ایران کو شکست کیوں ہوئی؟
اٹھارہویں صدی کے آخری برس تھے۔ فرانس میں نیپولین اپنی حکومت قائم کر چکا تھا۔ امریکی آئین اپنی ابتدائی آزمائش کے مرحلے میں تھا۔ ہندوستان کے جنوب مغربی ساحلوں پر میسور کا حکمران فتحیاب علی ٹیپو سلطان اپنی بقا کی لڑائی لڑ رہا تھا۔ روشن خیالی کی تحریک اپنا تاریخی کردار ادا کرنے کے بعد انیسویں صدی کی افراتفری میں داخل ہو رہی تھی۔ دو ادوار کے اس درمیانی جھٹپٹے میں ہسپانوی مصور فرانسسکو گویا نے اپنی ایک پینٹنگ کو عنوان دیا کہ ’جہاں عقل کو اونگھ آ جاتی ہے، وہاں عفریت جنم لیتے ہیں‘ ۔ دو صدیوں بعد بھی یہ بظاہر سادہ جملہ تاریخ میں اپنی صداقت منوانے کو بار بار پلٹتا ہے۔ درویش نے گزشتہ تحریر میں بہت محتاط زاویے سے حالیہ بارہ روزہ جنگ میں ایران کی ناکامی پر ایک جملہ تحریر کیا تھا۔ دیوار عصبیت کی اوٹ سے جھانکنے والے مہربان اس بیان پر یوں بھڑکے ہیں کہ تکلم کی تہذیب کا حجاب بھی اٹھا دیا۔ انہیں شاید اندازہ ہی نہیں کہ وہ جس سوق الظلام کے ملبے پر نابینا منطق کا ٹھیلا لگاتے ہیں، ہمیں اس بازار سے منسوب جنس ہی سے کوئی تعلق نہیں۔ بہتر ہو گا کہ جذباتی بیانات کی بجائے حقائق پر ایک نظر ڈالی جائے۔
ایران میں موجودہ سیاسی بندوبست فروری 1979 میں قائم ہوا۔ ہر آمریت کو اپنے جواز کے لئے داخلی اور بیرونی خطروں کے مفروضات قائم کرنا ہوتے ہیں۔ ایران نے بھی یہی حکمت عملی اختیار کی۔ اندرون ملک مزاحمت کو کچلنے کے لئے علاقائی گماشتہ گروہ مرتب کیے گئے۔ واضح رہے کہ ایران کی آبادی دس کروڑ اور اسرائیل کی آبادی 95 لاکھ ہے۔ ایران کا رقبہ ساڑھے سولہ لاکھ مربع کلومیٹر ہے جب کہ اسرائیل کا رقبہ محض 22 ہزار مربع کلومیٹر ہے۔ ایرانی قیادت کے پے در پے غلط تزویراتی فیصلوں سے ایرانی معیشت تباہ ہوئی ہے اور اسے سفارتی تنہائی کا سامنا ہے۔ 2015 میں باراک اوبامہ حکومت کے ساتھ طے پانے والا معاہدہ ایران کے لئے عالمی دھارے میں لوٹنے کا بہترین موقع تھا لیکن ایران نے یمن میں حوثییوں، لبنان میں حزب اللہ، غزہ میں حماس اور شام میں بشار الاسد کے بھروسے پر یہ حکمت عملی اختیار کیے رکھی کہ ایران پر کسی حملے کی صورت میں علاقائی حلیف گروہوں کی مدد سے جوابی کارروائی کی جائے گی۔ چنانچہ اس کے نتیجے میں ایران کے روایتی داخلی دفاع پر توجہ دینے کی بجائے ایٹمی پروگرام اور بیلسٹک میزائلوں پر اربوں ڈالر خرچ کیے گئے۔ 2018 میں ایران سے معاہدہ منسوخ کرنے کے باوجود رواں برس اقتدار میں آٓنے کے بعد ڈونلڈ ٹرمپ نے دوبارہ سفارتی رابطوں کا عندیہ دیا جسے پائے حقارت سے مسترد کیا گیا۔
اکتوبر 2023 میں ایران خطے میں اپنی طاقت کے عروج پر تھا جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے 1200 افراد کو قتل اور قریب 700 افراد کو اغوا کیا۔ اس پر اسرائیل نے غزہ میں حماس کے خلاف کارروائی شرع کی جس میں ہزاروں معصوم فلسطینی نشانہ بن چکے ہیں اور باقی ماندہ زندگی و موت کی کشمکش میں مبتلا ہیں۔ غور کرنا چاہیے کہ دنیا بھر میں فلسطینوں کے لئے احتجاج ہو رہا ہے لیکن کسی نے ایران کی حمایت نہیں کی۔ ایران کی خواہش تھی کہ اسرائیل لبنان میں حزب اللہ کے خلاف محاذ کھول کر جنگ کا دائرہ وسیع کرے۔ لیکن اسرائیل نے 17 ستمبر 2024 کو بوبی ٹریپ حملوں سے حزب اللہ کو مفلوج کر کے رکھ دیا۔ اس پر ایران نے اکتوبر میں اسرائیل پر سینکڑوں میزائلوں سے حملہ کیا جو غیر موثر رہا۔ بحیرہ احمر میں حوثی حملوں سے عالمی معیشت متاثر ہوئی اور ایران کی حمایت میں کمی واقع ہوئی۔ ایران اپنے مخالفین کی قوت اور ارادوں کا اندازہ لگانے میں ناکام رہا۔ دسمبر میں بشار الاسد کی حکومت ختم ہونے سے ایران کے لئے مشرق وسطیٰ میں اپنے حلیف گروہوں کو اسلحے کی ترسیل ممکن نہ رہی۔ غزہ، یمن، لبنان، شام اور عراق میں ایران کے گماشتہ گروہوں کے مفلوج ہونے سے ایران اپنے بنیادی عسکری مفروضے میں شکست کھا گیا۔ روس اور چین سے امداد کی توقع بھی پوری نہ ہو سکی۔ 13 جون 2014 کو اسرائیل نے ایران پر ابتدائی حملوں ہی میں ایران کی اعلیٰ ترین عسکری قیادت اور چنیدہ ایٹمی سائنسدان ختم کر دیے۔ عسکری ماہرین جانتے ہیں کہ اعلیٰ قیادت کے خلاف اس قدر کامیاب کارروائی نچلے درجے کے جاسوسی اثاثوں سے ممکن نہیں ہوتی۔ اس کے لئے اعلیٰ ترین سطح پر حریف کی صفوں میں دراندازی کی ضرورت ہوتی ہے۔
ایران کی فضائیہ کا بیشتر حصہ نصف صدی پرانا ہے جو دنیا بھر میں ربع صدی قبل ترک کیا جا چکا۔ ایران کے ایف14 جدید جے 35 اور 52 بی کا مقابلہ نہیں کر سکتے تھے۔ چنانچہ اسرائیل کو ایرانی فضاؤں میں کسی مزاحمت کا سامنا نہیں کرنا پڑا۔ بیس جون کو امریکہ نے اطلاع دے کر ایران کے تین نیوکلیائی مراکز پر حملہ کیا تو اسے فضائی مزاحمت تو کیا، کسی ڈرون تک سے واسطہ نہیں پڑا۔ اگرچہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو پہنچنے والے نقصان کا درست اندازہ تو خود ایرانی قیادت ہی کو ہو سکتا ہے لیکن یہ طے ہے کہ ایران کے ایٹمی پروگرام کو شدید دھچکا پہنچا ہے۔ اس کے بیلسٹک میزائلوں کا ذخیرہ بہت کم رہ گیا ہے خاص طور پر میزائل لانچر ٹھکانوں اور انہیں تیار کرنے والی کارگاہوں کو نقصان پہنچا ہے۔ ایران کی عسکری قیادت کو ناقابل تلافی نقصان پہنچا ہے۔ اس کے سائنسی اثاثے چن چن کر ختم کئے گئے ہیں۔ ایران کی سیاسی قیادت کی ساکھ کا یہ عالم ہے کہ اس کے رہبر اعظم بارہ روز تک اپنی اعلیٰ ترین قیادت سے رابطے میں نہیں تھے۔ برسوں کی محنت سے تیار کردہ گماشتہ قوتیں بکھر چکی ہیں۔ فی الحال ایرانی عوام اپنے وطن کے نام پر حکومت کے ساتھ ہیں لیکن سیاسی، عسکری اور انتظامی قیادت میں بے چینی پیدا ہونا ناگزیر ہے۔ اگرچہ ایران کا پیشوائی نظام موجود ہے اور عالمی قوتیں اسے ختم کر کے مزید انتشار پیدا کرنا بھی نہیں چاہتی تھیں لیکن نصف صدی سے قائم ایرانی پیشوائیت کبھی اس قدر کمزور نہیں تھی۔ اکتوبر 2023 سے اب تک اٹھارہ ماہ میں ایران کا عسکری، سیاسی اور انتظامی نظام بدل چکا ہے۔ ایران اپنا کوئی ہدف حاصل نہیں کر سکا اور اس کے تزویراتی اثاثے تنکوں کی مانند بکھر چکے ہیں۔ دیکھنا یہ ہے کہ ایران اب سفارتی ذرائع سے رجوع کرنے کا فیصلہ کرتا ہے یا ماضی کی طرح عسکری مزاحمت ہی پر بھروسا جاری رکھتا ہے۔



Well written
One of the key factors, which created stiff collar for Iran in last 5 years is COVID
Strange
The global crude Oil was struggling at 30 USD/Bl before Corona in 2020
Then we witnessed a huge slump to 20 USD for few months after which it shot to as high as 120-130 USD (at start of Ukraine war)
This opportunity specially in Gas / Crude / Steel (related industries) made huge income for
Iran, the global sanctions hardly matter for India and China (the main beneficiaries)
Instead Iran may have used this income more for its public they wasted elsewhere you righty mentioned to remain who in who list of super powers
or better to say KEY PLAYERS in various regions
–
You are absolutely right that without a strong airforce supplemented by a strong AEW/AWACS based Air Defence system, their is no difference between Iran, Yemen (Hotis), Syria, Gaza, Lebanon and yes Afghanistan
–
U rightly pointed out that even if US / Israel (IDF) informed Iranians about future attacks they are helpless to avert the same
–
SSM or Drones can act as force multiplier in reaching end of a war but cannot win a war against adversary having strong Airpower
–
Iranian leadership is so much mercurial and facing diplomatic isolation that in last 5 years (post COVID) they failed to get good fighters / AD systems from both Russia / China
–
Another big problem for Iranians is like Afghans ie they are still assuming themselves as MIGHTY rulers of region (like in past) and behave with their neighbors in same capacity
–
یاد رہے 1450 سال پہلے محمد ﷺ نے جب کہا تھا کہ عربی کو عجمئ پر فوقیت نہیں تو یہ سب کے علم میں ہے کہ عجمی (جس کو آج غیر عرب یا گونگا کہا جاتا ہے) درحقیقت عجمی سے مراد اس وقت ایرانی تھے۔ کیوں کہ باقی افریقی یا شرق وسطی میں سبھی جگہ عربی بولی یا سمجھی جاتی تھی ماسوائے ایران کے جو ایک بڑی علاقائی طاقت اس وقت بھی تھی۔
–
افسوس بس یہ ہے کہ اہل عرب اور اہل ایران دونوں نے ہی آج تک اس بات سے فیض نہیں اٹھایا۔ اور بس لڑے جارہے ہیں۔
–
مجھے اسی سال میں اسرائیل، ایران، انڈیا میں حکومت کی تندیلی نظر آرہی ہے۔ اور شاید اگر مخالفین پتے صحیح کھیل گئے تو امریکہ اور خود پاکستان کے علاوہ ترکی اور سعودی عرب میں بھی یہ تبدیلی نظر آسکتی ہے۔
–
"جہاں عقل سوجھتی نہیں، وہاں عفریت جنم لیتے ہیں” آج بھی سچ لگتی ہے — مگر شرط یہ ہے کہ عقل کو صرف ایک فریق کے لیے بند نہ کیا جائے۔ حالیہ تحریر جس میں ایران کی 2025 کی اسرائیل سے جنگ کو ایران کی مکمل عسکری و سیاسی شکست کہا گیا، درحقیقت اس طرح کی یک طرفہ سوچ کی مثال ہے
مصنف کو بخوبی علم ہے کہ 7 اکتوبر حماس کا ایک تزویراتی حملہ تھا جس کا مقصد "ابراہیم معاہدے” (Abraham Accords) کو سبوتاژ کرنا تھا۔ حماس اور دیگر مزاحمتی گروہ فلسطینی مسئلے کی کوکھ سے نکلے ہیں، انہیں صرف ایرانی امداد کا نتیجہ قرار دینا تاریخ اور حقیقت سے فرار ہے
2. ایران وہ واحد ریاست ہے جو فلسطینیوں کی عملی حمایت جاری رکھے ہوئے ہےمصنف نے یہ بات مکمل طور پر نظرانداز کر دی کہ آج جب بیشتر ریاستیں اسرائیل کے ساتھ تعلقات قائم کر چکی ہیں یا خاموش ہیں، تو ایران وہ واحد طاقت ہے جو فلسطینیوں کی مزاحمت کی سیاسی، اخلاقی اور عسکری سطح پر مدد کر رہا ہے۔
یہ حمایت وقتی فائدے کے لیے نہیں، بلکہ اس اصول پر مبنی ہے کہ سیاسی ناانصافی کے خلاف کھڑا ہونا ضروری ہے، چاہے اس کی قیمت عالمی تنہائی اور معاشی دباؤ ہو۔
🔴 3. جوہری معاہدہ – اعتماد کی خلاف ورزی امریکہ نے کی، ایران نے نہیںمصنف نے ایران کو عالمی نظام سے باہر رہنے کا ذمہ دار قرار دیا، لیکن وہ بھول گئے کہ:
لہٰذا، اگر کوئی عالمی انضمام سے منہ موڑ رہا تھا، تو وہ واشنگٹن تھا، تہران نہیں۔
🔴 4. علاقائی اتحادی بنانا صرف ایران کا طریقہ نہیںمصنف نے ایران کی خطے میں عسکری اتحادیوں (حماس، حزب اللہ، حوثی، بشار الاسد) کی موجودگی کو "پراکسی وار” قرار دیا، لیکن عالمی سیاست کی حقیقت یہ ہے کہ:
لہٰذا اگر دنیا کی بڑی طاقتیں یہ طریقہ اپنائیں تو وہ "تزویراتی مفاد” کہلاتا ہے، اور ایران کرے تو "عدم استحکام”؟
🔴 5. 2025 میں ایران کا جوابی حملہ شکست نہیں، توازن کا اشارہ تھاجون 2025 میں ایران نے تل ابیب اور حیفہ میں اسرائیل کے دفاعی مراکز پر حملے کیے، جن میں:
اگرچہ ایران کو نقصان ضرور اٹھانا پڑا — جیسے:
لیکن ان کے باوجود ایران کی ریاستی سطح پر جوابی صلاحیت، سیاسی استقامت اور دفاعی پوزیشن مکمل ختم نہیں ہوئی۔
🔴 6. ایران پر پابندیاں – اصلاح کے لیے نہیں، قابو پانے کے لیےمصنف نے ایران کی معاشی تنہائی کا ذمہ خود ایران کی پالیسیوں کو دیا، مگر درحقیقت:
پابندیاں طاقت کا آلہ ہیں، اصول یا انصاف کا نہیں۔
🔴 7. مشرقِ وسطیٰ کی پالیسی میں کسی بھی خطرے کا خاتمہ صرف اسرائیل کے تحفظ کے لیے کیا جاتا ہےمصنف کی تحریر غیر ارادی طور پر یہ تسلیم کرتی ہے کہ اگر خطے میں کوئی طاقت اسرائیل کے لیے خطرہ بنے — چھوٹا ہو یا بڑا — تو اسے فوری طور پر "ختم” کیا جانا ضروری سمجھا جاتا ہے۔
یہی رویہ خطے میں کسی حقیقی توازن، عوامی خود مختاری، یا انصاف پر مبنی امن کی راہ میں سب سے بڑی رکاوٹ ہے۔
🔚 خلاصہ: مزاحمت کو جرم بنا دینا سب سے آسان حل ہےمصنف کا بیانیہ یہ پیغام دیتا ہے کہ جو طاقت عالمی بلاک کی مرضی سے نہ چلے، وہ غلط ہے۔ جو ریاست اپنی خودمختاری برقرار رکھے، وہ خطرہ ہے۔ اور جو فلسطین کے عوام کا ساتھ دے، وہ تنہا کیا جائے۔
ایران کی کمزوریاں حقیقی ہیں، لیکن اس کا فلسطین سے وابستہ مؤقف، ریاستی خودداری، اور عسکری ردعمل صرف ایک ملک کا طرزِ عمل نہیں — بلکہ وہ سیاست ہے جو طاقتور کے بجائے مظلوم کی قیمت پر امن کو تسلیم نہیں کرتی۔
اگر دنیا کو حقیقی امن درکار ہے، تو اس کے لیے ایک فریق کو "خاموش” کروانے کے بجائے تمام فریقوں کو منصفانہ دائرہ کار میں لانا ہوگا۔
آپ کی عمومی باتیں درست ہیں۔ بعض جگہ یہ تصویر کے دوسرے رخ کو دیکھنے میں بھی مدد دیتی ہیں۔
لیکن مجھے نہیں لگتا کہ مصنف پر یک طرفہ سوچ کا الزام لگایا جاسکے۔
پہلی بات تو یہ سمجھنا ضروری ہے کہ یہ مضمون اخبار جنگ کے قارئین کے لئے لکھا گیا ہے اور اس کے لئے مصنف کے پاس ہزار ڈیڑھ ہزار الفاظ کی لازمی قید ہوتی ہے۔ یہ ہم سب کے قارئین کے لئے نہیں لکھا گیا۔
–
یہ مضمون ان لوگوں کو مخاطب کرتا ہے جنہوں نے پچھلے مضمون کو پڑھ کر مصنف پر سوشل میڈیا پر لعن طعن بھیجی۔
ہم مصنف سے اختلاف کرسکتے ہیں لیکن اس کی مجبوریوں کو سمجھنا بھی ضروری ہے۔
–
موجودہ جنگ کو شروع اسرائیل نے کیا تھا لگ بھگ امریکی آشیرباد کے ساتھ ۔ ایران کے عزائم اس معاملے میں جارحانہ نہیں تھے۔ اس کی حالت وہی تھی جو پاکستان بمقابلہ انڈیا مئی 2025 کی تھی۔
اگر ایران نے اپنی رجیم کو بچالیا یا اپنے ایٹمی پروگرام کو تو ہم بالکل کہہ سکتے ہیں کہ ایران کو شکست نہیں ہوئی اور وہ مدافعت میں فاتح رہا (ہماری طرح)۔
–
لیکن دوسری طرف دیکھا جائے تو سو جوتے کھاکر ایران نے سو پیاز بھی کھائی ہیں۔ جو اس کی کمزوری کی دلیل ہے۔
–
حقیقت یہ ہے کہ آپ بے شک تزویراتی عزائم رکھیں اور خود کو گیم چینجر یا سپر پاور سمجھیں لیکن للہ کم از کم اپنی ایئرفورس اور ایئرڈیفنس کو اتنا مضبوط تو بنالیں کہ وہ کسی جارح سے آپ اور آپ کے حساس اہداف اور تنصیبات کو نقصان سے بچا سکے۔
–
مسئلہ فلسطین میں ایران کی اسرائیل مخالفت 1990 کے بہت بعد شروع ہوئی (رجیم چینج اور عراق جنگ کے بعد) وگرنہ اس کے پہلے تک موساد اور ساوک ۔۔۔ لنگوٹ بدل بھائی تھے۔
–
حوثی، حماس، حزب اللہ، پاکستان، افغانستان اور ترکیہ میں ایران نے تیل کے بل بوتے پر ہی ان گروہوں کو فنڈ کیا جو اس کے مذہبی ہم درد (یا اس ملک کی اکثریت کے مخالف کی وجہ سے دوست) مانے گئے۔ انسانی ہمدردی وغیرہ صرف کہنے کی باتیں ہیں۔
محترم، آپ کی بات کئی حوالوں سے درست ہے، اور یہ گفتگو دلیل کی بنیاد پر جاری رہنی چاہیے۔ لیکن جہاں ایران کی موجودہ جنگی پوزیشن کو محض "سو جوتے، سو پیاز” جیسے محاورے میں سمو دیا جائے، وہاں کچھ بنیادی نکات کی وضاحت ضروری ہو جاتی ہے۔
حقیقت یہ ہے کہ ایران کی صورتحال مکمل بے بسی یا محض پسپائی کی عکاس نہیں۔ اگرچہ اس کی فضائی دفاعی صلاحیت کمزور ثابت ہوئی، اور داخلی سیکیورٹی میں بھی خامیاں سامنے آئیں — جیسے اعلیٰ دفاعی قیادت اور سائنسی اثاثوں کا نقصان — لیکن یہ کہنا کہ ایران نے صرف مار کھائی اور بدلے میں کچھ حاصل نہ کیا، تصویر کا صرف ایک رخ دکھانا ہے۔
ایران نے جون 2025 کی جنگ میں صرف عسکری طور پر ردعمل نہیں دیا بلکہ سفارتی سطح پر بھی مسلسل متحرک رہا۔ سب سے اہم بات یہ ہے کہ ایران نے کبھی بھی جوہری مذاکرات سے انکار نہیں کیا — نہ ماضی میں، نہ حال میں۔
یہ بات تسلیم شدہ ہے کہ اسرائیل نے ان مذاکرات کے دوران ایران پر حملہ کیا، اور یہ حملے خود اس بات کی نشاندہی تھے کہ ایران کو ایک ایسے مقام پر دھکیلا جا رہا تھا جہاں "مَرْتَا کیا نہ کرتا” جیسی صورتحال پیدا ہو گئی تھی۔
یہ درست ہے کہ ایران کو اپنی فوجی اور تکنیکی صلاحیتوں میں بہتری لانے کی ضرورت ہے، اور پراکسی گروہوں پر ضرورت سے زیادہ انحصار ایک مہنگی حکمت عملی ثابت ہوا۔ مگر اس کے باوجود، ایران نے جوہری ہتھیاروں کی مکمل تیاری کے بجائے مسلسل بین الاقوامی نظام کے اندر رہ کر بات چیت کو ترجیح دی۔ IAEA کو انسپکشن کی اجازت، اور مذاکرات کی بحالی اسی کا ثبوت ہیں۔
ایران کی مزاحمت کو محض مذہبی نعرے بازی یا پراکسی جنگوں سے جوڑنا بھی حقیقت سے دور ہے، کیونکہ دنیا کی ہر بڑی ریاست — امریکہ، بھارت، ترکی، پاکستان — علاقائی اثر و رسوخ کے لیے اسی قسم کی حکمت عملی اپناتی رہی ہیں۔ اگر وہ سب "تزویراتی مفادات” کے نام پر یہ سب کچھ کریں تو ایران کو صرف "مہم جو” کہنا توازن سے ہٹ کر بات ہے۔
آخر میں، ایران کی صورتحال کو سمجھنے کے لیے نہ صرف اس کی کمزوریوں کو تسلیم کرنا ضروری ہے بلکہ اس کی سفارتی اور تزویراتی ثابت قدمی کو بھی سراہنا چاہیے۔ اس نے نہ مذاکرات بند کیے، نہ مکمل طور پر پسپائی اختیار کی — بلکہ محدود وسائل اور شدید دباؤ کے باوجود اپنی خودمختاری اور موقف کا دفاع کیا۔
یہ یک طرفہ شکست نہیں، بلکہ ایک پیچیدہ توازن ہے — جہاں ریاست دباؤ میں آ کر بھی دستبردار نہیں ہوتی، اور خاموشی کے بجائے دلیل، مزاحمت اور بات چیت — تینوں راستے اختیار کرتی ہے۔
میں نے یہ کبھی نہیں کہا کہ لیکن یہ کہنا کہ ایران نے صرف مار کھائی اور بدلے میں کچھ حاصل نہ کیا،
ایران نے نہ صرف موجودہ جنگ بلکہ پچھلے اسرائیلی حملے کے بعد اپنے لئے دو نئی مارکیٹیں پیدا کی ہیں۔
ایک ڈرون اور دوسری زمین سے زمین تک مار کرنے والے سستے مگر تیر بہدف میزائیل۔
اور یہ مستقبل میں ایران کو یقینا مدد دیں گی۔
موجودہ جنگ ایران پر جیسے میں نے لکھا نیتن یاہو نے اپنے مفاد کے لئے محض مسلط کی جس میں یقینا امریکہ کی مرضی بھی شامل تھی۔
سو جوتے اور سو پیاز اس لئے لکھا کیوں کہ جو صورت اب ہے وہ کم تصادم کے ساتھ پہلے بھی حاصل کی جاسکتی تھی۔
یہ کہنا یقینا غلط ہے کہ ایران کو اس میں شکست ہوئی کیوں کہ یہاں اس نے اپنا دفاع کرنا تھا جو اس نے کامیابی سے کرلیا۔ اسرائیل کے دفاعی نظام کا بھانڈا بھی پھوڑ کر رکھ دیا یا اس کا طلسم توڑ دیا
لیکن یہ کہنے میں کوئی عار نہیں کہ دنیا بھر میں دفاعی تجزیہ کاروں کی ایک بڑی تعداد (جو پاکستان میں بھی موجود ہے) ان کی آنکھوں پر سے پردہ ہٹ گیا کہ ہر جنگ زمین سے زمین پر مارکرنے والے میزائیلوں سے نہیں جیتی جا سکتی۔ یہ تصور ایرانی فوج میں بہت زیادہ پایا جاتا تھا۔ لیکن یہ بھوت بھی اترگیا۔
میزائیل ۔۔۔ فضائی فوج اور دفاعی نظام کی بہرکیف بہت زیادہ اہمیت ہے اور یہ پاکستان انڈیا اور اسرائیل ایران جنگوں میں صاف نظر آئی،
پاکستان البتہ پہلے دن کے بعد سے دو دن تک انڈیا میں بہت کچھ کرسکتا تھا لیکن چوں کہ ہمارے عزائم جارحانہ نہیں تھے اس لئے ہم پہلے دو دن کی فضائی برتری کا فائدہ نہیں اٹھا پائے۔
–
مجھے علم نہیں کہ ایران نے چین یا روس سے جدید ہوائی جہاز یا ایس 400 جیسا سسٹم کیوں نہیں لیا۔
حد تو یہ ہے کہ بارٹر سسٹم کے تحت ایران پاکستان سے جے ایف 17 کے بلاک تھری جہاز بھی خرید سکتا تھا یہ اور بات کہ پاکستان دفاعی معاملات میں ایران اور امارات پر اتنا اعتبار نہیں کرتا وجہ وہی انڈینز کی حد سے زیادہ ان ممالک کے دفاعی معاملات میں شامل ہونا ہے۔
جس کی قیمت قطر اور ایران تو ادا کرچکے اور اب امارات اور سعودیہ کو مستقل میں ادا کرنی ہوگی۔
–
ایران کے بارے میں متعدد معاملات خود ایرانیوں کے علم میں بھی نہیں ہیں لیکن ایران نے ایٹمی پھیلاؤ کے معاہدوں سے نکل کر اب اس معاملے کو مزید سنگین بنادیا ہے۔
میں آپ دونوں دوستوں کی وسعت علمی اور مدلل مکالمے سے مستفید ہونے پر نازاں ہوں
Thanks bro
بھائی عارف، ادارہ جنگ کے ادارتی صفحے پر ماضی میں کافی تفصیل سے لکھا جا سکتا تھا لیکن 2018 میں تحریک انصاف حکومت کے اقدامات کے نتیجے میں ادارتی صفحہ ہی دو کی بجائے ایک رہ گیا اور الفاط کی حد ایک ہزار مقرر کر دی گئی۔ درویش لکھنے کے بعد باقاعدہ لفظ گن کے انہیں 1050 کے قریب لاتا ہے جس میں ناگزیر طور پر بہت سے نکات ناگفتہ رہ جاتے ہیں۔ مجھ سے پوچھیے تو میں بھائی سہیل وڑائچ کے لیے طول عمری کی دعا کرتا ہوں۔ ان کی تربیت اشاعتی صحافت کی ہے۔ ان کے بعد دور دور تک بات کہنے کو اتنی جگہ بھی میسر نہیں آئے گی۔
حقیقت یہ ہے کہ جتنا علم میں اضافہ اور کشادگی مخالف کے دلائل پڑھ یا سن کر ہوتا ہے اتنا ہم خیال سے نہیں ہوتا۔
لیکن ہمارے یاں ایک المیہ یہ بھی ہے کہ ہم دوسرے کے نقطہ نظر سے معاملے کو دیکھنا پسند نہیں کرتے۔
–
انڈیا آج بھی یہی دعوی کررہا ہے کہ انہوں نے مئی 2025 کی جنگ میں اپنے اہداف کو کامیابی سے حاصل کیا (بے شک اس کی انہوں نے جو بھی قیمت ادا کی) دیکھا جائے تو ان کا یہ دعوی غلط نہیں کیوں کہ ان کا مطمع نظر ان لوگوں کا خاتمہ نہیں جو ان کے ملک کو نقصان پہچانا چاہتے ہیں بلکہ محض چند لوگوں کی رہائش کو حملہ کرنا تھا اور یہ ہدف انہوں نے ضرور حاصل کیا۔ اس کی بھی وجہ ہے کہ اصل مقصد مودی کو الیکشن میں ووٹ بنک بڑھانا تھا اور شاید اس میں وہ کامیاب ہوجائیں۔
–
جہاں تک ہمارا معاملہ ہے وہ واضح ہے۔
–
یہی بات ایران اور اسرائیل کے لئے بھی ہے۔ دونوں ہی فاتح ہیں اور دونوں ہی شکست خوردہ۔ بس دیکھنا ہے کہ گلاس آدھا بھرا ہے یا آدھا خالی۔
–
یہ بات بھی ایک عام قاری کے علم میں نہیں کہ اخبارات کے لئے کالم لکھنا کتنا مشکل کام ہے 1000 لفظوں کی قید میں اصل بات کوبیان کرنا کتنا مشکل ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ یہ مجھ جیسوں کے بس کی بات نہیں کہ میں اسے دریا کو چوزے (کوزہ نہیں) میں بند کرنا مانتا ہوں۔
–
ایک بات جوہم آج تک نظر انداز کرتے آئے ہیں لیکن مجھے سال بھر سے ہضم نہیں ہورہی تھی وہ یہ ہے کہ مئی 2024 میں ایرانی صدر ابراہیم رئیسی کی موت بھی محض حادثہ نہیں تھا بلکہ شاید اسرائیل کی طرف سے ایک تزویراتی حملہ تھا اور اسرائیل نے محض اس لئے اس بات کا اقرار نہیں کیا کیوں کہ اس کے بہت دور رس منفی اثرات پیدا ہوتے۔ اس قتل کے بعد جس طرح لبنان میں واکی ٹاکی اور پیجر پھٹے۔ یا حماس کے لیڈروں کو ٹارگٹ کرکے مارا گیا۔ ابراہیم رئیسی کا حادثہ تو اب بچوں کا کھیل لگتا ہے۔
–
لکھ رکھیں۔ ٹرمپ، مودی ، پوتن یا نیتن یاہو ان میں سے کوئی سال بھر میں ہی قاتلانہ حملہ کا شکار ہوگا۔ یہ سائیکلک رد عمل ہے۔