حجاج بن یوسف۔ (حصہ دوم)

حجاج ایک عجیب تضادات کا مجموعہ تھا۔ ظلم کرنے پر آتا تھا تو نہ بوڑھا دیکھتا تھا اور نہ جوان۔ نہ اصحاب رسولؐ دیکھتا تھا اور نہ خانوادہ رسولؐ۔ اس کی پسندیدہ سزا یہ تھی کہ جن پر بہت غصہ ہوتا اور اپنے عتاب کی بجلی گرانا چاہتا تو ان کے پورے خاندان کو گرفتار کروا لیتا اور برہنہ کر کے بغیر چھت کے قید خانوں میں بند کروا لیتا اور اس معاملے میں وہ نہ مرد دیکھتا تھا اور نہ عورت کی تمیز کرتا تھا۔ کسی بھی معتوب گھرانے کے لیے یہ ڈوب مرنے سے بھی زیادہ بری بات تھی کہ سارے خاندان سب ایک ہی جگہ ننگے جسم قید و بند کی صعوبتوں کو جھیلتے تھے۔ اس طرح نہ وہ زندوں میں رہتے تھے اور نہ مُردوں میں۔ ایک وقت ایسا بھی آیا کہ تقریباٗ پچاس ہزار برہنہ قیدی اس کے قید خانوں میں بند تھے جن کا کوئی پرسان حال نہ تھا جس میں تیس ہزار کے لگ بھگ خواتین تھیں کہ جن کے تن بدن پر لباس کے نام پر کپڑے کی ایک دھجی بھی نہ تھی۔
اکثر قیدی معصوم تھے کہ جن کا جرم یہ تھا کہ وہ بنو امیہ کو پسند نہ کرتے تھے یا بنو امیہ یہ سمجھتے تھے کہ یہ کبھی ان کی حکومت کے لیے خطرہ یا بغاوت کر سکتے ہیں۔ جب کوئی قیدی بغیر چھت کے قید خانے میں گرمی سے بچنے کے لیے چہرے یا سر پر ہاتھ سے سایہ بناتے تو زندان کے سپاہی ان پر پتھر برساتے اور لہولہان کر دیتے۔ ان قیدیوں کو جو کی روٹی میں ریت ملا کر کھانے کو دی جاتی اور پینے کے لیے کڑوا پانی دیا جاتا۔ یہ اتنا بڑا ظالم تھا کہ اس نے تقریباٗ ایک لاکھ بیس ہزار مسلمانوں کو قتل کیا۔ اپنی سخت گیری کی وجہ سے حجاج دن بدن خلیفہ عبدالملک کے قریب ہوتا گیا۔ سوائے بنو امیہ کے اس کے شر سے کوئی محفوظ نہ تھا۔ حتیٰ کہ یہاں تک ہوا کہ اموی فوج بھی اس سے دہشت زدہ رہنے لگی۔
پھر جب خلیفہ عبدالملک نے عراق پر چڑھائی کا فیصلہ کیا تو حجاج اس کے ساتھ تھا اس کے مصعب بن زبیر کے خلاف کیے گئے سخت اقدامات نے خلیفہ کے دل میں یہ خیال راسخ کر دیا کہ حجاج اس کے حکم کی بجا آوری میں نہ کسی قوم کی حرمت دیکھے گا، نہ کسی شخصی سیادت کو، نہ مذہب کی پروا کرے گا اور نہ ملت کی۔ اموی حکومت کے استحکام میں سب سے بڑا کردار اس کا تھا۔ اس نے عراق اور یمن کے باشندوں پر بہت زیادہ ظلم و ستم ڈھائے۔ وہ خلیفہ کی خوشنودی کی خاطر نہ اخلاقیات دیکھتا تھا نہ مذہب کی پروا کرتا تھا۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ نے مکہ میں پناہ لی ہوئی تھی عبدالملک کو ان کی حکومت ختم کرنے کا خیال آیا تو اس کی نظر اس عمل بد کو انجام دینے کے لیے حجاج بن یوسف پر پڑی۔ تو شامی فوجوں کو اس کی قیادت میں مکہ بھیجا گیا۔ حجاج نے جاتے ہی سب سے پہلے مکہ والوں کی غذائی ناکہ بندی کردی تاکہ باہر سے اناج کا دانہ تک نہ ان کے پاس پہنچ سکے۔ پھر اس نے مکہ شریف پر سنگباری شروع کروا دی۔ شامی افواج جب اس مذموم کام سے ہچکچاتیں یا حضرت عبداللہ بن زبیر ان کو پیغام بھیجتے کہ یہ اللہ تعالیٰ کی حدود ہیں ان کی پاسداری کرو تو حجاج جب یہ دیکھتا میری افواج کو خوف خدا لاحق ہو رہا ہے تو وہ خود اپنے ہاتھ سے سنگ باری شروع کر دیتا۔ اس نے خانہ کعبہ کے اوپر بہت بے دردی سے پتھر برسائے۔ جس سے بیت اللہ کی دیواریں منہدم ہو گئیں جن کو بعد میں دوبارہ تعمیر کیا گیا۔ اس نے اس فاش طریقے سے لشکر کشی اور ظلم و بربریت کا بازار گرم کیا مکہ شریف میں کہ الامان الحفیظ۔ حضرت عبداللہ بن زبیر رضی اللہ عنہ کو شہید کر کے ان کی لاش کو کئی دن تک سولی پر لٹکائے رکھا۔ الغرض کہ جب اس نے اپنی متشدد فطرت کی صحیح عکاسی کر دی تو اس سفاکیت جو کہ اس نے ملوکیت کی خدمت کے لیے انجام دی تھی اس کے بدلے میں اس کو حجاز کا گورنر مقرر کر دیا گیا۔ اس کو گورنر حجاز اس لیے مقرر کیا گیا تاکہ اس حرمین شریف کی مقدس جگہ پر اموی اقتدار کو مضبوط و مستحکم کرسکے چنانچہ وہ کچھ دن مکہ میں مقیم رہا اور اس نے اس حد تک ظلم و جور کیا کہ انسانیت شرمندہ ہو گئی۔ اس نے ہر اس آواز کو دبا دیا اور ہر اس گلے کو گھونٹ دیا جس نے ہلکی سی صدائے احتجاج بلند کی یا فریاد کناں ہوا۔ اس کی بے انتہا قتل و غارت گری اور بربریت کا نتیجہ یہ نکلا کہ اہل مکہ نے اس کی اور اموی خلافت کی بیعت کا جوا اپنے گلے میں ڈال لیا۔
مکہ شریف کے بعد مدینہ شریف کی باری آئی اس وقت مدینہ شریف میں صحابہ زادوں اور تابعین کی ایک کثیر تعداد قیام پذیر تھی۔ اس نے ان لوگوں کے سامنے تقریر کر کے اموی خلافت کی بیعت کرنے پر رضا مند کرنا چاہا اہل مدینہ نے نہ اس کی مخالفت کی اور نہ بیعت کی۔ اس سے حجاج بڑا جذبز ہوا اس نے ان لوگوں کو صرف تین دن کی مہلت دی اور اس کے بعد نتائج بد سے ڈرایا۔ یہ شرفاء لوگ رخصت ہو گئے تو اس نے درندگی کا وہی بہیمانہ عمل شروع کر دیا جس میں بات بے بات سر کو دھڑ سے جدا کرنے سے لے کر معصوم لوگوں کی چیر پھاڑ شامل تھی۔ اہل مدینہ جو کہ واقعہ حرہ بھی ابھی فراموش نہ کر پائے تھے۔ انہوں نے عبدالملک کی بیعت کرلی۔ میں اپنے قارئین کی بصارت کی نظر واقعہ حرہ کا پس منظر کرنا چاہتا ہوں۔ ہوا یہ تھا کہ یزیدی افواج جب واقعہ کربلا کے بعد پلٹیں تو انہوں نے مدینہ پاک پر دھاوا بول دیا اور قتل و غارت گری کی وہ انتہا کی کہ شیطان بھی پناہ مانگے اس پر طرہ یہ کہ معاذ اللہ مسجد نبوی شریف کے اندر اپنے گھوڑے باندھ دیے۔ نماز موقوف ہو گئی اور یہاں تک کہ تین دن مسجد نبوی شریف میں اذان نہ دی جا سکی۔ اس واقعے کو واقعہ حرہ کہا جاتا ہے۔ حجاج نے معززین کی ایک فہرست مرتب کی ان شرفاء کو باری باری اپنے سامنے طلب کرتا اور اموی خلافت کی بیعت کا مطالبہ سامنے رکھتا اور جو شخص ذرا سی چوں چرا کرتا یا ہچکچاہٹ دکھاتا حجاج بلا تامل اس کے شانوں پر سے اس کی گردن کا بوجھ ہلکا کر ڈالتا۔ الغرض دو ماہ تک یہ خون آشامی جاری رہی اور آخر کار مظلومین کی دعائیں رنگ لائیں اور اس کا تبادلہ عراق ہو گیا۔ اور مدینہ طیبہ کے لوگوں کے سر سے قیامت ٹل گئی۔
اس نے بنو امیہ کی حکومت کے استحکام کے لیے معاشی اصلاحات بھی کیں اور غیر مسلموں پر جزیہ بھی عائد کیا بنو امیہ کی مختلف ممالک میں فتوحات بھی زیادہ تر اس کے مرہون منت تھیں۔ عجیب کردار تھا اس کا حامل قرآن کی عطرت کا خیال نہ کرتا مگر قرآن پاک کی تلاوت بہت خشوع و خضوع سے کرتا۔ قرآن پاک پر اعراب اس نے لگوائے۔ اسلامی کرنسی کا اجراء بھی اسی نے کیا۔ مگر ساتھ ہی ظالم اتنا زیادہ تھا کہ اس کے ظلم و جور کے سامنے بڑے سے بڑا ظالم بھی پانی بھرتا تھا۔ اس کے مظالم نے عوام کے حوصلے پست کر دیے تھے اور وہ اس کو بری تقدیر مان چکے تھے وہ سمجھتے تھے کہ اموی خلافت سے ذرا سر تابی کی تو جان بچے گی اور نہ عزت اس لئے جابر سلطان کے سامنے سرنگوں کر چکے تھے۔ ہر طلوع ہوتا سورج خوف و دہشت کی نئی داستان رقم کرتا اور ہر آنے والی شب مظلومین کی آہ و بکا اور فریاد اپنے دامن میں بھر کر رخصت ہوتی تھی۔
(جاری ہے )

