صدر ٹرمپ: جو دل میں وہ زباں پہ


صدارتی انتخابات میں ڈونلڈ ٹرمپ کی شاندار کامیابی کے بعد امریکہ میں غیر معمولی تبدیلیوں کا رونما ہونا یقینی تھا۔ لیکن کسی کے گمان میں نہیں تھا کہ اقتدار میں آتے ہی وہ اس قدر تیزی سے دنیا کے سیاسی منظر نامے پر چھا جائیں گے۔

آج امریکا کو جن مسائل کا سامنا ہے ان میں پچھلی چند دہائیوں کے دوران شدت پیدا ہوئی ہے۔ یہ وہ دور تھا جب، چین امریکی منڈیوں پر قبضہ کر رہا تھا اور عالمی جنوب کی ابھرتی معیشتیں امریکا کی معاشی بالا دستی کا دائرہ تنگ کرتی جا رہی تھیں۔ اس دور کے امریکی صدور، آنے والے بحران کا درست ادراک اور جرات مندانہ فیصلے نہ کر سکے جس کے نتیجے میں آج امریکا کو ایک کھرب ڈالر سے کہیں زیادہ کے تجارتی خسارے کا سامنا ہے، قومی قرض 36 کھرب ڈالر سے تجاوز کر گیا ہے جو جی ڈی پی کا 122 فیصد ہے اور اس میں ہر تین ماہ کے بعد ایک ٹریلین ڈالر کا اضافہ ہو رہا ہے۔ غور طلب امر ہے کہ ٹرمپ سے پہلے کے صدور وہ اقدامات کیوں نہ کر سکے جو صدر ٹرمپ اس وقت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔

ماضی کے امریکی صدور روایتی انداز میں فیصلہ سازی کرتے تھے۔ ان کی کوشش ہوتی تھی کہ ’اسٹیٹس کو‘ برقرار رکھا جائے، بڑے کارپوریٹ اداروں کے مفادات کو عوامی مفاد کے تابع کرنے سے گریز کیا جائے، تجارتی خسارے کو کم کرنے کے فیصلوں کے امکانی خطرات سے بچا جائے، سرد جنگ دور کے تنازعات کو منطقی انجام تک پہنچانے کے لیے غیر روایتی پہل کاریاں نہ کی جائیں۔ ماضی کے صدور کی ان تبدیلی گریز روایتی انداز فکر نے امریکا کے معاشی بحران میں خطرناک شدت پیدا کر دی جس پر قابو پانے کے لیے غیر روایتی انداز فکر کی ضرورت تھی۔ یہ وقت کا نا گزیر تقاضا تھا جو ڈونلڈ جے ٹرمپ کو اقتدار میں لانے کا بنیادی سبب بن گیا۔

صدر ٹرمپ، سودے بازی میں مہارت اور بروقت فیصلہ کرنے کی صلاحیت رکھنے والی ایک بڑی کاروباری شخصیت ہیں۔ اقتدار میں آنے کے بعد وہ امریکا کو بھی ایک کارپوریٹ ادارے کے طور پر چلانے کی حکمت عملی پر کاربند ہیں۔ انہیں علم ہے کہ امریکا کو سالانہ ایک ہزار ارب ڈالر سے زیادہ خسارے کا سامنا ہے جسے پورا کرنے کے لیے حکومت کو قرض لینا پڑتا ہے، قرض کی ادائیگی کے باعث بجٹ کا خسارہ بڑھتا ہے جس کے لیے مزید قرض لیا جاتا ہے لہٰذا تجارتی خسارے میں کمی لائے بغیر اس شیطانی چکر سے نکلنا ممکن نہیں ہو سکتا۔

یہی وجہ تھی کہ صدر ٹرمپ نے منصب سنبھالتے ہی ٹیرف کا مسئلہ اٹھا کر عالمی تجارتی نظام میں بحران پیدا کر دیا۔ ان کا موقف ہے کہ امریکا کے تمام تجارتی پارٹنرز امریکی اشیاء پر بھاری درآمدی محصول عائد کرتے ہیں جبکہ امریکا کی جانب سے ان کی مصنوعات پر معمولی محصول لگایا جاتا ہے ، اس غیر منصفانہ عمل کو اب ختم کرنا ہو گا۔ جو ملک محصولات میں کمی کے لیے تیار نہیں ہو گا اس کی درآمدی اشیا پر بھاری ٹیرف لگا دیا جائے گا۔

امریکا سے تجارت میں سب سے زیادہ فائدہ اٹھانے والے ملکوں میں چین، میکسیکو، ویت نام، جرمنی، جاپان اور آئر لینڈ سر فہرست ہیں۔ پاکستان جس کا برآمدی حجم صرف تیس ارب ڈالر ہے اسے بھی امریکا سے تجارت میں 2.5 ارب ڈالر کا فائدہ ہوتا ہے۔ امریکی صدر جانتے ہیں کہ ان کے بڑے تجارتی پارٹنرز کی معیشتوں کا زیادہ انحصار داخلی کھپت پر کم اور برآمدات پر زیادہ ہے۔ امریکا چونکہ ان کی مصنوعات کی سب بڑی منڈی ہے لہٰذا وہ اسے کھونے کے متحمل نہیں ہوں گے اور انہیں ایک قابل عمل معاہدہ پر مجبور ہونا پڑے گا۔ یہ بات درست نظر آتی ہے۔ چین سمیت دیگر کئی ملکوں سے مذاکرات میں پیش رفت ہو رہی ہے جن میں پاکستان بھی شامل ہے۔

بیرونی اخراجات میں کمی کے حوالے سے بھی صدر ٹرمپ اہم فیصلے کر رہے ہیں۔ سرد جنگ کے دوران سیاسی مقاصد کے لیے استعمال ہونے والے یو ایس ایڈ پروگرام عملاً ختم کر دیا گیا ہے۔ اس پروگرام کے تحت 157 ملکوں جاری اربوں ڈالر کے امدادی معاہدے منسوخ کر دیے گئے ہیں۔ امریکا، عالمی ادارہ صحت (WHO) کو ایک ارب ڈالر سالانہ سے زیادہ کا فنڈ مہیا کرتا تھا۔ صدر ٹرمپ کا موقف ہے کہ چین اس ادارے کو صرف 157 ملین ڈالر فراہم کرتا ہے۔

ان کا کہنا ہے کہ دیگر ممالک بھی اپنی ذمہ داریاں پوری کریں اور امریکا پر غیر منصفانہ مالی بوجھ نہ ڈالا جائے۔ نیٹو کے تحت یورپ کے دو تہائی دفاعی اخراجات امریکا برداشت کرتا ہے۔ اس اتحاد میں شامل یورپی ملک اپنی جی ڈی پی کا صرف 2 فیصد اس مد میں ادا کیا کرتے تھے۔ امریکا کے ہر صدر نے اس شرح کو بڑھانے کی ناکام کوشش کی۔ ڈونلڈ ٹرمپ نے ہیگ میں منعقدہ حالیہ نیٹو سربراہی اجلاس میں رکن ممالک کو اپنا حصہ جی ڈی پی کا 5 فیصد تک بڑھانے پر قائل کر لیا جس سے نیٹو کے بجٹ میں ایک ہزار ارب ڈالر کا اضافہ ہو گا اور امریکا پر پڑنے والا مالی بوجھ بھی کافی کم ہو جائے گا۔

جو کام کوئی امریکی صدر اب تک نہ کر سکا تھا وہ صدر ٹرمپ نے چھ ماہ میں کر دکھایا جو ان کی غیر روایتی طرز سیاست کا کمال ہے۔ صدر ٹرمپ، کینیڈا سے کہہ چکے ہیں کہ اب امریکا ماضی کی طرح اس کی کفالت نہیں کرے گا۔ ان کا موقف ہے کہ امریکا، کینیڈا کو 200 ارب ڈالر کی زر تلافی دیتا ہے، اس کے دفاع پر اربوں ڈالر خرچ کرتا ہے، کینیڈا اپنا تقریباً سارا کاروبار اور تجارت امریکا سے کرتا ہے جبکہ امریکا کا کینیڈا سے کاروبار انتہائی معمولی ہے، امریکا کینیڈا سے وہ چیزیں تک خریدتا ہے جن کی اسے ضرورت بھی نہیں ہے۔

وہ کینیڈا کی حمیت جگانے کے لئے کہتے ہیں کہ اگر وہ اپنے پیروں پر کھڑا نہیں ہونا چاہتا اور امریکا پر ہی انحصار کرنے کا خواہاں ہے تو بہتر ہو گا کہ وہ امریکا کی 51 ویں ریاست بن جائے۔ روایتی طرز کی خارجہ پالیسی میں اپنے قریب ترین پڑوسی دوست ملک سے ایسا طرز عمل اختیار نہیں کیا جاتا۔ صدرٹرمپ نے روایت کے برعکس براہ راست اور دو ٹوک انداز اپنایا ہے جس کا فائدہ دونوں ملکوں کو ہو گا۔ کینیڈا خود انحصاری کی راہ اپنائے گا اور امریکا ہر سال کئی سو ارب ڈالر ضائع کرنے سے بچ جائے گا۔

امریکی صدر ملک کے اندر بھی ریاستی اخراجات کو کم کرنے کی پالیسی پر سختی سے عمل کر رہے ہیں۔ وہ اپنے شہریوں کو ریلیف دینے کے لیے ہر حد عبور کرنے پر تیار ہیں۔ ماضی میں کسی بھی ڈیموکریٹ یا ریپبلکن صدر نے امریکا کی سب سے طاقت ور، سینٹ اور کانگریس گہری رسائی رکھنے والی ڈرگ لابی سے ٹکر لینے کا تصور تک نہیں کیا تھا۔ صدر ٹرمپ نے اس لابی سے ٹکرانے کا فیصلہ کر لیا ہے۔ انہوں نے دوا ساز کمپنیوں پر واضح کر دیا ہے کہ ایک ہی کمپنی اور فارمولے پر تیار دوا کے پیکٹ کی قیمت یورپ اور امریکا میں مساوی ہونی چاہیے۔

صدر ٹرمپ نے کہا کہ ایک برطانوی دوست نے انہیں حیرت سے بتایا کہ وہ وزن کم کرنے کی جو دوا استعمال کرتے ہیں اس کی قیمت برطانیہ میں 88 ڈالر جبکہ امریکا میں 1300 ڈالر ہے۔ انہوں نے کہا کہ امریکا کی آبادی دنیا کی صرف 5 فیصد ہے جب کہ فارماسوٹیکل کمپنیاں اپنے عالمی منافع کا 75 فیصد امریکا سے کماتی ہیں۔ امریکی عوام کا اس سے بڑا استحصال اور کیا ہو گا۔ صدر نے کہا کہ وہ ڈرگ کمپنیوں کو تین سے چار گنا زیادہ قیمت وصول نہیں کرنے دیں گے۔ انہیں دواؤں کی قیمتیں 50 سے 80 فیصد کم کرنی ہوں گی۔ وہ کہتے ہیں ہر فرد سے مساوی سلوک ہو اور اس سے مساوی قیمت وصول کی جائے۔ صدر ٹرمپ کے مطابق انہوں نے اس مسئلے پر جو ایگزیکٹو آرڈر جاری کیا ہے وہ امریکی تاریخ کا سب سے اہم ایگزیکٹو آرڈر ہے۔

صدر ٹرمپ نے دنیا کے مختلف حصوں میں جاری مسلح تنازعات اور جنگوں کے حوالے سے بھی چونکا دینے والا کردار ادا کر رہے ہیں۔ انہوں نے بروقت مداخلت کر کے پاکستان اور بھارت کے درمیان حالیہ کشیدگی کو ایک بڑی جنگ میں تبدیل ہونے سے روک دیا۔ صدر ٹرمپ نے جنگ روکنے پر فیلڈ مارشل عاصم منیر کو ظہرانے پر واشنگٹن مدعو کر کے ان کا شکریہ ادا کیا۔ انہوں نے سیاسی مصلحت اور سفارتی آداب کا تکلف نہیں کیا اور حقیقت پسندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے اس شخصیت کو خراج تحسین پیش کیا جس کی مرضی کے بغیر ایک بھیانک جنگ کو روکنا ممکن نہیں تھا۔

ایران اور اسرائیل کے درمیان بارہ روزہ جنگ میں انہوں نے پہلے اسرائیل کی بھرپور دفاعی مدد کی، آخری مرحلے میں چند گھنٹوں کے اندر ایران کی تین جوہری تنصیبات کو ناکارہ بنا کر ایران پر اسرائیلی حملے کا جواز ختم کر دیا۔ دنیا مزید تباہی کی منتظر تھی لیکن صدر ٹرمپ نے دونوں ملکوں کو فوری جنگ بندی پر قائل کر کے سب کو حیران و ششدر کر دیا۔ اب وہ ایران کو مذاکرات کی دعوت دے کر اس پر عائد پابندیاں نرم کرنے کی پیش کش کر رہے ہیں۔ ان کی پہل کاری کی کامیابی سے خطے میں ایک نئے دور کا آغاز ہو جائے گا۔

صدر ٹرمپ کی بات مان کر بھارت اور پاکستان، اسرائیل اور ایران فوری جنگ بندی پر تیار ہو جاتے ہیں، روس کے صدر پیوٹن ٹیلی فون پر ان سے رابطے میں رہتے ہیں، یوکرینی صدر زیلنسکی کی ان سے ملاقاتیں ہوتی ہیں، شمالی کوریا کے صدر کم جونگ اون جن سے دنیا ڈرتی ہے وہ ان سے بے تکلف ہیں، جنوبی کوریا گہرا دوست ہے، چین کے صدر شی جن پنگ ان کی باتوں کا زیادہ برا نہیں مانتے۔ صدر ٹرمپ کے کہنے پر اعتبار اس لیے کیا جا رہا ہے کہ وہ منافقت سے کام نہیں لیتے۔

جو ان کے دل میں ہوتا ہے وہ اس کا برملا اظہار کر دیتے ہیں۔ وہ صرف اپنا فائدہ نہیں دیکھتے بلکہ غیر روایتی لین دین (unconventional transactional ) یعنی کچھ لو اور کچھ دو کی پالیسی پر عمل کرتے ہیں۔ صدر ٹرمپ دائیں اور بائیں بازو کے روایتی سیاسی دائرے سے نکل کر 21 ویں صدی کی نئی حقیقت پسند سیاسی سوچ پر عمل کر رہے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ وہ دیگر عالمی رہنماؤں سے منفرد نظر آتے ہیں۔

Facebook Comments HS

ندیم اختر، سندھ

ندیم اختر ہے کی دلچسپی کے شعبے تصنیف و تالیف، صحافت اور ترجمہ نگاری نیز قومی اور عالمی امور ہیں۔ ندیم اختر سندھ نیشنل سٹو ڈنٹس فیدریشن کے بانی سینئر نائب صدر رہے ہیں جس کے بانی صدر جام ساقی تھے۔ ملک کی جمہوری اور قومی حقوق کی جدوجہد میں شریک رہے، کئی جریدوں کی ادارت کر چکے ہیں، ڈاکٹر کامران اصدر علی، ڈاکٹر احمد یونس صمد، ڈاکٹر ناظر محمود، ڈاکٹر جعفر احمد کی کتابوں کے علاوہ ڈاکٹر مبارک علی اور دیگر دانشوروں کی تصانیف اور مضامین کا ترجمہ بھی کر چکے ہیں۔

nadeem-akhtar-sindh has 19 posts and counting.See all posts by nadeem-akhtar-sindh