خواب، محبت اور زندگی (39)
A Practical Marriage Pledge
یونیورسٹی کی تعطیلات میں ممتاز اور میں ٹرین کے ذریعے سکھر اور شکارپور اپنے گھروں کو جایا کرتے تھے۔ الیکشن میں کامیابی کے بعد جب ہم چھٹیوں میں گھر جا رہے تھے تو ہمارا ایک کلاس فیلو بھی اسی کمپارٹمنٹ میں سفر کر رہا تھا۔ وہ سکھر اپنے دادا سے ملنے جا رہا تھا۔ سارا راستہ وہ ہمارے ایک لیفٹسٹ کامریڈ دوست کی سفارش کرتا رہا جو بقول اس کے سر تا پا میری محبت میں غرق ہو چکا تھا۔ میں نے کبھی اپنے کسی کامریڈ دوست کو اس نظر سے نہیں دیکھا تھا۔ وہ سب میرے نظریاتی ہم سفر تھے اور ہم سب کا سیاسی مشن ایک تھا۔ عشق و محبت کے بارے میں سوچنے کا وقت میرے پاس نہیں تھا۔
اس وقت تو میں نے اس کی باتوں کو کوئی اہمیت نہیں دی لیکن بعد میں اکثر اس کی باتیں میرے ذہن میں گونجتی رہیں۔ اور پھر آہستہ آہستہ یہ حقیقت مجھ پر منکشف ہونے لگی کہ ایم اے کرنے کے بعد گھر والوں کی توقعات اور سماجی دباؤ کی وجہ سے مجھے کسی نہ کسی سے شادی تو کرنا ہو گی۔ اور میں نے اپنے آپ کو قائل کرنا شروع کیا کہ پھر کیوں نہ اپنے ہی سیاسی حلقے کے اپنے جیسے ہی نظریات رکھنے والے کسی کامریڈ دوست سے شادی کی جائے۔ اس حقیقت پسندانہ، ریاضی جیسی منطق اور حساب کے ساتھ میں نے اس دوست سے وعدہ کر لیا کہ ایک دن میں اس سے شادی کروں گی۔ مجھے اس سے کوئی کتابی یا شاعرانہ محبت نہیں تھی لیکن ہم اچھے نظریاتی دوست تھے۔
اس وقت میں نہیں جانتی تھی کہ آنے والے دنوں میں احفاظ جیسا شخص میری زندگی میں آئے گا اور نظریات کے ساتھ ساتھ لیلیٰ مجنوں یا رومیو جیولٹ جیسی محبت کی کہانی بھی شروع ہو جائے گی۔ اور انقلاب کے خواب کی تعبیر بھی مجھے اسی میں نظر آئے گی۔ وہ میری زندگی کا محور بن جائے گا۔ میری جذباتی اور انٹلیکچوئل دنیا اس کی ذات کے گرد گھومنے لگے گی۔ اور میں اس کے لئے سب کچھ چھوڑنے کو تیار ہو جاؤں گی اور سب کچھ بھلا دوں گی، وہ وعدہ بھی جو ایک دوست سے کیا تھا۔
بنگلہ دیش: دل پر ثبت ایک خاموش ندامت
ایم اے کے امتحانات کے بعد میں شکارپور واپس چلی گئی۔ یوں زندگی میں ایک ڈرامائی تبدیلی آئی۔ جیسا کہ پہلے بھی ذکر ہوا، شکارپور اس وقت ایک چھوٹا سا پسماندہ شہر تھا۔ ہر تیسرے یا چوتھے دن ہم سارے گھر والے شاپنگ کرنے یا فلم دیکھنے سکھر جاتے تھے جو قدرے ماڈرن اور بڑا شہر تھا۔ شکارپور میں امی ابی کی چند خاندانوں سے اچھی دوستی ہو چکی تھی خاص طور پر استو فیملی کی خواتین سے امی کی گاڑھی چھنتی تھی۔ میں بھی امی کے ساتھ ان کے گھر جایا کرتی تھی۔
کراچی میں اتنی سرگرم اور مصروف زندگی گزارنے کے بعد اب میری زندگی شکارپور جیسے چھوٹے شہر تک محدود ہو گئی تھی جہاں کوئی سوشل لائف نہیں تھی۔ عورتیں گھروں سے باہر نہیں نکلتی تھیں۔ اس وقت تک کمیونیکیشن کے کوئی ایسے ذرائع بھی نہیں تھے کہ میں کراچی کے ترقی پسند دوستوں سے رابطے میں رہ سکتی۔ شکارپور میں بائیں بازو کے لٹریچر تک بھی میری رسائی نہیں تھی ویسے تو کراچی میں بھی دوستوں سے گفت و شنید کے ذریعے ہی ہم تک معلومات یا ’پارٹی لائن‘ پہنچتی تھی۔ پڑھتے لکھتے تو کم ہی تھے۔
بائیس سال کی عمر تک انقلاب کے خواب تو بہت دیکھے تھے لیکن ٹھوس نظریاتی بنیادوں سے محروم تھی۔ اور مشرقی پاکستان میں جو کچھ ہو رہا تھا، عوام نا انصافیوں کے خلاف جو لڑائی لڑ رہے تھے، اس وقت اسے جاننا اور سمجھنا میرے لئے ممکن نہیں تھا اور کوئی بتانے والا بھی نہیں تھا۔
گھر میں صرف جاسوسی قسم کے ڈائجسٹ یا پھر اردو ڈائجسٹ آتا تھا جو شکارپور میں میرے لئے سیاسی معلومات کا واحد ذریعہ رہ گیا تھا۔ اس میں مشرقی پاکستان کے بارے میں مسخ شدہ نظریات پیش کیے جاتے تھے اور یہ دعویٰ کیا جاتا تھا کہ نوجوانوں کی الشمس اور البدر جیسی تنظیمیں پاکستان کو بچانے کی کوشش کر رہی ہیں۔ معلومات کا کوئی اور ذریعہ نہ ہونے کے باعث میں اردو ڈائجسٹ پر انحصار کرنے پر مجبور تھی۔
مجھے اعتراف کرنے دیجئے کہ ان معلومات پر یقین کرنا میری نوجوانی کی سب سے بڑی حماقت اور غلطی تھی۔ اس وقت جب ہمارے بنگالی بہن بھائیوں کو بے رحمی سے قتل کیا جا رہا تھا، میں شکارپور میں اپنے گھر میں دائیں بازو کے ایک جریدے کی فراہم کردہ معلومات پر تکیہ کیے بیٹھی تھی۔ میں نے اپنی اس غلطی کو خود بھی کبھی معاف نہیں کیا۔ گو کہ آنے والے سالوں میں زمانۂ طالبعلمی کے ریکارڈ کی وجہ سے کامریڈوں نے میری اس غلطی کو نظر انداز کر دیا مگر میں نے اپنے آپ کو کبھی معاف نہیں کیا۔ ایک لیفٹسٹ کی حیثیت سے میں نے ہمیشہ جذبہ، جنون اور بہادری سے تو کام لیا تھا لیکن اس مضبوط نظریاتی بنیاد سے محروم تھی جو مطالعے، غور و فکر اور تجزیے کے نتیجے میں آپ کی شخصیت کا حصہ بنتی ہے۔
جب مشرقی پاکستان میں ہندوستان نے جنگ چھیڑی تو مغربی پاکستان میں 1965 کی جنگ والا جوش و جذبہ تو دیکھنے میں نہیں آیا مگر بلیک آؤٹ جیسی احتیاطی تدابیر ضرور اختیار کی گئیں۔ ہم نے گھر کی کھڑکیوں کے شیشوں پر سیاہ کاغذ چپکا دیے تھے۔ رات کو شیڈ والے ٹیبل لیمپ کی مدھم روشنی میں ابی اور میں مختلف ڈائجسٹ اور رسالے پڑھتے رہتے تھے۔ اور پھر ایک دن جسے میں اپنے حافظے سے کبھی کھرچ نہیں پاؤں گی، وہ آیا جب میں عصر کی نماز پڑھ رہی تھی (جی ہاں، ہم سب ملحد نہیں تھے۔ آخر مولانا حسرت موہانی بھی تو کمیونسٹ تھے ) ، دوسرے کمرے میں ابی نے اونچی آواز سے ریڈیو لگایا ہوا تھا۔ کسی اسٹیشن سے اندرا گاندھی کی تقریر نشر ہو رہی تھی۔ نماز پڑھتے ہوئے مجھے پتہ چلا کہ پاکستان ٹوٹ گیا ہے۔ میں سجدے میں گر کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔ بنگلہ دیش میں فوج کے مظالم کا علم مجھے بعد میں ہوا۔ ہم پاکستانیوں کے لئے یہ شرم کا مقام ہے کہ آج تک ان مظالم کا ہم نے نہ تو کبھی ادراک کیا اور نا ہی اپنے جرائم کو تسلیم کیا۔
بعد میں جب میں نے ایک عملی صحافی کی حیثیت سے روزنامہ مساوات میں کام شروع کیا تو اس وقت تک ہم نے بنگلہ دیش کو تسلیم نہیں کیا تھا۔ مساوات میں ہم نے بنگلہ دیش کی منظوری کی مہم چلائی اور ہم سب نے بہت سے مضامین لکھے اور شائع کیے۔ آہستہ آہستہ بہت سے لیفٹسٹس نے کھل کر بولنا شروع کیا۔ اور یہ بتانے کی کوشش کی کہ ایک طویل عرصہ سے حکومت اور فوج کی جانب سے منظم انداز میں مشرقی پاکستان کے ساتھ ہر معاملے میں نا انصافی ہوتی رہی ہے۔ 1971 سے بہت پہلے سے مشرقی پاکستان کے ساتھ ایک نو آبادی والا سلوک ہوتا رہا تھا۔ بنگالی اکثریت میں تھے لیکن انہیں کبھی ان کے جمہوری حقوق نہیں دیے گئے۔ ون یونٹ اور پیریٹی کا اصول صرف مشرقی پاکستان کو دبانے اور اسے اس کے جمہوری حقوق سے محروم رکھنے کے لئے بنایا گیا لیکن اتنا ظلم کب تک چل سکتا تھا۔ جیسا کہ ساحر لدھیانوی نے کہا:
ظلم پھر ظلم ہے، بڑھتا ہے تو مٹ جاتا ہے
خون پھر خون ہے، ٹپکے گا تو جم جائے گا
اب یہ الگ بات ہے کہ ہماری ریاست نے مشرقی پاکستان کو کھو دینے کے بعد بھی کوئی سبق نہیں سیکھا اور بلوچستان سمیت دیگر علاقوں کے ساتھ مشرقی پاکستان والا سلوک جاری رکھا۔ یہ سطور لکھتے وقت بلوچستان میں طلبہ کی ہر طرح کی سیاسی سرگرمیوں پر پابندی عاید ہے اور ماہرنگ بلوچ جیل میں ہے۔ ظلم پھر ظلم ہے۔


