تعلیم اور شعور


ہمارے معاشرے کی سب سے بنیادی ضرورت تعلیم ہے۔ یہ ایک ایسا ستون ہے جس پر ایک فرد کی شخصیت، معاشرتی رشتوں کی بنیاد، اور قوم کی ترقی کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم صرف ڈگریوں اور سندوں کو تعلیم کا معیار سمجھ لیتے ہیں، تو اس کا جوہر کہیں کھو جاتا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد محض الفاظ یاد کروانا یا ملازمت کی راہ ہموار کرنا نہیں، بلکہ انسان میں شعور بیدار کرنا، سوچنے کا ہنر سکھانا، اور معاشرے کو بہتر بنانے کے لیے کردار سازی کرنا ہے۔

اگر ہم اپنے گرد و پیش نظر ڈالیں، تو ہمیں تعلیم یافتہ افراد کی بہتات تو نظر آتی ہے، لیکن شعور رکھنے والے لوگ کم ہی دکھائی دیتے ہیں۔ یہ تضاد ہماری تعلیمی پالیسیوں، نصاب، اور اندازِ تدریس پر ایک بڑا سوالیہ نشان ہے۔ کلاس رومز میں بیٹھے بچے جو رٹے رٹائے سبق دہرا رہے ہوتے ہیں، کیا وہ واقعی زندگی کے پیچیدہ سوالوں کے لیے تیار ہو رہے ہیں؟ کیا ان کی تعلیم ان کے اندر وہ فہم پیدا کر رہی ہے جو سچ اور جھوٹ، صحیح اور غلط، اور انصاف اور نا انصافی میں فرق کر سکے؟

شعور، ایک ایسا وصف ہے جو انسان کو محض معلوماتی مخلوق نہیں، بلکہ ایک باخبر، حساس اور بیدار فکری انسان بناتا ہے۔ شعور کے بغیر تعلیم ایک بے روح جسم کی مانند ہے۔ ایک ایسا جسم جو حرکت تو کرتا ہے، لیکن منزل سے نا آشنا ہوتا ہے۔

آج ہم ایسے کئی مناظر دیکھتے ہیں جہاں اعلیٰ تعلیم یافتہ افراد رشوت، جھوٹ، تعصب، اور ظلم جیسے افعال میں ملوث پائے جاتے ہیں۔ اگر تعلیم واقعی شعور دیتی، تو یہ سب ممکن نہ ہوتا۔ اصل مسئلہ یہی ہے کہ ہم تعلیم کو صرف ایک رسمی سیڑھی سمجھتے ہیں، شعور کی چمک نہیں دیتے۔ ہم اپنے بچوں کو سوال پوچھنے سے روکتے ہیں، تنقیدی سوچ اپنانے سے ڈراتے ہیں، اور انہیں سسٹم کے مطابق ڈھالنے پر زور دیتے ہیں۔ نتیجہ یہ نکلتا ہے کہ ہمارے ہاں ایسے ذہن پروان چڑھتے ہیں جو صرف ہدایات پر چلنا جانتے ہیں، تبدیلی لانا نہیں۔

شعور کی پرورش صرف کتابوں سے نہیں ہوتی۔ یہ زندگی کے مشاہدے، مکالمے، تنقید، اور غور و فکر سے نمو پاتا ہے۔ جب ایک بچہ یہ سیکھتا ہے کہ ہر چیز کو سوالیہ نظر سے دیکھنا اس کا حق ہے، جب وہ اختلافِ رائے کو برا نہیں بلکہ ضروری سمجھے، جب وہ دوسروں کے دکھ کو اپنا دکھ جانے۔ تب جا کر وہ صرف تعلیم یافتہ نہیں، باشعور بھی بنتا ہے۔

ایک باشعور فرد سماج میں تبدیلی کا پیش خیمہ بن سکتا ہے۔ وہ نہ صرف اپنی ذات میں بہتری لاتا ہے، بلکہ دوسروں کے لیے بھی روشنی کی کرن بن جاتا ہے۔ اس کے برعکس، ایک غیر باشعور تعلیم یافتہ شخص خود بھی سسٹم کا ایندھن بنتا ہے اور دوسروں کو بھی اس میں جھونکتا ہے۔

ہمیں اس تصور کو بدلنے کی ضرورت ہے کہ تعلیم کا مقصد صرف امتحان میں کامیابی ہے۔ ہمیں ایسی تعلیم درکار ہے جو زندگی کے پیچیدہ، اخلاقی، سماجی، اور فکری سوالات کا سامنا کرنے کی تربیت دے۔ جو طلبہ کے اندر جستجو، ہمدردی، سوال اٹھانے کی ہمت، اور اختلاف کو برداشت کرنے کا حوصلہ پیدا کرے۔

اساتذہ کو بھی اپنا کردار ایک منتقِل علم کے بجائے ایک راہنما اور مکالمہ کرنے والے کے طور پر اپنانا ہو گا۔ انہیں بچوں کے سوالات سے گھبرانے کے بجائے ان کی حوصلہ افزائی کرنی ہوگی۔ اسی طرح والدین کو بھی صرف نمبروں کی دوڑ سے نکل کر بچوں کے اندر سچ بولنے، اختلاف کرنے، اور سیکھنے کا شوق پیدا کرنا ہو گا۔

معاشرے کی ساخت اس وقت بدل سکتی ہے جب ہم تعلیم کو شعور کا ذریعہ سمجھیں، نہ کہ محض ایک ڈگری یا معاشی سیڑھی۔ اگر ہم اپنی آئندہ نسلوں کو صرف الفاظ سکھاتے رہے اور سوچنا نہ سکھایا، تو وہ ایک ایسے ہجوم میں بدل جائیں گے جو چل تو سکتا ہے، مگر جانتا نہیں کہاں جا رہا ہے۔

تعلیم اور شعور کا تعلق لازم و ملزوم ہے۔ جیسے روح کے بغیر جسم نا مکمل ہوتا ہے، ویسے ہی شعور کے بغیر تعلیم محض ایک ہنر ہے، جو فائدہ بھی دے سکتا ہے اور نقصان بھی۔ ہمیں تعلیم کے اندر انسان دوستی، سچائی، اور فکری آزادی کو شامل کرنا ہو گا۔ تبھی ہم ایک ایسے معاشرے کی تشکیل کر سکیں گے جو نہ صرف علم رکھتا ہو بلکہ دانائی بھی۔ یہی وہ مقام ہے جہاں تعلیم، شعور سے ملاقات کرتی ہے۔ اور تب جا کر انسان مکمل ہوتا ہے۔

Facebook Comments HS