جوہری توانائی، انصاف کے دوہرے معیار
جب ایک طاقتور ملک کسی دوسرے ملک پر حملہ کرتا ہے، تو دنیا کی خاموشی چیخ بن کر تاریخ کے کانوں میں گونجتی ہے۔ حالیہ دنوں میں امریکہ کے سابق صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی جانب سے ایران کی جوہری تنصیبات پر حملے نے ایک بار پھر عالمی سیاست کے وہ پرانے سوال زندہ کر دیے ہیں جو ہم برسوں سے نظرانداز کرتے آئے ہیں۔ سوال صرف ایران کا نہیں، سوال انصاف، توازن اور بین الاقوامی سچائی کا ہے۔
امریکہ کا کہنا ہے کہ اسرائیل کے پاس جوہری ہتھیار ہیں، حالانکہ وہ نہ تو این پی ٹی (Non Proliferation Treaty) کا رکن ہے اور نہ ہی کبھی اس نے اپنے ایٹمی پروگرام کو اقوامِ متحدہ کے ادارے IAEA کے سامنے پیش کیا ہے۔ اس کے باوجود وہ بین الاقوامی برادری، بالخصوص امریکہ اور یورپ کی نظروں میں ایک ”ذمہ دار ریاست“ کے طور پر تسلیم کیا جاتا ہے۔
اس کے برعکس ایران نے ہمیشہ یہی دعویٰ کیا کہ اس کا جوہری پروگرام پُرامن مقاصد کے لیے ہے۔ اس نے IAEA کے ساتھ تعاون کیا، معاہدے کیے، یہاں تک کہ 2015 کا جوائنٹ کمپری ہینسو پلان آف ایکشن (JCPOA) بھی تسلیم کیا، جس کے تحت اس نے اپنے یورینیم کی افزودگی کو محدود کیا۔ لیکن 2018 میں ٹرمپ انتظامیہ نے یک طرفہ طور پر اس معاہدے سے علیحدگی اختیار کی اور ایران پر دوبارہ سخت پابندیاں عائد کر دیں۔ اب یہ نیا حملہ اسی سلسلے کی ایک کڑی سمجھا جا رہا ہے۔
سب سے افسوسناک پہلو یہ ہے کہ امریکہ کے اس حملے کے بعد بھی یورپ نے صرف تشویش کا اظہار کیا، جیسے یہ کوئی انسانی المیہ نہیں بلکہ کوئی موسمیاتی رپورٹ ہو۔ اقوام متحدہ نے حسبِ روایت ایک محتاط بیان جاری کیا اور روس و چین نے اپنی سفارتی زبان میں مذمت کی، مگر کوئی عملی قدم نہ اٹھایا گیا۔ کیا انسانی جانوں کی قیمت بین الاقوامی سیاست میں صرف اس وقت اہم ہوتی ہے جب وہ تجارتی مفادات سے مطابقت رکھتی ہو؟
جب امریکہ یا اسرائیل جیسا کوئی ملک حملہ کرتا ہے تو اسے ”قومی سلامتی“ کا نام دیا جاتا ہے، لیکن جب کوئی مشرقی یا مسلم ملک اپنے دفاع میں قدم اٹھاتا ہے تو وہ ”دہشتگردی“ کے زمرے میں آتا ہے۔ سعودی عرب جیسے ملک، جو خود ایران کے خلاف پراکسی جنگوں میں مصروف ہیں، وہ بھی ان حملوں پر بظاہر خاموش رہتے ہیں یا حمایت کرتے ہیں۔ یہ خاموشی محض سفارتی نہیں، بلکہ اخلاقی دیوالیہ پن کا ثبوت ہے۔
روس اور چین عالمی سیاست میں طاقت کا ایک متبادل مرکز بن چکے ہیں، لیکن ان کی خارجہ پالیسی بھی اکثر مصلحت پسندی اور اسٹرٹیجک مفادات کے گرد گھومتی ہے۔ ایران کے ساتھ ان کے معاشی اور سفارتی تعلقات مضبوط ضرور ہیں، لیکن جب بات اسرائیل یا امریکہ کی کھلی جارحیت کی ہو، تو ان کا ردعمل صرف زبانی حد تک محدود رہتا ہے۔ اگر چین واقعی عالمی انصاف کا علمبردار بننا چاہتا ہے، تو اسے اپنی پوزیشن کو زبانی تحفظات سے آگے بڑھانا ہو گا۔
ایران پر حملے کے بعد مسلم دنیا کا ردعمل بھی کوئی حوصلہ افزا مثال پیش نہیں کرتا۔ اکثر ممالک نے یا تو خاموشی اختیار کی یا اپنے بیانات میں توازن کی ایسی کوشش کی جس میں مظلوم کا ذکر بھی نہیں آیا۔ او آئی سی جیسی تنظیمیں، جو کبھی امتِ مسلمہ کی آواز کہلاتی تھیں، آج صرف رسمی قراردادوں اور کانفرنسوں تک محدود ہو چکی ہیں۔
دنیا بھر میں، بالخصوص مغرب میں، عوامی شعور میں تبدیلی آ رہی ہے۔ لوگ اب حکومتی بیانیے پر آنکھ بند کر کے یقین نہیں کرتے۔ سوشل میڈیا اور آزاد ذرائع ابلاغ نے ایک نیا مکالمہ جنم دیا ہے۔ لیکن اس کے باوجود مین اسٹریم میڈیا اب بھی مغربی حکومتوں کے مفادات کا محافظ بن کر کام کرتا ہے۔ ایران کے جوہری پروگرام کو ”خطرہ“ اور اسرائیل کے ایٹمی ذخیرے کو ”راز“ سمجھنا دراصل اسی میڈیا پالیسی کا شاخسانہ ہے۔
اگر دنیا کو واقعی امن درکار ہے، تو اسے جوہری ہتھیاروں کے مسئلے پر انصاف کے ایک جیسے اصول اپنانے ہوں گے۔ ہر ملک کو یہ حق حاصل ہے کہ وہ اپنے دفاع کے لیے تیاری کرے، لیکن یہ تیاری کسی دوسرے ملک کی خودمختاری اور سلامتی کو روند کر نہیں ہونی چاہیے۔ بین الاقوامی قوانین اور معاہدے سب کے لیے یکساں ہونے چاہئیں، اور ان پر عمل درآمد بھی طاقت کی بنیاد پر نہیں بلکہ انصاف کی بنیاد پر ہونا چاہیے۔
دنیا کو اب فیصلہ کرنا ہو گا کہ وہ کیسی عالمی برادری بننا چاہتی ہے۔ کیا ہم طاقت کے نشے میں انصاف کے تمام اصول روند ڈالیں گے، یا ہم ایک ایسا نظام قائم کریں گے جہاں ہر قوم، ہر تہذیب اور ہر فرد کی زندگی کو برابر کی اہمیت دی جائے گی؟ امریکہ، اسرائیل، روس، چین، یورپ، اور مسلم دنیا، سب کو اپنے اپنے ضمیر سے یہ سوال ضرور پوچھنا چاہیے۔


