خیبرپختونخوا کی شورش، عالمی بساط اور بدلتے سیاسی منظرنامے

خیبرپختونخوا کے پہاڑوں پر بہنے والی ہوا کی سرسراہٹ میں اگر کان لگاؤ، تو تاریخ کی صدائیں سنائی دیتی ہیں۔ یہی خطہ، جو کبھی سکندرِ اعظم کی فوجوں کی گزرگاہ تھا، کبھی مغلوں کی سلطنت کا دروازہ، اور کبھی برصغیر پر برطانوی سامراج کی پیش بندیوں کا مرکز، آج پھر عالمی طاقتوں کے کھیل کا میدان بن چکا ہے۔ لیکن اس بار کہانی کچھ اور ہے۔ اس میں صرف بندوقیں اور توپیں نہیں، بلکہ راستے، معدنیات، تجارت، اور بین الاقوامی

Read more

افواہوں کے بازار میں سچائی کی تلاش

مجھے آج بھی اپنی دادا کی وہ نرم اور گہری آواز یاد ہے، جب وہ کہا کرتے تھے کہ ”سنی سنائی بات پر کبھی یقین مت کرنا۔ پہلے پتا کر لینا کہ بات کی تہہ میں کیا ہے۔“ تب میں بچہ تھا، سمجھ نہیں آتا تھا کہ دادا کیوں بار بار یہی نصیحت کرتے ہیں۔ مگر آج، جب سوشل میڈیا کی دنیا ہر لمحے ہمارے ہاتھوں میں سانس لیتی ہے، تب جا کر دادا کی بات کا مطلب دل پر

Read more

مشرقِ وسطیٰ کی نئی بساط

مشرقِ وسطیٰ ایک بار پھر عالمی سیاست کے مرکز میں ہے مگر اس بار کہانی پرانے خطوط پر نہیں چل رہی۔ دہائیوں سے امریکہ اور یورپ کا اسرائیل کو مکمل عسکری، اقتصادی اور سیاسی تعاون حاصل رہا ہے۔ لیکن حالیہ برسوں میں جو تبدیلیاں رونما ہو رہی ہیں، وہ اس پرانے بیانیے کو چیلنج کر رہی ہیں۔ خاص طور پر عوامی احتجاج، ایران اسرائیل کشیدگی، اور سعودی عرب کا نئی طاقت کے طور پر ابھرنا، یہ سب مل کر خطے

Read more

جوہری توانائی، انصاف کے دوہرے معیار

جب ایک طاقتور ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ کرتا ہے، تو دنیا کی خاموشی چیخ بن کر تاریخ کے کانوں میں گونجتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے نے ایک بار پھر عالمی سیاست کے وہ پرانے سوال زندہ کر دیے ہیں جو ہم برسوں سے نظرانداز کرتے آئے ہیں۔ سوال صرف ایران کا نہیں، سوال انصاف، توازن اور بین الاقوامی سچائی کا ہے۔ امریکہ کا

Read more

تعلیم اور شعور

ہمارے معاشرے کی سب سے بنیادی ضرورت تعلیم ہے۔ یہ ایک ایسا ستون ہے جس پر ایک فرد کی شخصیت، معاشرتی رشتوں کی بنیاد، اور قوم کی ترقی کھڑی ہوتی ہے۔ لیکن جب ہم صرف ڈگریوں اور سندوں کو تعلیم کا معیار سمجھ لیتے ہیں، تو اس کا جوہر کہیں کھو جاتا ہے۔ تعلیم کا اصل مقصد محض الفاظ یاد کروانا یا ملازمت کی راہ ہموار کرنا نہیں، بلکہ انسان میں شعور بیدار کرنا، سوچنے کا ہنر سکھانا، اور معاشرے

Read more

یورپ: سوویت یونین کے زوال سے بدلتے عالمی منظر نامے تک

انیس سو اکانوے ( 1991 ) میں جب سوویت یونین کا زوال ہوا، تو دنیا ایک نئے عہد میں داخل ہوئی۔ سرد جنگ کا خاتمہ ہو چکا تھا، کمیونزم کی شکست اور سرمایہ دارانہ جمہوریت کی فتح کا اعلان کیا جا رہا تھا، اور مغربی یورپ ایک نئے، پرامن اور متحد یورپ کا خواب دیکھ رہا تھا۔ امریکہ دنیا کی واحد سپر پاور بن چکا تھا، اور نیٹو (NATO) کی توسیع مشرقی یورپ تک ہونے لگی۔ لیکن آج، تین دہائیاں

Read more

پی ٹی ائی کے لوگ پارٹی کیوں چھوڑ رہے ہیں؟

سانحہ 9 مئی کے بعد پی ٹی آئی کے کارکن دھڑا دھڑ پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ کچھ تجزیہ نگاروں اور پی ٹی آئی کے خیال میں یہ سب فوج کی ایما پر پارٹی چھوڑ رہے ہیں۔ لیکن میرے خیال میں ایسا نہیں ہے۔ میں نہیں سمجھتا کہ اس کے پیچھے فوج ہے۔ پاکستان کے اندرونی اور بین الاقوامی حالات نے فوج کو سیاست سے کافی حد تک لاتعلق رہنے پر مجبور کیا۔ یہ فیصلہ سابق آرمی چیف کے دور میں

Read more

سوویت یونین کے انہدام کی وجوہات – قسط نمبر 1

اپنے پچھلے کالم میں میں نے دنیا کی ایک بڑی سلطنت سوویت یونین کے انہدام کے متعلق لکھا تھا۔ اسی کو لے کر آج ہم تفصیل سے ان عوامل کا جائزہ لیں گے جو اتنی بڑی سلطنت کے زوال کا سبب بن گئے۔ سوویت کے ٹوٹنے کے بعد اس کا کوئی والی وارث نہیں رہا۔ جتنی بھی ممبر ریاستیں تھیں سب نے اپنی الگ الگ حکومتیں قائم کر لیں۔ کسی نے بھی ان اسباب کا غیر جانبداری سے جائزہ نہیں

Read more

جمہوریت اور طبقاتی فرق

جہاں سے انسانی معاشرے کی تاریخ کی شروعات ہوتی ہیں تو ساتھ میں طبقاتی فرق کی تاریخ بھی ملتی ہے۔ انسان چونکہ سماجی حیوان ہے اس لیے ہمیشہ سے گروہ کی شکل میں رہتا آیا ہے۔ ایک خاندان سے شروعات لے کر یہ گروپ مفادات کی خاطر آہستہ آہستہ بڑھتا جا تا ہے۔ اور اخر میں ایک معاشرے کی تشکیل دیتے ہیں۔ دنیا کے تمام معاشروں میں طبقاتی فرق موجود ہوتا ہے۔ جس کی درجہ بندیاں ہوتی ہیں۔ یہ طبقاتی

Read more

پاکستان بمقابلہ سوویت یونین

ایک وقت تھا کہ دنیا میں ایک بہت بڑا ملک ہوا کرتا تھا۔ جو رقبے کے لحاظ سے دنیا کا سب سے بڑا ملک تھا جس کی سرحدیں یورپ سے لے کر امریکا کے الاسکا تک، اور چین اور منگولیا سے لے کر ایران اور افغانستان تک اور سمندر میں جاپان تک پھیلی ہوئی تھیں۔ 1917 میں زار روس کے خلاف بالشویکوں نے روس کے اندر سوشلسٹ انقلاب برپا کیا۔ اور 1922 میں 4 دیگر ریاستوں کی شمولیت کے بعد

Read more

ملا نصرالدین اور ہم

ملا نصرالدین ہمارے خطے کا ایک جانا پہچانا مشہور کردار ہے۔ کہیں پر وہ ایک مزاحیہ کردار ہے تو کہیں وہ ایک دانشمند آدمی ہے جو معاشرے پر طنز کا کوئی موقع ہاتھ سے نہیں جانے دیتا۔ ترکی، ایران اور ازبکستان کے علاوہ افغانستان بھی اس کو اپنے اپنے ملک کا باشندہ سمجھتے ہیں۔ لیکن اس کا ترکی سے ہونا زیادہ مستند ہے۔ ملا نصیرالدین پر بہت کچھ لکھا جا چکا ہے۔ اور مستقبل میں بھی لکھا جائے گا۔ اس

Read more

فیٹف کامیابی

ایف اے ٹی ایف یعنی فنانشل ایکشن ٹاسک فورس ایک بین الاقوامی ادارہ ہے جو غیر قانونی طور پر پیسوں کے لین دین اور دہشت گرد تنظیموں کو غیر قانونی ذرائع سے ملنے والی رقم کو روکنے کی کوشش کرتی ہے۔ یہ ایک بین الحکومتی ادارہ ہے جس کا قیام 1989 میں جی 7 کے اجلاس میں فرانس میں عمل آیا تھا۔ شروع میں اس کا مقصد بینکوں اور مالیاتی اداروں کے ذریعے رقوم کی غیر قانونی ترسیل کو روکنا تھا۔ لیکن 2001 میں امریکہ کے ورلڈ ٹریڈ سینٹر پر ہونے والے حملوں کے بعد اس کا دائرہ کار وسیع کرتے ہوئے دنیا بھر میں دہشت گرد تنظیموں کو مالی وسائل روکنے کا کام بھی ایف اے ٹی ایف نے اپنے سر لے لیا۔ شروع میں اس کے ممبران ممالک کی تعداد 16 تھی جو بعد میں بڑھ کر 39 کردی گئی۔ یورپی کمیشن اور گلف کواپریشن کونسل کے علاوہ انڈیا بھی اس کا ممبر ہے۔

Read more

میرے سر پر ہاتھ رکھیں

سکول کے دنوں میں ایک افسانہ پڑھا تھا۔ جو شاید سندھی ادب سے اردو میں ترجمہ تھا۔ لمبا عرصہ گزر گیا اس لیے افسانے اور لکھاری کا نام بھول گیا ہوں۔ لیکن اس افسانے کا پلاٹ ابھی تک یاد ہے۔ کہانی کچھ یوں تھی کہ ایک چھوٹا بچہ جس کی عمر کوئی سات سال کے قریب ہے اپنے نابینا دادا کے ساتھ رہتا ہے۔ اس کے علاوہ ان کا دنیا میں کوئی بھی نہیں۔ بچہ اور دادا صبح اٹھ کر

Read more

سوشل میڈیا پلیٹ فارمز کا استعمال

کوئی کام ہو یا نہ ہو سوشل میڈیا تو سب سے اہم کام ہوتا ہے۔ جس طرح لوگ چائے کافی کے عادی ہوتے ہیں اور وقفے وقفے سے طلب محسوس کرتے ہیں عین اس طرح سوشل میڈیا کی طلب بھی محسوس ہوتی ہے۔ جب سوشل میڈیا کا پہلا باضابطہ پلیٹ فارم متعارف ہوا تو ہمیں بھی ایک دوست نے امریکہ سے فون کر کے بتایا کہ اس طرح کا ایک پلیٹ فارم لانچ ہوا ہے آپ بھی رجسٹر ہو جاؤ۔

Read more

پاکستانی اور سٹاک ہوم سینڈروم

27 اگست 1973 کو سویڈن کے دارالحکومت سٹاک ہوم میں چند ڈاکو ایک بینک میں ڈکیتی کی نیت سے گھسے۔ پولیس کے فوراً پہنچنے پر ڈاکوؤں نے بینک کے دروازے اندر سے بند کر کے عملے کے 6 افراد کو یرغمال بنا لیا۔ ڈاکووں نے ان لوگوں کے ساتھ خود کو بھی بینک کے اندر بند کر لیا۔ چھ روز بعد جب پولیس نے ڈاکوؤں کو گرفتار کر کے عدالت میں پیش کیا۔ تو اس وقت ایک ایسی حیرت انگیز

Read more

پاکستان یا اچانکستان

اگر پاکستانی تاریخ کو غور سے دیکھا جائے تو یہاں بہت کچھ بلکہ سب کچھ اچانک ہی ہوتا ہے۔ چلیں تھوڑی اپنی تاریخ پر نظر ڈالتے ہیں۔ 1940 میں لاہور میں قرارداد پاس ہو گئی اور اچانک 1947 میں پاکستان بن گیا۔ ایک سال بعد مسٹر جناح اچانک وفات پا گئے۔ پھر لیاقت علی خان کو اچانک گولی مار دی گئی۔ اس کے بعد پتہ نہیں کس طرح اور کون حکومتیں چلاتا رہا کہ اچانک 1958 میں جنرل ایوب خان

Read more

جابر اعظم

90 کی دہائی میں کراچی کے ایک ٹیکسٹائل ملز میں کام ملا۔ یہ کسی ٹیکسٹائل ملز کو اندر سے دیکھنے کا میرا پہلا تجربہ تھا۔ یہاں مختلف قسم کا کپڑا تیار ہوتا تھا۔ جو مختلف مراحل سے گزر کر لوکل اور بین الاقوامی مارکیٹ میں سیل ہوتا تھا۔ مجھے ایک رجسٹر دیا گیا جس میں روزانہ کی بنیاد پر تیار ہونے والے کپڑے کی انٹری کرنی پڑتی۔ کام اتنا مشکل نہیں تھا اس لیے جلد ہی سیکھ گیا۔ مل تین

Read more

روس یوکرائن جنگ اور پاکستان کا کردار

سویت یونین کے انہدام کے بعد امریکہ کو پوری دنیا پر اپنا اثر و رسوخ قائم کر نے کا موقع ملا۔ نیو ورلڈ آرڈر کا نعرہ لگا کر امریکہ نے دنیا پر مختلف ذرائع سے اپنی پالیسیاں نافذ کر نے کی کوشش کی۔ عراق، لیبیا، افغانستان اور شام میں تو باقاعدہ فوج کشی کر کے ان کو تابع بنانے کی کوشش کی گئی۔ ایران اور وینزویلا جیسے ممالک میں سیاسی بے چینی پیدا کرنے کی کوششیں کوئی ڈھکی چھپی بات

Read more

ڈیماگوگ کون ہوتا ہے؟

ڈیماگوگ بنیادی طور پر رومن زبان کا لفظ ہے جس کا مطلب ہے ایک ہجوم کا لیڈر جو بیان بازی میں منطقی استدلال کی بجائے لوگوں کے جذبات اور تعصبات کو بھڑکائے۔ ایک ایسا لیڈر جو اصل مسائل کو پس ہشت ڈال کر دوسرے متنازعہ معاملات پر فوکس کرے۔ اور لوگوں کو اپنے بارے میں یقین دلائے کہ جو کچھ وہ کر رہا ہے وہی عوام کے لئے بہتر ہے اور اسی میں ان کی بقا ہے۔ یہ ایک ایسا

Read more

موجودہ معاشی مسائل سے کیسے نکلا جائے

ملک کو درپیش موجودہ معاشی مسائل کے حوالے سے دو طریقے اہم ہیں۔ یعنی کم مدتی منصوبہ بندی اور طویل مدتی منصوبہ بندی۔ دونوں میں اس بات کو اہمیت دی جاتی ہے کہ ملکی معیشت کو کس طرح مضبوط کر کے عوام کو مہنگائی سے ریلیف دیا جائے۔ جس کے لئے کچھ چیزیں ہمیں ماضی سے لینی پڑیں گی جن کا تجربہ خاصا حوصلہ افزا رہا تھا۔ مگر بدقسمتی سے وہ منصوبے جاری نہ رہ سکے۔ ان میں ایک منصوبہ

Read more

سوشل میڈیا اور سیاست کے بدلتے انداز

”قابل تشویش بات یہ نہیں کہ وہ جھوٹ بولتا ہے بلکہ قابل تشویش بات یہ ہے کہ اس کا جھوٹ بکتا ہے۔“ یہ کمال ہے سوشل میڈیا کا جہاں سب کچھ بکتا ہے حتیٰ کہ جھوٹ بھی۔ جیسے جیسے سائنس ترقی کر گیا ساتھ میں ذرائع ابلاغ بھی ترقی کر گیا۔ پتھروں پر تصویریں تراشنے سے لے کر ڈھنڈورچیوں کے ذریعے بات یا احکامات کی تشہیر ہو یا دھوئیں کے ذریعے خطرے کا پیغام پہنچانا مقصود ہو۔ یا پھر کبوتروں

Read more