معقول اور مقبول قیادتوں کا فرق


ایک وقت ایسا بھی گزرا ہے کہ سیاسی و سماجی علوم کے ماہرین جو لامحالہ طور پر تاریخی شعور کے حامل بھی تھے، خبردار کرتے ہوئے ملتے کہ جہاں جنگیں بنی نوع انسان کو انگنت نقصانات سے دوچار کرتی ہیں وہاں ایسے انسانی گروہوں کو پیدا کرنے اور پروان چڑھانے کا کام بھی کرتی ہیں، جنہیں بعد میں ”قیادت“ کا نام دیا جاتا ہے۔ اس میں شک نہیں کہ دنیا کے تقریباً تمام پُرآشوب ادوار کی سب سے نمایاں پہچان اُس کی پیدا کردہ قیادتیں ہیں اور اُن قیادتوں کے کارہائے نمایاں ہیں جو تاریخ کی چادر بُنتے رہتے ہیں۔ اگر کینوس کو تھوڑا محدود اور مخصوص کر لیا جائے تو ہمارے سامنے موجود دنیا کے نمایاں ترین حصوں پر آشوبی ادوار کی پیداوار قیادتوں کا کردار بہت نمایاں ہے۔ زیادہ پیچھے جانے کی ضرورت نہیں صرف تین دہائیوں پر اُچٹتی نظر ڈالی جائے تو امریکہ، نمایاں یورپی ممالک، سینٹرل ایشیاء، سینٹرل افریقہ، خلیج اور برصغیر کے احاطے میں آنے والے ممالک میں میسر قیادتوں کو تھوڑا سا کُھرچنے سے محسوس ہوتا ہے کہ اِن قیادتوں کے اصل اجزائے ترکیبی کیا ہیں۔

لکیر زدہ دورانیے میں امریکہ میں بش خانوادہ اپنے کارہائے نمایاں کے ساتھ سرفہرست ہے، یورپی ممالک میں ٹونی بلئیر کے سیاسی سلسلہ نسب کے جانشین، برلسکونی سٹائل کے حامل لیڈر، سرکوزی جیسے کردار نمایاں نظر آتے ہیں تو سینٹرل افریقہ میں تختہ اُلٹ کر تخت نشین ہونے والوں کی ایک لمبی لائن ملتی ہے۔ خلیج کے قائدانہ تھیٹر پر صدام، قذافی، یاسر عرفات اور حسنی مبارک وغیرہ کا چل چلاؤ اور اُن کی جگہ لینے والے انگنت ہنگامی لیڈروں کی فوج نظر آتی ہے جو پُرآشوب دورانیے میں اپنا اپنا کردار نبھاتے اور چلتے بنتے ہیں اور عقب میں محمود عباس، محمد بن سلمان اور اِن جیسے لیڈروں کے لیے جگہ خالی کر دیتے ہیں۔ پڑوس میں نیتن یاہو جیسے زہر آلود لوگ اہود براک اور کئی دوسرے قابل برداشت لوگوں کو مات دے کر خونی سٹیج پر ناچتے نظر آنا شروع ہو جاتے ہیں۔ تھوڑے بہت رد و بدل کے ساتھ برصغیر کے احاطے میں آنے والے ممالک میں بھی ایسی ہی طرز کے لوگ قیادتوں کے اہل ٹھہرتے ہیں اور مشرف، مودی، حسینہ واجد وغیرہ کہلائے جاتے ہیں۔ بعد میں آنے والے اگرچہ اُن کے مزاروں پر تقدس کی چادریں چڑھاتے ہوئے ملتے ہیں لیکن اُن کے پھیلائے ہوئے اثرات اور چھوڑی ہوئی باقیات کو ڈھانپ دینے کی اہلیت نہیں رکھتے۔

ایک خاص احتیاط اور تقدس کے دھاگوں کے ساتھ بُنی ہوئی ایرانی قیادت کی چادر کئی دہائیوں سے ایرانی عوام کے مصائب اور اُن پر روا رکھی جانے والی سماجی زیادتیوں کو ڈھانپ دینے میں کافی حد تک کامیابی حاصل کرچکی ہے۔ بعض اوقات تو ایسے محسوس ہوتا ہے کہ ایرانی عوام اس چادر کے نیچے خوش ہونے کی بھرپور اداکاری کرنا سیکھ چکے ہیں اور انقلاب کے بعد ایران سے باہر دھکیل دیے گئے لوگوں کی نسلیں اب ایران کی طرف مراجعت کی خواہش نہیں رکھتیں۔ جب کبھی یورپی قیادتوں کے ہاں رجیم چینج کی اُبکائی جنم لیتی ہے تو اُس کو منطقی انجام تک پہنچانا اب ممکن نہیں رہا، رہی سہی کسر اسرائیل ایران جنگ میں مختلف انواع کے ایرانی میزائلوں نے ختم کردی ہے، جن کی تعریف میں مسلم دنیا کے پُرجوش نوجوان دن رات ایک کیے ہوئے ہیں۔

بظاہر تو ہر طرف امن نظر آنے گا ہے اور میزائلوں کی پروازیں رک چکی ہیں لیکن خطے میں ایک نیا احساس جنم لینے لگا ہے، ایران کے مدمقابل عرب ممالک میں عدم تحفظ اور خوف کی لہر پھوٹنے لگی ہے جس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ خود کو ایران کی طرز پر مسلح کرو اور قوم پرستی کے ولولے کو بوقت ضرورت کام میں لانے کے لیے ذخیرہ کر لو۔

اس کی ایک اور مثال پاک بھارت حالیہ تنازعے کے عوامی اثرات ہیں جو دونوں ممالک میں یکساں نظر آتے ہیں اور عوامی سطح پر فتح کے تصورات نے ایسا ماحول پیدا کر دیا ہے کہ مقامی قیادتوں کی نااہلیاں اور جغرافیائی طور پر نمایاں نظر آنے والے کئی ہیجانات بظاہر زمین دوز ہوچکے ہیں۔ جب اس قسم کی فضا پیدا ہو چکی ہو تو ہوش مند قیادتیں اپنے عوام کی فلاح اور ریاستی ڈھانچوں میں بہتری کے لیے اقدامات اُٹھاتی ہیں، لیکن اس کے لیے عوامی ذہن کی بیداری اور شعوری سطح پر عوامی نگرانی ناگزیر شرائط کا سا درجہ رکھتی ہیں، دیکھنا یہ ہے کہ ترقی پذیر ممالک اور خاص طور پر پاکستان بھارت میں عوام کو اس قسم کی نگرانی کی اجازت دینے کا کوئی رواج ہے؟ کم از کم ہمارے ہاں ایسا کوئی رواج ابھی تک نہیں پایا جاتا۔ بھارت میں کہیں کہیں استثنا نظر آتا ہے اور عام آدمی پارٹی جیسی کچھ مثالیں ضرور مل جاتی ہیں، لیکن ہمارے ہاں تحریک لبیک یا اس نوع کی سخت گیر جماعتوں یا گروہوں کی بوقت ”ضرورت“ ترقی نظر آتی ہے، دوسری سیاسی پارٹیاں شکست و ریخت کا شکار نظر آتی ہیں یا اقتدار کے حصول کے لیے مستند قرار دیے گئے طریقوں کو پالش کرتی رہتی ہیں۔ اس سے زیادہ کوئی تبدیلی یا خوش آئند تصور ابھی ہمارے مقدر میں نہیں لکھا گیا۔ اس صورت میں یہ امکان مزید مخدوش ہوجاتا ہے کہ ناگزیر قیادتیں کس طرح پیدا ہوں گی اور پروان چڑھیں گی؟ ضرورت ہے لیکن امکانات محدود ہیں کیوں کہ خدشات اور لالچ کے بیچوں بیچ پیدا ہونے والی سوچ وقت کی مناسبت سے ناگزیر قیادت کے انڈوں کو سینے کے لیے مناسب ماحول پیدا نہیں ہونے دیتی اور محض بانجھ قیادتیں ہی میسر رہتی ہیں جو طبعی نقاہت کے بعد اگلی نسل کو کھینچ کر اوپر لے آتی ہیں۔ ہمارے ساتھ کم از کم یہی ہوا ہے اور ایسا محسوس ہوتا ہے کہ میسر ماحول میں دہائیوں تک یہی چلن رہے گا۔ بھارت کے ساتھ ہماری پہلی جنگ نے ہمیں قومی سطح پر قیادت فراہم کی جس میں مزید استحکام انیس سو اکہتر کی جنگ لے کر آئی لیکن یہ قیادتیں ایسے اُلجھاؤ کا شکار ہوئیں کہ حاصل جمع مایوسی تھی۔ بعد میں چھوٹی موٹی سرحدی جھڑپوں اور نظریاتی بیانیے نے فوجی آمریتوں کو جی بھر کر استحکام بخشا لیکن دوسری طرف ریاست مستحکم نہ رہی اور نہ عوامی سطح پر بیداری اور شعور کے پروان چڑھنے کے لیے کوئی آکسیجن موجود رہی۔

معمولی سی مالیاتی شد بد کے حامل افراد بھی جانتے ہیں کہ پاکستان میں تقریباً نصف آبادی غربت کی لکیر سے نیچے سِرک چکی ہے اور بیروزگاری کے شکار نوجوان گلی کوچوں میں مسلح ڈکیتیوں میں مصروف ہونے لگے ہیں۔ آئی ایم ایف کے ہاتھوں کَس کر باندھی گئی معیشت اور حکومت سالانہ مالیاتی بجٹ پیش کرتے ہوئے محض چند سو اسمبلی ارکان کی تنخواہیں مراعات وغیرہ بڑھا سکی ہے اس سے زیادہ کسی دوسرے کو سہولت دینے کی اس کو اجازت نہ تھی۔ دفاعی بجٹ بڑھانے کے لیے تعلیمی اور طبی اخراجات کو کم کیا گیا ہے، شاید اس کی وجہ یہ ہے کہ پہلے سے تعلیم حاصل کر چکے افراد کون سا تیر مار رہے ہیں اور مومن اگر بے تیغ لڑ سکتا ہے تو صحت کی معمولی خرابی بھی اس کے جنگجویانہ عزم کو کمزور نہیں کر سکتی۔ ماضی گواہ ہے کہ صائب اور دوراندیش قیادتیں ہی اس خرابہ نما دنیا میں بسے ان گنت انسانوں کی فلاح اور بہتری کی ضامن رہی ہیں، حال جیسا ہے سب کے سامنے ہے اور مستقبل کا اندازہ آپ خود لگا سکتے ہیں۔

Facebook Comments HS