برطانیہ میں ’موت کی رضامندی‘ کا قانون منظور


برطانیہ میں بھی رضا مندی سے موت چننے کا قانون پاس ہو گیا ہے۔ اب آپ کو خودکشی کرنے کے لیے سوئٹزرلینڈ جانے کی ضرورت نہیں ہو گی۔ یہ سہولت اب برطانیہ میں ہی میسر ہوگی۔ 20 جون 2025 ء کو برطانوی پارلیمنٹ نے ایک تاریخی قدم اٹھاتے ہوئے۔ ناقابل علاج مریضوں کو اپنی زندگی ختم کرنے کی اجازت دے دی ہے۔ یہ قانون 291 کے مقابلے میں 314 ووٹ سے منظور کیا گیا ہے۔

aاس قانون کے تحت ایسے مریض جن کی عمر 18 سال سے زائد ہو، اور جنہیں ڈاکٹر یہ بتا چکے ہوں کہ ان کی زیادہ سے زیادہ عمر 6 ماہ باقی ہے، اگر وہ ذہنی طور پر فیصلہ کرنے کے قابل ہوں، تو انہیں اپنی زندگی ختم کرنے کی قانونی اجازت دی جا سکے گی۔ مریض کو دو مرتبہ تحریری طور پر درخواست دینا ہو گی، جسے دو الگ ڈاکٹروں کی منظوری درکار ہوگی۔ اس کے بعد ایک قانونی پینل اس کی جانچ کرے گا۔ اجازت ملنے کی صورت میں مریض کو مخصوص ادویات دی جائیں گی جنہیں وہ خود اپنی مرضی سے استعمال کر سکتا ہے۔ اس عمل میں کسی دوسرے فرد کی مداخلت جرم ہو گی، اور اگر کوئی زبردستی یا فریب سے درخواست کروائے گا تو اسے 14 سال قید کی سزا دی جائے گی۔

اگرچہ یہ بل ابھی ہاؤس آف لارڈز سے منظوری کے مراحل سے گزرے گا، لیکن اس کی منظوری نے طویل عرصے سے جاری اخلاقی، مذہبی اور قانونی بحث کو پھر سے زندہ کر دیا ہے۔

ایک سروے کے مطابق برطانیہ میں 70 فیصد لوگ اس قانون کے حامی ہیں، جبکہ صرف 15 فیصد مسلمان شہری اس کے حق میں ہیں۔ پارلیمنٹ میں موجود مسلم اراکین میں سے صرف دو نے اس کے حق میں ووٹ دیا۔

یہ قانون، جسے یوتھینیشیا بھی کہا جاتا ہے، دنیا کے لیے نیا نہیں اور نہ ہی اس پر بحث نئی ہے۔ اس کے حامیوں کا کہنا ہے کہ ہر شخص کو حق حاصل ہے کہ وہ اپنی موت بھی باوقار طریقے سے خود چنے، اگر اس کی زندگی مسلسل اذیت بن جائے۔ لیکن مسلمانوں کے تقریباً تمام مکاتبِ فکر اس قانون کے خلاف ہیں کیونکہ اسلام زندگی کو اللہ کی امانت سمجھتا ہے۔

خیر، یہ تو کچھ علما کا موقف ہے حقیقت یہ ہے کہ ہم کسی ایسے مریض کی اذیت کا صحیح اندازہ نہیں لگا سکتے جو درد کم کرنے والی دوا کے اثر ختم ہوتے ہی مچھلی کی طرح تڑپنے لگے، سانسیں کھنچنے لگیں، اور وہ موت کو پکارنے لگے۔ کچھ مریض ایسے بھی ہوتے ہیں جن کی زندگی ایک شہ رگ کٹے مرغے کی مانند ہو جاتی ہے، جو ہر لمحہ پھڑپھڑاتا ہے، مگر نہ مر پاتا ہے نہ جی پاتا ہے۔ وہ چارپائی پر ایسے قید ہوتے ہیں جیسے کسی پنجرے میں جانور، اور جو بھی ان کی عیادت کو آتا ہے، ان کے لیے دل سے آسانی کی دعا مانگتا ہے۔

مثلاً ًکچھ لوگ موذی بیماریوں جیسے ٹرمینل کینسر، موٹر نیورون ڈیزیز یا ایمیوٹرافک لیٹرل اسکلروسس میں مبتلا ہوتے ہیں، جن میں جسم آہستہ آہستہ حرکت کرنے کے قابل نہیں رہتا، مگر ذہن مکمل طور پر بیدار ہوتا ہے۔ کچھ ایسے بھی ہوتے ہیں جو ریسپائریٹری فیلئر یا ریئر نیورولوجیکل ڈس آرڈرز جیسے حالات میں مبتلا ہو کر سانس لینے کے لیے مشین کے محتاج بن جاتے ہیں، ہر لمحہ ایک اذیت سے گزرتے ہیں۔ بعض افراد کا جسم اس حد تک گل سڑ چکا ہوتا ہے کہ نہ لیٹ سکتے ہیں نہ بیٹھ سکتے ہیں، ہر کروٹ زخم بن چکی ہوتی ہے، اور درد کش ادویات صرف وقتی مہلت دیتی ہیں، سکون نہیں۔

کچھ مریض ایسی لاعلاج بیماریوں میں مبتلا ہوتے ہیں جہاں بدن اندر سے سڑ رہا ہوتا ہے، ہڈیاں دکھتی ہیں، گوشت گھل رہا ہوتا ہے، نہ بیٹھ سکتے ہیں، نہ لیٹ سکتے ہیں، ہر کروٹ زخم بن چکی ہوتی ہے۔ ان پر ہر سانس بھاری ہو جاتی ہے، اور دوا کا اثر ختم ہوتے ہی اذیت ان کے رگ و پے میں ناچنے لگتی ہے۔ ایسے میں موت ان کے لیے سزا نہیں، ایک رہائی بن جاتی ہے۔

ایسے حالات میں کسی مریض کی نیت، تکلیف یا انتخاب پر فتویٰ لگانا آسان تو ہے، مگر انصاف پر مبنی نہیں۔ اس سلسلے میں بعض فقہا کی یہ تجویز ہے کہ ایسے مریضوں کو موت کی دوا دینے کی بجائے بہتر ہے کہ ان کا علاج روک دیا جائے۔ مسلمانوں کے نزدیک رضامندی کی بنیاد پر موت لینا شرعاً حرام ہے، البتہ اگر علاج کا فائدہ باقی نہ رہا ہو اور مشینوں سے زندگی کو کھینچا جا رہا ہو، تو علاج ترک کیا جا سکتا ہے مگر یاد رہے یہ موت دینا نہیں، بلکہ قدرتی موت کا انتظار کرنا ہے۔

Facebook Comments HS