پاکستان کے نوجوانوں میں مایوسی کا بڑھتا ہوا رجحان اور وجوہات


afshan saher

پاکستان کی آبادی کا سب سے بڑا حصہ نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق ملک کی 60 فیصد آبادی 30 سال سے کم عمر افراد پر مشتمل ہے، جو کسی بھی قوم کے لیے ایک انمول اثاثہ ہوتے ہیں۔ مگر المیہ یہ ہے کہ آج کا نوجوان اضطراب، بے چینی، اور مایوسی جیسے جذبات کی گرفت میں ہے۔ وہ خواب جو کبھی روشن مستقبل کی نوید دیتے تھے، اب ماند پڑتے جا رہے ہیں۔ سوال یہ ہے کہ وہ کیا وجوہات ہیں جو ہمارے نوجوان کو بے سمت اور بے حوصلہ بنا رہی ہیں؟ اس مضمون میں ہم ان اسباب کا جائزہ لیں گے جنہوں نے نوجوانوں میں مایوسی کو جنم دیا اور اس کے ممکنہ اثرات پر روشنی ڈالیں گے۔

نوجوانوں کی مایوسی کی ایک بنیادی وجہ تعلیمی نظام کی کمزوری ہے۔ پاکستان میں تعلیمی نظام طبقاتی تفاوت کا شکار ہے، جہاں امیر طبقہ مہنگے نجی اداروں سے جدید تعلیم حاصل کرتا ہے، جب کہ متوسط اور غریب طبقے کے بچے سرکاری اسکولوں اور کالجوں میں ناقص سہولیات کے ساتھ تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہیں۔ اس عدم مساوات نے نوجوانوں کے ذہن میں احساسِ کمتری اور محرومی پیدا کر دی ہے۔ اس کے علاوہ نصابِ تعلیم روزگار سے ہم آہنگ نہیں۔ نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں مگر عملی دنیا میں وہ مطلوبہ مہارت سے محروم ہوتے ہیں، جس کی وجہ سے وہ نوکریوں کے حصول میں ناکام رہتے ہیں، اور یہی ناکامی بالآخر مایوسی میں تبدیل ہو جاتی ہے۔

پاکستان میں بے روزگاری ایک سنگین مسئلہ ہے۔ اعلیٰ تعلیم یافتہ نوجوان بھی روزگار کے لیے در در کی ٹھوکریں کھاتے نظر آتے ہیں۔ ادارے محدود، وسائل ناکافی، اور سفارش و اقرباپروری کا غلبہ اس مسئلے کو مزید سنگین بنا رہا ہے۔ جب ایک نوجوان کو یہ احساس ہوتا ہے کہ اس کی محنت، تعلیم اور صلاحیت کی کوئی قدر نہیں، تو وہ آہستہ آہستہ مایوسی اور تنہائی کا شکار ہو جاتا ہے۔ بعض اوقات یہی مایوسی اسے انتہاپسندی، جرائم یا خودکشی جیسے اقدامات کی طرف بھی دھکیل دیتی ہے۔

ہمارے معاشرے میں نوجوانوں پر غیر ضروری سماجی دباؤ بھی ایک بڑا مسئلہ ہے۔ والدین اکثر اپنے بچوں پر اپنی ناتمام خواہشات تھوپ دیتے ہیں، خواہ وہ ان کی دلچسپیوں سے مطابقت رکھتی ہوں یا نہیں۔ اس سے نوجوان کی شخصیت کا فطری ارتقاء متاثر ہوتا ہے، اور وہ ایک ایسی راہ پر چل پڑتا ہے جس کا انجام صرف ذہنی دباؤ اور مایوسی ہے۔ سوشل میڈیا کے منفی اثرات بھی اس ضمن میں قابلِ ذکر ہیں۔ نوجوان جب اپنی زندگی کا موازنہ دوسروں کی چکا چوند تصاویر اور کامیابیوں سے کرتے ہیں، تو وہ احساسِ محرومی اور ناکامی کا شکار ہو جاتے ہیں، حالانکہ وہ اکثر جھوٹے معیار پر مبنی ہوتے ہیں۔

پاکستان میں سیاسی عدم استحکام نے ہر طبقے کو متاثر کیا ہے، مگر نوجوان اس سے سب سے زیادہ متاثر ہوا ہے۔ اس وقت ملک میں نوجوانوں کو وہ قیادت میسر نہیں جو ان کے مسائل کو سمجھ سکے یا ان کی نمائندگی کر سکے۔ سیاستدان اپنے ذاتی مفادات کی خاطر ملک کو بحرانوں میں دھکیل رہے ہیں، جب کہ نوجوانوں کے لیے کوئی واضح لائحہ عمل یا وژن سامنے نہیں آ رہا۔ جب نوجوان دیکھتا ہے کہ اس کے مستقبل کے فیصلے بے حس قیادت کے ہاتھوں میں ہیں، تو وہ امید کا دامن چھوڑ دیتا ہے اور مایوسی اس پر حاوی ہو جاتی ہے۔

مایوسی کے بڑھتے ہوئے رجحان کی ایک اور بڑی وجہ ذہنی صحت سے متعلق آگاہی کا فقدان ہے۔ ہمارے معاشرے میں ڈپریشن، اینزائٹی اور دیگر نفسیاتی مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔ اکثر اوقات نوجوان اپنے مسائل کو کسی سے بانٹنے سے کتراتے ہیں کہ کہیں انہیں ”کمزور“ نہ سمجھا جائے۔ اس رویے کی وجہ سے وہ اندر ہی اندر ٹوٹتے رہتے ہیں اور بعض اوقات انتہائی قدم بھی اٹھا لیتے ہیں۔ پاکستان میں ذہنی صحت کے ماہرین کی کمی، مناسب مشاورت کے اداروں کا فقدان اور عوامی سطح پر شعور کی کمی نے ان مسائل کو مزید بگاڑ دیا ہے۔

مایوسی کو ختم کرنا کوئی آسان عمل نہیں، مگر ناممکن بھی نہیں۔ اگر حکومت، معاشرہ، والدین اور نوجوان خود اس سمت میں سنجیدہ اقدامات کریں تو صورتحال میں بہتری لائی جا سکتی ہے۔ تعلیم کو عصرِ حاضر کے تقاضوں سے ہم آہنگ کیا جائے۔ ہنر پر مبنی تعلیم، ٹیکنیکل انسٹیٹیوٹس اور جدید تربیت گاہوں کا قیام نوجوانوں کو خود کفیل بنا سکتا ہے۔ سرکاری اور نجی سطح پر نوجوانوں کے لیے روزگار کے نئے مواقع پیدا کیے جائیں۔ نوجوانوں کو کاروبار کی ترغیب دی جائے اور بلا سود قرضوں کا نظام متعارف کرایا جائے۔

تعلیمی اداروں میں ماہر نفسیات کی تعیناتی کی جائے، اور ذہنی صحت کے حوالے سے آگاہی مہمات شروع کی جائیں تاکہ نوجوان اپنے جذبات کو بہتر طور پر سمجھ سکیں۔ کامیاب شخصیات، اساتذہ اور والدین نوجوانوں کو زندگی میں مثبت سوچ اپنانے کی تلقین کریں، اور ان کی صلاحیتوں پر اعتماد کا اظہار کریں۔ معاشرے میں میرٹ، انصاف اور مساوات کا نظام رائج ہو تاکہ نوجوان کو یہ یقین ہو کہ اس کی محنت رنگ لائے گی۔

پاکستان کے نوجوان آج ایک نازک دوراہے پر کھڑے ہیں۔ ایک طرف مایوسی، بے روزگاری اور محرومی ہے، تو دوسری طرف بے پناہ صلاحیتیں، خواب اور جذبے۔ یہ فیصلہ اب ہم سب کو کرنا ہے کہ ہم ان کی توانائیوں کو ضائع ہونے دیتے ہیں یا انہیں سنوار کر قوم کا معمار بناتے ہیں۔ ہمیں اپنے نوجوانوں کو صرف سہارا ہی نہیں دینا، بلکہ ان پر اعتماد بھی کرنا ہے، تاکہ وہ مایوسی کی تاریکیوں سے نکل کر امید کی روشنی میں قدم رکھ سکیں۔

Facebook Comments HS