زندگی تیرے انجام پہ رونا آیا
دنیا بھر سے آئی ہوئی خبریں آج کل اس قدر دل دکھاتی ہیں کہ سارے جہاں کے کاموں کے ساتھ ساتھ بس یہی ایک خیال بار بار دل میں آتا رہتا ہے کہ زندگی جیسے بھی گزرے لیکن موت کا پتہ ہی نہیں ہوتا کہ کیسے آئے گی کس انداز سے آئے گی اور کس گھڑی ہمیں اٹھا لے جائے گی۔ اور اس کے بعد ہم صرف ایک خواب ہوں گے خیال ہوں گے۔
ابھی چند ہی دن پہلے کی بات ہے کہ انڈیا میں ایک جہاز کریش ہوا اور اس میں بے شمار جانوں کا ضیاع ہوا کچھ تو پورے خاندان ہی ختم ہو گئے اور یہ موت اس قدر تیزی سے آئی کہ چند گھنٹوں پہلے جہاز میں سوار ہونے والوں کو بھی پتہ نہیں تھا کہ ہم ابدی سفر پہ روانہ ہونے والے ہیں اور جہاز میں سوار ہونے والے ہی نہیں میڈیکل کے اسٹوڈنٹ جو اس ہاسٹل میں رہائش پذیر تھے جہاں طیارہ گرا اپنے روزمرہ معمولات زندگی انجام دے رہے تھے اچانک اس طیارے کے گرنے سے اپنے انجانے انجام سے دوچار ہو گئے وہ جو برسوں سے اپنی زندگی بہترین انداز میں گزارنے کی منصوبہ بندی کر رہے تھے اور ایک کامیاب زندگی کے لیے پورے دل و جان سے محنت کر رہے تھے ایک لمحے میں سب منصوبہ بندی دھری کی دھری رہ گئی تمام پلاننگز جو انہوں نے اپنے مستقبل کے لیے کی تھی بے کار ہو گئیں اب ان کی ضرورت ہی نہیں رہی۔
طیارہ ایک تھا لیکن کہانیاں بے شمار۔ کچھ تو ہم تک پہنچ گئی بہت سی تو ایسی ہیں جو ابھی بھی کسی تک نہیں پہنچ سکی وجہ جو بھی رہی ہو لیکن ایک کہانی وہ بھی ہوتی ہے جو کسی تک پہنچ نہیں پاتی۔ بہر کیف یہ حادثہ اور اس جیسے دوسرے بہت سارے حادثات باقی رہ جانے والوں کو یہ تنبیہ کرتے ہیں کہ یہ دنیا فانی ہے یہ زندگی گزر جانی ہے اور اس قدر تیزی سے کہ ہمیں احساس تک نہیں ہوتا اور کہ اس بار الوداعی دہلیز پہ ہم کھڑے ہوئے ہیں اور ہمارا سفر تمام ہوا۔
ابھی اس حادثے کو کچھ ہی وقت گزرا کہ ہماری ہر دل عزیز اداکارہ عائشہ خان بھی اس دنیا سے چلی گئیں وہ بھی اس انداز سے کہ چاہنے والوں کے آنسو شاید برسوں نہ رک پائیں، تنہا فلیٹ میں رہتے ہوئے جب موت اچانک ہی ان کے سامنے آ کھڑی ہوئی ہوگی تو انہوں نے ایک مرتبہ پیچھے مڑ کے تو دیکھا ہو گا کہ الوداع کہہ سکیں مگر وہاں کوئی بھی نہ ہو گا کہ جس کو وہ الوداع کہہ دیں۔ یہ دنیا فانی ہے اور اس دنیا میں ہم سب تنہا آئے ہیں اور تنہا ہی چلے جانا ہے لیکن حیات و موت کے اس وقفے میں ہم بہت سارے لوگوں کے درمیان میں رہتے ہیں کچھ سیکھتے ہیں کچھ سکھاتے ہیں۔
ہر معاشرے کے کچھ طور طریقے ہوتے ہیں اور انہی میں سے ایک یہ بھی ہے کہ جب کوئی اس دنیا سے جا رہا ہوتا ہے تو اس کے پیارے اس کے پاس موجود ہوتے ہیں جب کوئی اس دنیا میں آ رہا ہوتا ہے تو اس کے پیارے استقبال کے لیے اس کے پاس ہوتے ہیں لیکن یہ کیسی رخصت ہے کہ جس میں جانے والے کو رخصت کرنے کے لیے اس مشکل گھڑی میں اس کے پیاروں میں سے کوئی بھی نہ تھا وہ ایک ماں تھیں جس کی کل کائنات اولاد ہوتی ہے لیکن اس وقت وہ بد نصیب اولاد ماں کے پاس نہ تھی، حالات و واقعات کچھ بھی رہے ہو لیکن یہ ایک ایسا حادثہ ہے جس نے ہمارے پورے معاشرے کو جھنجھوڑ کے رکھ دیا ہے، ہم کس طرف جا رہے ہیں ہمارے گھروں میں برسوں سے بزرگوں کا احترام اور ان کی اہمیت رہی ہے اور جب کوئی گزر کے اس حصے میں ہوتا ہے تو اس کی اولاد اس کا سہارا بن جاتی ہے، کہ شاید اسی گھڑی کے لیے اولاد کو پالا جاتا ہے جانے انجانے یہی خواہش ہوتی ہے بہر کیف ایک سفر ختم ہو گیا۔ عائشہ خان ہم سب کی زندگیوں میں شامل ایک شخصیت ہمیشہ کے لیے ہم سے جدا ہو گئیں۔
اس وقت دنیا جس تیزی سے شاید اپنے آخری وقت کی جانب سفر کر رہی ہے اس کو روکنا تو بالکل بھی ممکن نہیں ہے تاہم اسی ٹائم فریم میں رہتے ہوئے معاملات کو بہتر کر لینا بہت ضروری ہے ہم اس وقت آج میں نہیں جی رہے بلکہ ہم سب لوگ آنے والے کل میں جینا چاہ رہے ہیں جبکہ ہم یہ نہیں جانتے کہ آنے والا کل آئے گا بھی کہ نہیں آئے گا اور اگر آ بھی گیا تو کیا وہ ویسا ہو گا جیسا ہم نے سوچا ہے یا تصور کیا ہے اور جو ہماری امید ہے جو ہماری تمنا ہے؟
اس کل کے لیے ہم اس آج کو اہمیت نہیں دے پا رہے جو ہمارے ہاتھ میں ہے جو ہمارے سامنے ہیں جس میں ہم موجود ہیں۔ باقی اب یہ ضرورت ہے کہ ہم اپنے ہوش و حواس میں رہ کے اپنے آج میں جینے کی کوشش کریں کیونکہ جو کل گزر گیا وہ ماضی ہے جو کل آنے والا ہے مستقبل ہے اور دونوں کی ہمیں خبر نہیں کہ وہ کہاں ہیں۔ ایک خیال میں ہے اور دوسرا خواب میں ہے لیکن جو چیز ہمارے ہاتھ میں ہے وہ ہمارا آج اپنے آج کو بہتر بنائیے اپنے معاملات کو بہتر بنائیں، کوشش کریں اپنے تعلقات کو بہتر بنائیں وہ رشتہ دار جو کل اپ کے جنازے پہ شریک ہو کر رو سکتے ہیں بین کر سکتے ہیں آپ سے بس ایک دفعہ بات کرنے کی تمنا کر سکتے ہیں کیا وہ آج آ کر اپ کے گلے نہیں لگ سکتے؟
یا اپ ان کے گلے نہیں لگ سکتے؟ جی بالکل لگ سکتے ہیں لیکن اس کے لیے دلوں کو کشادہ کرنا ہو گا غلطیوں کو کوتاہیوں کو نظر انداز کرنا ہو گا کیا اب بھی ہمیں یہ سمجھ میں نہیں آ رہا کہ دنیا فانی ہے اور ہم بہت جلد ختم ہونے والے ہیں اور جب یہ ختم ہو جائے گی تو واپسی کا کوئی راستہ نہ ہو گا ہم اور آپ ایک خواب ہوں گے جو جو بیت چکا ہو گا ایک وقت ہوں گے جو گزر چکا ہو گا، ایک نغمہ ہوں گے جو گایا جا چکا ہو گا۔ اس وقت کے آنے سے پہلے معاملات آپ کے ہاتھ میں ہیں ان کو بہتر بنانے کی جتنی کوشش آپ کر سکتے ہیں کر لیجیے یہ بھی کہانی پہلے لکھی جا چکی ہے ہو سکتا ہے اس میں کوئی اچھا موڑ بھی ہو اور آپ کہانی کو اس موڑ تک پہنچا سکتے ہوں۔


