لمحۂ موجود


لمحۂ موجود
”سکون وہی ہے جو ابھی ہے، جو یہیں ہے“

کافی عرصے سے میرے ذہن میں ایک سوال بار بار ابھرتا رہا۔ کہ ہم لمحۂ موجود کو اخر کیوں نظر انداز کرتے ہیں؟ کیوں ہم ہمیشہ ماضی کی پچھتاووں میں الجھے یا مستقبل کے اندیشوں میں کھوئے رہتے ہیں؟ میں نے کئی بار کوشش کی کہ اس موضوع پر لکھوں مگر ہمیشہ یہ سوچ کر رک جاتی تھی کہ اس پر ایسے کیسے لکھا جائے کہ بات سنجیدہ بھی ہو اور قابل قبول بھی، بغیر کسی وعظ یا انتہا کے؟ میں چاہتی تھی کہ جو کچھ کہا جائے وہ دل تک اترے، ہر ذہن کو چھوئے، چاہے وہ کسی بھی پس منظر سے ہو۔

ہماری زندگی کی سب سے بڑی ستم ظریفی شاید یہی ہے کہ ہم اپنے کل کو بہتر بنانے کے لیے اپنا آج قربان کر دیتے ہیں۔ ہم ہر لمحے ایک ایسے ”کل“ کی تیاری میں مصروف رہتے ہیں جو کبھی اتا ہی نہیں، اور اگر اجائے تو ہم اسے پہچان نہیں پاتے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ سکون خوشی اور تکمیل کسی آنے والے وقت سے جڑی ہوئی ہیں، اس لیے ہم اس وقت کو نظر انداز کر دیتے ہیں جس میں ہم اصل میں موجود ہیں۔ ہم وقت کو ایسے برتتے ہیں جیسے یہ ہمارے اختیار سے باہر کوئی چیز ہو، حالانکہ سچ یہ ہے کہ وقت کا سب سے قیمتی اور واحد قابل گرفت پہلو یہی موجود لمحہ ہے۔

انسان کی سب سے بڑی بھول یہی ہے کہ وہ زندگی کو ایک بڑی تصویر سمجھ کر بس مستقبل کو بہتر بنانے میں لگا رہتا ہے اور موجودہ پل کو نظر انداز کر دیتا ہے۔ وہ سوچتا ہے کہ کامیابی آنے والے کل میں ہے، خوشی کسی اور وقت کی بات ہے، اور سکون ایک دن خود بخود اجائے گا۔ لیکن یہ صرف ایک تسلسل ہے۔ ایک نہ ختم ہونے والا انتظار۔ جس میں اصل زندگی، اصل ذات، اور اصل خوشی کہیں کھو جاتی ہے۔

لمحۂ موجود ہمیشہ خاموش ہوتا ہے۔ وہ نہ زور دیتا ہے، نہ دستک دیتا ہے۔ وہ بس ہوتا ہے۔ نرم، مختصر لیکن مکمل۔ اگر ہم ذرا ٹھہریں سانس لیں اور پوری توجہ سے اپنے آس پاس کو محسوس کریں تو شاید ہمیں اندازہ ہو کہ ہماری بے چینی کی جڑ کیا ہے، اور سکون کا دروازہ کہاں ہے۔

لمحۂ موجود میں جینا نہ کوئی مشکل فن ہے، نہ کوئی فلسفیانہ مشق۔ یہ ایک سادہ مگر عمیق رویہ ہے۔ ایسا رویہ جو انسان کو خود سے ملاتا ہے، اسے اپنی سوچ اپنے تعلقات، اپنے فیصلوں اور اپنی ترجیحات پر دوبارہ غور کرنے کا موقع دیتا ہے۔ جب ہم مکمل شعور کے ساتھ حال میں موجود ہوتے ہیں، تو ہماری زندگی کی رفتار سست تو ہو جاتی ہے، لیکن اس کی گہرائی کئی گنا بڑھ جاتی ہے۔

یہ مضمون لکھتے وقت میرے ذہن میں ایک ہی خواہش تھی کہ شاید یہ الفاظ کسی ایک دل تک پہنچ جائیں، کسی ایک لمحے کو روشن کر دیں، کسی ایک قاری کو اپنی ذات کی طرف پلٹنے کی ترغیب دے دیں۔ کہ وہ رُک کر، سانس لے کر خود سے یہ سوال کرے، کیا میں واقعی اپنے لمحۂ موجود میں زندہ ہوں؟ یا میں زندگی کو محض گزار رہا ہوں؟

ممکن ہے اس سوال میں ہی وہ جواب چھپا ہو جس کی ہم برسوں سے تلاش میں ہیں۔

Facebook Comments HS