کچھ باتیں اپنے والد کے بارے میں (2)


والد صاحب کی بیماری کے ایک طویل سلسلے کے بعد پتا چلا کہ خوابوں نے جو قلانچیں بھری تھیں، وہ دراصل چھلاوا تھیں۔ اب گھر کا سامان بکنے لگا، قرض بڑھنے لگا اور نوبت یہاں تک آئی کہ وہ فلیٹ جس میں ہم رہتے تھے، اسے خیر باد کہنا پڑا۔ والد صاحب کے اس بلڈر سے بھی تعلقات خراب ہوگئے تھے، اس کا لاکھوں روپیہ زمین کے چکروں میں خود بھی ڈوب چکا تھا۔ یہیں سے میری زندگی نے اپنے والد کے بارے میں گہری دلچسپیوں کے میرے سلسلے کو جنم دیا۔ ہمارا خاندان مولویوں کا خاندان تھا، والد کو بھی دادا مولوی ہی بنانا چاہتے تھے، مگر انہوں نے ڈھائی پارے سے زیادہ قرآن کو حفظ نہ کیا، چھوٹی عمر میں گھر چھوڑا اور بہت جلد اپنے لیے دلی میں ایک الگ اور پرسکون زندگی بنائی۔ وہ زندگی اور اس دور کا حسن ، گویا ان پر لکھے ہوئے کاتب تقدیر کے ناول کا سب سے خوبصورت بیانیہ تھا۔ شاہجہاں پور میں غنڈوں سے لے کر پولیس والے تک انہیں سید صاحب کے نام سے جانتے تھے، خاندانی عزت انہیں وراثت کے تھال میں سجی ہوئی ملی تھی، مگر دلی میں انہوں نے نام، عزت اور روپیہ اپنے بل پر کمایا تھا۔ اپنے قلم کے زور پر۔ انہوں نے ریڈیو میں فیچر لکھے، آزادانہ طور پر ابن صفی کے ناولوں کی جھوٹی کاپیاں بھی تیار کیں، جیمز ہیڈلے چیز اور اگاتھا کرسٹی کے چٹپٹے اور جاسوسی ناولوں کو دوسروں کے نام سے اردو کے قالب میں بھی ڈھالا۔ اخباروں میں مضامین لکھے۔ سیاست دانوں سے تعلقات بنائے، شاعری میں نام پیدا کیا۔ اس وقت ان کے حلقہ احباب میں منچندا بانی، عمیق حنفی، محمود ہاشمی جیسے لوگ شامل تھے۔ کافی شاپ پر جانا، شام تک ادبی و سیاسی گفتگوئیں کرنا، ٹھاٹ سے رہنا، عشق لڑانا اور دوسروں کے کام آنا۔ اب وہ کئی دفعہ کہتے ہیں کہ اس زمانے میں اوکھلا میں ہی، جہاں اب ہم کرایے کے مکانوں کو بدلتے پھرتے ہیں، انہیں بڑے سستے داموں پر پلاٹ مل رہے تھے، مگر انہوں نے سوچا کہ یہاں تو مچھر بھیں بھیں کرتے ہیں، ٹخنوں تک پانی رہتا ہے، ایسی جگہ پر زمین لے بھی لی تو کس فائدے کی۔ قدموں کو دیکھتی ہوئی آنکھوں نے، تیزی سے آگے بڑھتے ہوئے مستقبل کو نہیں دیکھا۔ مگر وہ ایک شاعر کی دنیا تھی، ایک بے پروا، سگریٹ نوش شاعر کی دلی، جس نے انہیں فصیح اکمل بنایا تھا۔ انہوں نے جوانی کی دہلیز پر ٹھیک سے قدم رکھنے سے پہلے ہی اپنے دو دوستوں، منصور اور نواب کو کھویا تھا۔ ایک کا خاندان پاکستان ہجرت کرگیا تھا، دوسرے کو باپ نے خوشامد اور پیسے کے دم پر سرکاری نوکری دلوادی تھی۔ نوکری بھی ایسی ، جس میں رشوت کا سکھ ، پیچھے دیکھنے کی مہلت ہی نہیں دیتا تھا۔ چنانچہ انہوں نے بھی دلی میں ایک الگ تھلگ دنیا قائم کی۔

بقائی صاحب کے یہاں رہے، ان کی بیٹی سے عشق کیا اور عشق کو نبھانے کا ارادہ بھی کیا اور کوشش بھی۔ لیکن بات بنی نہیں۔ تعلیم تو تب ہی چھوٹ گئی تھی، جب علیگڑھ میں والد نے پیسے بھیجنے بند کردیے تھے اور ہائی سکول بھی پاس نہ ہوپایا تھا۔ دلی میں ان کی زندگی جم جاتی، اگر شاہجہاں پور سے ایک روز ان کے ایک دوست شمیم کا تار نہ آیا ہوتا۔ اس تار میں لکھا تھا کہ تمہاری بہن کسی کے ساتھ رخصت ہوگئی ہے، والدین پریشان ہیں، جلدی آؤ۔ سب چھوڑ چھاڑ کروہ شاہجہاں پور واپس گئے۔ ان سے چھوٹے بھائی سلمان تو پہلے ہی بمبئی جاچکے تھے۔ گھر سے بھاگنے یا فرار ہونے والی صرف ان کی بہن ہی نہیں تھیں، دراصل ان کے گھر کا ماحول ہی ایسا تھا۔ ہمارے دادا عام طور پر تقریروں کے سلسلے میں ہندوستان کے دورے پر رہا کرتے تھے، انہیں مفکر ملت کہا جاتا تھا، اس لیے وہ مفکر خاندان نہ بن سکے اور گھر رفتہ رفتہ تتر بتر ہونے لگا، مسلمانوں کی پچھڑی سیاسی فکر کا اثر تھا، جس کی وجہ سے ہمارے دادا نے دونوں پھپھیوں کو سکول میں داخل ہی نہ کرایا۔ نتیجہ نہایت خراب ہوا۔ تعلیم سے الگ تھلگ، بے مصرف اور جھریوں سے جھانکتی ہوئی زندگیاں، اٹکی ہوئی سانسوں کی طرح اچانک ہی بند توڑ کر باہر کی جانب لپکتی ہیں۔ پہلے والد نے گھر چھوڑا تھا، اس کے بعد چھوٹے بھائیوں نے، اور اب بہنیں بھی جاچکی تھیں۔ والدہ بہنوں کے پاس جانا چاہتی تھیں، جو کہ ہمارے چچا سلمان رضوی کے پاس بمبئی پہنچ گئی تھیں، وہاں سے ان کے لوٹنے کا کوئی امکان نہ تھا، اس لیے یہی طے ہوا کہ گھر فروخت کرکے بمبئی میں ہی نیا آشیانہ بنایا جائے۔ یہ دوطرفہ ہجرت تھی، ہمارے والد کو اگرایک طرف اس چکر میں اپنی جڑوں کو جلانا پڑا تو وہیں دوسری طرف دلی میں ایک روشن مستقبل کی امید کو بھی خیر باد کہنا پڑا۔ وہ بمبئی گئے اور وہاں بلٹز اخبار میں نوکری کرلی۔ مگر کچھ عرصے بعد اخبار بند ہوگیا۔

والد صاحب کی جب شادی ہوئی تو ان کی عمر اڑتیس برس تھی۔ لیکن جس لڑکی سے شادی ہوئی تھی، اس کی عمر اٹھارہ برس تھی اور اس نے طلاق کے ایک بڑے بھاری اور زخمی کردینے والے گھاگھرے کو اتار کر دوبارہ اپنے باپ کی عزت و ناموس کو قائم رکھنے کے لیے شادی کا جوڑا پہن لیا تھا۔ ہمارے والدین کی آپس میں بہت عرصے تک بنی نہیں۔ والد کی بلٹز کی نوکری چھٹی تو انہوں نے پھر کوئی نوکری ہی نہیں کی۔ بچے پیدا ہوئے تو لگاتار ہوتے گئے، چار بچے ۔ مجھے یاد نہیں کہ میرے والد کبھی سکول وسکول کی وجہ سے بہت پریشان ہوئے ہوں، ہماری والدہ کی کوششوں سے پہلے ایک انگریزی میڈیم میں اور اس کے بعد اردو سکول میں ہمیں داخلہ مل گیا۔ ہم نے وہاں پڑھا، کئی سال، مگر کبھی بھی والد سکول نہیں گئے، پرنسپل سے مل کر ہماری کاکردگی کے بارے میں نہیں پوچھا،ایڈمیشن میں ہونے والی پریشانیوں کو دور کرنے کی کوشش نہ کی۔ جب تک حالات ٹھیک چلے، فیس جاتی رہی، جب بگڑے تو تیس چالیس روپے ماہانہ فیس دینے کے لیے ہمیں پریشان ہونا پڑتا تھا۔ ایسے میں پڑھائی چھوٹ گئی اور ہم سوکھی ہوئی تیلیوں کی طرح تتر بتر ہونے لگے، حالات ادھ مری حالت میں پھیپھڑے پچکا کر اوندھے منہ لیٹے تو والدہ نے ساری ذمہ داری سنبھال لی۔ آزادنہ طور پر بھاگ دوڑ کر امتحانات دلوائے، قرضداروں کو سنبھالا، گھر چلایا اور ایسے ہی حالات میں ایک پانچویں بچے کو جنم بھی دیا۔

ہمارے والد نے زندگی میں عشق اور شادی دونوں ایک ہی دفعہ ضرور کیے تھے، مگر عورتیں ان کی حیات کا ایک جزو لاینفک رہی تھیں۔ ان کے بہت سی عورتوں کے ساتھ تعلقات رہے اور اپنے قویٰ کے مکمل طور پر مضمحل ہونے تک انہوں نے الگ الگ عورتوں سے افئیرز بھی کیے۔ ان میں آج کچھ خواتین بہت مشہور بھی ہیں اور کچھ گمنام بھی۔ عورتیں تو ٹھیک لیکن دلی میں میں نے اپنے والد کے پاس کئی لڑکیوں کو بھی موجود دیکھا۔ اب جب وہ میری والدہ سے محبت کا دم بھرتے ہیں اور ان کی جدائی کا ایک لمحہ بھی برداشت نہیں کرتے تو مجھے بالی ووڈ کے اس آئیڈیل ہیرو کا دھیان آتا ہے، جو تمام تر ہرجائی پن کے بعد اپنی بیوی کے پاس پلٹ آتا ہے، اس سے معافی مانگتا ہے اور اس کی ازدواجی زندگی ایک ہلکے تیکھے اور میٹھے ڈھوکلے کی طرح پھر سے سبزو زرد ہوجاتی ہے۔

مجھے ان سے بہت سی شکایتیں ضرور ہیں اور ہر اولاد کو ہوتی ہیں، لیکن ان شکایتوں کے باوجود سوچتا ہوں کہ انہوں نے دنیا کو جتنا کچھ دیا، اس کے بدلے میں آدھا بھی حاصل نہ کرسکے۔ ان کے پاس ایسے کئی لوگ آئے، مرد بھی اور عورتیں بھی۔ جنہوں نے مشاعروں میں نام چمکانے کے لیے ان سے غزلیں لکھوائیں، ان کی للو پوچو کی۔ ان کے ہاتھ پاؤں دابے، گھر کے کام کیے۔ ان کی جھوٹی تعریفیں کیں اور اپنے مجموعے تیار کرواکے چلے گئے۔ انہوں نے اگر کبھی کسی سے اس کام کے لیے ایک نیا پیسہ نہیں مانگا تو کسی نے انہیں اس کے عوض میں کچھ دینا ضروری بھی نہیں سمجھا۔ بلکہ جو لوٹ گئے وہ پلٹ کر تب بھی نہ آئے، جب زندگی کا دامن ہاتھ سے چھوٹنے لگا، بیماری نے گھیرا اور بدن کی تمام طاقتوں نے ساتھ چھوڑ دیا، ہڈیاں اور آنکھیں ایک ساتھ باہر کی طرف امڈ پڑیں۔ یہ ضرور تھا کہ میرے والد کو ہر شخص کی فطرت کا اندازہ تھا۔ وہ سمجھتے تھے کہ کون آدمی کیا کام نکلوانے کے لیے کیا ترکیب گڑھ کر آیا ہے، مگر عجیب قسم کی پاسداری تھی کہ انہوں نے آگے بڑھ کر خود لوگوں کے چہروں پر پڑا ہوا ریاکاری کا نقاب نہیں اٹھایا۔ اتنی غزلیں بانٹیں، نظمیں بانٹیں۔ وسعت قلبی کی انتہا یہ ہے کہ اپنے تعلقات کو سینت سینت کر نہیں رکھا، دونوں ہاتھوں سے ان وسائل کو گنواتے رہے، جہاں سے خود کے لیے بڑے راستے پیدا کیا جا سکتے تھے۔ آج بھی بہت سے لوگ ہیں، جو ہند اور بیرون ہند میں گلا کھنکار کر غزلیں پڑھ رہے ہیں، ان کے نام میری یادداشت کی مٹھیوں میں قید ہیں، میں نے انہیں اپنے باپ کے آگے گھگیاتے دیکھا ہے۔ لیکن ناموں کے سکے ایک دفعہ چمک جائیں تو مزید دس قسم کے تعلقات بن جاتے ہیں، لوگوں کو دھکے دے کر آگے بڑھنے کا ہنر خوب آتا ہے۔ جوڑ گھٹاؤ کی ترکیبیں حفظ ہوتی ہیں اور شہروں میں رہنے کا تو خیر طریقہ ہی یہی ہے۔ لیکن میرے والد کے اندر سے وہ شاہجہاں پور کبھی نکلا ہی نہیں، جس کے آس پاس بہتے دودریا، گرا اور کھنوت اب بھی ان کے لہو میں بہہ رہے ہیں۔

انہوں نے تعلقات ، گھراور ایک شاندار مستقبل کو داؤ پر لگا کر اپنے خاندان کو بچایا تھا، اپنی والدہ کا کہا مانا تھا۔ شاید یہی وجہ ہے کہ آج بھی دل میں ان کے اس قصور سے مجھے بہت عقیدت ہے۔ انہوں نے مولویانہ ریاکاریوں سے سجے ہوئے تھال کو لات مار کرقلم سے روزی پیدا کرنے کی کوشش کی تھی، شاید اسی لیے وہ میری زندگی میں ہمیشہ ایک آئیڈیل بنے رہیں گے۔ میں ان سے لڑتا بھڑتا ہوں، انہیں موجودہ زمانے میں ایک ضعیف الاعتقاد ، ناعاقبت اندیش اور ہلکا پھلکا عیاش انسان ہونے کا طعنہ بھی دیتا ہوں، مگر جانتا ہوں کہ وہ میرے لیے دریائے علم کی ایک ایسی لہر بھی ہیں، جن سے میں نے بہت کچھ سیکھا ہے، جن کی اکٹھی ہوئی کتابوں کو کلیجے سے لگایا ہے، جن کی شاعرانہ فطرت سے اپنے پسندیدہ رنگ انتخاب کرکے، سینے میں بھردیے ہیں، جن کی روز بروز پگھلتی ہوئی آنکھوں سے نکلنے والی روشنی کو میں دماغ میں انڈیل رہا ہوں، اور جو کچھ بھی میں سوچ سکتا ہوں، سمجھ سکتا ہوں، بغاوت کی جرات کرسکتا ہوں، اس کے لیے ان کا اس حد تک شکرگزار ہوں کہ انہوں نے ایسے حالات پیدا کیے، جن کی وجہ سے میرا ذہن لاکھوں کروڑوں کی طرح ایک زنگ آلود پرزے میں تبدیل ہونے سے بچ گیا ۔

لیکن جو سب سے زیادہ بات مجھے ان کی پسند ہے، وہ میری خود غرضی کے علاوہ اور کچھ نہیں، میں جب پڑھتے پڑھتے کہیں اچانک اٹک جاتا ہوں اور لغت دیکھنے کا دل نہیں چاہتا تو زور سے آواز لگا کر پوچھتا ہوں، ابا! اس لفظ کا تلفظ کیا ہوگا۔ اور پھر میں شکستہ حرف ان کے آگے ڈال دیتا ہوں، جن سے وہ مجھے ایک زندہ، متحرک اور جگمگاتا ہوا لفظ جوڑ کر واپس کردیتے ہیں۔

Facebook Comments HS

Comments are closed.