ڈھوکاں ساہیاں (منڈی بہا الدین) کی مٹی سے ابھرتی تاریخ
تاریخ وہ آئینہ ہے جس میں ہم اپنے ماضی کی جھلک دیکھتے ہیں۔ بعض اوقات یہ آئینہ مٹی کے نیچے چھپا ہوتا ہے۔ جب کبھی کسی تجسس سے بھرے دل کی جستجو اسے کھوجنے کی کوشش کرتی ہے تو کئی راز کھلتے ہیں اور ایک راز اس وقت کھلا جب منڈی بہاءالدین کے نواحی علاقے ڈھوکاں ساہیاں کی پراثر مٹی نے ایک غیرمعمولی تاریخی اثاثہ زمانے کی نظروں کے سامنے پیش کیا۔ کشان سلطنت کے عظیم بادشاہ کنشکا اوّل کا نایاب سکہ۔ ( 127 عیسوی تا 150 عیسوی)
ڈھوکاں ساہیاں، جہاں سات سے آٹھ قدیم گاؤں آج بھی روایتوں اور سادگی کی خوشبو لیے ہوئے آباد ہیں، اس کی تاریخ اپنے اندر ہزاروں سال پرانے آثار دبائے بیٹھی ہے۔ یہاں کی زمین صدیوں کی خاموش گواہی دیتی ہے۔ میری تجسّس بھری طبیعت اور تاریخ کی متلاشی نظروں نے اپنے علاقے کی تاریخی خد و خال کو بھانپتے ہوئے خاک چھاننا شروع کی تو کئی اسرار کھلتے چلے گئے۔ میرے کام کو تقویت اس وقت ملی جب میرے تینوں بیٹے اور ننھے محقق محمد ثوبان، معیز الاسلام اور محمد ابراہیم! میرے ہمراہ تاریخ کی تلاش میں شامل ہوئے تو نہ صرف یہ سکہ ملا، بلکہ ہماری زمین کی مختلف تہذیبوں کے نسبت بھی سامنے آئی۔
یہ جستجو کھیل کی صورت میں شروع ہوئی تھی۔ مٹی میں ہاتھ ڈالنا، پرانی اینٹوں کو دیکھنا، زبانی روایات سننا، اور ان سے راستہ نکالنا۔ ہمارے دن انہی سرگرمیوں میں گزرتے اور خاص طور پر گرمیوں کی چھٹیوں میں بچوں سمیت متعدد دن اسی زمین پر تاریخ کی کھوج کے لیے مختص ہوتے۔ ایک دن جب سورج کی کرنوں نے مٹی پر مخصوص زاویہ بنایا، ایک مدھم سی چمک آنکھوں کو خیرہ کرتی سامنے آئی۔ ایسا محسوس ہوا کی تاریخ نے ہمیں آج پھر پکارا ہے۔
اک سکہ زرعی زمین کے سینے سے ابھرتا دکھائی دیا۔
ہمیں جو سکہ ملا اس پر ایک طرف ایک دیوتا کی تصویر نمایاں تھی، جو کشان دور کی عام علامت ہے۔ غالباً ہیراکلس یا شیوا۔ مگر اصل حیرت تب ہوئی جب (بیکٹرن) باختری زبان میں کچھ لکھا ہوا ملا، جو کو جستجو کے بعد ڈی کوڈ کرنے کی کوشش کی گئی جس کا مطلب
”بادشاہوں کا شاہ، کنشکا کشان“ ۔
یہ محض سکہ نہیں تھا، یہ وقت کا ایک ورق تھا، جو ہمیں بتا رہا تھا کہ منڈی بہاءالدین اس عظیم سلطنت کا حصہ رہا ہے جس نے نہ صرف جغرافیہ بلکہ تہذیب و ثقافت کو بھی وسیع کیا۔
سکے کی ایک طرف دیوتا کی شبیہ واضح ہے، جب کہ دوسری طرف وقت کی ضربیں، مٹی کی تہیں اور زنگ اس کی شناخت کو مدھم کر چکی ہیں۔ مگر یہی دھندلا پن بھی تو ایک کہانی ہے۔ وقت کی، انتظار کی، اور قدرت کی۔
یہ سکہ روزمرہ کے لین دین میں استعمال ہوتا تھا۔ ایک طرف یہ سکہ مقامی طور پر مقامی آبادیوں یا تجارتی نظام کی ترقی کو ظاہر کرتا ہے۔ اس سے پتہ چلتا ہے کہ یہ علاقہ اُس وقت بھی معاشی اور سماجی طور پر فعال تھا۔
ڈھوکاں ساہیاں کی کھلی فضا، سرسبز کھیت، اور ندی نالوں سے سجا علاقہ ایک وقت میں علم، ثقافت اور تجارت کا گہوارہ رہا ہو گا۔ آج ہم جن راستوں پر روزمرہ چلتے ہیں، شاید وہی راستے کبھی کشان سلطنت کے قاصدوں، سپاہیوں یا تاجروں کے قدموں کی چاپ سے گونجتے ہوں گے۔
اس دریافت نے میرے اور میرے بچوں کے چہروں پر جو خوشی اور فخر بکھیرا وہ الفاظ میں بیان نہیں کیا جاسکتا۔ شاید وہ ابھی اس کی تاریخی اہمیت کو مکمل نہ سمجھیں، لیکن ان کے دل میں اس لمحے کی ایک یاد ضرور ثبت ہو گئی ہے۔ جو ان کے اندر تحقیق، جستجو اور محبتِ وطن کے جذبے کو ہمیشہ جگاتی رہے گی۔
آج وہ سکہ میرے ذاتی میوزیم کا حصہ ہے۔ ایک چھوٹے سے شیشے کے فریم میں رکھا گیا، جو صرف ایک دھاتی شے نہیں بلکہ زمین، نسل اور وقت کا رشتہ ہے۔
یہ تحریر صرف ایک سکے کی دریافت کی کہانی نہیں، بلکہ یہ اس یقین کی گواہی ہے کہ ہماری مٹی کے نیچے کہانیاں دفن ہیں۔ بس انہیں محبت، لگن اور علم کی روشنی سے باہر نکالنے کی ضرورت ہے۔
اگر ہم اپنے بچوں کو صرف کتابیں پڑھنے کی عادت نہ دیں، بلکہ زمین سے جڑنے، سوال کرنے اور کھوجنے کی ترغیب دیں، تو یقیناً وہ نہ صرف پرانی تہذیبیں دریافت کریں گے، بلکہ اپنی شناخت کو بھی نئی زندگی دیں گے



