امریکہ جنگ کے دہانے پر
اگرچہ امریکہ پہلے بھی یوکرین کی جنگ اور غزہ کی نسل کشی میں شامل ہے لیکن وہ اپنی پوری جنگی قوت سے براہ راست اس کا فریق نہیں ہے۔ امریکہ اس وقت ایک نئی جنگ کے دہانے پر ہے۔ اسرائیل اس وقت مکمل کوشش کر رہا ہے کہ امریکہ کو ایران کے ساتھ جنگ میں دھکیل دے۔ اسرائیل میں بل بورڈز پر صدر ٹرمپ کو باقاعدہ طور پر اس جنگ کا حصہ بننے کی درخواست کی گئی ہے۔ اگر اسرائیل کی ایما پر امریکہ اپنے بمبار طیاروں سے تہران پر بمباری کرتا ہے تو اس دن امریکہ باقاعدہ جنگ کا فریق ہو گا۔ امریکی بمباری کے جواب میں ایران رد عمل میں امریکہ کے مشرق وسطی اور عرب ممالک میں جنگی اڈوں کو نشانہ بنانے پر مجبور ہو گا اور اس کے بعد امریکہ کی جوابی کارروائی سے جنگ ایک لامتناہی تسلسل اختیار کر جائے گی۔ یوں امریکہ اور ایران براہ راست آمنے سامنے ہوں گے۔
اگر امریکہ کا ماضی دیکھا جائے تو امریکہ نے پہلے بھی عراق پر اسی طرح 2003 کی ایک جنگ مسلط کر چکا ہے جس میں امریکی انٹیلی جنس کا یہ دعوٰی تھا کہ عراق کے پاس ایسے ہتھیار تھے جو امریکہ اور دوسری دنیا کے لیے ایک ایسا خطرہ ہے جس کو ختم کرنا بہت ضروری ہے۔ یہ بات الگ ہے عراق اس وقت مختلف عالمی معاہدوں کا حصہ تھا جن میں ایسے ہتھیاروں کی روک تھام کا پابند تھا۔ لیکن عراق کے موقف کو یک طرفہ طور پر مسترد کر کے اس پر جنگ مسلط کر کے تباہ کر دیا گیا۔ اس وقت امریکہ کے پاس انٹیلی جنس کے علاوہ کوئی اور ثبوت نہیں تھا اور بعد میں یہ بھی مختلف اعتراضات اور سوالات کا شکار ہوئی اور اس کا کوئی ٹھوس جواب نہیں ملا۔
اس موجودہ مسئلہ میں صورت حال بالکل برعکس ہے۔ تلسی گیبرڈ جو کہ اس وقت امریکہ کی نیشنل انٹیلی جنس ایجنسی کی ڈائریکٹر ہیں، اس بات کا اعتراف کر چکی ہیں کہ ایران جوہری ہتھیاروں کے حصول سے کافی دور ہے۔ صدر ٹرمپ نے سوشل میڈیا پر جاری بیان میں اپنی ڈائریکٹر کو غلط قرار دیا ہے۔ صدر ٹرمپ کو یہ لگتا ہے کہ ایران اس وقت جوہری ہتھیاروں کے حصول کے بالکل قریب ہے اور وہ ان کو روکنے کے لیے جنگ مسلط کرنے سے بھی گریز نہیں کریں گے۔ یہ امریکی رویہ کسی بھی دلیل اور وضاحت سے کوسوں دور ہے۔ کبھی امریکہ جوہری ہتھیاروں پر خفیہ معلومات ملنے پر جنگ شروع کر دے اور کبھی جوہری ہتھیاروں کی تردید کرتی ہوئی انٹیلی جنس کے باوجود بھی جنگ کا حصہ بنے۔ اس کا صاف مطلب ہے کہ امریکہ کا اقدام کسی بھی طرح سے معقول اور حقائق پر مبنی نہیں ہے۔ امن اور جوہری ہتھیاروں کا جھوٹا دعوٰی یا کوئی بھی اور وجہ صرف جنگ شروع کرنے کا ایک بہانہ ہو سکتی ہے لیکن اس کی عملی حیثیت بالکل بھی نہیں ہے۔
اس وقت امریکی عوام وائٹ ہاؤس کے باہر احتجاج کر رہے ہیں کہ ہمیں ایران جنگ کا فریق نہیں بننا چاہیے۔ امریکہ کے خفیہ اداروں کے سربراہان بھی اس جنگی اقدام کے خلاف ہیں۔ امریکہ کے سیاسی حلقوں میں بھی بہت سے لوگ اس جنگ کے خلاف ہی ہیں۔ لیکن صرف اسرائیل اور صدر ٹرمپ کو لگتا ہے اس وقت شدید ضرورت ہے ایران پر حملہ کرنے کی اور اس کو ایسے ہتھیاروں کے حصول سے روکنے کی جو ان کا حق بھی ہے اور وہ اس کے حصول سے بھی دور ہیں۔ اگر امریکہ اس جنگ میں شامل ہوتا ہے تو دنیا پھر صرف قیاس آرائی اور مفروضے پر کیے گئے فیصلے کی وجہ سے تباہی کا شکار ہو جائے گی۔


