اسرائیل و امریکہ کو ذلت آمیز شکست، مگر کیسے؟


حالیہ ایران اسرائیل جنگ میں بظاہر ایران کے قیمتی جوہری سائنسدان، ٹاپ ملٹری لیڈرشپ شہید اور جوہری تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچا ہے اس کے ساتھ امریکہ نے اس کی جوہری تنصیبات پر بھی حملے کیے ہیں ان تمام تر نقصانات کے باوجود اس جنگ میں ایران کو کیسے کامیاب قرار دیا جا سکتا ہے؟ اس کے لیے ہمیں اسرائیل کے علانیہ و پوشیدہ جنگی اہداف پر غور کرنا ہو گا۔ بظاہر اسرائیل نے ایران کے جوہری پروگرام کو بہانہ بنایا، لیکن 13 جون کو ایران پر ہونے والے پہلے وسیع و شدید حملے سے اصل اسرائیلی اہداف کا اندازہ ہوتا ہے۔ ابتدائی حملے میں اسرائیل نے ایران کی تمام ٹاپ ملٹری لیڈرشپ اور اہم جوہری سائنسدانوں کو نشانہ بنایا، ایران کے ائر ڈیفنس سسٹمز کو تباہ کرنے کے بعد 200 سے زائد طیاروں کے ساتھ ایران کے اہم ملٹری، معاشی، اقتصادی اور سویلین انفراسٹرکچر کو نشانہ بنایا اس حملے کا مقصد ایران کے اندر مکمل ابتری پیدا کر کے نظام حکومت کا تختہ الٹنا تھا۔ بعد ازاں اسرائیل نے رجیم چینج کے ہدف کا برملا اعلان بھی کر دیا۔

اسرائیل کی خام خیالی تھی کہ ایران کی ٹاپ ملٹری لیڈرشپ کی شہادت کے ساتھ ہی ایران کے اندر سے بڑے پیمانے پر نظام حکومت کے خلاف عوامی مظاہرے ہوں گے۔ اسرائیل نے غلط حساب کتاب لگایا کہ ایران کے نظام سے ایران کے عوام تنگ ہیں اور بیرونی حملے کی صورت اسرائیل کو بڑے پیمانے پر اندرونی حمایت حاصل ہوگی۔ لیکن صورتحال اس کے بالکل برعکس ثابت ہوئی۔ ایران نے ابتدائی حملے سے سنبھلتے ہوئے صرف اٹھ گھنٹوں میں اپنے ائر ڈیفنس سسٹم کو دوبارہ بحال کیا، متبادل ملٹری کمانڈرز تعینات کیے اور کمانڈ اینڈ کنٹرول سسٹم بھی بحال کر دیا۔ اس دوران ایران میں موساد کے نیٹ ورک کے خلاف کریک ڈاؤن کا آغاز ہوا، جو جنگ بندی تک جاری رہا۔ دوسری طرف اسرائیل کے غلط اندازوں کے برعکس ایران کے بڑی تعداد میں عوام ایران کے پرچم تلے متحد ہو گئے۔ ابتدائی نقصان کے باوجود ایران نے دفاعی حکمت عملی کے بجائے جارحانہ حکمت عملی اختیار کرتے ہوئے اسرائیل کے اندر تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے۔ جس سے اسرائیل کا ابتدائی 48 گھنٹے میں نظام حکومت کا تختہ الٹنے کا منصوبہ نہ صرف ناکام ہوا بلکہ شدید میزائل حملوں کی وجہ سے صیہونی ریاست کو رجیم چینج کی جارحانہ حکمت عملی سے ملکی دفاع کو یقینی بنانے کی دفاعی حکمت عملی اختیار کرنا پڑی۔ ابتدائی جھٹکے سے سنبھلنے کے بعد ایران کی مسلح افواج نے میزائلوں سے اسرائیل پر جوابی تابڑ توڑ حملے شروع کر دیے اسرائیل کا چار لیئرز پر مشتمل ائر ڈیفنس سسٹم ایران کے ہائپرسانک بلیسٹک میزائلوں کو مکمل طور پر تباہ کرنے میں ناکام رہا جوں جوں دن گزرتے گئے اسرائیل کے ائر ڈیفنس سسٹم کی کارکردگی میں کمی واقع ہوتی گئی ایران نے کامیابی کے ساتھ تل ابیب اور سٹریٹیجک اہمیت کے حامل حیفہ جیسے اہم شہروں اور ملٹری اہداف کو کامیابی کے ساتھ نشانہ بنانا شروع کیا۔ اس دوران اسرائیل نے بھی ایران کے اہم فوجی اقتصادی اور توانائی اہداف کو نشانہ بنانے کا سلسلہ جاری رکھا غزہ، لبنان اور شام کی طرح ایران میں بھی اسرائیل نے نہتے عوام کو بڑے پیمانے پر قتل کر کے تہران کو دباؤ میں لانے کی کوشش کی لیکن ایران کے جوابی تابڑ توڑ حملوں نے اسرائیل کو فوجی اہداف تک اپنے حملے محدود رکھنے پر مجبور کر دیا۔

حیران کن طور پر جوں جوں اسرائیلی حملوں کی شدت بڑھتی گئی ایرانی عوام کے غم و غصے میں بھی اضافہ ہوتا گیا اور ایرانی عوام اپنے تمام داخلی سیاسی اختلافات کو پس پشت ڈالتے ہوئے ایرانی پرچم کے تلے متحد ہو گئے تہران سمیت ایران کے اہم شہروں میں ایرانی حکومت کے حق میں بڑے بڑے مظاہرے ہوئے جنہیں دیکھ کر اسرائیل کو بادل نخواستہ رجیم چینج کے اپنے بنیادی مقصد سے پیچھے ہٹنا پڑا

اسرائیل ایران میں بلیسٹک میزائلوں کے لانچرز اور ذخیروں کو نشانہ بنا کر میزائل حملوں کو روکنے کی ناکام کوششیں کرتا رہا لیکن ایران کے میزائل لانچرز کی ایک بڑی تعداد زیر زمین ہونے کی وجہ سے اخر وقت تک اسرائیل میزائلوں کی بوچھاڑ کو روکنے میں ناکام رہا۔

اس دوران صدر ٹرمپ نے ایران کو دو ہفتے کی مہلت کا اعلان کرتے ہوئے ایران سے غیر مشروط ہتھیار ڈالنے کا مطالبہ کیا جس کے جواب میں ایران کے سپریم لیڈر سید علی خامنائی نے جواب دیتے ہوئے امریکہ کو خبردار کیا کہ حملے کی صورت میں اسے منہ توڑ جواب دیا جائے گا انہوں نے کہا کہ ایران نا مسلط کردہ جنگ کو قبول کرے گا اور نہ مسلط کردہ امن کو اور اسرائیل کو اس کی جارحیت کا سزا دی جائے گی اس کے ساتھ ہی ایران نے اسرائیل پر روزانہ میزائلوں کی بوچھاڑ سے دباؤ برقرار رکھا اس صورت میں کہ جب اسرائیل میں کاروباری زندگی مکمل معطل اور مکمل آبادی زیر زمین بنکروں میں پناہ لینے پر مجبور تھی اسرائیل کے لیے جنگ طول دینا مشکل ہو گیا نیتن یاہو نے امریکی صدر ٹرمپ کو جلد از جلد ایران پر حملہ کرنے کے لیے راضی کرنے کی کوششیں شروع کر دی جس کے نتیجے میں صدر ٹرمپ نے ایک مرتبہ پھر سٹریٹجک ڈیسپشن کا سہارا لیتے ہوئے ایران کی فردو نیظنز اور اصفہان جوہری تنصیبات پر بی ٹو سپرٹ طیاروں اور 30 ہزار پاؤنڈ وزنی جی بی یو 57 بنکر بسٹنگ بموں کے ساتھ حملہ کر دیا بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کی رپورٹ کے مطابق امریکہ کے حملوں سے ایران کی جوہری تنصیبات کو جزوی نقصان پہنچا ہے امریکہ اور اسرائیل ایران کی جوہری تنصیبات کو مکمل تباہ کرنے میں ناکام ہوئے ہیں۔

روس چین خلیجی ممالک پاکستان اور دیگر عرب ممالک نے ایران میں رجیم چینج کی کوششوں کو مسترد کرتے ہوئے امریکہ کو ہوش کے ناخن لینے کا مشورہ دیا جس کی بنیادی وجہ رجیم چینج کی کوشش کی صورت میں بڑی علاقائی جنگ کا خطرہ اور اس کے بعد پیدا ہونے عدم استحکام تھا جو عراق میں رجیم چینج کے بعد پیدا ہوا تھا یہ عدم استحکام نہ صرف خطے کے ممالک کو غیر مستحکم کر سکتا تھا بلکہ امریکہ کو بھی مشرق وسطیٰ میں ایک نئی دلدل میں دھکیل سکتا تھا۔ اسرائیل کے رجیم چینج سے پیچھے ہٹنے کی سب سے بڑی وجہ ایران کی موثر فوجی مزاحمت اور ملی یکجہتی تھی، جہاں ایرانی قوم تمام تر سیاسی اختلافات بھلا کر قومی پرچم تلے بیرونی جارحیت کے خلاف متحد ہو گئی۔

امریکہ کے اندر بھی ٹرمپ کے اپنے ووٹرز جنہوں نے جنگوں سے نکلنے اور امن کے قیام کے لیے ٹرمپ کو ووٹ دیا تھا ان کا اور امریکہ میں موجود اسرائیل کے ناقدین کا جن کا یہ خیال ہے کہ امریکہ اسرائیلی مفادات کے لیے صیہونی لابی کے دباؤ کی وجہ سے ایک نئی جنگ میں گھسنے جا رہا ہے اور ان کے دباؤ کی وجہ سے ٹرمپ بھی مشرق وسطیٰ میں کسی لمبی جنگ کی خواہش نہیں رکھتے تھے اس لیے انہوں نے ایران پر جوہری تنصیبات پر حملہ کرنے کے بعد یہ واضح کیا کہ امریکہ لمبی جنگ نہیں چاہتا بلکہ یہ واحد حملہ تھا جس کے بعد امریکہ کا مزید حملے کرنے کا کوئی ارادہ نہیں ہے

جوہری تنصیبات پر امریکی حملے کے بعد ایران کے پالیسی سازوں پر امریکہ کو جواب دینے کا اندرونی دباؤ شدت اختیار کر گیا تاہم ایران نے فوری رد عمل کے طور پر جنگ کا دائرہ کار محدود رکھتے ہوئے مشرق وسطیٰ میں امریکی اہداف کو نشانہ بنانے کے بجائے اسرائیل پر دباؤ بڑھا دیا یوں اسرائیل کی یہ خواہش کہ ایران کے غیر متناسب جواب سے خطے کے پڑوسی ممالک اور امریکہ بھی ایران کے خلاف جنگ میں اسرائیل کا حصہ بن جائیں گے ناکام ہو گیا، اسرائیل پر کامیاب میزائل حملوں کے بعد صیہونی ریاست نے امریکہ کو جنگ بندی کی درخواست کی، امریکی جریدے وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق، امریکہ نے عرب ممالک کے ذریعے ایران تک جنگ بندی کا پیغام بھیجا، جس کا روز اول سے یہ موقف تھا کہ وہ جنگ کو طول نہیں دینا چاہتا اور اسرائیلی جارحیت رکنے کی صورت میں تہران بھی اسرائیل پر حملے روک دے گا۔

دوسری طرف ایران نے سفارتی روابط کو بھی تیز کیا روس کے صدر پیوٹن کے ساتھ ایران کے وزیر خارجہ نے ماسکو میں ملاقات کی چین نے بھی اسرائیلی حملے کی مذمت کرتے ہوئے فی الفور حملے روکنے کا مطالبہ کیا روس اور چین نے ایران میں رجیم چینج کی بھی مخالفت کی۔ روس اور چین نے ایران کی صرف سفارتی مدد کی تاہم دونوں چاہتے ہیں کہ ایران میں امریکہ مخالف رجیم باقی رہے تاکہ مشرق وسطیٰ میں چین اور روس کے اثر رسوخ کا مکمل صفایا نہ ہو جائے۔

امریکی حملے کے اندرونی دباؤ کو کم کرنے کے لیے ایران نے قطر میں واقع العدید ائربیس میں امریکی سینٹ کام کے ہیڈ کوارٹر کو بلیسٹک میزائلوں سے نشانہ بنایا ایران نے اس حملے کو متناسب رکھا امریکہ کو ایک پیغام دیا کہ جارحیت کی صورت میں اس کو برابری کی سطح پر منہ توڑ جواب دیا جائے گا ایران کے متناسب حملے کی وجہ سے جہاں وہ اپنی خود مختاری کی خلاف ورزی کا بدلہ لینے میں کامیاب رہا وہیں ایران جنگ کے دائرہ کار کو بھی محدود رکھنے میں کامیاب رہا۔ قطر اور دیگر عرب ممالک کی طرف سے رسمی مذمت کے باوجود ان ممالک کے ایران کے ساتھ تعلقات کو کوئی دھچکا نہیں پہنچا۔

حملے کے بعد صدر ٹرمپ نے ایرانی حملے کو ڈاؤن پلے کرتے ہوئے جوابی حملے کا اعلان نہیں کیا جس کے بعد جنگ بندی کی امید پیدا ہو گئی قطر نے بھی فریقین کو فوری جنگ بندی کرتے ہوئے مذاکرات کی طرف واپس لوٹنے کا مشورہ دیا، جس کے بعد ایران اور اسرائیل کے ایک دوسرے پر حملوں کے بعد جنگ بندی پر عمل درآمد شروع ہو گیا۔

اسرائیل کا ہدف ایران کا اسلامی نظام تھا، کیونکہ ایران پچھلے 47 سال سے آزادی فلسطین کے لیے فلسطینی عسکری گروپوں کی مالی، عسکری و تیکنیکی مدد کر رہا ہے۔

اسرائیل اپنے خلاف جاری مزاحمت کو نام نہاد دہشت گردی اکٹوپس سے تشبیہ دیتا ہے اور اس کے پالیسی سازوں کا ماننا ہے کہ اسرائیل کے خلاف عسکری مزاحمت تبھی ختم ہو سکتی ہے جب تہران کو براہ راست نشانہ بنایا جائے۔ اس مقصد کے حصول کے لیے دو سال میں حماس و حزب اللہ کو کمزور کرنے اور شام میں رجیم چینج کے بعد اسرائیل جنگ کو ایران کے اندر لایا، جہاں اس کا مقصد رجیم چینج کے ساتھ شام کی طرح ایران کی مکمل فوجی صلاحیت، میزائل و جوہری ٹیکنالوجی کا خاتمہ کرنا تھا۔ لیکن ایرانی قوم کی مزاحمت اور استقامت اور اسرائیل پر تابڑ توڑ حملوں نے اسے رجیم چینج کے منصوبے سے پیچھے ہٹنے پر مجبور کر دیا اور ایران کو شام بنانے کا خواب دیکھنے والا اسرائیل ایرانی میزائلوں سے شام بن گیا، رجیم چینج کا ناپاک خواب، جنگ بندی منتوں کی بھیانک تعبیر میں بدل گیا۔

ایران نے حالیہ جنگ میں انقلاب ایران اور فلسفہ مزاحمت کا دفاع کیا ہے۔ مذہب، فرقہ، رنگ و نسل سے بالا تر تمام سامراجیت مخالف حریت پسندوں کو نیا ولولہ ملا ہے۔ خدا نخواستہ ایران فال کر جاتا تو استعماریت کے خلاف مزاحمت کا مکمل تھیم ختم ہو جاتا۔ اب کمزور ریاستوں کو بھی حوصلہ ملے گا کہ کم ترین وسائل اور ظالمانہ پابندیوں کے باوجود بھی عالمی غنڈہ گردی کا مقابلہ کیا جا سکتا ہے۔ ایران امریکی سامراجیت و اسرائیلی جارحیت کے خلاف دنیا بھر میں آخری چٹان ہے، جس کی آزادی و خودمختاری اور سلامتی دنیا کے تمام حریت پسندوں کے لیے اہم ہے، جب تک انقلابی نظام موجود ہے، ایران جوہری پروگرام کو پہنچنے والے جزوی نقصان کا ازالہ کر سکتا ہے، کیونکہ علم کو امریکی و اسرائیلی بنکر شکن بموں سے تباہ نہیں کیا جا سکتا۔

تمام تر بیش بہا قربانیوں کے باوجود چونکہ ایران کی غیور قوم نے رجیم چینج کے ذریعے ایران پر قبضے کے ناپاک منصوبے کو ناکام بنایا، اس لیے یہ نہ صرف ایرانی قوم کی بلکہ استعماریت و سامراجیت کے خلاف برسرپیکار ہر حریت پسند کے لیے فتح مبین اور استعماری طاقتوں بالخصوص امریکہ، اسرائیل، برطانیہ، فرانس اور جرمنی کے لیے شرمناک ہزیمت ہے۔

Facebook Comments HS