کشمیر کی چاندنی، بلبلِ کشمیر، حبہ خاتون


کشمیر صرف خوبصورت قدرتی مناظر، برف پوش سر بہ فلک پہاڑوں، سبزہ زاروں، مرغزاروں، دریاؤں، آبشاروں، اور کشادہ دامن وادیوں ہی کی سرزمین نہیں بلکہ یہ خطہ ادب، اور فنونِ لطیفہ کے حوالے سے بھی نہایت زرخیز رہا ہے۔ کشمیر کئی عظیم شعرا کی جنم بھومی ہے۔ حبہ خاتون، لل دید، محمد غنی، مہجور، رسول میر، اور ارنی مل، جیسے عظیم شاعروں کی، روحانی و رومانوی شاعری، کشمیری ادب کا ایک قابلِ فخر اثاثہ ہے۔ لل دید جنہیں لالیشوری بھی کہا جاتا ہے، چودھویں صدی کی عظیم صوفی شاعرہ تھیں۔

وہ کشمیری زبان میں شاعری کرنے والی پہلی مشہور شخصیت سمجھی جاتی ہیں، جنہوں نے نہ صرف کشمیر کے روحانی ادب کو وسعت بخشتے ہوئے ایک نئی جہت عطا کی، بلکہ صوفیانہ فلسفے، وحدت الوجود، اور انسانی باطن کو شاعری کا موضوع بنایا۔ لل دید پر تفصیلی تحریر پھر کبھی سہی، ہمارا آج کا موضوع حبہ خاتون کی شخصیت اور شاعری ہے، وہی حبہ خاتون جسے کشمیر میں سولہویں صدی کی بہترین اور منفرد شاعرہ مانا جاتا ہے۔

عشق، فراق، درد، اور رومانویت کے رنگوں میں رچی شاعرہ حبہ خاتون کا اصلی نام زون یا زونی تھا، جس کا مطلب ہے چاند۔ زون کے والدین نے پیدائش کے وقت اس کی بے پناہ خوب صورتی کی بنیاد پر اسے اس کا نام زون رکھا۔ زون کشمیر کے ضلع پلوامہ کے ایک چھوٹے سے گاؤں میں ایک غریب کسان کے گھر پیدا ہوئیں۔ غربت کے باوجود، زون نے گاؤں کی ایک خاتون مذہبی معلمہ سے کشمیری زبان پڑھنا اور لکھنا سیکھا۔ زون کو بچپن سے ہی شاعری لکھنے اور گانے کا شوق تھا۔ زون کی آواز قدرتی طور پر نہایت سریلی تھی اور وہ ایک پیدائشی نغمہ نگار تھی۔

زون کی پہلی شادی ایک ان پڑھ کسان لڑکے سے ہوئی۔ لیکن ذہنی ہم آہنگی کے فقدان کی وجہ سے یہ شادی کامیاب نہ ہو سکی اور بالآخر طلاق پر منتِج ہوئی۔ طلاق کے بعد ، زون نے شاعری اور گائیکی کو اپنا اوڑھنا بچھونا بنا لیا۔ ایک دن جب وہ ایک چنار کے درخت کے نیچے گیت گا رہی تھی تو کشمیر کے اس وقت کے حکمران یوسف شاہ چک نے زون کو دیکھا اور پہلی ہی نظر میں یوسف شاہ چک زون کی بے تحاشا خوبصورتی اور مدھر آواز کا اسیر ہو کر رہ گیا۔ یوسف شاہ نے زون کو شادی کی پیشکش کی، اور یوں ایک عام سے گاؤں کی ایک غریب، کسان لڑکی، ایک ہی جست میں کشمیر کی ملکہ بن گئی۔ شادی کے بعد زون کا نام حبہ خاتون (محترم خاتون) رکھ دیا گیا۔

یوسف شاہ اور حبہ خاتون کے درمیان گہری محبت تھی، اور ان کی شادی شدہ زندگی چھ سال تک بہت خوش گوار رہی۔ مگر تقدیر کو کچھ اور ہی منظور تھا۔ یوسف شاہ چک اور مغل بادشاہ اکبر کے درمیان اختلافات کے بعد اکبر نے یوسف شاہ چک کو دہلی مذاکرات کے بہانے بلا کر قید دیا۔ بعد ازاں راجہ مان سنگھ کی درخواست پر اکبر نے یوسف شاہ کو رہا کر کے راجہ مان سنگھ کی ہمراہی میں بہار بھیج دیا گیا جہاں 1592 میں یوسف شاہ کا انتقال ہو گیا۔

یوسف شاہ چک اور حبہ خاتون کی داستان کشمیر کی تاریخ اور ادب کی ایک دردناک، اور اثر انگیز داستان ہے جو عشق، سیاست، اور دھوکہ دہی کے ابواب پر مشتمل ہے ہے۔ یہ صرف ایک سلطان اور شاعرہ کے عشق اور وصال و ہجر کی داستان نہیں، بلکہ مغل سامراج کے پھیلاؤ اور کشمیر کے زوال کی عکاس بھی ہے۔ یوسف شاہ سے جدائی حبہ خاتون کی زندگی کا سب سے بڑا صدمہ تھا۔ جس نے اس کی زندگی کو مکمل بدل دیا۔ یوسف سے جدائی کے بعد حبہ خاتون نے دنیاوی زندگی سے منہ موڑ لیا، اور اپنے محبوب کے فراق میں قریہ قریہ نگری نگری بستی بستی وادی کے طول و عرض میں گھومنا اور اپنے محبوب کی یاد میں گیت گانا شروع کر دیا۔

وہ چلتی تھی، پہاڑوں میں، دریا کنارے، چشموں کے پاس، اور یوسف کو پکارتی۔ اس کا رومال، اس کی بانسری، اس کی زبان، سب میں یوسف کا نام گونجتا اور آواز لگاتا کہ محبت صرف وصل نہیں، بلکہ محبوب کے ہجر میں در بدر اور آبلہ پا ہو کر پھرنے کا نام بھی ہے۔ یوسف شاہ کی قید کے بعد دربار اجڑ گیا، ڈل جھیل اداس ہو گئی، کشمیر کی فضاؤں میں گویا خزاں نے ڈیرے ڈال لئے، اور وادی میں صرف ایک آواز باقی رہ گئی۔ حبہ کی آواز، اپنے محبوب کے فراق میں کہے نوحے سناتی آواز۔

حبہ خاتون کی شاعری اپنے وقت کے دیگر شعرا، جو عموماً روحانیت اور فطرت کی تعریف کو ہی اپنا موضوع بناتے تھے، سے بہت مختلف تھی۔ اس کی شاعری رومانوی جذبات، نسوانی احساسات، اور عشقِ کے سیلِ بلاخیز کے ان رنگوں میں رنگی ہے جو ہمیں پروین شاکر کی شاعری میں دیکھنے کو ملتے ہیں۔ حبہ خاتون نے کشمیری شاعری میں ”لول“ نامی ایک نئی صنف کو بھی متعارف کروایا۔ جو انگلش کی ”Lyric“ کی طرح مختصر مگر جذبات سے بھرپور و ذاتی محسوسات پر مبنی پُراثر نظم ہوتی ہے۔

انگلش شاعر ولیم ورڈزورتھ کی طرح حبہ خاتون نے بھی فطرت اور قدرتی حسن کو اپنی شاعری میں خوب صورتی سے بیان کیا۔ حبہ خاتون نے اس وقت کے چلن کے برعکس بلا جھجک اپنی شاعری میں محبوب کے لئے اپنی بے قراریوں، اور بے تابیوں کا کھل کر اظہار کیا۔ یوں حبہ خاتون نے کشمیری ادب کو ایک نئی پہچان، ایک نسوانی آواز، اور ایک عام انسان کی زبان میں شعری اظہار عطا کیا۔ زون یا حبہ خاتون کی شاعری کو دو ادوار میں تقسیم کیا جا سکتا ہے۔

پہلا دور یوسف شاہ چک کی جدائی سے قبل، جب کہ دوسرا دور یوسف شاہ سے مستقل جدائی کے بعد کا ہے۔ پہلے دور کی شاعری میں محبت، خواب، اور رومانویت کے رنگ غالب ہیں۔ اس دور کی شاعری میں زندگی کی رنگینیاں، حسنِ فطرت کی تعریف، اور وصل کا سرور موجود ہے۔ ان کے گیتوں میں نسوانی خوابوں اور نرم جذبوں کا کھلا اظہار ملتا ہے۔

Shubi shubi ba mo paeth aashq chh
ba wuchhith gobur ta
phoolan bagh. ”

خوشی خوشی میں پیار کی راہ پر چلی
سامنے میرے گلزار تھا،
باغ تھا۔

یہ اشعار محبت میں کامیاب ایک ایسی فطرت پرست نوجوان لڑکی کے دل کی آواز ہیں جسے یوسف شاہ چک کی محبت نے ملکہ بنا دیا

گاہ چون پیوان گٹہِ
اکہِ لٹہِ ییہم نا
یاون میانہِ قرمز پٹہِ
کمیو وانہ رنگنے آکھ
میہ نو زون اتھر ژٹہِ
اکہِ لٹہِ ییہم نا

جب تم پیارے مسکراتے ہوئے آتے ہو،
تو میرا دل خوشی سے پھول اٹھتا ہے۔
جب تم سرخ لبوں سے بولتے ہو،
میں سنتی ہوں اور رنگ چڑھ جاتا ہے۔
میں وہ زون ہوں جو تمہاری مسکان سے مہکتی ہے،
تو میرا دل خوشی سے پھول اٹھتا ہے۔

اس لول میں زون (حبہ خاتون) اپنے محبوب کی مسکان، اور اس کی باتوں کی چاشنی، سے اپنے دل کی کلی کھلنے کی بات کرتی ہیں۔

ہنہِ لو ہنہِ لو ہنہِ لو
بال گجس مُہنہِ لو
سمبال کٔرتھ گرِ بال درایس
جمال چون وچھنہِ لو

بس یہ مسکان، بس یہی مسکان!
تیری زلفوں کی لوری جیسی مسکان!
جب تو اپنی زلفیں سہلاتا ہے،
اُس جمال کو دیکھنا، ہی میری تمنا ہے!

حبہ خاتون کی شاعری کے دوسرے دور میں فراق، احتجاج اور غمِ ہجر کا رنگ نمایاں ہے۔ یوسف شاہ کی مغلوں کے ہاتھوں گرفتاری نے حبہ خاتون کو شدید صدمہ پہنچایا، وہ تنہا رہ گئی، اور ایسے میں اس کی شاعری ایک عورت کے دل سے نکلا ہوا مرثیہ بن گئی۔ محبت کی شکست، سلطنت کی غلامی، اور امید کا زوال اس کے اشعار میں واضح نظر آنے لگا۔

منز سرایے لوسُم دؤھ
یارَ میانے یاون رایے
منز سرایے لوسُم دؤھ
کیازِ زایے کونہ موٍیایے
پوو کٓتھ کیُتھ سوِندر ناؤ
کاُلی وسُن چھُ میژِہ شایے
منز سرایے لوسُم دؤھ

میری جوانی گزر گئی ہے،
میں اپنے محبوب کے قدموں کا انتظار کرتی رہی۔
میری جوانی گزر گئی ہے،
کیوں وجود میں وہ خوشبو نہیں رہی؟
پھول کھلے مگر اُن کی مہک کھو گئی،
چاندنی پھیلی مگر میں تاریکی میں ہوں۔
میری جوانی گزر گئی ہے۔

یہ لول محبت اور تنہائی کی شدتوں کا ایسا بیان ہے جس میں حبہ خاتون نے اپنی جوانی اور امیدوں کے زوال کو فراق کی شدت کے ساتھ بہت پر اثر طریقے سے اپنی شاعری کے سانچے میں ڈھال کر پیش کیا ہے۔

Me chhum rooz panun yaar bozan
wuchhun yeli me chhas haapat

میں ہر روز اپنے پیارے کو پکارتی ہوں،
دیکھتی ہوں شاید وہ آ جائے۔

یہ اشعار حبہ خاتون کی اس تڑپ کا اظہار ہیں جو یوسف شاہ کی جدائی نے اس کے دل میں پیدا کی۔ وہ ہر روز امید رکھتی تھی کہ شاید کوئی معجزہ ہو جائے، شاید وہ پلٹ آئے، مگر یوسف شاہ کو آنا تھا نہ وہ آیا۔ اس کی جدائی کی تڑپ نے حبہ خاتون سے جینے کی امنگ چھین لی۔

Tsandun yaaras payi chhouni zanaa
Dunya saeth che kyah faidaa

چاند جیسے محبوب کے بغیر بھی کیا عورت ہونا؟
دنیا میں پھر کیا فائدہ ہے جینے کا؟

اس شعر میں حبہ خاتون کا اپنے اس دکھ کا اظہار کرتی ہے جو یوسف شاہ کی جدائی نے اسے بخشا تھا، جس نے اس کی زندگی کو ہی بے معنی بنا کے رکھ دیا تھا۔

Suy chhu doore, me chhas nundbaan
Katy paeth gov me chu baagaan

وہ کہیں دور ہے، اور میں یہاں بے قرار ہوں،
بتاؤ، کہاں کھو گئی میری بہار؟

اس شعر میں حبہ خاتون فراق کی شدتوں اور موسموں کی علامتوں کے ساتھ اپنی بے قراری کا اظہار کرتے ہوئے یہ بتانے کی کوشش کرتی ہے کہ اس کے لئے بہار فقط ایک موسم نہیں، بلکہ اس کے دل کے مالک، سلطان یوسف شاہ چک کی موجودگی کا استعارہ ہے۔

Vuchh vunyi yaar myani panun rozan
Tal chhum harudan me khazan khazan
میرے محبوب دیکھو، میری حالت دیکھو،
میری بہاریں خزاں میں بدل چکی ہیں۔

اس شعر میں بھی حبہ خاتون اپنی شاعری میں خزاں اور بہار کو جدائی اور وصال کے معنوں میں استعمال کر کے فطرت کی علامتوں کے ذریعے اپنے جذبوں کی تصویر کشی کر رہی ہے۔

ہر مکھ برتل حبہ خاتون کا ایک مشہور لوک گیت ہے۔ جس میں عشق، اور انتظار کی کیفیات، اور اپنے محبوب پر اس کی خواہش سے زیادہ مہربان ہونے کا بیان ہے۔

Harmukh Bar Tal Zaagaie Madano
Yee Dapham Tee Laagiyoo
Sher Dapham, Golab Laagaey Madano
Yee Dapham Tee Laagiyoo
Phambas ti Naaras Mil Goom
Wallah, Mei Che Path Dil Goom
Be ’no Ye Dooryer Tchalay Madano
Yee Dapham Tee Laagiyoo
میرے محبوب، میں ہرمُکھ (کشمیر کا ایک خوب صورت پہاڑ) کے دروازے پر بیٹھ کر تیری آمد کا انتظار کروں گی
جو بھی تُو چاہے گا، وہ کروں گی۔
گر تُو نیلے پھول مانگے تو میں تیرے لیے گلاب لاؤں گی
جو بھی تُو چاہے گا، وہ کروں گی
روئی اور آگ باہم مل چکے ہیں (یعنی میں تیرے عشق میں مکمل طور پر غرق ہو چکی ہوں ) ۔
خدا کی قسم! میرا دل تیری محبت میں فنا ہو گیا ہے
اے میرے دل بر، میں یہ فاصلہ برداشت نہیں کر سکتی
جو بھی تُو چاہے، وہ کروں گی

کشمیر کی فضاؤں میں جب بھی نسیم بہار چلتی ہے، اس کے جھونکوں میں ایک درد بھری صدا گونجتی ہے۔ یہ حبہ خاتون کی آواز ہے، جو صدیوں بعد بھی دلوں کو چھو لیتی ہے۔ اس کی شاعری ایک ایسی عورت کے محبت بھرے جذبات کا بیان ہے جس نے عشق کا عروج بھی دیکھا اور فراق کا درد بھی سہا۔ حبہ خاتون کا کلام کشمیری لوک روایت، فطری مناظر، اور عشق، رومان، ہجر اور باطنی کیفیات کا ایک حسین امتزاج ہے۔

حبہ خاتون نے اپنی زندگی کے آخری بیس برس دریائے جہلم کے کنارے ایک جھونپڑی میں گزارے، اور اپنے محبوب کی جدائی کا کرب شاعری میں ڈھالا۔ کشمیری ادب میں آج بھی اسے ”بلبلِ کشمیر“ کے نام سے جانا جاتا ہے۔ اس کی شاعری آج بھی وادیِ کشمیر میں زندہ اور مقبول ہے۔

حبہ خاتون کا مشہور لوک گیت، ہرمکھ برتل یوٹیوب پر اس لنک کی وساطت سے سنا جا سکتا ہے۔

Facebook Comments HS

مظفر حسین بخاری

ایم ایچ بخاری ڈیویلپمنٹ پروفیشنل ہیں اور ایک ملٹی لیٹرل ترقیاتی ادارے سے منسلک ہیں۔ کوہ نوردی اور تصویر کشی ان کا جنون ہے۔ مظہر کے تخلص سے شعر کہتے ہیں۔

muzzafar-hussain-bukhari has 32 posts and counting.See all posts by muzzafar-hussain-bukhari