ٹرین کا ایک یادگار سفر
شام کا وقت تھا ہم ابھی والی بال کھیل کر فارغ ہی ہوئے تھے کہ ایک شخص کو بیگ گلے میں لٹکائے ہوئے سکول میں داخل ہوتے ہوئے دیکھا۔ قریب آنے پر معلوم ہوا کہ موصوف سلامت علی ہیں۔ سلامت علی میرا میٹرک سے لے کر بی ایس سی تک کا کلاس فیلو رہا تھا اور اس کی تعیناتی بھی میرے ساتھ ہی ضلع مظفر گڑھ کے ایک گاؤں میر ہزار سے دس بارہ کلومیٹر آگے کسی پس ماندہ ترین علاقے میں ہوئی تھی۔ گو کہ میری اپنی تعیناتی بھی ایک پس ماندہ ترین علاقے روجھان میں ہوئی تھی۔ لیکن وہاں پر بس اور ٹرین دونوں ذرائع آمدورفت ہی موجود تھے۔ جب کہ میر ہزار کی صورت حال اس سے بھی دگر گوں تھی۔ وہاں تک پہنچنے کے لیے واحد ذریعہ آمد و رفت انسان کی ٹانگیں تھیں۔ جن پر دس بارہ کلومیٹر سفر طے کرنا پڑتا تھا۔ ویسے انسانی ٹانگوں کے متبادل کے طور پر اونٹوں اور گدھوں کی ٹانگیں بھی بعض اوقات دستیاب ہو جایا کرتی تھیں۔ یعنی کہ یہ پیدل سفر اونٹوں یا گدھوں پر سوار ہو کر بھی طے کیا جاسکتا تھا۔ میں اور سلامت کوئٹہ کا ایک یاد گار سفر بھی اکٹھے مل کر کر چکے تھے۔
یہ اُن دنوں کی بات ہے جب ہم گورنمنٹ کالج بورے والا میں بی ایس سی کے سٹوڈنٹس تھے ایک دن سلامت کالج آیا تو بڑا پریشان دکھائی دے رہا تھا، دریافت کرنے پر اس نے بتایا کہ اس کا ایک بڑا بھائی فوج میں ہے۔ جس کی پوسٹنگ آج کل کوئٹہ میں ہے وہاں اس کی اپنے حوالدار سے کسی مسئلے پر لڑائی ہو گئی ہے۔ جس کی وجہ سے وہ آج کل کواٹر گارڈ میں بند ہے۔ خدشہ ہے کہ کہیں اس کا کورٹ مارشل کر کے اس کو سزا نہ سنا دی جائے۔ آج کل سفارش ڈھونڈ رہا ہوں جس کی مدد سے بھائی کی جان چھڑائی جا سکے۔ میں نے اسے تسلی دی کی فکر مت کرو سفارش تمہیں مل چکی ہے۔ میرا بڑا بھائی فوج میں کیپٹن ہے اور وہ بھی آج کل وہاں پر آرٹلری سکول میں ایک کورس کر رہا ہے چلو اس کے پاس چلتے ہیں اور بھائی کو چھڑا لاتے ہیں۔
میرا خیال تھا کہ فوج کا کپتان پولیس کپتان، فٹ بال، کرکٹ، اور ہاکی کا کپتان اسی طرح کی کوئی توپ چیز ہوتی ہے۔ لیکن جب میرا چھاؤنی میں اُن کے پاس آنا جانا شروع ہوا تو پتہ چلا کہ فوج کا کپتان تو افسری لائن میں تقریباً سب سے چھوٹا افسر ہی ہوتا ہے۔ بہرحال اسی غلط فہمی کی وجہ سے ہم نے کوئٹہ جانے کا پروگرام بنا لیا۔ بورے والا سے بس کے ذریعے ہم ملتان پہنچے اور وہاں سے ریلوے سٹیشن جہاں سے ہم نے چلتن ایکسپریس پر کوئٹہ پہنچنا تھا۔ یہ 1973 ء کا ذکر ہو رہا ہے اس وقت ریلوے کا سفر بہت محفوظ، آرام دہ بلکہ رومانوی تصور کیا جاتا تھا۔
گاڑی عین وقت پر سٹیشن پہنچ گئی۔ گاڑی کے رکتے ہی مسافر اس پر سوار ہونے کے لیے ٹوٹ پڑے ہم نے ٹکٹ پہلے ہی خرید رکھے تھے۔ ہم دونوں بھی کندھوں پر اپنا اپنا سفری بیگ لٹکائے گاڑی پر سوار ہونے کی کوشش میں تھے۔ کچھ تو یہاں رش بھی زیادہ تھا اور کچھ اپنے پینڈو پن والی جھجک اور ہچکچاہٹ کی وجہ سے ہمیں کامیابی نہ مل سکی۔ ہم لوگ ایک بوگی کے دروازے پر جاتے اور وہاں پر گاڑی میں سوار ہونے والے لوگوں کا جم غفیر دیکھ کر آگے بڑھ جاتے۔ آگے بڑھتے بڑھتے ہم ایک ایسے ڈبے تک پہنچنے میں کامیاب ہو گئے جس کے دروازے پر گاڑی میں سوار ہونے والا کوئی ایک مسافر بھی نہیں تھا ہم آرام سے ڈبے میں داخل ہو گئے۔ پوری بوگی تقریباً خالی ہی پڑی تھی۔ خال خال سواری ہی نظر آ رہی تھی۔ سیٹیں بڑی آرام دہ تھیں پنکھے چل رہے تھے۔ قصہ مختصر یہ کہ ڈبے کے اندر بڑا ہی خوش گوار ماحول تھا۔ جب کہ جس جگہ سے ہم ہو کر آرہے تھے وہاں بوگیاں کھچا کھچ بھری ہوئی تھیں اور اس کے باوجود اُن کے دروازوں پر سواریوں کا ایک بڑا اژدہام تھا جو اندر داخل ہونے کی کوشش میں مصروف تھا۔ بڑی سی سیٹ تھی جس پر ہم دونوں ہی بیٹھے ہوئے تھے۔ اس کے علاوہ بھی جگہ جگہ خالی سیٹیں نظر آ رہی تھیں۔
اب ہم نے اپنے اس قومی رویے پر باقاعدہ بات چیت کی کہ ہمارے لوگ کس قدر بیوقوف ہیں کہ ایک ہی جگہ پر بوگی میں گھسنے کے لیے ایک دوسرے سے لڑ بھڑ رہے ہیں۔ یہ نہیں کہ آگے پیچھے چل پھر کر کوئی خالی ڈبہ تلاش کر لیں۔ جیسا کہ ہم نے کر لیا ہے۔ ہماری اس رویے کی وجہ محض ہماری تعلیم ہی ہے کیوں کہ ہم لوگ پڑھے لکھے اور عقل مند ہیں۔ اس لیے ایک ہی جگہ دھکم پیل کرنے کی بجائے ہم نے آگے بڑھتے بڑھتے بیٹھنے کے لیے بہتر جگہ تلاش کر لی ہے۔ جب کہ وہ لوگ یا تو ریل میں سوار ہونے سے رہ گئے ہوں گے۔ لیکن اگر سوار ہو بھی گئے ہوں گے تو وہ سواریوں کے درمیان پھنسے کھڑے ہوں گے۔ بہرحال دونوں کافی دیر تک اسی موضوع پر تبادلہ خیال کرتے رہے۔
سفر کافی لمبا تھا میں نے زادِ راہ کے طور پر ابن صفی کے تین چار عمران سیریز پر مشتمل جاسوسی ناول بھی ساتھ رکھ لیے تھے۔ میں نے اپنی سیٹ پر لیٹ کر ناول پڑھنا شروع کر دیا۔ سلامت کو اس سے کوئی دل چسپی نہیں تھی۔ وہ میرے سامنے والی برتھ پر بیٹھ کر شیشے سے باہر جھانکنے لگا۔ جب گاڑی کسی سٹیشن پر رکتی تو چھابڑی والے مختلف چیزیں بیچنے کے لیے آ جاتے۔ کوئی پسندیدہ چیز ہوتی تو ہم بھی کھانے کے لیے خرید لیتے رات کے آٹھ نو بجے ہمارے ساتھ ہی ایک فیملی سفر کر رہی تھی انہوں نے کھانا کھول لیا اور ہمیں بھی کھانے میں شامل ہونے کی پیشکش کی۔ لیکن ہم نے اپنے روایتی پینڈوانہ انداز میں ہمیں بھوک نہیں ہے کہہ کر اسے رد کر دیا۔ اس کے باوجود خاتون خانہ نے دو پلیٹوں میں مختلف قسم کے سالن اور شامی کباب اور ایک پلیٹ پر روٹیاں رکھ کر ایک بچے کے ہاتھ ہمارے پاس بھجوا دیں۔ اب انکار کی کوئی گنجائش نہیں تھی۔ ہم نے خوب سیر ہو کر کھانا کھایا اور کھانے کے تھوڑی دیر بعد ہی خمار گندم کی وجہ سے ہم نیند کی گہری وادیوں میں اتر گئے۔
دن چڑھے آنکھ کھلی تو دیکھا کہ ٹی ٹی صاحب ڈبے میں قدم رنجہ فرما رہے ہیں۔ وہ باقی لوگوں سے ٹکٹ چیک کرتے ہوئے ہمارے پاس آئے تو میں نے بڑی ہی شان بے نیازی کے ساتھ دونوں ٹکٹ اپنی جیب سے نکال کر اُن کے ہاتھ پر رکھ دیے۔ ٹکٹ پر نظر پڑتے ہی وہ ایک دم چونکا اور پوچھا یہ کیا میں نے کہا یہ ٹکٹ ہیں یہ کون سے ٹکٹ ہیں۔ حضور یہ ٹرین کے ہی ٹکٹ ہیں اور ہم نے ملتان ریلوے سٹیشن کے ٹکٹ گھر سے ہی لیے ہیں۔ تم لوگ اس قدر بھولے ہو نہیں جتنے نظر آرہے ہو۔ تمہیں پتہ ہے یہ سب کیا ہے تم جان بوجھ کر ڈرامہ کر رہے ہو۔ بھئی ہمیں بالکل نہیں پتہ کہ یہ کیا ہے اور نہ ہی ہم ڈرامہ کر رہے ہیں۔
اب اس نے ہمیں بتایا کہ یہ ٹکٹ سیکنڈ کلاس کے ہیں اور جس بوگی میں ہم سفر کر رہے ہیں وہ فرسٹ کلاس کی ہے۔ اب وہ پچھلی ساری تصویر ہماری نگاہوں میں گھوم گئی۔ پیچھے والی بوگیوں کے اندر اتنا رش کیوں تھا اور یہاں پر مسافر خال خال ہی کیوں تھے۔ بہرحال اب تو غلطی ہو چکی تھی۔ ہم نے اُسے بتایا کہ ہمیں واقعی اس بارے میں علم نہیں تھا ہم سے سہواً یہ غلطی ہو گئی ہے۔ اس نے پوچھا کہ تم لوگ کیا کرتے ہو۔ ہم نے بتایا کہ ہم گورنمنٹ کالج بورے والا میں بی ایس سی کے سٹوڈنٹ ہیں یہ سن کر اس کا رویہ ایک دم ہی ہمدردانہ سا ہو گیا۔ کہنے لگا چلو کوئی بات نہیں لیکن تم ایسے کرنا کہ اگلے سٹیشن پر اس ڈبے کو چھوڑ کر سیکنڈ کلاس والے ڈبے میں چلے جانا اس کے بعد اس نے باقی لوگوں کے ٹکٹ چیک کیے۔ آخر میں وہ ہمارے پاس آ کر رکا اور کہنے لگا کہ چلو یار اب کوئٹہ پہنچنے ہی والے ہیں اب آپ باقی سفر بھی اسی ڈبے میں ہی کر لیں۔ دوپہر کے قریب ہی ہم بھائی کے پاس پہنچ گئے اور انہیں ساری صورتِ حال سے آگاہ کیا۔ وہ بولے تم یہاں سیر سپاٹا کرو اس سلسلے میں کچھ کرتے ہیں۔ اگلے دن اُن کو اسی یونٹ کا ایک کیپٹن مل گیا جو اُن کے ساتھ ہی کورس کر رہا تھا۔ سارا معاملہ اس کے گوش گزار کیا گیا۔ قصہ مختصر یہ کہ ایک ہفتے کے بعد سلامت اس کا بھائی اور میں تینوں ہی کوئٹہ سے واپس آرہے تھے کیوں کہ ہم اُسے بغیر سزا کے فوج سے ریلیز کرانے میں کامیاب ہو چکے تھے۔
سلامت سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ اس کا بھی یہاں پر تبادلہ ہو گیا ہے۔ یہ معلوم ہوتے ہی ہم نے صبح کے لیے ایک پروگرام ترتیب دے لیا اور اس پر باقاعدہ طور پر عمل درآمد بھی شروع کر دیا۔ ہم نے سلامت علی سے کہا کہ تم سلامت علی سائنس ٹیچر نہیں ہو بلکہ اسسٹنٹ ڈائریکٹر سلامت اللہ خان ہو۔ ملتان ڈائریکٹوریٹ سے پی ٹی وریام کے خلاف دی جانے والی درخواست پر انکوائری کرنے کے لیے آئے ہو۔ ہم نے اسی وقت ایک درخواست تیار کی اور اس میں پی ٹی وریام پر جو جو الزامات لگائے جا سکتے تھے وہ سب کے سب لگا دیے۔ اگلے دن جب سکول لگا تو اسسٹنٹ ڈائریکٹر کی آمد اور وریام کے خلاف دی جانے والی درخواست اور اس کی انکوائری کی خبر سب لوگوں تک پہنچ چکی تھی۔ موصوف سائنس روم میں اپنا دفتر جمائے بیٹھے تھے اور ہم باری باری ہر ٹیچر کو اُن کے پاس بھجوا رہے تھے۔ تا کہ وہ انہیں اس بارے میں اپنی اپنی معلومات سے آگاہی دیں۔
مہر وریام پریشان پریشان سے پھر رہے تھے وہ بار بار میرے پاس آتے کہ میں اُن کی سفارش کروں۔ میرا آگے سے جواب ہوتا کہ مہر میں نے تو سچی بات بتا دینی ہے کیوں کہ مجھے جھوٹ کی عادت نہیں۔ میرے اس بیان سے وہ اور زیادہ پریشان ہو جاتا سب سے آخر میں مہر وریام کو بلایا گیا۔ اس نے اپنی صفائی میں تو ایسا کچھ نہ کہا۔ لیکن مقامی راؤ صاحبان کو ہی برا بھلا کہتا رہا۔ کہ یہ ان لوگوں کی شرارت ہے۔ جب سب لوگوں کے بیان لیے جا چکے تو میں نے سلامت سے کہا کہ تیار ہو کر بیٹھ جاؤ میں اب ہیڈماسٹر کو بلانے والا ہوں۔ یہ سنتے ہی وہ گولی کی سی تیزی سے اٹھا اور تیز تیز چلتا ہوا ہیڈماسٹر کے دفتر میں پہنچ گیا۔ ہیڈماسٹر نے اس سے دریافت کیا کہ آپ ہیں اسسٹنٹ ڈائریکٹر اس نے فوراً جواب دیا جناب میں کوئی اسسٹنٹ ڈائریکٹر نہیں ہوں میں تو سلامت علی سائنس ٹیچر ہوں اور یہاں پر میرا تبادلہ ہوا ہے۔ مہربانی کر کے مجھے جائن کریں۔ میری طرف اشارہ کر کے بولا کہ یہ سارا پاکھنڈ اسی کا ہی رچایا ہوا ہے۔ ہیڈماسٹر بھی ہماری اس شرارت سے محظوظ ہوئے اور سلامت کو فوراً ہی جائن کر لیا گیا۔ سلامت کا ہمارے ساتھ قیام ہفتہ دس دن تک ہی رہا۔ کیوں کہ اس کے بعد گرمیوں کی چھٹیاں ہو گئیں اور چھٹیوں میں ہی اس کا تبادلہ کسی دوسرے سکول میں کر دیا گیا۔


