیں، بلکہ اُس جذباتی جھٹکے کی طرف اشارہ ہے جو ایک حساس دل کو محبوب کی موجودگی یا نظر کی غیر متوقع لپک سے محسوس ہوتا ہے۔ اس میں ناصرہ کا اسلوبی جمال دیکھنے سے تعلق رکھتا ہے : نامانوس لفظ یا پیچیدہ اظہار کی بجائے، وہ سادہ ترکیبوں سے شدید جذبات کی تصویر گری کرتی ہیں۔

دوسرا مصرع، ”دلِ تباہ کو اب اور بھی تباہ سمجھ“ ، صرف ایک احساس کی شدت کا بیان نہیں بلکہ اس شدت کی بے بسی کا اعتراف ہے۔ شاعرہ جانتی ہے کہ دل پہلے ہی تباہ تھا، شکستہ تھا، مگر وہ نظر، وہ ایک لمحے کا رابطہ، گویا مزید ویرانی کا پیغام بن گیا۔ یہاں تباہی محض رومانی شکست کا استعارہ نہیں، بلکہ اس داخلی صدمے کا عکس ہے جو خاموشی سے، مہذب لہجے میں، اپنی شدت سمیٹے ہوئے ہے۔

یہی وہ شعری چابک دستی ہے جو ناصرہ زبیری کی غزل کو روایت سے جوڑتی بھی ہے اور اس میں انفرادیت کا رنگ بھی بھرتی ہے۔ یہ شعر نہ صرف دل کو چھوتا ہے، بلکہ دل کے دکھ کو ایک جمالیاتی وقار عطا کرتا ہے۔ اس میں ہجر کی شدت ہے، مگر شور نہیں ؛ ایک سلیقہ ہے دکھ جتانے کا، جو ناصرہ کی شاعری کو اپنی نوعیت میں خاص بناتا ہے۔ ایک اور نسبتاً رومانوی مضمون کا شعر ہے :

رونقِ شہر رہے تیرے قدم تک آباد
تُو گزر جائے تو ویرانی جادہ بولے

لیکن یہ شعر محض جمالیاتی اظہار نہیں بلکہ ایک مکمل کیفیاتی منظرنامہ ہے، جو محبوب کی موجودگی کو زندگی کی علامت، اور اس کے گزر جانے کو معنوی ویرانی کے آغاز کے طور پر پیش کرتا ہے۔ اس شعر میں فضا، کیفیت، احساس اور تمثیل اس قدر ہم آہنگ ہو جاتے ہیں کہ پورا منظر ایک خاموش فلم کی طرح آنکھوں کے سامنے ابھرنے لگتا ہے۔

پہلے مصرعے میں ”رونقِ شہر“ کی نسبت محبوب کے قدموں سے کی گئی ہے۔ یہ تشبیہ محض رومانوی لفاظی نہیں بلکہ اس فکر کی غماز ہے جو محبوب کو زندگی کا مرکز سمجھتی ہے۔ یہاں محبوب صرف فرد نہیں، ایک ایسی قوت ہے جو شہر کو، زندگی کو، کائنات کو معنی عطا کرتی ہے۔ ”قدم تک آباد“ کی ترکیب نہایت بصیرت افروز ہے، کیونکہ یہ محبوب کی موجودگی کے لمحاتی اور جسمانی اثر کو بھی ظاہر کرتی ہے۔ یہ وہ لمحہ ہے جب زمین زندہ ہے، فضا مہک رہی ہے، اور منظر روشن ہے۔

دوسرا مصرع اس روشنی کے اچانک غروب ہونے کی تمثیل ہے : ”تُو گزر جائے تو ویرانیِ جادہ بولے“ ۔ یعنی محبوب کے گزرنے کے بعد سڑک کی خامشی بھی چیخنے لگتی ہے۔ یہ تضاد، کہ سناٹا خود گویا بول اٹھے، ایک پراثر پیکر تراشی ہے۔ ناصرہ زبیری نے یہاں نہایت سادگی سے ایک گہری جمالیاتی بات کہی ہے : کہ اصل ویرانی وہ نہیں جو ظاہراً ہو، بلکہ وہ جو محبوب کے نہ ہونے سے در و دیوار پر طاری ہو جائے۔ جہاں راستے، جو چلنے والوں کی آہٹ کے عادی ہوں، یکایک تنہائی سے چونک اٹھیں۔

یہی ناصرہ زبیری کا کمال ہے وہ داخلی محسوسات کو خارجی منظرنامے کے ساتھ اس طرح ہم آہنگ کرتی ہیں کہ قاری ایک جذباتی اور بصری تجربہ بیک وقت محسوس کرتا ہے۔ شعر کے دونوں مصرعے ایک دوسرے کے عکس میں جڑے ہوئے ہیں اور قاری کو وقت کی ایک ایسی سطح پر لے جاتے ہیں جہاں محبوب کی موجودگی اور عدم موجودگی کے درمیان صرف ایک سایہ، ایک خامشی، یا ایک قدم کا فاصلہ رہ جاتا ہے۔

ظفر اقبال نے کہیں لکھا تھا کہ ناصرہ جب اتنی اچھی غزلیں لکھ سکتی ہیں تو انہیں نظم لکھنے کی کوئی ضرورت نہیں ہے۔ لیکن ناصرہ نے نظمیں لکھی ہیں اور خوب لکھی ہیں۔ میں یہاں ان کی ایک نظم ”وہم کی بے یقینی“ کا ذکر کرنا چاہتا ہوں جو ایک وجودی تشکیک، داخلی بے ثباتی، اور وقت و مکان کی سطح پر پھیلتی ہوئی بے مکانی کا ایسا شاعرانہ اظہار ہے جو جدید اردو نظم کے نمایاں امتیازات میں شمار کیا جا سکتا ہے۔

سفر بھی کٹ رہا ہے گفتگو میں
بہت ہے خوش طبیعت ہم سفر بھی
پڑاؤ بھی کئی آرام دہ ہیں
مگر اس سلسلے کی رہ گزر میں
کہیں مجھ سا ہے کوئی
میں نہیں ہوں
اگر خود میں نہیں ہوں اِس جگہ پر
تو پھر بتلائے کوئی
میں کہاں ہوں
کہیں شاید
کسی اک بے ارادہ سی مسافت کے سفر میں ہوں
جسے تعمیر ہونا ہی نہیں ہے
ایسے نگر میں ہوں

یہ نظم بظاہر ایک رواں دواں سفر کی بات کرتی ہے، لیکن درحقیقت یہ انسان کے اپنے باطن میں جھانکنے کی وہ شاعرانہ کوشش ہے جہاں مسافر کے قدم تو رواں ہیں، مگر اُس کا وجود اُس کے ساتھ نہیں۔ نظم کا بنیادی سوال یہ ہے : ”اگر خود میں نہیں ہوں اِس جگہ پر / تو پھر بتلائے کوئی / میں کہاں ہوں!“ یہ سوال صرف شعری نہیں، فکری اور فلسفیانہ بھی ہے۔ گویا شاعرہ ایک ایسے وجودی خلا میں کھڑی ہے جہاں خود کو تلاشنے کی جستجو، ایک مسلسل گمشدگی کی صورت اختیار کر چکی ہے۔

نظم کا آغاز جس انداز سے ہوتا ہے۔ سفر بھی کٹ رہا ہے گفتگو میں / بہت ہے خوش طبیعت ہم سفر بھی۔ وہ ایک عام، خوشگوار اور مانوس سی فضا قائم کرتا ہے۔ لیکن ناصرہ زبیری کا کمال یہی ہے کہ وہ قاری کو اس ظاہری سہولت میں کچھ دیر بٹھا کر اچانک ایک داخلی خلا کی طرف لے جاتی ہیں : مگر اس سلسلے کی رہ گزر میں / کہیں مجھ سا ہے کوئی / میں نہیں ہوں۔ یہاں ’میں‘ کا عدم موجود ہونا گویا ایک شناخت کے غائب ہو جانے کا اعلان ہے۔ یہ صرف جسمانی سفر نہیں، بلکہ وہ ذہنی و شعوری مسافت ہے جس میں خود اپنی ذات اجنبی ہو جاتی ہے۔

نظم کا آخری بند۔ کہیں شاید / کسی اک بے ارادہ سی مسافت کے سفر میں ہوں / جسے تعمیر ہونا ہی نہیں ہے / ایسے نگر میں ہوں! ۔ نہ صرف نظم کے عنوان ”وہم کی بے یقینی“ کی تشریح بن کر ابھرتا ہے، بلکہ اُس زندگی کا عکس بھی ہے جو بظاہر متحرک، مگر معنوی طور پر منجمد ہو چکی ہے۔ بے ارادہ سفر، غیر تعمیری مسافت، اور ایک ایسے نگر کا حوالہ جسے وجود کی زمین پر کبھی تعمیر ہی نہیں ہونا۔ یہ سب استعارے اُس داخلی اداسی کے ہیں جو بظاہر خوش باش زندگی کے پیچھے موجود ہوتی ہے۔

یہ نظم ناصرہ زبیری کے اس اسلوب کی بہترین مثال ہے جس میں سادگی اور سنجیدگی، علامت اور جذبہ، بے یقینی اور شعور، سب ایک دوسرے سے پیوست ہو کر ایک ایسی شعری کائنات بناتے ہیں جو قاری کو صرف متاثر نہیں کرتی، بلکہ اُسے اپنے وجود کی تہوں میں جھانکنے پر بھی مجبور کر دیتی ہے۔

”بے موسمی خواہشیں“ اُن خواہشوں کی شاعری ہے جو موسموں کی پابند نہیں، جو ہر لمحہ تازہ، ہر جذبہ زندہ اور ہر خیال روشن رکھتی ہیں۔ یہ مجموعہ بیک وقت ذاتی محسوسات کی بازگشت بھی ہے اور سماجی شعور کا آئینہ بھی۔ اس میں ہر غزل، ہر نظم جیسے ایک مستقل جزیرہ ہے جہاں قاری کچھ دیر ٹھہر کر، خود کو دریافت کرتا ہے۔ ”بے موسمی خواہشیں“ ناصرہ زبیری کی شاعری کا صرف ایک نیا مجموعہ نہیں، بلکہ ان کی تخلیقی بصیرت، شعری جمالیات، اور فکری بلوغت کا عکاس ہے۔ یہ کتاب اردو شاعری کے سنجیدہ قارئین کے لیے ایک بیش قیمت تحفہ ہے۔ اس کا ہر صفحہ ایک نئے احساس، ایک نئی تازگی، اور ایک نئی فکری روشنی سے مزین ہے۔ یہی وہ روشنی ہے جو اردو ادب کے افق پر ناصرہ زبیری کے نام کو اور زیادہ تابندہ بناتی ہے۔

Facebook Comments HS