مشرقی طرزِ معاشرت: پرندوں سے ہی کچھ سیکھ لیں
میرے گھر کی بوگن ویلیا میں ہر سال کی طرح اس بار بھی چڑیوں، بلبلوں اور فاختاؤں نے گھونسلے بنائے، انڈے دیے اور بچے پالے۔ عموماً گھونسلے اونچی شاخوں پر ہوتے اور وہاں کا روزمرہ میری آنکھوں سے اوجھل رہتا۔ بس پروں کی پھڑپھڑاہٹ، اور چھوٹی چونچ کی ہلکی آوازوں کا شور سنائی دیتا تھا۔ یہاں تک کہ پرندوں کے بچے گھونسلوں سے باہر نکلتے اور پرندے انہیں پرواز کا ہنر سکھاتے دکھائی دیتے۔ اس بار فاختہ کا گھونسلا بہت نچلی شاخوں پر تھا۔ میں نے فاختہ کو کیڑے اور دانے لا کر بچوں کی چونچوں میں ڈالتے دیکھا۔ ننھے بچوں کے جسم کو ہلکی فر سے مضبوط بازوؤں جیسے پروں سے بھرتے دیکھا۔
میں پرندوں کی حکایات میں توکل، رزق کی تلاش، صبح خیزی جیسے کئی اسباق پڑھ چکی تھی، ابھی مجھے جس چیز نے متوجہ کیا وہ تھا ان کے گھونسلے کا حجم۔ فاختہ کے تین بچے بڑے ہو رہے تھے اور گھونسلا ان کے ٹھہرنے کے لیے ناکافی تھا، انہیں مشکل ہو رہی تھی۔ میں نے سوچا کیا فاختہ لا علم تھی کی اس کے کتنے بچے ہوں گے اور وہ بڑے بھی ہوں گے؟ نہیں نا۔ پھر اس نے گھونسلہ چھوٹا کیوں بنایا؟ وہ اس لیے کہ فاختہ خون کے رشتے کو بوجھ بنانے کا ارادہ نہیں رکھتی تھی۔ وہ مامتا کو زنجیر نہیں بنانا چاہتی تھی۔ وہ انسانوں کے مقابلے میں اس حقیقت کو بہت بہتر طریقے سے جانتی تھی کہ محبت باندھنے کا نام نہیں ہے، محبت تو اڑنے دیتی ہے۔ پتا نہیں انسان کو یہ سمجھنے میں کتنی صدیاں لگیں گی کہ بچے کو پرواز سکھانا ہی محبت ہے، اپنے ساتھ چمٹائے رکھنا انہیں مفلوج کرنا ہے۔ پرورش کے احسان جتا کر انہیں زخمی کرنا، ان سے ان کے کیریئر، دوستی، شادی کے فیصلے کا اختیار چھین کر ان کے دلوں کو گھاؤ دینا کون سی محبت ہے؟ مشرقی لوگوں کو وہ نوالے جو انہوں نے اولاد کے حلق میں ڈالے، وہ اولاد جس کے وجود کے ذمے دار بھی وہ خود ہیں انہیں اس کا عوض اس اولاد کی تمام زندگی کی اطاعت شعاری کی صورت میں چاہیے۔ یہی محبت ہے تو اس کی قسم سمجھ سے بالاتر ہے، یہ بے لوثیت ہے تو عجیب ہے۔ یا شاید یہ خاندانی استحصال اور جبر کو محبت کا نام دے کر آگے بڑھانے کی روایت ہے جسے قبول صورت بنانے کے لیے محبت کا نام دیا جاتا ہے۔
ایک پرندے کے عمل سے مردے دفن کرنے کا طریقہ سیکھ لیا۔ انہی پرندوں سے یہ نہیں سیکھا کہ بچوں کو پالنا کیسے ہے اور انہیں پرواز دینی ہے پر نہیں کاٹنے، آزادی دینا بے نیازی برتنا نہیں ہے، نہ ہی لا تعلقی ہے۔ یہ تو اس اعتماد کو کہتے ہیں جس میں والدین کہتے ہیں کہ ہم تمہاری خوشی کو اہمیت دیتے ہیں۔

