طاقت کا زعم


طاقتور کی ایک طاقت یہ بھی ہوتی ہے کہ وہ طاقت کے عملی استعمال سے حتیٰ الامکان گریز کرتا ہے۔ وہ البتہ مختلف انداز سے طاقت کی نمائش ضرور کرتا رہتا ہے تاکہ اس کی طاقت کو ہلکا نہ لیا جا سکے۔ ساتھ ہی وہ مخالف فریق کی قوت کی مکمل جانکاری بھی رکھتا ہے تاکہ مخالف کے ساتھ طاقت کا توازن برقرار رہے۔

یہ سن 2006 کی بات ہے کہ ایک ہزار فٹ لمبا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز ”کِٹی ہاک“ اپنے محافظ جہازوں کے ساتھ ایک گروپ کی صورت میں، بے فکری اور اعتماد کے ساتھ جا رہا تھا۔ جیسے ہی وہ چینی پانیوں میں جاپان اور تائیوان کے درمیان پہنچا تو اچانک ایک چینی آبدوز بغیر کسی وارننگ کے تمام جہازوں کے درمیان میں پانی سے ابھر آئی۔

اس طرح کا امریکی طیارہ بردار بحری جہاز تقریباً بارہ محافظ بحری جہازوں سے گھرا ہوا ہوتا ہے۔ یہ جہاز اوپر سے فضائی نگرانی جبکہ نیچے پانیوں میں آبدوز کی مکمل نگرانی میں ہوتا ہے۔ اتنی سیکیورٹی کے درمیان سکون سے ابھری چینی آبدوز کو دیکھ کر امریکی پہلے تو حیران ہوئے اور پھر پریشان ہو گئے۔ حیران اس لئے کہ وہ تصور بھی نہیں کر سکتے تھے کہ اتنی ہائی سیکیورٹی میں چینی آبدوز اس طرح راڈار میں آئے بغیر کیسے سامنے آ گئی۔ پریشان اس لئے کہ یہ اشتعال انگیز قدم تھا کیوں کہ کٹی ہاک آبدوز کے تارپیڈوز کی رینج میں موجود تھا۔

امریکیوں کے سخت بلکہ کچھ زیادہ ہی سخت احتجاج کے بعد چینیوں نے سکون سے جواب دیا؛ ”اوہو۔ کیا اتفاق ہے کہ ہم اپنے ساحل سے دور آپ کے جنگی جہازوں کے درمیان میں ابھر آئے۔ ہمیں تو اس بات کا اندازہ ہی نہیں ہوا“ ۔

اس کو ریورس گن بوٹ ڈپلومیسی کہتے ہیں۔ جہاں اپنی ساحلی پٹی سے دور کسی کو واضح پیغام دینا مقصد ہو۔ چینیوں نے بھی بہت واضح پیغام دیا کہ جناب ہم میری ٹائم طاقت ہیں۔ یہ ہمارا ٹائم ہے اور یہ ہمارا سمندر ہے ہمیں آسان نہ لیا جائے۔

بھارت اور اسرائیل دونوں بلاشبہ بڑی اور تسلیم شدہ طاقتیں ہیں مگر دونوں نے ایک جیسی ہی غلطی کی ہے۔ انہوں نے اپنی طاقت کے زعم میں نہ صرف اپنی طاقت کا عملاً غیر ضروری استعمال کیا بلکہ مخالف کی قوت کو بھی ٹھیک طرح سے نہیں جانچا۔ اب بھارت تو ٹھیک ٹھاک کٹ کھا کر اور رسوائی سمیٹ کر اپنے زخم چاٹ رہا ہے جبکہ اسرائیل بھی اسی راہ پر گامزن ہے۔ اس کے شہری سمجھ نہیں پا رہے کہ ان کی روح کے لئے بجتے ہوٹر اور سائرن زیادہ خوفناک ہیں یا آئرن ڈوم کو توڑ کر گرتے ہوئے میزائل۔ وہ امریکہ کو مدد کے لئے پکار رہا ہے مگر امریکہ بھی اپنی طاقت اور حماقت میں سے فیصلہ نہیں کر پا رہا۔ انہیں شاید اندازہ ہو گیا ہے کہ توازن بگڑتے دیر نہیں لگتی۔ اسی صورتحال میں بہتر یہی ہے کہ ایران اسرائیل جنگ بندی کی کوئی صورت نکل آئے۔ اسی میں تمام فریقین اور خطے کا مفاد وابستہ ہے۔ اگر ایسا ہوتا ہے تو بعید نہیں کہ اس جنگ بندی میں پاکستان کا بھی کردار ہو۔

 

Facebook Comments HS