پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی 5 شخصیات – پارٹ 3


پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے میں جہاں مختلف سائنسدانوں اور سیاست دانوں کا کر دار ہے۔ وہاں ڈاکٹر عبد القدیر خان کا کلیدی رول ہے۔ اگر ڈاکٹر عبد القدیر خان کا رول کمتر ہوتا تو امریکہ ڈاکٹر خان کو اس کے حوالے کرنے کا کبھی مطالبہ نہ کرتا۔ پرویز مشرف نے تو امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے وہ ڈاکٹر عبد القدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنا چاہتا تھا۔ یہ بہادر بلوچ لیڈر میر ظفر اللہ خان جمالی تھا جس نے ڈاکٹر عبد القدیر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ جب پاکستان پر ایران اور لیبیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی سمگل کرنے کا الزام عائد ہوا تو اس وقت کے فوجی حکمران پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قربانی کا بکرا بنا دیا اور ساری ذمہ داری ان پر عائد کر دی۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کا حوصلہ دیکھیں انہوں نے پاکستان کو بچانے کے لئے سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان نے اپنی وفات سے چند ماہ قبل مجھے ٹیلی فون پر انٹرویو دیا جس میں انہوں نے میرے سوال کے جواب میں کہا کہ وہ ایک سرکاری ملازم تھے۔ بھلا کس طرح وہ از خود ایٹمی ٹیکنالوجی بیرون ملک بھجوا سکتے تھے۔ ڈاکٹر اے کیو خان لیبارٹریز کی حفاظت کا فول پروف سسٹم تھا۔ سوئی تک بھی وہاں باہر نہیں جا سکتی تھی۔ ”اعتراف جرم“ کے بعد نہ صرف نہ صرف ہل سائیڈ روڈ پر ڈاکٹر عبد القدیر خان کی رہائش گاہ کو سیکیورٹی کے نام پر ”غیر علانیہ“ زندان میں تبدیل کر دیا گیا جس میں محسن پاکستان ڈاکٹر عبد القدیر خان اپنی زندگی کی آخری سانس تک ”قید“ رہے گو کہ عدلیہ کے حکم پر ڈاکٹر عبد القدیر خان پاکستان کی آزاد شہری کی حیثیت سے نقل و حرکت پر کوئی پابندی نہیں تھی لیکن ایسی بھی آزادی نہیں تھی کہ وہ جہاں جانا چاہیں جا سکتے ہوں البتہ جب وہ کبھی ”زندان“ سے باہر کھلی فضا میں سانس لینا چا ہیں تو اوپر سے کلیئرنس درکار ہوتی تھی۔

ڈاکٹر عبد القدیر خان نے 1976 ء کے بعد سے شاید ہی کوئی دن ”آزاد شہری“ کے طور پر گزارا ہو اس کی ایک بڑی وجہ یہ تھی۔ انہوں پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے جس کام کی بنیاد رکھی تھی۔ اس کا تقاضا بھی تھا کہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو دنیا کی ”نظروں“ سے اوجھل رکھا جائے لیکن کے آر ایل سے ریٹائر ہونے کے بعد وفات تک ”حفاظتی تحویل“ میں رکھا گیا انہوں نے کئی بار اس بات کا بھی گلہ کیا کہ ان کے احباب کو بھی ان سے ملاقات کے لئے کئی پاپڑ پیلنے پڑتے ہیں جو احباب کھانے پر مدعو کرتے ہیں۔ میں ہی ان کو اپنے ہاں کھانے پر مدعو کر لیتا ہوں بعض اوقات وہ اپنے گھر سے کھانا تیار کر کے لے آتے ہیں۔ وہ کہتے تھے کہ ان کو ”زندہ در گور“ کر دیا گیا ہے۔

آج جس طرح اسرائیل امریکہ کی آشیر باد سے ایران کا ایٹمی پروگرام ختم کرانے کے لئے چڑھ دوڑا ہے۔ اگر 1998 ء میں اس وقت کے وزیر اعظم جرات سے کام لے کر ایٹمی دھماکے نہ کرتے تو پاکستان بھارت اور اسرائیل کی بلیک میلنگ کا شکار ہوتا چار عشرے قبل مغرب کو ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کچھ ”سن گن“ ہوئی تو بی بی سی کے نمائندہ نے ڈاکٹر خان تک پہنچنے اور کہوٹہ پلانٹ کا سراغ لگانے کی کوشش میں اپنی درگت بنوا بیٹھا جب کہ فرانسیسی سفارت کار کہوٹہ جانے کے ”شوق“ میں اپنے دانت تڑوا بیٹھے۔ پھر کسی نے کہوٹہ کا رخ نہ کیا۔ جب پاکستان نے بھارت کے ”جارحانہ عزائم“ کو بھانپ لیا تو روزنامہ مسلم کے ایڈیٹر مشاہد حسین سید کے ذریعے بھارتی صحافی کلدیپ نیر کی ڈاکٹر عبد القدیر خان سے ملاقات کرائی گئی جن کو ڈاکٹر خان نے باور کرا دیا کہ اگر بھارت نے پاکستان پر حملہ کیا تو پاکستان اپنی سلامتی کے لئے ایٹم بم کا استعمال کر کے بھارت کو صفحہ ہستی سے مٹا سکتا ہے۔ بھارتی حکمرانوں تک ڈاکٹر خان کا پیغام پہنچنے کے دہلی میں کھلبلی مچ گئی۔

ہر روز سینکڑوں بندر مارگلہ کے پہاڑوں سے اتر کر ڈاکٹر عبد القدیر خان کو سلام پیش کرنے کے لئے ”زنداں“ میں آتے ہیں۔ کچھ تو ادھر ہی ڈیرے ڈال لیتے ڈاکٹر خان نے بھی بندروں ”کی سواگت“ کا معقول بندوبست کر رکھا ہوتا مسلسل نظر بندی سے ڈاکٹر خان کی طبیعت میں چڑچڑا پن آ گیا۔ وہ حکومتی طرز عمل سے سخت ”نالاں“ تھے۔ ڈاکٹر خان کی ”آف دی ریکارڈ“ گفتگو کو ضبط تحریر نہیں لایا جا سکتا وہ ایٹمی پروگرام کو کامیابی سے ہمکنار کرنے میں سابق صدر غلام اسحق ٰ کے معترف ہیں۔ ان کا کہنا ہے۔ اگر غلام اسحقٰ خان اس پروگرام سے وابستہ نہ ہوتے اور اس اہم ترین منصوبے کے لئے مطلوبہ فنڈز فراہم نہ کرتے تو پاکستان کے ایٹمی قوت بننے کا خواب کبھی شرمندہ تعبیر نہیں ہوتا۔

مسلسل قید تنہائی پر انہوں سے ایک تاریخی شعر میں اپنی حیات کی عکاسی کر دی ؂گزر تو خیر گئی ہے۔ تیری حیات قدیر ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے۔ ڈاکٹر عبد القدیر کی وفات 10 اکتوبر 2021 کو ہوئی ان کے جنازے میں ہزاروں افراد کی شرکت سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے۔ عوام نے ان کے آخری سفر میں بھر پور شرکت کر کے اپنی عقیدت کا جس طرح اظہار کیا اس نظیر نہیں ملتی۔ ان کی قبر پھول نچھاور کرنے والوں کا تانتا بندھا رہتا ہے۔ 4 روزہ پاک بھارت جنگ اور 28 مئی 2025 ء کو ان کی قبر پر پھول نچھاور کرنے والوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ حاصل کرنے کا کریڈٹ حاصل کرنے والوں نے یوم تکبیر پر ڈاکٹر عبد القدیر خان کو نظر انداز کر دیا اگر ڈاکٹر خان کا ایٹمی قوت بنانے میں کوئی کردار نہ ہوتا تو وہ امریکہ کو کیوں مطلوب ہوتے اور عمر بھر ان کو امریکہ سے چھپائے رکھا گیا۔

میرے ساتھی دفاعی رپورٹر سہیل عبد الناصر اور میں نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان سے ملاقات کے بعد ”ایٹمی دھماکہ“ سے ایک روز قبل مشترکہ ایکسکلوسیو سٹوری فائل کی تھی۔ ہاتھ سے لکھی ہوئی خبر کا مسودہ آج بھی میرے پاس محفوظ ہے۔ راقم السطور نے 1985 ء میں ڈاکٹر عبد القدیر خان کے اعزاز میں راولپنڈی پریس کلب میں ”تقریب پذیرائی“ منعقد کر کے ڈاکٹر خان کی خدمات کا پوری قوم سے اعتراف کرایا۔ ان کو ”گولڈ میڈل“ دیا گیا اسی طرح جب میں راولپنڈی اسلام آباد پریس کلب کا صدر تھا تو ڈاکٹر خان کو پریس کلب کی جانب سے ان کی قومی خدمات پر سونے کا تاج پہنایا گیا ان کے سامنے کوئی جنرل پرویز مشرف کا نام لیتا تو ان کا خون کھول اٹھتا ہے جنرل مشرف کا دور ڈاکٹر عبد القدیر پر بھاری تھا۔

ڈاکٹر خان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ کسی دشمن کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔ ڈاکٹر خان کی اپنی زندگی میں سب سے بڑی غلطی سیاست کی خار دار وادی میں کودنا ہے۔ ان کو ”سیاسی بونوں“ نے اپنے سیاسی مقاصد کے لئے استعمال کیا جب ڈاکٹر خان کو اپنی غلطی کا احساس ہوا تو انہوں نے تحریک تحفظ پاکستان کو ختم کرنے کا اعلان دیا۔ (ختم شد) ۔

Facebook Comments HS

3 thoughts on “پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے والی 5 شخصیات – پارٹ 3

  • 23/06/2025 at 12:29 شام
    Permalink

    اس مضمون میں سب سے بڑی کمی جو صحافتی بددیانتی کا دوسرا نام ہے وہ یہ ہے کہ
    ڈاکٹر قدیر کا بیان اور مشرف پر ان کا الزام تو اس مضمون کا حصہ ہے جب کہ مشرف سے آج تک کسی صحافی نے اس معاملے پر بات نہیں کی۔ معدودے چند کے۔

    ڈاکٹر قدیر اور مشرف دونوں مع جمالی صاحب کے منوں مٹی تلے دفن ہوچکے۔
    پرویز مشرف کا دفاع کسی فورم پر ضرورت پڑی تو میں ضرور کرسکتا ہوں کہ مجھے ان دو انکوائریوں تک بھی رسائی رہی جو لیبیا میں معمر قذافی (یعنی لیبیا والوں) کے اعتراف کے بعد وقوع پذیر ہوئی جب کہ اس سے پہلے ایک انکوئری سن 2000 میں مکمل ہوچکی تھی جس کے بعد ڈاکٹر صاحب کو کے آر ایل سے 64 سال کی عمر میں ریٹائر کردیا گیا تھا۔
    ڈاکٹر صاحب پر ملکی راز بیچنے کا مقدمہ کبھی نہیں چلا نہ الزام لگا بلکہ ایٹمی ٹیکنالوجی کے پھیلاؤ کا الزام تھا۔
    ڈاکٹر صاحب جو چاہیں کہیں لیکن لیبیا اور ایران سے ان کے اپنے ہاتھوں سے لکھے نوٹس اور دستاویزات وہاں کے لوگوں نے IAEA کے حوالے کی تھیں۔
    ڈاکٹر صاحب نے کسی انکوائری میں اس سے انکار نہیں کیا۔

    ڈاکٹر صاحب نے ٹی وی پر آنے کے بعد کسی صحافی سے بات کرتے کبھی کسی پر الزام نہیں لگایا تھا کہ انہوں نے شمالی کوریا اور ایران کی مدد کس حکم راں کے کہنے پر کی تھی۔ ظاہر ہے یہ مشرف سے پہلے کے کام تھے۔

    2008 کے بعد جب بے نظیر مرچکی تھی تو ڈاکٹر صاحب نے پہلی مرتبہ یہ اعتراف کیا کہ شمالی کوریا کی مدد انہوں نے بے نظیر کے کہنے پر کی تھی جس کے بدلے ہمیں میزائیل ٹیکنالوجی میں مدد ملی۔ بے نظیر کی زندگی میں ڈاکٹر صاحب چپ رہے۔ کیوں۔

    ایران کے معاملے پر ان کو جو کچھ بے نظیر سرکارنے مدد کرنے کو کہا۔ وہ تو انہوں نے کی لیکن ساتھ میں بہت کچھ اضافی مدد بھی کی جس کی انہوں نے ایران سے قیمت وصول کی۔

    لیبیا سے تعاون انہوں نے اس وقت کیا جب وہ مشرف کے سائنسی ایڈوائزر لگے ہوئے تھے اور دنیا بھر کے ممالک کے دورے سائنسی تعلیم کی ترویج کے لئے کررہے تھے۔

    دل چسپ بات یہ بھی ہے کہ 2000 میں ڈاکٹر صاحب کے خلاف جب پہلی انکوائری مشرف دور میں مکمل ہوئی تو اس انکوائری کی سفارشات پر ہی ایٹمی پھیلاؤ کو روکنے کے لئے نیسکام اور ایس پی ڈی جیسے ادارے قائم کئے گئے۔

    • 23/06/2025 at 12:52 شام
      Permalink

      جب فون پر بات کررہے تھے تو یہ بھی پوچھ لیتے کہ

      جب پاکستان پر ایران اور لیبیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی سمگل کرنے کا الزام عائد ہوا تو اس وقت کے فوجی حکمران پرویز مشرف نے ڈاکٹر عبدالقدیر خان کو قربانی کا بکرا بنا دیا اور ساری ذمہ داری ان پر عائد کر دی۔ ڈاکٹر عبد القدیر خان کا حوصلہ دیکھیں انہوں نے پاکستان کو بچانے کے لئے سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھا لیا۔

      ایٹمی پھیلاؤ کا یہ کارنامہ کس نے انجام دیا تھا۔ سن 2000 تک ڈاکٹر صاحب جتنے بڑے پھنیر شخص تھے افزودگی سے متعلقہ سارے معاملات بھلا اور کون آگے کرسکتا تھا۔ ایران اور لیبیا کیا اتنے بے وقوف تھے کہ کسی بھی انجان شخص کے کہنے پر ملین ڈالر اس کے حوالے کردیتے۔

      ڈاکٹر صاحب کی عزت کو ان معاملات کومزید اچھال کرخراب مت کریں۔

    • 23/06/2025 at 4:43 شام
      Permalink

      مشرف پر الزام لگانے والوں کو ایک بات یاد رکھنی چاہئے کہ پاکستان نے این پی ٹٰی پر کبھی دستخط نہیں کئے تھے یعنی جوہری معلومات کے عدم پھیلاؤ کی قرارداد پر عمل کرنا ریاست پاکستان پر لازم نہیں تھا۔
      اگر فوج یا ریاست نے کسی بھی طرح یہ کام کیا تھا تو امریکہ پاکستان کا کچھ نہیں کرسکتا تھا کیوں کہ ریاست نے محض اتنا کہنا تھا کہ ہم این پی ٹی کو نہیں مانتے۔
      دوسری طرف اگر کوئی شخص انفرادی حیثیت میں یورینیم افزودگی جیسی معلومات اور مشینیں کسی ایسے ملک یا ادارے یا گروہ کو فراہم کرتا ہے جو اقوام متحدہ کی قراردادوں کی روشنی میں اس کا مجاز نہ ہو تو اس شخص پر بین الاقوامی قوانین کی رو سے مقدمہ چلایا جاسکتا ہے۔
      لیبیا اور ایران کا کسی نے ہاتھ نہیں پکڑا تھا اگر ان کو ریاست پاکستان نے یہ معلومات فراہم کی ہوتیں تو وہ صاف الفاظ میں بتادیتے لیکن ان دونوں نے صرف ایک اہم نام لیا تھا۔ ڈاکٹر قدیر۔
      اسی طرح ایران اور لیبیا نے عالمی ادارون کو ان مالیاتی ٹرانزیکشن کا ریکارڈ بھی مہیا کیا تھا جن کے سرے ڈاکٹر صاحب کی بنائی شیل کمپنیون سے ملتا تھا۔
      ڈاکٹر صاحب کا یقینا پاکستانی قوم پر ایک بڑا احسان ہے اور سچ تو یہ ہے کہ مشرف نے ان کی عزت رکھ لی تھی لیکن وہ اور ان کے چاہنے والے آج بھی ان کو گندا کرنے پر تلے ہوئے ہیں۔

Comments are closed.