جعلی ڈائریکٹر کی طرف سے جعلی تقرر نامہ


مئی 1979 کی کوئی تاریخ تھی کہ میں اپنا بیگ کندھے کے ساتھ لٹکائے ہوئے گورنمنٹ ہائی سکول چک بیدی میں جا حاضر ہوا جہاں گورنمنٹ ہائی سکول رجحان سے میرا تبادلہ ہوا تھا۔ اس تبادلے کے پیچھے میری طرف سے متعلقہ کلرک کو دیا گیا 200 روپے کا زر کثیر اور شیخ ایوب کی خصوصی کاوشیں شامل تھیں۔ کیوں کہ اُن دنوں وہ مستقل طور پر چوک شہباز ملتان میں قیام پذیر تھا اور ہر دوسرے چوتھے دن وہ ڈائریکٹوریٹ اس سلسلہ میں چکر لگاتا رہتا تھا۔

میں سیدھا ہیڈ ماسٹر کے دفتر میں جا پہنچا۔ جہاں کوئی بھی موجود نہیں تھا۔ چپڑاسی سے پوچھنے پر معلوم ہوا کہ ملک اللہ دتہ اس سکول کے ہیڈماسٹر ہیں۔ جو پاکپتن کے قریب چک ہوتہ کے ایک زمیندار وٹو گھرانے سے تعلق رکھتے ہیں اور وہ آج چھٹی پر ہیں اور نصیر خان صاحب آج انچارج ہیڈ ماسٹر ہیں جو ساہیوال سے تعلق رکھتے ہیں۔ تھوڑی ہی دیر کے بعد موصوف بنفس نفیس تشریف لے آئے۔ آپ گوری رنگت چھوٹے قد اور فربہی مائل کسرتی جسم کے مالک تھے اس سے پہلے کہ وہ مجھ سے کچھ پوچھیں میں نے اُن کا انٹرویو شروع کر دیا۔

انہوں نے بتایا کہ وہ ساہیوال کی کسی تحصیل میں اے ای او (AEO) تھے اور وہاں سے اُن کو اس سکول میں بھیجا گیا ہے۔ میں نے پوچھا کہ اے ای او بننے کے بعد تو عام طور پر اُسے ہائی سکول کا ہیڈ ماسٹر ہی بنایا جاتا ہے۔ آپ کو واپس ٹیچر بنا کر کیوں بھیجا گیا ہے اور پھر بھیجا بھی یہاں چک بیدی میں جو علاقے بھر کا بدنام زمانہ سکول ہے۔ تھوڑی دیر خاموش رہے پھر بولے کہ میرے باس نے میری اے سی آر خراب کر دی تھی۔ جس کی وجہ سے نہ صرف مجھ سے اے ای او شپ واپس لے لی گئی ہے بلکہ اب آگے پرموشن کے امکانات بھی معدوم ہیں۔

میں نے یہاں جائننگ دینے کے بعد سٹاف کے ساتھ صاحب سلام کی۔ ٹیچرز کی اکثریت مقامی راؤ صاحبان پر مشتمل تھی۔ افضل بیالوجی ٹیچر اکرم بودلہ پی ٹی اور نصیر خان سیکنڈ ماسٹر تینوں صاحبان کا تعلق ساہیوال سے تھا اور وہ سکول میں ہی رہائش پذیر تھے۔ سائنس روم میں ان لوگوں نے اپنا ڈیرا لگایا ہوا تھا۔ چھٹی کے بعد میں بھی انہی لوگوں میں شامل ہو گیا۔

میں علی الصبح گھر سے نکلا تھا اور مجھے خوب بھوک لگی ہوئی تھی اور میں کھانے کا انتظار کر رہا تھا لیکن اس کے دور دور تک کوئی آثار دکھائی نہیں دے رہے تھے۔ مبارک علی ایک طالب علم اس سلسلے میں دوڑ دھوپ کر رہا تھا۔ وہ آ کر کسی کے کان میں کچھ کُھس کھس کرتا اور چلا جاتا۔ پھر واپس آ کر کسی اور سے نئی ہدایات وصول کر کے واپس لوٹ جاتا۔ پھر واپس آ کر کسی دوسرے کے کان میں یہی حرکت دہراتا۔ کافی وقت گزرنے کے بعد جب کھانے کے تمام انتظامات مکمل ہو گئے اور کھانے پر بیٹھے تو کھانے کا مینیو سادہ روٹی، دہی اور پانی پر ہی مشتمل تھا۔

ویسے مجھے ایسے محسوس ہو رہا تھا جیسے کہ یہ کھانا بھی کسی گھرانے سے مانگ تانگ کر ہی لایا گیا ہے۔ میں کیوں کہ نووارد تھا اس لیے خاموش رہا۔ رات کے کھانے کی تیاری میں بھی دوپہر والی کہانی ہی دہرائی گئی۔ اب میرے صبر کا پیمانہ لبریز ہو چکا تھا۔ میں نے اُن لوگوں سے کہا کہ یہ تو کوئی طریقہ نہیں ہے یہاں رہنے کا میں تو ایسے حالات میں یہاں نہیں رہ سکتا۔ اب کھانے کے انتظامات میں خود کیا کروں گا۔ سب نے اس بات پر حامی بھر لی۔

میں نے فوراً میس منیجر کا چارج لیتے ہی پہلا حکم جاری کیا کہ فوراً دو دو سو روپے فی کس میس کے کھاتے میں جمع کروائے جائیں۔ یاد رہے کہ اس وقت میری ماہانہ تنخواہ 520 روپے تھی آٹھ سو روپے جیب میں ڈال کر میں نے سکول کے چوکیدار عالم علی سے کہا کہ ہمارا کھانا تیار کرنے کے لیے کسی ملازم یا ملازمہ کو ڈھونڈ کر لاؤ۔ وہ تھوڑی ہی دیر میں ایک آدمی کو ڈھونڈ لایا میں نے اس سے اس کے کوائف معلوم کیے وہ میاں بیوی دو ہی افراد تھے ایک بیٹا تھا اور وہ فوج میں تھا میں نے اُسے کہا کہ آپ کو ایک سو روپے ماہانہ تنخواہ دی جائے گی اور آپ دونوں کا کھانا بھی یہیں سے جائے گا۔

وہ شخص فوراً ہی رضا مند ہو گیا۔ سکول کے ساتھ ہی ہوسٹل کے لیے بنائے گئے تین چار کمرے فالتو پڑے تھے ایک کمرے میں چونا وغیرہ کروا کر وہاں پر دو بڑے میز اور پانچ چھ کرسیاں رکھ کر اُسے ڈائننگ روم کی شکل دے دی گئی۔ کمرے کے سامنے چار دیواری پہلے سے ہی موجود تھی۔ اب اسی جگہ کو باقاعدہ میس کی شکل دے دی گئی اور اس طرح کھانے کا مسئلہ دو تین دن میں ہی حل کر لیا گیا۔ شام کو ہم نے گاؤں کے ایک گھر سے تین چار کلو دودھ لگوا لیا ہمارا باورچی دودھ گرم کر کے سائنس روم کے سٹور میں رکھ دیتا اور ہم لوگ سونے سے پہلے دودھ کا گلاس گلاس بھی پیتے۔ جب دودھ گرم ہو کر اپنی جگہ پہنچ جاتا توہم میں سے ہر ایک کی خواہش ہوتی کہ وہ سب سے پہلے دودھ پی لے جو بھی فرد پہلے دودھ کا گلاس پیتا وہ آ دھا گلاس پانی کا اس میں ڈال دیتا۔

نصیر خان کے علاوہ باقی ہم تینوں ہی باری باری دودھ پی کر اس میں حسب ِ توفیق پانی ملاتے جاتے اور آخر میں خان صاحب ہی رہ جاتے وہ دودھ کا دیگچہ سامنے رکھ کر گلاس پہ گلاس بھر کر پیتے جاتے اور ساتھ ہی ساتھ گاؤں میں ملنے والے اس دودھ کے خالص پن کی تعریف بھی کرتے جاتے کہ یار اس خالص دودھ کا تو ذائقہ ہی کمال ہے۔ ہم تو شہر میں دودھ کے نام پر لسی ہی پیتے ہیں۔ وہ ہمیں بھی دودھ پینے کی پیشکش کرتے جاتے۔ لیکن ہم میں سے ہر ایک انکار کر دیتا کہ خان صاحب میرا تو دل نہیں کرتا بس آپ ہی پی لیں۔

خان صاحب کے ساتھ مسلسل دو سال تک یہی واردات ہوتی رہی۔ وہ اتنے سادہ لوح تھے کہ انہیں کبھی شک تک بھی نہیں گزرا تھا۔ خان صاحب ورزش کے بڑے شوقین تھے وہ سر کے بل کھڑے ہو جاتے اور ناک میں دیسی گھی سانس کے ذریعے اندر کھینچتے اور ساتھ ہی ہمیں بتاتے کہ اس سے دماغ بڑا تر و تازہ رہتا ہے۔ اب زندگی معمول پر آ چکی تھی۔ یہاں پر بھینسوں اور کٹوں کے پائے وافر مقدار میں پکائے جاتے۔ گاؤں کے قصائی کو ہدایت تھی کہ جب بھی وہ بڑے گوشت کے لیے جانور ذبح کرے تو اس کے پایوں کا گوشت بنا کر ہمیں بھجوا دیا کرے۔

اس طرح ہفتے میں تین چار دن انہی کا سالن تیار کیا جاتا۔ جب ہم کھانا کھا کر اٹھتے تو ڈائننگ ٹیبل پر بڑے بڑے ہڈوں کا ڈھیر پڑا ہوتا۔ میں افضل اور بودلہ ہم تینوں ہی ہم عمر بلکہ نوجوان تھے جبکہ خان صاحب ادھیڑ عمری کے دور میں داخل ہو گئے تھے۔ اس لیے چھیڑ چھاڑ اور انہیں مذاق کے ذریعے تنگ کرنے میں اُن کے خلاف ہم تینوں کا فطری اتحاد قائم ہو چکا تھا۔

ایک دن مجھے شرارت سوجھی میں نے چھٹی کے بعد ٹائپ رائٹر پر بیٹھ کر ڈائریکٹر ایجوکیشن ملتان کی طرف سے خان صاحب کے نام ایک لیٹر ٹائپ کیا۔ جس میں لکھا کہ زیر دستخطی کو معلوم ہوا ہے کہ آپ کے باس نے آپ کی اے سی آر محض ذاتی مخاصمت کی وجہ سے خراب کی ہے۔ حالاں کہ بطور اے ای او آپ اپنے فرائض منصبی احسن طریقے سے انجام دیتے رہے ہیں۔ محکمہ تعلیم کو آپ جیسے افسروں کی شدید ضرورت ہے اور محکمہ آپ کی اے سی آر سے منفی ریمارکس ختم کر کے آپ کو دوبارہ اے ای او کی پوسٹ پر تعینات کرنا چاہتا ہے۔

اس سلسلے میں آپ فلاں تاریخ کو متعلقہ ڈاکو منٹس کے ساتھ زیر دستخطی کے دفتر میں رپورٹ کریں اور اس لیٹر کے نیچے ڈائریکٹر ایجوکیشن ملتان لکھ کر پرانے خطوط سے اس کے دستخط دیکھ کر اس سے ملتی جلتی گھگھی مار دی۔ ڈائریکٹر کی طرف سے آنے والے ایک لفافے میں اس خط کو بند کر کے سکول کے چپڑاسی کی وساطت سے اسے خان صاحب تک پہنچا دیا گیا۔ خط کو پڑھنے کے بعد خان صاحب کی خوشی دیدنی تھی۔ کیوں کہ دوبارہ اے ای او بننا اُن کی سب سے بڑی خواہش تھی۔

وہ بڑی اداسی کے ساتھ اس دور کے گزرے ہوئے سنہری وقت کو یاد کیا کرتے تھے۔ وہ بتایا کرتے تھے کہ جب بھی میں کسی سکول کا دورہ کرنے جاتا تو وہاں پر بڑی پر تکلف دعوت کا اہتمام کیا جاتا اور میں اس کھانے میں دوسرے لوگوں کی شرکت کے خدشے کے پیشِ نظر وہاں پر کھانا نہیں کھایا کرتا تھا اور اس طرح یہ سارے کا سارا کھانا پیک ہو کر میرے گھر پہنچ جایا کرتا تھا۔ سکول والے میرے موٹر سائیکل کی ٹینکی بھی عموماً پٹرول سے بھروا دیا کرتے تھے۔

اس کے علاوہ بہت سی چھوٹی موٹی سہولتیں اور بھی دستیاب ہوا کرتی تھیں۔ میس کے ماہانہ بل کی ادائیگی اُن کے لیے عموماً وبال جان ہوا کرتی تھی۔ بہر حال اب وہ دوبارہ اے ای او بن جانے کے روشن امکانات سے بہت خوش دکھائی دے رہے تھے۔ دو تین دنوں کے بعد خان صاحب نے اعلان کیا کہ وہ پرسوں ساہیوال جا رہے ہیں اور اس سے اگلے دن ڈائریکٹر کی ہدایات کے مطابق اُن کے دفتر واقع ملتان میں رپورٹ کرنے جائیں گے۔ اب ہماری آنکھیں کھلیں کہ اگر خان صاحب مذکورہ خط کے ساتھ ڈائریکٹر کے پاس پہنچ جاتے ہیں تو اصلی ڈائریکٹر کو نقلی ڈائریکٹر تک پہنچنے میں زیادہ دیر نہیں لگے گی اور پھر جو ہمارا حشر ہو گا اس کا تصور بھی کیا جاسکتا ہے۔ ہم نے منظم منصوبہ بندی کے تحت خان صاحب کو کچھ دیر کے لیے اپنے رہائشی کمرے سے باہر بھیجا اور اُن کی غیر حاضری میں اُن کے بیگ کی تلاشی لے کر مذکورہ خطر ناک خط کو اپنے قبضے میں کر کے اطمینان کا سانس لیا۔

اگلے دن خان صاحب بڑے گھبرائے ہوئے پھر رہے تھے دریافت کرنے پر معلوم ہوا کہ ڈائریکٹر کی طرف سے موصول شدہ خط نہیں مل رہا ہے۔ اس وقت سکول میں چھٹی کا وقت ہوا ہی چاہتا تھا۔ میں نے خان صاحب سے کہا کہ آپ کو پریشان ہونے کی ضرورت نہیں ہے۔ کیوں کہ آج کی ڈاک سے آپ کے نام ایک اور لیٹر موصول ہوا ہے۔ جس میں آپ کو راجن پور شرقی کا اے ای او لگا دیا گیا ہے۔ اتنی دور دراز پوسٹنگ ہونے پر وہ تھوڑے سے پریشان تو ہوئے لیکن پھر بھی وہ یہاں سے جان چھوٹنے پر بڑے خوش تھے۔

بولے نکالو میرا لیٹر میں نے کہا کہ یہ اب ایسے مفتو مفتی تو نہیں ملے گا۔ پہلے سارے سٹاف کو ہلکی پھلکی سی ٹریٹ دیں۔ بادل نخواستہ انہوں نے چھٹی کے بعد سارے سٹاف کے لیے چائے اور سموسوں کا ہلکا پھلکا سا انتظام کر دیا۔ چائے سموسے کھانے کے بعد سارا سٹاف تو اپنے اپنے گھروں کو چلتا بنا جبکہ ہمارے پاس تو یہاں رہنے کے علاوہ کوئی چارا بھی نہیں تھا۔ اب خان صاحب نے اپنے اپوائنٹمنٹ لیٹر کی حوالگی کا مطالبہ دوبارہ سے شروع کر دیا۔

تھوڑی دیر ہم سنی ان سنی کرتے رہے۔ خان صاحب کا رویہ گزرتے ہوئے وقت کے ساتھ سخت تر ہوتا جا رہا تھا۔ پھر ایک وقت یہ بھی آیا کہ خان صاحب کے تینوں مجرمان اپنے اپنے بستروں میں لحافوں کے اندر دبکے پڑے تھے اور خان صاحب ہماری چارپائیوں کے گرد طوائف کرتے ہوئے ہمیں مسلسل برا بھلا کہہ رہے تھے۔ اس موقع پر افضل اور بودلہ صاحب نے میرا ساتھ چھوڑ دیا اور انہوں نے خان صاحب سے کہا کہ ان لوگوں کو تو اس خط کے بارے میں کچھ علم نہیں ہے۔

مذکورہ خط اسی کے پاس ہے اور اسی نے کہیں چھپا رکھا ہے۔ اب حالات کافی گمبھیر شکل اختیار کر چکے تھے اور حقیقت حال بتا دینے کے علاوہ کوئی دوسرا راستہ باقی نہیں تھا۔ میں نے اسی طرح لحاف میں دبکے ہوئے ہی خان صاحب کو ساری صورتِ حال واضح کر دی اور ساتھ ہی یہ بھی کہا کہ آپ نے جو آج دعوت کی ہے ان شاء اللہ اس نیکی کے ثواب کے عوض آپ کی اے ای او کے طور پر پوسٹنگ بہت جلد ہو جائے گی۔ اس کے بعد خان صاحب نے جس مسجع و مقفیٰ انداز میں ہم سب کی گوشمالی کی وہ ناقابل ِ بیان ہے۔ لیکن ہماری کہی ہوئی بات بھی درویش کی بات ثابت ہوئی اور تقریباً دو سال بعد خان صاحب کی اے ای او کے طور پر ساہیوال میں پوسٹنگ ہو گئی۔

Facebook Comments HS

One thought on “جعلی ڈائریکٹر کی طرف سے جعلی تقرر نامہ

  • 28/06/2025 at 11:52 صبح
    Permalink

    بے چارے

Comments are closed.