ایک جڑواں نارمل فیمیل اور دوسرا ٹرانس جینڈر

پچھلے سال کانفرنس میں کنساس یونیورسٹی کی پروفیسر اس موضوع پر لیکچر دے رہی تھیں۔ اس کے بعد میں نے ان سے بھی پوچھا لیکن ان کے پاس اس سوال کا کوئی جواب نہیں تھا۔
اوکلاہوما بائبل بیلٹ ہے اور یہاں دقیانوسی اور کلوزڈ مائنڈ کے افراد کی کوئی کمی نہیں ہے۔ ٹین ایج پریگنینسی میں سب سے آگے، خواتین کی جیل میں شرح میں سب سے آگے اور تعلیم کے معیار میں سب سے پیچھے۔ ایک مقولہ ہے کہ مسی سپی دریا ملنے پر خدا کا شکر ہے ورنہ ہر خرابی میں ہم اول نمبر ہوتے۔ کوئی حیرانی کی بات نہیں کہ اس کے بارے میں ہائی وے کی سائیڈ پر بل بورڈ بھی لگے دیکھے کہ دیکھو یہ ٹرانس جینڈر شیطانی ہیں کیونکہ اگر یہ واقعی کوئی کنڈیشن ہوتی تو ایک جڑواں بچے کو نہ ہوتی بلکہ دونوں کو ہوتی۔ اوکلاہوما کی اس بات سے شدید کوفت ہوتی ہے کہ جس بات کی سمجھ نہ آئے اس کو خدا اور شیطان سے جوڑ کر اپنا الو سیدھا کرنا شروع کرتے ہیں۔ نارمن کا قصبہ سرخ ریپبلکن سمندر میں ایک نیلا ڈیموکریٹ جزیرہ ہے۔ اوکلاہوما یونیورسٹی کی وجہ سے دنیا بھر کے لوگ یہاں آکر رہتے ہیں۔ تعلیم کی شرح زیادہ ہے اور کالج ایجوکیٹڈ افراد کی شرح بھی زیادہ ہے اس لیے قابل برداشت ہے ورنہ ہم لوگ یہ سٹیٹ چھوڑ کر بھاگ گئے ہوتے۔
نومبر سے پیانو لیسن لینے شروع کیے۔ کچھ دن پہلے میری بیٹی سکول سے واپس آئی تو اس نے چوہوں پر کیے جانے والے تجربات کا ذکر کیا جس میں ایپی جنیٹکس کا ذکر آیا کہ کس طرح ماحولیاتی اثرات سے یا دواؤں سے ڈی این اے میں مختلف جینز ٹرن آن یا ٹرن آف ہوتے ہیں۔ جو جینز آن ہوں ان کا میسج ہی پڑھا جاتا ہے اور ان سے مختلف طرح کے پروٹین بنتے ہیں جن کے الگ الگ طرح کے کام ہیں۔ جیسے کہ ہم جانتے ہیں کہ انسولین بھی ایک پروٹین کا بنا ہوا مالیکیول ہے، اسی لئے انسولین کو منہ سے نہیں لے سکتے ورنہ آنتوں میں ایمی لیز اینزائم سے گوشت کی طرح ہضم ہوجائے گی اور اس کو گرم ہونے سے بچانا ہوتا ہے کیونکہ وہ انڈے کی طرح کوایگیولیٹ ہوجائے گی۔ اس کے کچھ دن کے بعد میرے ذہن میں یہ بات خود بخود کلک کرگئی کہ جواب تو بالکل سامنے تھا، اس کو سمجھنے میں سات سال لگ گئے۔
جیسے دو پیانو ہوں، جو ایک ہی کمپنی نے بنائے ہوں اور وہ ہوبہو ایک ہی طرحکے ہوں پھر بھی ان میں سے جو دھن ابھرے گی وہ ان کیز پر منحصر ہے جو دبائیں۔ ایک پیانو پر ’چینٹ آف دا منک‘ بجائیں اور دوسرے پر ’کیمپ ٹاؤن ریسز‘ تو ان میں سے ابھرنے والے گانے بالکل مختلف ہوں گے۔ اسی طرح ایک ٹوئن نارمل اور دوسرا ٹرانس جینڈر ہوتا ہے۔
روح ایک کانسیپٹ ہے جس کو کافی سارے کلچرز میں لوگ مانتے ہیں۔ میل ٹو فیمیل یا فیمیل ٹو میل ٹرانس جینڈر کو آدمی کی روح خاتون کے اندر اور خاتون کی روح آدمی کے اندر کے آئیڈیا سے عام انسانوں کو سمجھائی جاسکتی ہے۔ یہ جاننا اہم ہے کہ اس میں اس انسان کا کوئی قصور نہیں۔
اس کے بعد گوگل سرچ کی تو معلوم ہوا کہ اس تھیوری پر دنیا میں اور بھی لوگ کام کررہے ہیں اور وہ بھی انہی لائنوں پر سوچ رہے ہیں۔ وہ دن دور نہیں جب اس دائرے میں مزید سائنسی اور معاشرتی تحقیق کے بعد انسانی معلومات کا دائرہ بڑھے گا۔
آج کے مضمون کا حاصل یہ کہ ذہن ہمیشہ کھلا رکھنا چاہئے اور جواب تلاش کرتے رہنا چاہئے۔ اسی طرح ترقی ممکن ہے۔ جو لوگ سمجھ نہیں آ رہے ان کے پیچھے لٹھ لے کر لگنے سے اور ان کو پہلے سے بنائے ہوئے پرانے پلاسٹک کے سانچوں میں فٹ کرنے کی کوشش میں لگنا بالکل فضول بھی ہے اور وقت کا زیاں بھی۔ لوگوں کو کاٹ پیٹ کر جواب ڈھونڈنے سے آسان طریقہ ہے کہ ان سے پوچھ لیا جائے۔

