ویری فیکیشن
نظامِ کائنات میں انوکھے اور سُچے قوانین، روز ازل سے کار فرما ہیں۔ ان قوانین کا فہم و ادراک ہر کس و ناکس کو حاصل ہونا محال ہے، ہاں کچھ صاحبانِ بصیرت کی رسائی ان رموز و اسرار تک ضرور ہوا کرتی ہے۔ ضروری نہیں کہ یہ راز ہائے سر بستہ انتہائی گنجلک وادیوں میں سرگردانی سے میسر آئیں بلکہ یہ موتی بسا اوقات انسان کی مٹھی میں ہوتے ہیں مگر اکثریت اس درِ دزدِ حنا کی بجائے دوسروں کے دامن میں پڑے ہوئے چند تنکوں کو گھورتے ہوئے اپنے قیمتی اثاثہ کو بھی گنوا بیٹھتی ہے
یونیورسٹی سے باقاعدہ تعلم کا پہلا سال تکمیل کو پہنچ رہا تھا کہ ہمارے ایک نہایت شگفتہ مزاج و خوش مذاق استاد محترم کی کلاس میں ہمارے کسی شریک کی ایک حرکت اور اس کے پورے سال کی عادات و اطوار کے پیشِ نظر ہمارے مشفق و خوش طبع استاذ گرامی کی طبیعت میں یکلخت گہری سنجیدگی در آئی اور اپنی ہر کلاس میں شرکاء کی روحوں کو تازگی عطا کرنے والے، تمام شاگردوں سے انسیت رکھنے والے مہربان استاذ کے لہجے میں تاسف بھرے تاثر نے انگڑائی لی اور ناگواری کا اظہار بھی نہایت سبق آموز الفاظ میں چھلک پڑا :
”بھئی اس کائنات میں نظامِ قدرت بہت شفاف اور انصاف پسند ہے۔ اس نظام میں انسانوں کے دوہرے معیار اور دغا بازی کے سے سامان نہیں ہیں، ہر انسان کو قدرت کا نظام اپنے مشاہدے کے حصار میں لئے ہوئے ہے۔ انسان کے اعمال، حرکات و سکنات اور جملہ رویہ جات، اس قدرت کے نظام کے مسلسل مشاہدے میں ہوتے ہیں اور انسان کے اچھے اور برے انداز، عادات و اطوار، اچھی، بری حرکتیں ضرور بہ ضرور انسان کی زندگی میں ہی کہیں نہ کہیں سامنے آ کر آئینہ ہو جاتی ہیں۔
مگر ایسے میں زیادہ تر لوگ اپنے برے کردار اور خطاؤں کو قبول کرنے اور ان سے چھٹکارا پانے کی کاوش کے بجائے سماج، نظام یا مقدر کی خرابی کو ذمہ دار ٹھہرانا شروع کر دیتے ہیں۔ نظام خراب ہے، سسٹم میں رشوت اور دھونس دھاندلی ہے یا پھر قسمت کے کھاتے میں سارا ملبہ ڈال کر فرار کی راہ اپناتے ہیں حالانکہ در اصل انسان کے اپنے کرتوت اس کے سامنے آتے ہیں، خدا داد صلاحیتوں کا ہونا اور چیز ہے، مگر ان صلاحیتوں کا غلط استعمال بھی اس کائنات کی نگاہِ باریک بیں سے اوجھل نہیں ہوتا اور یہی صلاحیتیں آنے والے وقت میں حضرتِ انسان کو گہری کھائیوں میں لڑھکانے کا سبب بن جایا کرتی ہیں کہ غرور و تکبر اور دیگر سب رذائل مشاہدے کی اس آنکھ سے چھپے ہوئے نہیں ہے“ ( مفہوم)
آخری کلاسز اور سمیسٹر کے فائنل امتحانات کی آمد آمد تھی، سمیسٹر کی تیز روی اور فائنل امتحانات کی ایک جداگانہ کیفیات، الوداعی تقریبات کے غلغلے میں اور کچھ دیگر معاملات کے سبب قبلہ استاد گرامی کے یہ الفاظ صرف ایک بار کسی دوسرے شریکِ سفر کے ساتھ ہلکی سی سرسراہٹ کے ساتھ گزر گئے مگر ”آخری جرعۂ فنجانِ لطائف ہو یا سگارِ تلخ نوا کا دمِ واپسیں و آخریں“ انسان کی روح پہ پختہ نقوش ثبت کر ہی جاتا ہے کہ جن کی شیرینی و تلخی دور تک ساتھ نبھاتی ہے۔ یہ الفاظ بھی کوئی ایسا ہی تاج محل، کسی گوشۂ روح و بدن میں تعمیر کر چکے تھے۔
قصہ یوں ہے کہ وقت کی اپنی رفتار، اپنے ضابطے اور اصول ہیں۔ اس نے بھلا کب کسی کا رک کے انتظار کرنا ہوتا ہے اس کے ساتھ ”چلنے والے نکل گئے ہیں جو ٹھہرے ذرا، کچل گئے ہیں“
امتحان کا زمانہ گزرا، رزلٹ کی برکھا بھی برسنا شروع ہوئی، ساتھ ہی یونیورسٹی کے تمام طلبہ و طالبات کے لئے کسی سلسلہ میں آنلائن اپلائی کرنے، ڈاکومنٹس جمع کروانے، اور ویری فیکیشن کروانے کا ایک نیا سلسلہ شروع ہوا، اصول و ضوابط، طریقہ کار وغیرہ یونیورسٹی کی انتظامیہ اور آفیشل گروپس کے ذریعہ تمام طلباء و طالبات کو بتلائے گئے۔ عیدِ قربان کی آمد کے سبب یونیورسٹی کے قریب والوں کو بار بار یونیورسٹی میں آمد کے مواقع میسر رہے اور اس پراسس کو نبٹانے میں کچھ معاونت کرنے کا، اساتذہ کی سرکردگی میں عملی موقع میسر آیا۔
ہم تین شرکاء موجود تھے۔ میرے دوسرے دو قابل شرکاء کو ہماری اپنی کلاس کے ڈاکومنٹس کی پڑتال کا موقع ملا اور وہ ہماری کلاس کی ویری فیکیشن کر کے چلے گئے، یونیورسٹی کی ہمسائیگی کے باعث شب نو بجے تک بی ایس کے تین سمسٹرز کے بچوں کی ویری فیکیشن کا عمل سر انجام دے رہا تھا کہ ایک عجب تجربہ ہوا :
کوئی پچاس کے قریب طلباء کے ڈاکومنٹس کی ابتدائی ویری فیکیشن کر چکا تھا کہ ایک ذمہ دار استادِ محترم فائنل ویری فیکیشن کرنا شروع ہو گئے ان پچاس میں سے صرف چند فارم کی فائنل ویری فیکیشن باقی تھی کہ مجھے اچانک ایک پہلو پہ شبہ گزرا کہ کچھ غلط ہو رہا ہے، سر کے گوش گزار کیا تو معلوم ہوا کہ ہم شاید ایک بنیادی غلطی کرتے چلے جا رہے ہیں اور فائنل ویری فیکیشن ہو جانے کے بعد اس کی درستگی میں بڑی پیچیدگی کا سامنا ہو سکتا ہے اور ذمہ دار استادِ محترم کی شخصیت پہ سوال اٹھنے کے خدشات الگ، طلباء کے ساتھ نا انصافی کا خدشہ الگ سے پورے ماحول کو پریشان کر گیا، سارے دن کی تکان و تھکاوٹ سے بوجھل استادِ محترم آزردہ خاطر ہو کر وہاں سے باہر کھلی فضا میں تشریف لے گئے۔ میرے ساتھ والے صاحب کہ جن پہ تکیہ کر کے پراسس جاری رکھے ہوئے تھا بار بار زوجہ محترمہ کی کالیں آنے سے الگ تنے ہوئے سے تھے۔ شاید گھر نہ پہنچنے کی سوچ یا کوئی اور معاملہ تھا کہ ان سے بھی چوک ہو گئی اب اوپر سے استادِ محترم کی ناراضگی سے وہ مزید پریشانی کا شکار ہو گئے
تبھی ایک ساتھی نے ایک لسٹ تھمائی کہ اس لسٹ کے مطابق اگر کام کرتے تو خطا نہ ہوتی، مگر سوال یہ کہ اب اتنے سارے بچوں کی فائنل ویری فیکیشن بھی ہو چکی ہے اب لسٹ ملنے کا فایدہ؟
مگر اچانک قدرت کی طرف سے اشارہ ملا کہ ”پریشانی کا درجہ تشخیص کر کے متعین کر لیا جائے تو اس سے نبٹنے یا کم از کم اسے برداشت کرنے میں انسان کو سہولت ہو جاتی ہے“ یعنی کہ اکثر ہمیں اپنی پریشانی کا لیول معلوم نہیں ہوتا، اپنے دکھ کی میعاد معلوم نہیں ہوتی کہ یہ دکھ کتنے وقت میں اپنا اثر کھو بیٹھے گا اور ہم پھر سے نارمل ہو جائیں گے۔ علم بہت زود اثر دوا ہے۔
کسی پروقار اور ہمیشہ خوش نظر آنے والے شخص سے پوچھا گیا کہ آپ مصائب پہ قابو کیسے پا لیتے ہیں اور کیونکر ہمیشہ خوش باش سے رہتے ہیں؟
تو کہا مجھے جب کوئی دکھ، پریشانی یا چیلنج درپیش ہوتا ہے میں اس کا اچھے سے جائزہ لیتا ہوں اور ایک متناسب اندازہ لگا لیتا ہوں کہ بس اس دکھ، مصیبت، پریشانی کی اوقات اتنی ہی ہے۔ اور اتنے وقت میں اس کی اہمیت اور اثر باقی نہ رہے گا۔ بس میری یہ سائنس مجھے اس مصیبت پہ حاوی کر دیتی ہے اور میں مایوس نہیں ہوتا کیوں کہ مجھے یقین ہو جاتا ہے کہ یہ مسئلہ جلد ختم ہونے والا ہے ” (مفہوم )
غرض یہ کہ اب اس لسٹ کے سامنے آنے پہ اس مسئلہ کی مقدار کو جانچنے کا مرحلہ درپیش تھا ؛ میرے ساتھ موجود صاحب کہ جن کی طرفین سے سٹی گم ہو رہی تھی، اب جو چند فارم ہماری ابتدائی ویری فیکیشن کے منتظر تھے ان کو بھی روکھی نظروں سے دیکھ رہے تھے۔ انہیں دھیرے سے بولا بھئی ایک کام کرتے ہیں جس سے درد کے لیول کی پہچان ہو جائے گی اور یہ تشخیص؛ درد کا سبب بننے والے وائرس سے نبٹنے کا حوصلہ اور ہمت عطا کرے گی۔ کسی قدر پر امید نظروں سے دیکھتے ہوئے بولے وہ کیسے؟
لسٹ ان کے سامنے رکھی، تین چار کالموں میں سے صرف ایک کالم کے سٹوڈنٹ کی ویری فیکیشن میں خطا کا غالب امکان تھا، بولا جن کی فائنل ویری فیکیشن ہو گئی ہے ان طلباء و طالبات کے صرف نام دیکھنے ہیں کہ ایسے کتنے بچے ہیں جو فائنل ویری فیکیشن کے عمل سے گزرے ہیں اور ان کا اس کالمِ گراں بار سے ناتا ہے۔ جتنے کم طلبا اس کالم سے ہوں گے اتنا اس مسئلہ کی تکلیف اور شدت کم ہو گی۔
خیر وہ کچھ پُرسکون ہوئے اور دعا کرتے ہوئے بولے جلدی کریں بھائی، پرکھا تو اس کالم میں سے صرف دو طلبا کی ابھی فائنل ویری فیکیشن ہوئی تھی باقی کے تقریباً آدھے سے زیادہ بچوں کی فائنل ویری فیکیشن چند لمحات کی دوری پہ تھی، یعنی یہ کہ صرف دو سے چار سیکنڈ پہلے اگر ہماری توجہ اس جانب ہو جاتی تو وہ دو طلبہ بھی اس مسئلہ کا شکار نہ ہوتے بلکہ یوں سمجھیں کہ ادھر استاد محترم ان کے فارم پہ پہنچے ؛ ادھر توجہ اس جانب ہوئی مگر زبان پہ آتے آتے لمحوں کے اندر دو بچے اس فائنل ویری فیکیشن کا شکار ہو چکے تھے باقی سب سلامت رہے۔
جب ساری صورتحال استادِ محترم کے سامنے رکھی کہ جناب صرف دو فارم خطا آلودہ ہوئے ہیں تو ماحول میں ایک شگفتگی سی عود کر آئی؛ بھئی شکر ہے کہ بہت بڑے بلنڈر سے بچ گئے۔
یونیورسٹی سے اپنے دولت کدہ پہ لوٹ آیا مگر اس تجربہ کا اثر ذہن پہ انوکھے سے انداز سے جلوہ ساماں ہو گیا، رات کے پچھلے پہر بادۂ سحر گاہی کی تیاریوں میں تھا کہ یہ تجربہ بھی ساتھ ساتھ جھومتا، لہراتا تازہ دم ہمراہ ہی تھا سوالات کوندنے لگے :
جن دو بچوں کی فائنل ویری فیکیشن ہوئی اور ان کے لئے مسئلہ پیدا ہو گیا، تو کیا قدرت کا نظامِ ویری فیکیشن ان کے کردار سے خوش نہیں تھا؟
تیسرا بچہ جس کی ویری فیکیشن ایک لمحہ کی دوری پہ تھی اس کے کردار میں سے قدرت کو ایسی کیا بات بھلی لگی کہ عین وقت پہ اسے پریشانی سے بچا لیا؟
اس تیسرے بچے کی کون سی نیکی اس کے کام آئی ہو گی؟
یہ تیسرا بچہ کیسی عظمت کا حامل ہے کہ قدرت نے صرف اسے بچانے کی خاطر اس کے بعد والے سارے بچوں کو اس بھلائی سے نواز دیا اور مسائل سے بچا لیا؟
کیا پوری کلاس میں سے ان پہلے دو بچوں کا اس تیسرے بچے کے ساتھ کوئی برا معاملہ تھا کہ اس کی نیکی کا اثر بھی ان دونوں کو نہ مل سکا جبکہ وہ اس کے انتہائی قریب تھے؟
کیا قدرت کو کچھ لوگ اتنے عزیز ہوتے ہیں کہ ان سے سبقت کرنے کی کوشش کے درپے لوگ آگے تو بڑھ جاتے ہیں مگر نقصان اٹھاتے ہیں؟
یا یہ کہ قدرت نے ان دو لوگوں کو کسی خاص مقصد کے تحت الگ سے منتخب کیا کہ اس سے انہیں کسی اور کارنامہ کے لئے تیاری کا موقع ملے؟
بس اسی طرح کے تانے بانے جاری تھے کہ مضمون کے آغاز میں مرقوم استادِ محترم کے الفاظ، ایک نئے روپ سے قرطاس ذہن پہ نکھرتے چلے گئے اور ایک خوبصورت سا عنوان کھلکھلا اٹھا:
”ویری فیکیشن“
نظام قدرت جو ہمارے وجود کی ہر ایک حرکت اور زاویہ و عمل کو مشاہدہ میں لئے ہوئے ہے وہ یہی ویری فیکیشن ہی تو ہے کہ جس ویری فیکیشن کے معیار میں جھول نہیں، کوئی لوچا نہیں، کوئی قدغن نہیں، فیورٹ ازم نہیں۔
ہمارے ایکشن کے مطابق ری ایکشن سامنے آتے ہیں، کاز اینڈ ایفیکٹ کا اصول ہے، لاز آف اٹریکشن، لاز آف اٹیچمنٹ، حرکت یا وائبریشن کا فلسفہ ہے، فریکوئنسی یا قابلیت کا سانچہ ہے، ہمارے استقلال اور اخلاص کے پہلو ہیں غرض جملہ محاسن و رذائل کی باقاعدہ خانہ بندی ہے۔
جی ہاں!
ہم میں سے ہر ایک کی مسلسل ویری فیکیشن ہو رہی ہے ہمارے سابقہ ریکارڈ کو ملحوظ رکھتے ہوئے آمدہ مراحل کے حوالے سے فیصلے ہوتے ہیں کہ آیا ہمارا سابقہ ریکارڈ خوش آئند رہا یا کہ اگلے ترقی اور خیر و برکت کے مراحل سے مستفیض ہونے کے لائق نہیں ہیں۔ قانونِ مجازات ہو یا مکافات عمل؛ ہماری اس زندگی میں بھی بھرپور طریقے سے ہمارے مستقبل کو متاثر کرتے ہیں اور مابعد دنیا کا معاملہ بھی اسی تناظر میں پرکھا جا سکتا ہے۔
در حقیقت فطرت کی زبان، اس کے مشاہدہ کے معیارات اور کامیابی کی ساری راہیں انسان پہ روشن کر دی گئیں ہیں، خیر اور شر کا ادراک بھی عطا کیا گیا ہے کہ بھئی راہیں آپ کے سامنے کشادہ ہیں، اب اپنی مرضی سے اپنی منازل کا تعین کر لیں، جنہیں اچھی راہ اختیار کرنے اور ویری فیکیشن کے معیار پہ پورا پورا اترنے کی توفیق نصیب ہو گئی حقیقتاً مبارک باد کے مستحق ہیں۔
جن کی ویری فیکیشن میں ہی ایرر آ جائے، کاغذات میں کمی کوتاہی ہو جائے، ڈاکومنٹس اور آنلائن ڈیٹا میں تضاد آ جائے، مسائل یا کوئی اور بدمزگی در آئے، انہیں منزل کی رسائی بھی دشوار ہو جایا کرتی ہے
ہاں اگر نظام سے صلح آشتی کا ربط ضبط قائم کرنے کی آرزو، خیر اور نفع یا منزل کے حصول کی لگن اور کاوش میں اخلاص ہو تو کچھ بعید نہیں کہ سفر لمبا ہو جائے مگر منزل پہ پہنچنے کی نوید ان کے لئے بھی ہو، انسان کو جچتا بھی یہی ہے کہ وہ منزل کو پانے کی جستجو اور لگن نہ چھوڑے۔ راستے کی بھول بھلیاں، رکاوٹیں حضرتِ انسان کی خالص فطرت کو مکمل مسخ نہ کرنے پائیں تو یقیناً ایسے فرد کے لئے بھی شیرینی و تازگی بھری لطف و کرم کی پھوہاریں ضرور رونق و رعنائی کی جلوہ سامانیوں کا وسیلہ ٹھہریں گی


