کچھ باتیں اپنے والد کے بارے میں (1)


اردو کے مشہور افسانہ نگار راجندر سنگھ بیدی نے اپنی ایک کہانی ’صرف ایک سگریٹ‘ میں لکھا ہے کہ دنیا کے ہر بیٹے کے دل میں کہیں نہ کہیں یہ خواہش چھپی ہوتی ہے کہ اس کا باپ مرجائے۔ بیدی نے جس باپ کا ذکر کیا ہے، وہ ہمارے یہاں دراصل جبر کی وہ استعاراتی نظر ہے، جو انسان کو اپنے طور پر کچھ کرنے، سننے اور سمجھنے سے روکتی ہے، اس کو اپنے ذہن میں موجود نت نئی ملکیتوں کو نچوم کی طرح دوڑ لگاکر حاصل کرنے کے انجام سے ڈراتی بھی ہے، دھمکاتی بھی ہے۔ لیکن یہ سطریں میں اپنے والد کے بارے میں لکھ رہا ہوں تو سب سے پہلے بیدی کی اس قوت گویائی کو پوری طرح تسلیم کرتے ہوئے اتنا بھی کہنا چاہتا ہوں کہ میں نے خود اپنی آنکھوں کے سامنے اپنے باپ کو، جنہیں ہم اردو میں نہایت پاس ادب سے والد کے نام سے پکارتے ہیں، تل تل کر مرتے دیکھا ہے۔

میرا اپنے والد کے ساتھ جو تعلق ہے، وہ اس دنیا پر بہت حد تک روشن ہے، جو مجھے اور انہیں ایک ساتھ جانتی ہے، ہم تقریباؓ ایک دوسرے کی ضد ہیں۔ چہرے، رنگ، قد اور ناک نقشے کے اعتبار سے مجھ میں والد کی کچھ چیزیں ضروراتر آئی ہیں، لیکن زندگی میں جسمانی مطابقتوں کی اتنی اہمیت کہاں ہوتی ہے، جتنی ذہنی ہم آہنگی کی۔ حالانکہ میرے والد نے خود کو دیکھنے کے لیے آٹھ آنکھیں مزید پیدا کی ہیں، یعنی میرے وہ بقیہ چار بھائی بہن جو انہیں مختلف زاویوں سے دیکھتے ہیں، لیکن میں جس مقام پر کھڑا ہوں، وہاں سے میرے والد کی شکل کچھ مہبم سی، غیر واضح سی، مسکین اورساتھ ہی بے حد طاقتور اور بسااوقات سفاک شخص کی بھی ہوتی جاتی ہے، ایک ہی چہرے سے پھوٹنے والی اتنی شعاعوں کا احاطہ ایک تحریر میں کیسے کیا جائے۔ روایت تو کہتی تھی کہ یا تو میں خود اتنا عظیم انسان ہوجاؤں کہ لوگ مجھ میں اور میرے اردگرد موجود لوگو ں میں دلچسپیاں لینا شروع کردیں ، یا پھر میں اپنے والد کی موت پر آنسو بہاتے ہوئے ایک عدد مرثیہ نما نظم لکھنے پر کمر بستہ رہوں، روؤں دھوؤں اور قصہ ختم کروں، لیکن نہ تو میں اتنا عظیم شخص ہوں اور نہ ہی میرے والد کی موت واقع ہوئی ہے۔ یہ تحریر بس اچانک پھوٹ پڑی ہے، جیسے بہت کچھ ابھی ہی یاد آرہا ہے، ابھی نہ لکھا تو شاید پھر کبھی نہ لکھ پاؤں، وہ سب ، بہت سا کچھ جو ان سے میں نے کبھی غصے میں کہا، کبھی ان کے گلے لگ کر، کبھی ان کی بغل میں بیٹھ کر یا کبھی ان کے پیٹھ پیچھے۔ آج سب کچھ انہیں سناؤں اور ان لوگوں کو بھی، جو اس تحریر کو پڑھ سکتے ہیں یا پڑھ رہے ہیں۔

ہمارے معاشرے میں عام طور پر باپ کیسے ہوتے ہیں یا ایک فرد باپ بننے کے بعد کیسا ہوجاتا ہے۔ اس کے لیے بہت دور جانے کی ضرورت نہیں، یہ واقعہ عام طور پر ان لوگوں کے ساتھ پیش آتا ہے، جن پر دنیا ہمدردی کے پھائے نہیں رکھتی، انہیں مظلومانہ اور ترحم آمیز نگاہوں سے نہیں دیکھتی یعنی عرف عام میں جو لوگ یتیم نہیں ہوا کرتے۔ میں نے بھی جب شعور کی آنکھ کھولی تو ایک وجیہ شخص کو اپنی نگاہوں کے سامنے، بڑے پروقار انداز میں لوگوں پر رعب جماتے دیکھا، بڑی سی دو بلڈنگوں کے درمیان سمٹے ہوئے ایک چھوٹے سے دفتر میں وہ سفید کرتا اور سبزدھاری دار لنگی پہن کر بیٹھا کرتے تھے، آس پاس لوگوں کی بھیڑ ہوتی، جوان جہان لڑکے، بوڑھے، بلڈنگ کے سکریٹری صاحب، خزانچی سب لوگ انہیں بھائی جان کہہ کر پکارا کرتے تھے، کیونکہ وہ خاندان میں اسی نام سے مشہور تھے۔ مجھے معلوم ہوا کہ بھائی جان کا تعلق دراصل اترپردیش کے ایک ضلع شاہجہاں پور سے ہے، جو دو دریاؤں کھنوت اور گرا سمیت اب بھی ان کی رگوں میں بہہ رہا ہے۔ شاعری فصیح اکمل کے نام سے کرتے ہیں، ویسے اصلی نام سید ذیشان انوار ہے۔ بعض تحریروں، غزلوں یا نظموں پر ان کا نام ہم نے فائلوں میں فصیح اکمل قادری بھی لکھا دیکھا۔ وجہ یہ تھی کہ انہیں عبدالقادر بدایونی جو کہ غوث اعظم کے نام سے مشہور ولی ہیں اور جن کا مزاربغداد، عراق میں ہے، ان سے ایک خاص نسبت عشق ہے۔ سن انیس سو چوالیس کی ان کی پیدائش ہے۔ سن ساٹھ کے قریب شاعری شروع کی تھی، بمبئی بھی شاعری پڑھنے جاچکے تھے اور ایک اچھا خاصا عرصہ انہوں نے دلی شہر میں بھی گزارا تھا، جہاں خواجہ باقی باللہ کے مجاورین میں شامل کسی خاندان کے ایک فرد بقائی صاحب سے ان کا تعلق قائم ہوا اور بقائی صاحب کی بیٹی یاسمین سے محبت ہوگئی۔ میں نے اپنے والد اور یاسمین صاحبہ دونوں کی جوانی کی تصویریں دیکھی ہیں، وہ جوانی میں بلاشبہ خوبصورت تھیں، گورا رنگ، بڑی آنکھیں، بلیک اینڈ وہائٹ تصویر بھی ان کے حسن کی رنگینی کو ماند نہیں کرسکی تھی۔ والد کی قد کاٹھی پتلی اور لمبی تھی، بیل بوٹم والی پینٹ اور لمبے شرٹ جو کہ اس زمانے میں خاصے رواج میں تھے ، پہن کر، لمبے بالوں اور پانچ سو پچپن کی ڈبیہ سمیت وہ پرانے اور کلاسیکل سینما کے ایک ہیرو دکھائی پڑتے تھے۔ ان کے ماتھے کی کشادگی، چہرے کا سانولا رنگ، آنکھوں سے جھانکتی ہوئی ذہانت اور ہونٹوں پر ایک مدھم سی مسکراہٹ نے میری آنکھوں میں ایک خوشحال مرد کے تصور کو جنم دیا، بلکہ ایک خوشحال جوان۔

لیکن ہماری زندگی میں خاص طور پر بچپن میں وہ اس طرح کے شخص بالکل نہیں تھے، جیسا کہ البم میں رکھی ہوئی وہ تصویر تھی۔ وہ اس سے بہت الگ تھے، جب وہ گھر پر ہوتے تو ہمیں اپنے فلیٹ سے باہر پاؤں رکھنے کی اجازت نہ ہوتی، چھت پر بھی جانا ممکن نہ تھا، بس دو بڑے بڑے کمرے تھے، اس وقت ہم چار بھائی بہن تھے، تعظیم(سب سے چھوٹا بھائی) ابھی پیدا نہیں ہوا تھا، ہم اس بڑے سے فلیٹ میں آسیبوں کی طرح بھٹکتے تھے، ہم نے گھریلو کھیل ایجاد کیے، ہمارے کھیلوں میں رسی کودنے، لگورچا کھیلنے اور گھر کے ڈرائنگ روم میں ہی کرکٹ کا سوانگ رچانے پر ہمیں مجبور ہونا پڑتا تھا، اس کے علاوہ ہم تھپڑ تھپڑ نامی ایک کھیل کھیلا کرتے ، جس میں تین بہن بھائی،باری باری کسی ایک کو پکڑ کر بستر پر لٹاتے، وہ ہاتھ پاؤں چلاتا، اپنا دفاع کرتا، مگر اسے اٹھاکر زبردستی لٹایا جاتا اور ایک ایک کرکے اس کے گالوں پر پانچ تھپڑ برسائے جاتے۔ اس ظالمانہ کھیل میں سب سے زیادہ نقصان ہماری بہن کا ہوتا تھا، وہ اکثر رحم کھاکر اپنے طمانچے معاف کردیا کرتی تھی، لیکن ہم تینوں بھائی کبھی اس پر رحم نہ کرتے۔ ہماری والدہ نماز، روزے، تسبیح اور مختلف قسم کے وظائف میں الجھی رہتی تھیں۔ ہم بہت خوش ہوتے تھے، جب معلوم ہوتا کہ ابا بمبئی جارہے ہیں۔ دراصل ہم چونکہ مہاراشٹر کے مضافاتی علاقے وسئی میں رہتے تھے، اس لیے اسے بمبئی میں شمار نہیں کیا جاتا ہے، بلکہ بمبئی کی تیز رفتار زندگی کے بالکل برعکس یہاں حیات انسانی بالکل دھیمے انداز میں رقص کناں رہتی تھی، سورج جلدی ڈوبتا تھا، صبح آرام سے درشن دیا کرتی تھی، کوئی گھائی(جلدی) نہیں تھی۔ والد کے بمبئی جانے سے ہم اس لیے خوش ہوتے تھے کیونکہ اپنے گھر کی گریل سے کئی دفعہ ندیدوں کی طرح ہم بلڈنگ کے گراؤنڈ میں دوسرے بچوں کو شور مچاتا دیکھتے، ان کو مٹی میں سنتے، بھاگتے دوڑتے، گرتے پڑتے دیکھ کر ہمیں بڑی خوشی ہوتی، والدہ سے نیچے کھیلنے کی اجازت لینا بہت دشوار کام نہیں تھا، وہ تسبیح پڑھتے پڑھتے ہی اثبات میں سرہلاتیں اور ہوں ہوں کہہ کر ہمیں نیچے جانے کا پروانہ تھما دیتیں۔ پھر نیچے کھیلتے وقت بھی ہر وقت جان اٹکی رہتی، کہیں ایسا تو نہیں کہ ابا جلدی لوٹ آئیں، اگر انہوں نے نیچے کھیلتے ہوئے ہمیں دیکھ لیا تو؟ اگر کسی اور شخص نے ان سے شکایت کردی تو؟ پھر کئی دفعہ ایسا ہوتا بھی تھا۔ ہم اپنے چچا زاد بھائیوں ، اپارٹمنٹ کے ہی لڑکوں کے ساتھ کھیلتے ہوئے ہچکچاتے تھے، کھیل میں اسی اعتماد کی کمزوری نے ہمیں بودا بنادیا تھا۔ ہم پر باقی لڑکے حکم چلایا کرتے، زیادہ تر لوگ ہمیں ٹیم میں نہ لیتے اور لیتے تو سب سے آخر میں اگر مجبوری ہوئی تو۔ اتفاق سے جس روز ہم کوئی کیچ پکڑلیتے، اچھی بلے بازی کا مظاہرہ کردیتے یا بہتر بالنگ کرپاتے تو ہمارے چہرے دیکھنے لائق ہوتے تھے۔ پھر ایسا بھی ہوا کہ انہیں پتہ چل گیا۔ ہمارے گھر میں ہر جمعہ خاص طور پر والدین کی بڑی سخت لڑائیاں ہوا کرتی تھیں، جب پورا خاندان ایک ساتھ رہا کرتا تھا، یعنی دونوں پھپھیاں، چچا اور ہماری فیملی تو ایک بہت چھوٹے سے کمرے میں ہمیں کتے بلیوں کی طرح بند رکھا جاتا تھا، ہم چال میں شرارت کرنے کے لیے باہر نکلنے کی تاک میں رہتے، چار فٹ اونچی دیوار کے اس پار کی دنیا کیسی ہے، دیکھنا چاہتے تھے، مگر بعض اوقات اس کمرے کی کھڑکی تک بھی ہاتھ نہ جاتا تھا۔ لڑائیاں تب بھی بہت ہوتی تھیں، بھائی بہن گویا ایک ساتھ نہیں رہتے تھے، بلکہ ایک دوسرے سے متنفر تھے۔ اس زمانے میں ہمارے والد کا کام اچھا نہ چلتا تھا، چچا طعنے بھی دیتے تھے اور خرچ بھی، والدہ نے جب ہمارے ابا سے کہا کہ آپ کو ایک علیحدہ گھر لے لینا چاہیے، روکھی سوکھی ہی سہی، ہم لوگ اس میں گزارہ تو کرہی سکتے ہیں تو والد نے یہ بھانڈا اپنی چہیتی فیملی کے چوک پر پھوڑ دیا۔ بچے بہت چھوٹے تھے، اس بے عزتی کو میری ماں نے کیسے سہا ہوگا، آج بھی اس بات کا احساس مجھے اندر تک پریشان کردیتا ہےاب وہ کہتے ہیں کہ اس وقت حالات کچھ ایسے ہی تھے کہ وہ بھائیوں کے طعنے سن سکتے تھے، بہنوں سے لڑسکتے تھے، مگر جب تک والدہ کی اجازت نہ ہوتی، خود کے لیے کوئی دوسرا ٹھور ٹھکانہ کرنا انہیں گوارا نہ تھا، آخر انہی کے کہنے پر تو اپنا ذاتی مکان بیچ کر، جو کہ ان کے والد اور ہمارے دادا نے بڑی محنتوں اور محبتوں کے ساتھ شاہجہاں پور میں بنوایا تھا، وہ پاؤں پر کلہاڑی برساتے، شاہجہاں پور کی شبیہ اور بچپن اور عزت دار جوانی کی یادیں جھولے میں ڈالے وہاں سے نکل آئے تھے، خود بتاتے ہیں کہ دادا نے اس مکان کو بیچنے پر انہیں سخت کوسنے بھی دیے تھے، بات بھی صحیح تھی کہ جس مکان کو انہوں نے اپنی اولاد کے لیے اتنی محنت سے بنوایا ہو اسے ایک غیر ضروری اور نقصان دہ ہٹ کی وجہ سے بکتا ہوا دیکھنا کتنا دردناک منظر رہا ہوگا۔ لیکن ہمارے والد نے اپنی امی کے اصرار پر وہ مکان بیچا اور مہاراشٹر میں دو تین مکانوں کی تبدیلی کے بعد وسئی کی سلمیٰ منزل نامی چال میں وہ فلیٹ خریدلیا، جس میں ایک ہی وقت میں تین مختلف خاندان رہا کرتے تھے۔ چھوٹے چھوٹے بچوں کی چیاؤں میاؤں، بڑوں کی بیٹھکیں، اپنی بڑائیاں، دوسروں کی برائیاں، ذمہ داریوں، غیر ذمہ داریوں پر بھاشن کے طویل سلسلے، شرابی پھوپھاؤں کی موجودگی، ایک ہی کچن کا جھگڑا۔ اس سب کچھ نے مل کر زندگی کو ایک ایسے حلیم کی شکل دے دی تھی، جس میں نمک ضرورت سے بہت زیادہ ہوگیا تھا۔ لڑائیاں ہوتی تھیں، مگر ہمارے والد ٹس سے مس نہ ہوتے، بہرحال وقت نے نہ جانے کیسی کروٹ لی کہ ایک بلڈر کے ساتھ کیے گئے کام کی وجہ سے انہیں گھر لینے کا آفر ملا، گھر بھی اتنا کشادہ، ہم لوگ جب وہاں شفٹ ہوئے تو لگتا تھا کٹیا سے کسی راج محل میں آگئے ہیں۔ لق و دق کمرے، بڑے بڑے بیڈروم، لابی، کچن، دو دو باتھ روم۔ الغرض والد کی زندگی میں بھی اچانک بہت سی تبدیلی آگئی۔ وہ مصروف رہنے لگے، انہیں پراپرٹی کا کام راس آرہا تھا، وہ مختلف پارٹیوں کے ساتھ کبھی کہیں جاتے، کبھی کہیں، زمینیں دکھانے، مختلف قسم کی،ان میں کچھ ڈسپیوٹیڈ پراپرٹیز بھی تھیں، ایسی بلڈنگیں بھی، جن کے سودے طے ہوتے ہوتے رہ جاتے،ساری باتیں طے ہوجاتیں، دو پارٹیوں کے درمیان سودا طے کرایا جاتا، ٹوکن سائن ہوجاتا، ادھر ادھر کے ڈھیروں کاغذات جمع کرلیے جاتے، نقشوں پر گھنٹوں سرکھپائی ہوتی اور پتہ چلتا کہ پاور آف اٹرنی نہیں مل پائی، یا فلاں پارٹی مل نہیں رہی، یا کوئی اور مسئلہ۔ ہم نے اپنی چھوٹی سی عمر میں سکوائرفٹ، مختف قسم کے کاغذات اور پاور آف اٹرنی کی اہمیت کو سمجھ لیا تھا، پھر والد صاحب دہلی جانے لگے، کسی کام کے سلسلے میں، سنا تھا وہاں کہیں انہیں کوئی زمین ملی ہے، جو بہت قیمتی ہے، اسی کے سودے کا معاملہ تھا، اس سے پہلے ان کے کسی کام میں انہیں بڑا فائدہ ہوا تھا۔ ہمارے گھر میں نوٹوں کی بوچھار ہونے لگی، میں خود دیکھتا تھا کہ بڑی بڑی تھیلیوں میں ہمارے چچا، روپے بھر کر لایا کرتے تھے، گڈیاں نکالی جاتیں، گنی جاتی تھیں۔ اتنے ہزار، اتنے لاکھ، لیکن ہم تو کھیل میں مگن رہتے، ہمیں خوشی تھی کہ ہم اس دربے سے نکل کر اس میدان نما گھر میں آگئے تھے۔ پہلے ہی والد کے بمبئی جانے کی خوشی کیا کم ہوتی تھی، جو اب وہ دلی بھی جانے لگے۔ دل بلیوں اچھلا کرتا، اب تو سارا علاقہ اپنا تھا، شور مچاتے تھے، چھتوں پر پتنگیں اڑاتے، کرکٹ کھیلتے، ادھر سے ادھر گھوما پھرا کرتے، لٹو گھماتے، کھوکھو کھیلا کرتے،بھائیوں کے یہاں شطرنج ، کیرم اور لوڈو کے دور چلتے۔ شام کو گھر پہونچ کر تھک کر سوجاتے۔ اب ان جھگڑوں کی بھی گنجائش کم رہ گئی تھی، جن کی وجہ سے ہم سہم جایا کرتے تھے، کئی بار والد نے پیٹا بھی تھا۔ وہ مارتے کم اور ڈراتے زیادہ تھے۔ لیکن ایک دفعہ کسی بات پر چھوٹے بھائی تالیف کو ایسا کرارا ہاتھ مارا کہ اس کے سر پر دروازے کا کنڈا لگ گیا، خون بہنے لگا۔ اتنی سی عمر میں اتنا خون دیکھنا اچھا نہیں ہوتا، مگر ہم نے دیکھا تھا، اپنے بھائی کا خون بھی اور اپنی والدہ کا بھی، پھر رفتہ رفتہ وہ خون جمنے لگا، والد دلی میں ہی رہنے لگے، آتے بھی تھے تو اتنے کم عرصے کے لیے کہ رات کو ہمارے سونے کے بعد آتے اور صبح آنکھ کھلنے سے پہلے کوئی فلائٹ پکڑ کر دلی روانہ ہوجاتے۔ مجھے تو ذاتی طور پر اس بات سے کوئی فرق نہیں پڑتا تھا۔ میرے لیے والد کا گھر پر نہ ہونا ایک نعمت کی طرح تھا۔ میں خوشی محسوس کرتاتھا، آزادی محسوس کرتا تھا۔ قلعے میں جایا کرتا، دوستوں کے ساتھ سمندر کنارے، کبھی صبح صبح ، کبھی شام کو۔ روپے پیسے کی ریل پیل لگ گئی تھی، ہم نے اس لق و دق فلیٹ کو ، اس میدان نما گھر کو، اس کی گلابی دیواروں کو اپنا تصور کرلیا تھا، بہت اپنا۔ ایک ایسا دوست ، ایک ایسا یار، جس سے بے وفائی کا دھیان بھی ممکن نہ تھا، جس سے بچھڑنے کا تصور بھی محال تھا۔ لیکن ایک روز والد صاحب ایسے آئے کہ ان کے ہاتھ میں صرف ایک چھوٹا سا ہینڈ بیگ تھا، چمڑے کا۔ ان کے چہرے پر ہوائیاں اڑرہی تھیں، شکل سے ہی معلوم ہوتا تھا کہ وہ کوئی بڑی بھاری قیمت ادا کرکے آرہے ہیں، ان تمام دنوں کی، جب ان کے بچوں نے آرام کے دن کاٹے ہیں،ان کا سامان بھی دلی میں ہمارے ایک رشتے دار کے یہاں رکھا ہوا تھا۔ وہ بمبئی آئے اور بیمار ہوگئے۔ وجہ یہ تھی کہ انہیں ایک کام میں لاکھوں کا نقصان ہوا تھا، کسی نے انہیں ایک ایسی زمین فروخت کردی تھی، جس کا سودا ہونا قریب قریب ناممکن تھا۔ لالچ کہیے یا بہتر مستقبل کی ایک اندھی امید ، جس کی بنیاد پر انہوں نے زمین تو خرید لی تھی، مگر اس دفعہ یہ زمین پیروں کے نیچے ٹھہرنے والی نہیں تھی، بلکہ پیروں تلے سے نکلنے والی تھی۔ اور ساتھ میں لے جانے والی تھی سر پر سے وہ آسمان ، جسے ہم نے اب اپنی اونچائیوں کی آخری حد تسلیم کرلیا تھا۔

(جاری ہے)

Facebook Comments HS