دنیا کا مستقبل، اسرائیل ایران تنازعہ سے معلق ہو گیا؟


بالآخر اسرائیل نے ایران کے خلاف جنگ میں امریکہ کو گھسیٹ لیا، ہفتہ کی شب امریکی فضائیہ نے فردو جوہری تنصیب سمیت تین ایرانی ایٹمی مراکز کو نشانہ بنایا، ہرچند کہ ایرانی جوہری تنصیبات پہ تازہ امریکی حملے علامتی ہیں تاہم امریکہ کی ایران کے خلاف اسرائیلی مہم میں شرکت کا فیصلہ تنازعہ کو زیادہ پیچیدہ بنا گیا، ایران پہ امریکی حملوں کے بعد مڈل ایسٹ جس نئے مرحلہ میں داخل ہونے والا ہے وہ مشرق وسطیٰ پہ امریکہ سمیت مغربی دنیا کی گرفت ڈھیلی کر کے نئی عالمی صف بندی کی راہ ہموار بنائے گا۔ اگرچہ بظاہر جنگ کا مقصد ایران کو ایٹمی قوت بننے سے روکنا بتایا گیا لیکن یہ ہمہ جہت پیش دستی دراصل مڈل ایسٹ میں چین کی بڑھتی تجارتی سرگرمیوں کو محدود اور پاکستان کو دوبارہ امریکہ کے عالمی مفادات کا اسیر بنانے جیسے مقاصد سے خالی نہیں تھی، چنانچہ کانٹے میں پڑے چارے کی ترغیب کی مانند وائٹ ہاؤس نے اقتصادی و دفاعی تعاون اور مسئلہ کشمیر سمیت بھارت سے امن معاہدہ کے عوض جنرل عاصم منیر کو ایران، اسرائیل تنازعہ میں فریق بنانے کی دعوت دی ہو گی لیکن یہ شاید قومی تاریخ کا پہلا موقعہ ہے جب ہماری مقتدرہ خود کو امریکی جنگوں میں استعمال ہونے کی ترغیب سے روک پائی۔

امر واقعہ یہ ہے کہ ایران سے نمٹنے کے لئے امریکہ کو پاکستانی ائربیس یا فوجی اڈوں کی ضرورت ہرگز نہیں، وہ تو محض اسلام آباد کے ملوث ہونے کا تاثر پیدا کر کے پاکستان کے اندر شیعہ سنی کشیدگی بڑھا کے خانہ جنگی کو پروان چڑھانے اور برادر ایرانی قوم کے ساتھ ابدی دشمنی کی بنیاد رکھ کر ہماری مملکت کو کبھی نہ تھمنے والی کشمکش میں کھپانا چاہتے تھے، اس سے نہ صرف ابھرتے ہوئے چین کی راہیں مسدود ہوتیں بلکہ پورا جنوبی ایشا مدتوں وقف اضطراب رہتا۔ اِسی تناظر میں دیکھیں تو ایران کے خلاف امریکی جارحیت کا اصل ہدف پاکستان جیسی اہم فوجی قوت کا مغرب کے اقتصادی و دفاعی نظام سے نکل کر چین، روس اور ترکی کے ساتھ منسلک ہونے جیسی غیر معمولی پیش رفت ہے، جس کی بدولت حال ہی میں خطہ میں کئی ناقابل یقین تبدیلیاں رونما ہوئیں خاص طور پہ بنگلہ دیش کی دہلی کے تسلط سے نجات کے علاوہ خطہ میں بھارتی فوجی طاقت کے ناگہانی زوال نے انڈیا کے ڈیٹرنس کو کمزور کرنے کے علاوہ ہندوستان کے داخلی توازن کو بُری طرح متاثر کیا۔

اسی لئے چین و روس چاہتے ہیں کہ امریکہ ایسے ملک کے ساتھ براہ راست جنگ میں الجھے، جو یمن، افغانستان یا عراق کی نسبت زیادہ مضبوط ہو، ایران یقیناً شام یا عراق نہیں، اب ممکنہ طور پر امریکی حملہ کے بعد چین اور روس، براہ راست مداخلت کی بجائے ایران کی پشت پناہی کے ذریعے جنگ کو طول دینے کی اسٹریٹجی اپناتے ہوئے ایران کو لڑنے میں مدد دے کر خطہ میں چند سالوں تک امریکہ و نیٹو کو پھنسا سکتے ہیں۔ شاید اسی لئے اِس پیچیدہ جنگ سے بچنے کے لئے آبادی کے لحاظ سے یورپ کے تین بڑے ممالک، جرمنی، فرانس اور برطانیہ نے جمعہ کے روز سوئٹزرلینڈ کے شہر جنیوا میں ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی سے جنگ روکنے کی تجاویز پہ مذاکرات شروع کیے تاہم عراقچی نے کہا ”جنیوا میں ہونے والے مذاکرات میں جنگی بندی کے لئے نہیں، صرف سننے کے لیے شریک ہوئے، جب تک ایران کے خلاف جارحیت بند نہیں ہوتی، امریکہ کے ساتھ مذاکرات کی کوئی گنجائش نہیں“ ۔ جرمنی، فرانس اور برطانیہ 2015 کے معاہدے کی تجدید میں مدد دینے کے لئے کوشاں ہیں۔ 2015 کا معاہدہ، جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) کے مطابق ایران صرف پُرامن جوہری پروگرام اور خود مختار نگرانی کے لئے متفق تھا مگر ٹرمپ نے بطور صدر اپنی پہلی مدت کے دوران مئی 2018 میں JCPOA معاہدہ توڑ ڈالا، سال بعد ایران نے بھی اُسے ترک کر دیا لیکن غزہ پہ اسرائیلی جارحیت نے مڈل ایسٹ کی طرح یورپی ممالک کو بھی منقسم کر دیا، سبھی یورپ کی دہلیز پر ایک اور جنگ سے بچنا چاہتے ہیں لیکن یورپی خارجہ پالیسی الائنس کی کمزوریاں راہ میں حائل ہیں۔

7 اکتوبر 2023 میں غزہ پہ اسرائیلی جارحیت کے بعد اسرائیل کے بارے میں فرانس، جرمنی اور برطانیہ کی پوزیشنیں بتدریج مختلف ہوتی گئیں، جرمنی اسرائیل کا پُرجوش حامی رہا، جس نے غزہ میں شہریوں پر وحشیانہ بمباری اور فلسطینی پناہ گزینوں کی مدد کرنے والی اقوام متحدہ کی ایجنسی UNWRA کی فنڈنگ روکنے پر اسرائیل پہ تنقید سے گریز کیا جبکہ اسرائیل کے سب سے بڑے حامی، برطانیہ نے گزشتہ سال لیبر پارٹی کی انتخابی کامیابی کے بعد موقف تبدیل کرتے ہوئے اسرائیل کے انتہائی دائیں بازو کے قومی سلامتی کے وزیر اتماربین گویر اور وزیر خزانہ بیذلیل سموٹریچ پر مقبوضہ مغربی کنارے اور غزہ میں فلسطینیوں کے خلاف تشدد پر اُکسانے کی پاداش میں پابندیاں لگا کر چار دیگر ممالک کو بھی ہمنوا بنا دیا۔ فرانس یورپی یونین کے اُن چار ارکان میں شامل تھا جس نے پچھلے سال اپریل میں غزہ میں جنگ بندی کا مطالبہ کیا، ایک سال بعد 9 اپریل کو فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون نے کہا، وہ چند ماہ کے اندر فلسطینی ریاست کو تسلیم کر لیں گے بعد ازاں فرانس کی ایما پر اسپین، ناروے اور آئرلینڈ نے فلسطین کو باضابطہ طور پر تسلیم کر لیا۔

ہرچند کہ یورپ کے تین بڑے ممالک جنگی بحران کو سفارتکاری کے ذریعے حل کرنے کو ترجیح دیتے ہیں لیکن ٹرمپ انتظامیہ اور نتن یاہو اس نتیجہ پہ پہنچے ہیں کہ ایران کے معاملے میں سفارتکاری کارآمد نہیں ہو سکتی، اس لئے جرمنی، فرانس اور برطانیہ کے کردار کو نظرانداز کرتے ہوئے ٹرمپ نے اپنی انٹیلی جنس ایجنسیوں کو اسرائیلی نقط نظر اپنانے کے لئے چھوڑ دیا کیونکہ امریکی ماہرین سمجھتے ہیں، حتمی امن کے لئے عام طور پر فیصلہ کن شکست کی ضرورت ہوتی ہے، انہوں نے اسرائیل اور مصر کے درمیان 1973 کی یوم کپور جنگ کا حوالہ دیا، جس کی وجہ سے چھ سال بعد کیمپ ڈیوڈ معاہدہ ہوا، یوگوسلاویہ کی جنگ میں امریکی مداخلت 1999 کے معاہدہ کی اساس بنی، ماہرین یہ بھی کہتے ہیں چونکہ چین، روس اور امریکہ، اسرائیل، ایران تنازعہ پہ متفق نہیں، اس لئے سلامتی کونسل اس مسئلہ کا حل تلاش نہیں کر سکتی۔ چین، جس نے حالیہ برسوں میں ایران میں بہت زیادہ سرمایہ کاری کی، ایران سے اپنی ضرورت کا 80 فیصد تیل خریدتا ہے، چین جوہری ہتھیاروں اور بیلاسٹک میزائل کی تیاری کے لئے ایران کو نایاب مواد بھیجتا ہے۔ بادی النظری میں یہی لگتا ہے کہ امریکی حریف، چین اور روس، طویل جنگ میں گھسیٹنے کی خاطر ایران میں ٹرمپ کی مداخلت کا خیر مقدم کریں گے۔

تاہم صدر ٹرمپ اب بھی اپنے لچکدار موقف پہ قائم ہیں، اُن کا ایک قدم میدان جنگ میں، دوسرا مذاکرات کی میز کی طرف بڑھ سکتا ہے مگر اسرائیل اور ایران اب ایسی وجودی جنگ میں پھنس چکے ہیں جس میں کوئی فریق ہارنے کا متحمل نہیں، اسرائیل کے لئے غیر یقینی صورتحال یہ بھی ہے کہ نیتن یاہو کے پاس متبادل پلان موجود نہیں، اگر ٹرمپ نے موقع دیکھنے کا انتخاب کر لیا تو امریکی شمولیت کے بغیر ایران کے خلاف اسرائیلی جنگ فیصلہ کن نتیجے تک نہیں پہنچ پائے گی، ان کے پاس جنگ سے دامن چھڑانے کا کوئی آسان آپشن موجود نہیں، اسرائیل کے لئے تنازعات سے تیزی سے نکلنے کی راہ ڈھونڈنا دشوار ہو گا۔

حیرت انگیز طور پہ حماس کا 7 اکتوبر 2023 کا حملہ بتدریج بڑی جنگ میں ڈھلتا گیا، جس نے اسرائیل کو لبنان میں اپنے ہاتھوں سے لگائی گئی آگ آپ بجھانے اور شام میں اُس ایران نواز علوی حکومت کے خاتمہ پہ مجبور کیا، جس کی موجودگی نے طاقت کا توازن اسرائیل کے حق میں کر رکھا تھا، شام اور لبنان سے ایرانی اثر و نفوس کے خاتمہ نے بالواسطہ طور پہ عرب ریاستوں کو تقویت پہنچائی، ایران پہ حملہ وہ آخری قدم تھا جس نے جُھکے ہوئے عربوں کو دوبارہ کھڑا کر دیا، 76 سالہ تاریخ میں پہلی بار سعودی عرب سمیت عرب ممالک نے ایران کے خلاف اسرائیلی جارحیت کی مذمت کر کے اپنی چھپی ہوئی آرزؤں کو بے نقاب کر دیا چنانچہ غزہ کے بعد ایران پہ جارحیت نے اسرائیل کی سلامتی کے علاوہ بیانیہ کی کمزوریوں کو بھی ظاہر کر دیا، عالمی برادری کو اصل جھٹکا اس سے لگا جب ”ہولوکاسٹ“ میں یہودیوں پہ مظالم کی جن دیو مالائی داستانوں کی تصویر کشی کے ذریعے مظلومیت کے فریب کی تجارت کی تھی، نتن یاہو کی صیہونی ریاست نے انسانیت کے خلاف جرائم کر کے اس بھیانک فریب کو عریاں کر دیا، اِس ڈیجیٹل عہد میں اسرائیل نے جرمن نازیوں سے کہیں زیادہ مظالم کو غزہ کے نہتے شہریوں پہ آزما کر ”پھر کبھی نہیں“ کا مقدس وعدہ توڑ دیا۔

Facebook Comments HS