سوات حادثہ: میں غریب الدیار میرا کیا

ذرا تصور کریں۔
آپ دریا کی طوفانوں کے بیچ ایک مٹی کے ٹیلے پہ کھڑے ہیں۔ ساتھ آپ کی فیملی، آپ کے بچے بھی ہیں۔ دریا کی موجیں دھاڑ رہی ہیں، بچے رو رہے ہیں۔ آپ بے بسی سے کبھی بچوں کی طرف دیکھتے ہیں، کبھی دریا کے بے رحم موجوں کی طرف۔
امید زندہ ہے کہ شاید کوئی مدد آ جائے، شاید کوئی بچانے آ جائے۔ ہم کسی جنگل میں تو نہیں، انسانوں کی اک بستی میں رہتے ہیں۔ اس بستی کی ہر ہر چیز پہ ٹیکس دیتے ہیں، کھانے پینے سے لے کر پہننے اوڑھنے تک۔ کیا بستی کے رکھوالے ہمیں بچانے کی کوشش نہیں کر سکتے۔
وقت گزرتا جا رہا ہے، دریا کا پانی بلند ہوتا جا رہا ہے۔ ٹیلے پہ جگہ کم ہوتی جا رہی ہے۔ دل کی دھڑکنیں بے ترتیب ہو رہی ہیں، بے چینی بڑھ رہی ہے۔ لیکن کوئی مدد کو نہیں آ رہا۔
منٹ گزرے، گھنٹہ گزرا، گھنٹے سے بھی زائد وقت گزر گیا۔ ٹیلے پہ جگہ کم ہوتی جا رہی ہے، بچنے کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی، خدا سے دعائیں مانگ رہے ہیں لیکن دریا کا زور بڑھتا جا رہا ہے، پانی بلند ہوتا جا رہا ہے۔
اور پھر دریا پہلے فرد کو نگلتا ہے، آپ اپنے سامنے اپنے گھر کے فرد کو پانی میں ڈوبتا دیکھ رہے ہیں۔ وہ پانی میں ہاتھ پاؤں مارتا ڈوب رہا ہے، مر رہا ہے اور آپ کچھ نہیں کر سکتے۔
یا خدا کوئی مدد بھیج دے، یا خدا کہیں سے کوئی تو میری مدد کو آئے۔
لیکن کوئی نہیں آتا۔ پھر دوسرا فرد دریا کی موجوں کی نذر ہوتا ہے، پھر تیسرا۔ دل کٹ رہا ہے، آنکھوں سے آنسو بہہ رہے ہیں، آپ کے اپنے مر رہے ہیں اور آپ بے بسی سے دیکھتے رہنے کے سوا کچھ نہیں کر سکتے۔ آپ کے بچے رو رہے ہیں، ڈر کے مارے کانپ رہے ہیں لیکن آپ کچھ نہیں کر سکتے۔ دور کنارے پہ کھڑے لوگ امدادی ٹیموں کو فون کر رہے ہیں، ریسکیو والوں کو بلا رہے ہیں لیکن کوئی نہیں آ رہا اور آپ کے اپنوں کو دریا کھائے جا رہا ہے۔
چوتھا فرد، پانچواں فرد، چھٹا فرد سب ڈوبتے جا رہے ہیں۔ کوئی حکومتی ادارہ حرکت میں نہیں آ رہا، کوئی غیبی مدد نہیں آ رہی۔ گھر کے بچے کھچے لوگوں کو بھی پانی کھینچ رہا ہے۔
ذرا تصور کریں۔ اس تکلیف کا، اس کرب کا جس سے وہ سب گزرے، اس انتظار کی تکلیف کا جو ان سب نے دریا کی لہروں میں ڈوبنے سے پہلے سہی۔ ذرا تصور کر لیں کہ وہ سب کس اذیت سے گزرے۔ پھر پکڑیں اس حکومت کو گریبان سے کہ ایسے حادثوں سے بچنے کے لیے کوئی انتظامات کیوں نہیں کیے جاتے۔ امداد کے لیے بار بار بلانے کے باوجود فوری طور پہ کوئی بچانے کی کوشش کیوں نہیں کی جاتی، ریسکیو ٹیمیں حرکت میں آنے میں اتنا وقت کیوں لیتی ہیں۔ ان کا تو کام ہی ایمرجنسی میں فوری طور پہ مدد کے لیے بھاگنا ہے۔
اگر یہ تصور کر سکیں تو پھر اس بیچارے خاندان پہ تیر چلانا بند کر دیں کہ وہ دریا کے پاس گیا کیوں، اس نے حفاظتی اقدامات کیوں نہیں اختیار کیے۔ یقیناً ان سے غلطی ہوئی، بیوقوفی ہوئی لیکن کیا یہ وقت ان پہ انگلی اٹھانے کا ہے؟ کیا ان کی غلطی کی اتنی بڑی سزا بنتی ہے؟
میدانی علاقوں میں رہنے والے کہاں جانتے ہوتے ہیں کہ پہاڑی دریاؤں میں کون سی احتیاطی تدابیر ضروری ہیں۔ ان بیچاروں کو قصوروار قرار دینے کے بجائے حکومت کی نا اہلی کا رونا روئیں، ان بیچاروں کا تو اتنا نقصان ہو چکا کہ جس کا ازالہ ہی نہیں ہو سکتا۔ وہ تو اپنی غلطی کا خمیازہ بھگت چکے ہیں۔ حکومت کی غلطی کا خمیازہ کون بھگتے گا؟ حکومت کی نا اہلی کی سزا کسے ملے گی؟
کسی کو نہیں کیونکہ سارا مسئلہ ترجیحات کا ہے۔ ہمارے وطن میں انسانی جان کبھی ترجیحات میں رہی ہی نہیں۔ اس لیے دس پندرہ کیا درجنوں لوگ بھی مر جائیں تو کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔
یہاں بس نامور شخصیات کو ترجیح دی جاتی ہے، ان کی پوجا کی جاتی ہے، ان کو ملک کے خزانوں پہ اختیار دیا جاتا ہے۔ عام آدمی اپنے گھر والوں کے ساتھ، بچوں کے ساتھ دریائی طوفان کے بیچ میں دو گھنٹے بے یارو مددگار کھڑا رہے تو بھی کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا اور وہیں سب ڈوب مریں تو بھی کسی کے کان پہ جوں تک نہیں رینگتی۔
ایسا حادثہ نہ تو پہلی بار ہوا ہے اور نہ آخری بار۔ اس میں کچھ بھی نیا نہیں، یہ سب تسلسل سے بار بار ہو رہا ہے، لوگ ہر سال ایسے ہی حادثات میں مر جاتے ہیں۔ کوہستان میں چار بھائیوں کا ایسا ہی حادثہ کون سا پرانی بات ہے۔ اُس حادثے کے بعد کسی کا کوئی بیان آیا تھا شرمندگی سے بھرا؟
اِس حادثے کے بعد بھی نہیں آئے گا۔ ہم عام لوگ بس گنتی کا عدد ہیں، دو چار کم زیادہ ہو بھی جائیں تو ملک کے ٹھیکیداروں کے لیے اس بات کی کوئی اہمیت ہی نہیں۔ کل پنڈی میں چلتی گاڑی پہ کھمبے کے گرنے سے جو دو لوگ مر گئے ان کے لیے کوئی تحقیق ہوئی کیا؟ وہ کھمبے کس نے لگائے تھے اور ان کی مضبوطی یا عام انسان کو ان کے گرنے سے ہونے والے نقصان سے بچانا کس کا کام تھا؟
ہمارے وطن میں انسانی جان کی وقعت کیڑے مکوڑوں سے بڑھ کر ہے ہی نہیں۔ جب چاہے ان پہ پاؤں رکھ کر انھیں کچل دیا جائے۔ دہشت گردی میں مارے جائیں، ٹارگٹ کلنگ ہو جائے، سیلاب میں بہ جائیں یا دریا میں ڈوب مریں، عہدوں والے مار دیں، کوئی اٹھا کر لے جائے یا کسی امیر صاحب کے سامنے نظر اٹھا کر بات ہی کر لیں، ان کا مقدر ذلت اور موت ہی ہے اور دکھ یہ ہے کہ ایسا ہونا کوئی انہونی بھی نہیں، معمول کی بات ہے۔ یہاں ہمارے مرنے جینے سے کسی کو کوئی فرق نہیں پڑتا۔ اپنی جان بچانی ہے تو خود بچائیے، اپنی جان جلانی ہے تو خود جلایے۔
رسا چغتائی نے لکھا تھا:
کب نہ جانے ابل پڑے چشمہ
کب یہ صحرا مجھے بہا لے جائے
میں غریب الدیار میرا کیا
موج لے جائے یا ہوا لے جائے


ایک احمقانہ تحریر۔
جس میں واقعات سب درست ہیں مگر ان سے نمودار ہونے والے تجزیہ غلط ہیں۔
یہاں قصور نہ ریاست کا ہے نہ صوبائی حکومت کا اور نہ مقامی حکومت کا۔
–
اگر آپ تھوڑی عقل استعمال کریں اور پہلے تو طے کریں کہ کس ادارے نے ان کی مدد کرنی تھی ؟ اس کا فاصلہ ان لوگوں سے کتنا تھا۔ اس وقت کیا ٹائم تھا۔ اس ادارے لوگوں کے پاس کیا سہولتیں موجود تھیں۔ یادرہے یہ قدرے ٓترقی یافتہ شہر نہیں تھا جہاں حادثہ ہوا۔
–
مری میں جب درجنوں لوگ سڑک پر سردی سے دوران برفباری مرے تو آپ کے خیال میں کس کا زیادہ قصور تھا؟
–
میں نے بھی اس علاقے میں سیر کو جانا تھا لیکن اگلے چند دن کے موسم پر نظر ڈالی اور دریا میں پانی کا اندازہ اور پہاڑی علاقوں میں لینڈ سلائیڈنگ کا حساب لگایا تو عقل نے جذبات پر پردہ ڈال دیا۔
–
صرف دریا میں طغیانی ہی نہیں، پھسلتی سڑک اور سائیڈ سے کٹی سڑک کا اندازہ مسافر نے لگانا ہے نا کہ کسی ادارے نے۔ ایک پل اگر ٹوٹا ہوا ہے۔ ریلوے لائن پر پھاٹک بند ہے اور ٹرین آنے والی ۔۔۔ ہم نے کتنی بات دیکھا کہ اس کے باوجود لوگ اپنی زندگی ایسے پل یا پھاٹک پار کرنے میں گنوا دیتے ہیں۔ یہ صرف تعلیم اور شعور کی کمی ہے۔
–
ابھی لینڈ سلئیڈنگ کی تو بات ہی نہیں ہوئی جس کے دوران 24 گھنٹے سڑک پر خوار ہونا اور معطل ٹریفک میں عین آپ کے اوپر پہاڑی تودہ گرنا ایک الگ موت کا ذریعہ ہے۔ آپ کے خیال میں یہ کس کا قصور ہوگا ؟
–
لوگوں کی ایک بڑی تعداد کو پہاڑی علاقوں میں ڈرائیونگ کے مسائل اور مشکلات کا علم نہیں ہوتا بالخصوص بارش اور برف باری میں۔ کس کا قصور ہے۔
–
یہاں شہروں میں پوری پوری عمارتیں جل کر خاک ہوجاتی یا خراب تعمیرات سے گر کر تباہ ہوجاتی ہیں۔ کیا کسی ادارے کے لوگ آکر لوگوں کو بچاتے ہیں۔ جی نہیں۔ لوگوں کی اکثریت اپنی مدد آپ کے تحت جان بچاتی ہے۔ ادارے تو صرف آگ بجھانے یا ملبے سے کسی کو نکالنے کے لئے آتے ہیں۔
–
ان ہی علاقوں میں کوئی بچہ کسی بور یا کنویں میں گرجائے اسے نکالنے کے لئے 24 گھنٹے میں ادارے کے لوگ نہیں پہنچ سکتے تو طغیانی میں جہاں محض دس سے پندرہ منٹ ہی بچنے کے لئے ہوتے ہیں۔ کوئی کیسے آکر ایسے لوگوں کو بچا سکتا ہے
–
بعض اوقات صوبائی اور مقامی ادارے تو موجود ہوتے ہیں جو اصل میں نہ صرف سہولتوں گاڑیوں اور اوزاروں کی کمی کا شکار ہوتے ہیں بلکہ تربیت یافتہ عملہ ہی نہیں ہوتا۔ سفارش پر بس لوگ بھرتی ہوتے ہیں۔
–
یادرہے ہر جگہ فوجی نہیں ہوتے تو اپنی جان کو مشکل میں ڈال کر دوسروں کی جان بچائیں۔
–
اگر حضرت علی کرم اللہ وجہہ کی بات ہم یاد رکھیں کہ بازار میں جاکر اونٹ کو پہلے کھونٹنے سے باندھنا ہوگا اور پھر قدرت پر توکل کرنا ہوگا۔ یہی فلسفہ ہمیں اپنی زندگیوں میں استعمال کرنا چاہئے۔ ایک خاندان ٹرین کے ٹریک پر چل رہا ہے کانوں میں گانے لگے ہوئے ہیں۔ اور جب یہ سب ٹرین سے کچل کر مر جاتے ہیں تب بھی آپ جیسے لوگ یہ ذمہ داری "نا اہل اداروں” پر ڈال دیتے ہیں۔
بھائی پہلے اپنا اونٹ تو کھونٹے سے باندھ لو۔
–
میں نے سینکروں لوگ دیکھے ہیں جن کے پاس تیل نہیں ہوتا۔ برفباری یا سردی کے لئے مناسنٓب کپڑے نہیں ہوتے۔ گاڑی کے ٹائر کمزور ہوتے ہیں۔ بریک خراب ہوتے ہیں۔ پہاڑ پر گاڑی آٹومیٹک گئیر میں ڈالی ہوئی ہوتی ہے۔ اور پھر قصور اداروں کا ۔۔۔ جن کا نام بھی کوئی لکھنے والا نہیں جانتا ۔
–
آپ کے خیال میں فائر بریگیڈ اسٹیشن کسی بھی شہر یا گاؤں میں کسی بھی جگہ سے کتنی دور ہوتے ہیں۔
–
کراچی میں جائیں تو سمندر پر 144 لگاکر پولیس فارغ نہیں ہوجاتی بلکہ لوگوں کو آگاہ بھی کرتی ہے کہ سمندر میں نہ جائیں۔ یہاں المیہ یہ ہے کہ ہوتل اور ڈھابے والے سیاحوں کو اکسا تے ہیں کہ فلاں جگہ تک پانی میں پیدل جائیں اور چارپائی پر بیٹھ کر پاؤں
پانی مٰیں ڈال کر کھانا کھائیں۔
–
احمد پور شرقیہ جیسے حادثات ہمارے معاشرتی رویوں کی درست عکاسی کرتا ہے جہاں سینکڑوں لوگ آئل ٹینکر سے رستے تیل کو لوٹنے میں اپنی جان اور گاڑیاں گنوا بیٹھے تھے۔ اور یہ پاکستان میں ایک نہیں کئی بار ہوچکا۔ اور محض پاکستان ہی نہیں متعدد افریقی ممالک میں بھی یہی ہوچکا۔
–
سوال یہ ہے کہ کیا مجھے عقل نہیں کہ آئل ٹینکر میں کبھی بھی آگ لگ سکتی ہے پھر بھی محض چند سو روپوں کے تیل کے لئے میں اپن جان کو خطرے میں ڈال رہا ہوں۔
–
ہمیں جس واقعے سے سبق سیکھنا تھا وہ ہم نے آج تک جانا ہی نہیں۔
سال پہلے ایک جاپانی طیارہ لینڈنگ کے وقت جل کر مکمل تباہ ہوگیا۔ اس حادثے میں تین سو مسافروں میں سے کوئی شخص ہلاک تو کجا شدید زخمی بھی نہیں ہوا کیوں کہ یہ سب جاپانی تھے۔ اور ان کو جو جو کہا گیا اس پر انہوں نے عمل کیا اور محض صرف ایک منٹ سے بھی کم عرصے میں سارے مسافر بحفاظت جہاز سے باہر آگئے۔
اس میں بہت بڑا کردار ان ایئرہوسٹس کا تو تھا جنہوں نے لوگوں کی مدد کی مگر اصل کریڈٹ اس قوم کو جاتا ہے جس نے سامان اٹھانے اور راستہ روکنے کی بجائے اپنی اور دوسروں کی جان بچانا زیادہ ضروری سمجھا۔
–
تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمیں شدید بارش، زلزلہ، سیلاب، طغیانی، آگ لگنے، جہاز یا ٹرین کی تباہی یا بلڈنگ گرنے پر کیا کرنا چاہئے ۔ ہم صفر معلومات رکھتے ہیں۔
کسی زخمی کو ہنگامی طبی امداد کیسے دینی ہی ہم یو ٹیوب ہی کھوتے رہیں گے۔کیا کسی کے علم میں ہے کہ پہاڑی علاقوں میں جاتے وقت آپ کے پاس مظبوط ترین کم از کم سو سے دو سوفٹ لمبا رسہ ہونا چاہئے جس کے ذریعے آپ متعدد خطروں سے نبٹ سکیں یا کسی اور کی مدد کرسکیں۔اگر وہاں موجود لوگوں کی گاڑیوں میں یہ رسے اور ہک موجود ہوتے تو بہ آسانی ان لوگوں کی جان بچائی جاسکتی تھی۔
تلخ حقیقت یہ بھی ہے کہ ہمیں شدید بارش، زلزلہ، سیلاب، طغیانی، آگ لگنے، جہاز یا ٹرین کی تباہی یا بلڈنگ گرنے پر کیا کرنا چاہئے ۔ ہم صفر معلومات رکھتے ہیں۔
کسی زخمی کو ہنگامی طبی امداد کیسے دینی ہی ہم یو ٹیوب ہی کھوتے رہیں گے۔کیا کسی کے علم میں ہے کہ پہاڑی علاقوں میں جاتے وقت آپ کے پاس مظبوط ترین کم از کم سو سے دو سوفٹ لمبا رسہ ہونا چاہئے جس کے ذریعے آپ متعدد خطروں سے نبٹ سکیں یا کسی اور کی مدد کرسکیں۔اگر وہاں موجود لوگوں کی گاڑیوں میں یہ رسے اور ہک موجود ہوتے تو بہ آسانی ان لوگوں کی جان بچائی جاسکتی تھی۔
–
بہت کم لوگوں کو یہ یاد ہوگا کہ ہر سال سینکڑوں (جی سینکڑوں) لوگ پنجاب، بلوچستان، گلگت اور سابقہ فاٹا اور سوات جیسے علاقوں میں اس وجہ سے مارے جاتے ہیں کیوں کہ وہ دریا کو گاڑی میں بیٹھ کر عبور کررہے ہوتے ہیں اور پیچھے سے اتنا زیادہ پانی آجاتا ہے جس سے بچنا مشکل ہوتا ہے۔ بلکہ زیادہ تر تو لوگ ایسی حالت میں فریز ہوجاتے ہیں۔ یہاں قصور کس کا ہوتا ہے ؟