دشمنی
دشمنی کیوں کر پیدا ہوتی ہے؟ دشمنی کیوں پالی جاتی ہے؟ دشمنی کیوں نبھائی جاتی ہے؟ کیا دشمنی کرنا، پالنا، نبھانا محض نقصان دہ ہے یا اس کا کوئی فائدہ بھی ہوتا ہے؟
اگر سب کچھ سب کا ہو، سب ایک دوسرے کا بھلا چاہیں، سب ایک دوسرے کے معاون و مددگار ہوں تو دوستی نہ سہی یگانگت بہر طور رہے لیکن دشمنی ہرگز نہ ہوگی۔
دشمنی کی عمومی وجوہ تو اکثر بیان کی جاتی ہیں یعنی زر، زن، زمین۔ یہاں زر سے مراد وسائل، منافع، دولت ہے۔ زن کے معنی تو مادہ انسان ہیں لیکن دشمنی کے سبب کے طور پر اسے زیر تصرف چیز سمجھا جاتا ہے اور ژندہ وجود کے طور پر اس ضمن میں اہم ترین عضو شرم گاہ خیال کیا جاتا ہے، جس کا تحفظ یا اپنے اپنے تئیں جائز استعمال مردوں کا حق اور اس کی کسی غیر مرد کی جانب سے ارادی یا جبری بے حرمتی کو موجب فساد۔ زمین زرعی بھی ہو سکتی ہے اور کوئی ملک بھی جس پہ کہنے کو ایک قوم کا قبضہ یا ملکیت ہو۔
تو کیا بہت دور دور واقع ملک ایران اور اسرائیل ہمیشہ سے ایک دوسرے کے بیری تھے۔ ایسا تو ہے نہیں نہ زر کا بٹوارہ، نہ زن کا بکھیڑا اور نہ زمین کی ملکیت کا جھنجھٹ۔
دو کیفیات ہوتی ہیں زعم اور عصبیت۔ زعم اعلیٰ ہونے کا اور عصبیت ممتاز ہونے کی۔ کہیں کی بھی غیر مقبول یا زبردستی مقبول گردانی گئی ہیئت مقتدرہ کسی زعم کو جو فوری بھی ہو سکتا ہے اور تاریخی بھی، اپنے ملک کے عوام میں اپنی ساکھ بنانے، بنائے رکھنے یا اس میں اضافہ کرنے کی غرض سے عصبیت کو جو قومی بھی ہو سکتی ہے، لسانی بھی اور ثقافتی یا مذہبی بھی کام میں لاتی ہے اور لوگوں کو زعیم و ممتاز ہونے کا احساس دلا کر کسی دوسرے کو اپنا دشمن اور۔ خود کو اس کا دشمن ظاہر کرتی ہے اور اس احساس کو برقرار و بیشتر کرنے کی غرض سے تمام تر ہتھکنڈے استعمال کرتی ہے۔
اب جھگڑا تو زمین اور معاندانہ مذاہبِ کے سبب عربوں اور یہودیوں کا ہے جو خود اپنی اساس میں عرب ہیں یعنی عرب اور عزرائیلی ایک دوسرے کے عم زاد ہیں تو یہ عجم اس معاندت میں کہاں سے در آیا؟
پیچھے جاتے ہیں۔ یہودیوں کا دعویٰ ہے کہ خدا نے یہ سرزمین انہیں عطا کی تھی، مذہبی قصائص کی رو سے تو وہ کچھ نئی بات نہیں کر رہے لیکن تاریخی طور پر یہاں لوگ ان کے آنے سے پہلے بھی بستے تھے، اگرچہ تصور یہی ہے کہ یہودیوں کو غلام بنا کر مصر لے جایا گیا تھا پھر یہ اللہ کے حکم سے ہی اپنی سرزمین پر لوٹے تھے۔
مگر یہاں آ کر انہوں نے فلسطینیوں کو Philistines یعنی اجڈ، گھٹیا، گنوار، انسانوں سے کم تر کہا اور مذہبی طور پر ویسے ہی جیسے عرب فارس کو زعم اور عصبیت کی بنیاد پر عجم کہتے، یہودیوں نے غیر یہودیوں کو Gentile کہا، ایسے جیسے ہندوستان سے آئے اردو اور اردو کے لہجے والی زبانیں بولنے والے لوگوں نے مقامی سرائیکی لوگوں کو ”گھنسو“ اور پنجابی بولنے والوں کو ”ڈھگے“ کہا۔
ایک زمانہ میں جب ایران میں شاہ ہوتا تھا تو ایران کو مشرق وسطیٰ کا تھانیدار کہا جاتا تھا اور امریکہ کو اس تھانیدار کا سرپرست۔ ایران میں شاہ اور امریکہ دونوں کی مخالفت کی بنیاد پر انقلاب برپا ہوا جسے اسلامی انقلاب نام دے دیا گیا جب کہ یہ سب مل کر لائے تھے خاص کر ایرانی کمیونسٹوں کی پارٹی حزب تودہ کے اراکین۔
خیر، امریکہ نے ایران کی کلاہ زعم اتار کے سعودیہ کے سر پر رکھ دی۔ ایرانی ملا ہیئت مقتدرہ اگر سعودیہ سے فاش دشمنی پالتی تو یہ شیعہ سنی دشمنی کہلاتی جو مسلمانوں کے بیچ ہی ہوتی چنانچہ یہ پالی تو گئی لیکن خفی انداز میں جس کا مرکز ہمسایہ ملک پاکستان رہا جبکہ عیسائیوں سے دشمنی پالنے کے لیے لبنان کا انتخاب کیا گیا جہاں جھگڑا پہلے سے تھا۔
پاکستان کا 1948 سے جب اسرائیل بہ طور ریاست کے معرض وجود میں آیا، یکساں موقف رہا کہ جب تک استصواب رائے کے ذریعے فلسطینی عوام کو ان کی ریاست کا حق نہیں ملتا تب تک ریاست پاکستان اسرائیل کو ریاست تسلیم نہیں کرے گی۔ اس موقف میں انسانی ہمدردی، بنیادی انسانی حق کے علاوہ فلسطینیوں کا ہم۔ مذہب ہونا بھی شامل ہے۔
پاکستان نے ہندوستان کی پہل کے سبب جوہری ہتھیار محض اس لیے وضع کیے تاکہ ہندوستان کے ساتھ متوازن عسکری موازنہ برقرار رکھا جا سکے۔ پاکستان کے جوہری ہتھیار کسی اور ملک بشمول اسرائیل کے دھمکانے کے لیے نہیں تھے اور نہ ہیں اور پھر پاکستان اسرائیل کو دھمکانے بھی تو کس لیے، کوئی براہ راست مخاصمت آرائی تو ہے نہیں لیکن پاکستان کے جوہری ہتھیار باقی دوست عرب ملکوں کے لیے سہارا بن گئے اور ساتھ ہی اسرائیل جو جنوبی افریقہ کی طرح غیر اعلان شدہ تیار کیے گئے مبینہ طور پر جوہری ہتھیاروں کی ملکیت کا حامل تصور ہوتا ہے، اسے کان بھی ہو گئے۔
لیکن ایران اپنے مسلک سے متضاد بلکہ بعض اوقات متصادم مسلک رکھنے والے ملکوں کے ساتھ ہم آہنگی محسوس نہیں کرتا چنانچہ وہاں کی ملا کریسی نے، مغرب کے الزامات کے مطابق جوہری توانائی کی توضیع کی آڑ میں یورینیم کو جوہری ہتھیار ڈھالے جانے کی حد تک افزودہ کرنے کا عمل جاری رکھا اور اس بارے میں چھپایا بھی کبھی نہیں لیکن مصر رہا کہ وہ یہ سب پر امن جوہری توانائی کے حصول کی خاطر کر رہا ہے۔
ساتھ ہی اسرائیل کو صفحہ ہستی سے نابود کرنے کی دھمکیاں بھی مسلسل دیتا رہا۔ ایسی دھمکی نہ کبھی پاکستان نے ہندوستان کو نہ ہندوستان نے پاکستان کو نہ چین نے ہندوستان کو نہ روس نے امریکہ کو اور نہ امریکا نے چین کو کبھی دی لیکن ایرانی حکام اس سے کم دھمکی نہیں دیتے، اسرائیل بھی کبھی ویسے ہی جواب دیتا لیکن اس کی زیادہ حماس والوں سے ٹھنی ہوئی تھی یا تھوڑی بہت ایرانی حمایت یافتہ لبنان کی حزب اللہ سے۔
جب سے برطانیہ کے تعاون سے بالفور معاہدے کے تحت اسرائیل کا وجود سامنے آیا تب سے فلسطینیوں کے لیے دنیا بھر کے مسلمان ملکوں اور مسلمانوں کی ہمدردی، تعاون اور معاونت جاری رہی ہے لیکن اگر کسی نے منظم طور پر اپنے ملک میں اور ملک سے باہر ہم مسلک اور حمایت یافتہ لوگوں نے باوجود فلسطینیوں میں بہت ہی کم اپنے ہم مسلک ہونے کے منظم سالانہ احتجاجی سرگرمی ”یوم القدس“ کے نام سے شروع کی اور جاری رکھی وہ ایران ہی تھا اور ہے۔
ڈیڑھ برس پہلے جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کیا جس کے جواب میں اسرائیل نے بربریت کے سارے ریکارڈ توڑ دیے، ہزاروں بچوں سمیت بے تحاشا آبادی کو ہلاک یا بے گھر کر دیا تو اسرائیل کے خلاف دنیا بھر کے انسان دوست لوگوں میں غم و غصہ بھر گیا۔ لیکن ایران نے غم و غصہ کے اظہار کی بجائے ایک بار پھر شد و مد سے اسرائیل کو نابود کرنے کا ذکر کرنا شروع کیا اور ساتھ ہی اعلان کر دیا کہ ہم یورینیم کو انتہائی افزودہ کر چکے ہیں۔
دنیا پاکستان کے جوہری ہتھیاروں کے نواح میں اور ملک کے اندر دہشت گردوں کی موجودگی اور سرگرمی سے دہلی ہوئی ہے چہ جائے کہ متشدد مزاج مذہبی ریاست کے پاس ایسا ہتھیار آ جائے جو جب ایک کے پاس تھا تو تجربہ کے لیے چلایا گیا تھا لیکن دوسرے کے پاس آیا تو 80 برس سے کسی نے اس حماقت کا خطرہ مول نہ لیا، محض توازن کے لیے رکھے، لیکن یہ ریاست مغرب کے لیے ناقابل اعتبار جب کہ اسرائیل کے لیے مہلک ثابت ہو سکتی ہے، یہ خیال کیا گیا اور ایران کو معاملات حل کرنے کو کہا گیا۔ ٹرمپ کی دی گئی 60 روز کی مدت کے بعد 61 ویں روز اسرائیل نے ایران کے عسکری ٹھکانوں پر حملہ کر دیا اور عسکری حکام کو قتل کرنا شروع کیا۔
ایران نے جواب دینا شروع کیا اور دنیا کی توقع سے زیادہ جواب دیا چنانچہ یہ دشمنی ایران کے لیے سود مند اور اسرائیل و امریکا کے لیے نقصان دہ ثابت ہونے لگی۔ اسلامی ملکوں میں سے کچھ کی اور دنیا کے مسلمانوں میں سے اکثریت کی ہمدردی ایران کے لیے اور نفرت و انتقامی رویہ اسرائیل کے خلاف بڑھا۔
جنگیں زیادہ دیر تب ہی چلتی ہیں جب پشت پناہی اور معاونت حاصل ہو اور جاری رہے جیسے یوکرین کو مغرب کی حمایت و معاونت حاصل ہے یا جیسے افغانستان میں سوویت یونین کے خلاف جنگ میں پراکسی وار لڑنے والوں کو امریکہ اور مغرب کی حمایت حاصل رہی تھی۔ حمایت و معاونت نہ ہو تو جنگ چند ہفتوں یا ماہ ڈیڑھ ماہ سے زیادہ نہیں چلتی۔ تبھی اسرائیل کی کوشش ہے کہ امریکہ شامل ہو لیکن روس اور چین چاہتے ہیں کہ ایسا نہ ہو کیونکہ پھر انہیں ایران کی مدد کرنا ہوگی اور یوں مشرق وسطیٰ میں جنگ پھیلے گی اور ممکن ہے باقی دنیا میں بھی پھیل جائے۔
امریکا چاہے گا کہ روس ایران کی مدد کرے تاکہ یوکرین میں اس کی گرفت ڈھیلی ہو۔ چین چاہے گا کہ جنگ نہ پھیلے کیونکہ دنیا بھر میں اس کے معاشی مفادات کو شک پہنچے گی۔
چنانچہ وہی دو ہفتے ہیں جو ٹرمپ نے سادھے ہیں اس کے بعد یا چپ یا دھم دھم دھماکے۔


