آب بنائے ہرمز کی بندش، امریکی حملوں کے بعد اب ایران کیا کر سکتا ہے؟
دنیا کے اہم ترین بحری تجارتی راستوں میں سے ایک ”آبنائے ہرمز“ ہے جو خلیج فارس اور بحیرہ عرب کو آپس میں ملاتی ہے یہ تقریباً 39 کلومیٹر چوڑی آبی گزرگاہ ہے جو عالمی معیشت کے لیے ایک شہ رگ کی حیثیت رکھتی ہے تیل اور گیس سے مالا مال مشرق وسطیٰ کے ممالک اپنی توانائی کی برآمدات کا بیشتر حصہ اسی راستے سے دنیا کے دیگر حصوں تک پہنچاتے ہیں۔
آبنائے ہرمز دنیا کی سب سے مصروف ترین تیل بردار راستوں میں شامل ہے جہاں سے روزانہ اوسطاً 20 سے 30 ملین بیرل تیل گزرتا ہے جو کہ دنیا کے کل تیل کی تجارت کا تقریباً 30 فیصد بنتا ہے۔ اس آبی راستے کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ دنیا کی سب سے بڑی توانائی کی کمپنیاں اور ممالک اسی راستے پر پر انحصار کرتے ہیں ۔کون کون سے ممالک اس راستے پر انحصار کرتے ہیں؟
1۔ خلیجی ممالک
سعودی عرب
ایران
عراق
متحدہ عرب امارات
کویت
بحرین
قطر
یہ ممالک اپنی برآمدات خصوصاً خام تیل اور قدرتی گیس آبنائے ہرمز کے ذریعے یورپ، ایشیا اور امریکہ کے منڈیوں تک پہنچاتے ہیں۔
2۔ بڑے درآمد کنندہ ممالک
چین
جاپان
بھارت
جنوبی کوریا
یورپی یونین کے ممالک
یہ ممالک توانائی کے لیے مشرق وسطیٰ پر انحصار کرتے ہیں اور ان کی بڑی درآمدات اسی راستے سے ہوتی ہیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش کی صورت میں عالمی تجارت پر ممکنہ کیا اثرات مرتب ہو سکتے ہیں آئیے اس کا جائزہ لیتے ہیں۔
اگر آبنائے ہرمز بند ہو جائے تو عالمی منڈی میں تیل اور گیس کی فراہمی میں شدید کمی واقع ہو گی جس سے قیمتوں میں اچانک اضافہ ممکن ہے ایک دن کی بندش بھی عالمی منڈیوں میں شدید ہلچل پیدا کر سکتی ہے اب ایران نے امریکی حملے کے نتیجے میں آب بنائے ہرمز کی بندش کا اعلان کر دیا ہے۔
دنیا ایک بار پھر تاریکی کے دہانے پر کھڑی نظر آ رہی ہے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے سماجی رابطے کی ویب سائٹ ٹویٹر پر اعلان کیا ہے کہ امریکہ نے اپنے جدید ترین بی 2 اسپرٹ بمبار طیاروں کے ذریعے ایران کی تین اہم جوہری تنصیبات فردو، نطنز اور اصفہان کو کامیابی سے نشانہ بنایا اور تباہ کر دیا ہے اس حملے کے بعد خطے میں کشیدگی کی نئی لہر دوڑ گئی ہے جبکہ ایران نے فوری طور پر شدید جوابی کارروائی کا اعلان کیا ہے۔
اس صورتحال میں عالمی برادری کی نظریں اس بات پر جمی ہوئی ہیں کہ ایران کا ردعمل کیا ہو گا؟
ایران اپنی دفاعی تنصیبات کے حوالے سے فردو، نطنز اور اصفہان کو قومی خودمختاری اور سلامتی کے ستون تصور کرتا ہے اب ان مراکز پر امریکی حملوں کے نتیجے میں ایران عراق، شام، اور خلیج میں موجود امریکن فوجی اڈوں کو نشانہ بنائے گا۔
ایران دنیا کو پہلے کہہ چکا تھا کہ اگر فردو، نطنز اور اصفہان پر حملے کیے گئے تو ایران ہر صورت میں ایٹم بم بنائے گا اب امریکن حملوں کے بعد ایران اب عالمی برادری کو یہ پیغام دے سکتا ہے کہ اب پُر امن جوہری پروگرام کا راستہ ترک کر کے وہ جوہری ہتھیار بنائے گا۔
ایران کے پاس جواب دینے کے تمام آپشنز موجود ہیں عسکری، معاشی، سائبر، سفارتی اور جوہری مگر سوال یہ ہے کہ وہ کس سطح پر کس رفتار سے اور کس شدت سے ان آپشنز کو بروئے کار لائے گا۔
کیا ایران فوری طور پر مشرق وسطی میں موجود امریکی اڈوں پر شدید اور براہ راست جوابی حملہ کرے گا؟ یا سٹریٹجک حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اس جنگ کو طویل عرصے تک الجھائے گا؟
آب بنائے ہرمز کی بندش اور جنگ میں امریکہ کی شمولیت سے دنیا بھر کی تجارت متاثر ہوگی توانائی کی قیمتیں بڑھنے سے پیداوار کی لاگت میں اضافہ ہو گا مہنگائی بڑھے گی اور کئی ممالک کی اقتصادی ترقی کی رفتار سست ہو جائے گی خصوصاً ان ممالک میں جو توانائی درآمد کرتے ہیں۔
کچھ خلیجی ممالک نے متبادل بندرگاہوں یا پائپ لائنز پر کام شروع کیا ہے جیسے سعودی عرب کا ”پطرہ پائپ لائن“ جو بحر احمر تک جاتی ہے لیکن یہ تمام گزرگاہیں آبنائے ہرمز کی جگہ مکمل طور پر نہیں لے سکتیں۔
آبنائے ہرمز کی بندش اکثر سیاسی و عسکری کشیدگی کے دوران زیر بحث آتی ہے خاص طور پر ایران اور مغربی ممالک کے درمیان تعلقات میں تناؤ کی صورت میں۔ اس بندش کا استعمال بعض اوقات ”پریشر ٹول“ کے طور پر بھی کیا جاتا ہے۔
آبنائے ہرمز صرف ایک بحری راستہ نہیں بلکہ عالمی معیشت کی توانائی کا مرکزی نقطہ ہے اس کی بندش دنیا بھر میں تیل و گیس کی قیمتوں میں اضافہ، اقتصادی بحران اور جیوپولیٹیکل تناؤ کو جنم دے سکتی ہے اس لیے بین الاقوامی طاقتیں اس خطے میں استحکام کو یقینی بنانے کی بھرپور کوشش کرتی ہیں تاکہ یہ بحری راستہ مسلسل کھلا رہے۔


