کالم پاکستانی، ہندوستانی شہریوں کے نام
نفرت سے کیا ملا ہے؟ نفرت سے کیا ملے گا؟ کیا تم نہیں جانتے، مسائل صرف بات چیت سے حل ہوتے ہیں؟ جنگوں سے صرف نقصان ہوتا ہے، جانی بھی اور مالی بھی۔ کبھی اُس کا زیادہ، کبھی اُس کا زیادہ۔ تم دونوں مل کر تماشا بنے ہوئے ہو اور دنیا تمہارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ اس خطے میں امن ہو گا تو ہی دونوں طرف ترقی ہو گی۔ کوئی بھی اکیلا بڑی ترقی نہیں کر سکے گا۔
آج تم جن علاقوں، دیہات اور شہروں کو بارود کا نشانہ بنا رہے ہو، کیا وہیں کل ہم تم مل کر نہیں رہتے تھے؟ اور کون جانتا ہے، تاریخ کی پھر کسی نئی کروٹ پر ہمیں دوبارہ سے وہیں مل جل کر رہنا پڑے۔ جیسا کہ ہمیں کتنے ہی بیرونی ممالک میں ایک جگہ رہنا پڑتا ہے۔ جہاں ہم ساٹھ ساٹھ اور ستر ستر برس سے مل جل کر رہائش پذیر ہیں۔ جہاں ہم اگر اب چاہیں بھی تو ایک دوسرے کو اُس انداز سے نفرت کا نشانہ نہیں بنا سکتے، جس طور سے یہ کام ہم اپنے اپنے ملکوں میں رہتے ہوئے انجام دیتے ہیں۔
ذرا نیک دلی سے محسوس کر کے دیکھو، انیس سو سینتالیس کے گھاؤ ابھی تک نہیں بھرے ہیں۔ مذہب کے ہاتھوں زمین اور انسانوں کی تقسیم۔ پھر انسانی جسموں کی تقسیم اور بے حرمتی۔ جسموں کی ایسی تقسیم جس نے پنجاب اور بنگال کے دریا سرخ کر دیے تھے۔ خون کی یہ ہولی زیادہ تر اُن جسموں سے کھیلی گئی، جن کی بڑی اکثریت یہ بھی نہیں جانتی تھی کہ یہ سب ہو کیوں رہا ہے؟ یہ جہاں اب پاکستان بن گیا ہے، وہاں تو پہلے ہندوستان تھا۔ وہ ہندوستان کہاں گیا؟ خون خرابے اور قتل و غارت کے سفاک ہجوم کا ہاتھ روکنے کی ہمت کسی میں نہیں تھی۔ اگر کوئی ایسی آواز اُٹھانے کی کوشش بھی کرتا تو وہی ہجوم اُسے نشانِ عبرت بنا دیتا۔
ذرا یاد کر کے دیکھو، اس خوفناک، ہولناک خون خرابے سے بچنے کا انتظام نہ تمہارے لیڈروں نے کیا اور نہ ہی ہمارے لیڈروں نے۔ ہمارے اور تمہارے اُس وقت کے لیڈروں کو پوری دنیا بڑے لیڈر قرار دیتی تھی۔ مگر یہ عظیم لیڈر اتنا بھی نہ جان سکے کہ زمین کی اس تقسیم کے ساتھ جسم بھی تقسیم ہوں گے۔ عزتیں بھی لٹیں گی اور حرمتیں بھی پامال ہوں گی۔ اگر پہلے سے کوئی حفاظتی بندوبست نہ کیا گیا تو گھر گھر اور محلے محلے میں خون بہے گا۔ اگر وہ اتنے عظیم تھے تو کیا وہ دور اندیشی اور مستقبل بینی سے عاری تھے۔ کیوں وہ خون کی ان ندیوں کے بہنے سے پہلے کوئی احتیاطی تدابیر پر عمل پیرا نہ ہو سکے؟ ہم اُن کی عظمت کے کتنے ہی گیت گا لیں مگر اُن سے یہ سادہ سا سوال اپنی جگہ پوری قوت سے قائم رہے گا۔
جب نومبر انیس سو اناسی کو میں مغربی برلن پہنچا (کیوں اور کیسے؟ یہ الگ کہانی ہے اور کہیں دوسری جگہ اس کا ذکر بھی آئے گا) تو یہاں مستقل سکونت پذیر ہندوستانیوں کی تعداد ایسے پاکستانیوں کی نسبت کہیں زیادہ تھی۔ پاکستانیوں کی اکثریت، سیاسی پناہ کے متلاشیوں پر مشتمل تھی۔ البتہ قلیل تعداد میں کچھ طالب علم ضرور موجود تھے۔ ہندوستان سے صرف سکھ کمیونٹی کے کچھ لوگ تھے جنہوں نے سیاسی پناہ کے لئے درخواستیں دے رکھی تھیں۔
بچپن میں تو ہم نے صرف یہی سنا تھا کہ مشرقی پنجاب سے ہجرت کرنے والے ہمارے بڑوں پر تمام مظالم سکھوں نے ڈھائے تھے۔ جب ہوش سنبھالا اور غیر نصابی علوم تک رسائی ہوئی، تو ہی ہم پر یہ حقیقت آشکار ہوئی کہ مذکورہ بربریت دونوں طرف سے ہوئی تھی۔ لیکن ایسا کیوں ہوا تھا؟ اس کا ملال باقی تھا۔
عجیب بات یہ ہوئی کہ برلن میں آتے ہی جتنے ہندوستانی سکھوں سے واسطہ پڑا وہ سب نہایت معقول لوگ ثابت ہوئے اور بہت جلد اُن سے دوستیاں بھی ہو گئیں۔ بہت اچھی دوستیاں۔ ہمارے درمیان کبھی بھی تقسیم ہند کے وقت ہونے والی خونریزی پر بات نہیں ہوتی تھی۔ دراصل ہم دونوں اُن واقعات پر رنجیدہ بھی تھے اور شرمندہ بھی۔
ایسا صرف ہمارے ساتھ نہیں تھا۔ دوسرے ملکوں میں بھی یہی حالات تھے۔ برطانیہ میں رہنے والے ہندوستانی اور پاکستانی تو تقسیم ہند کے واقعات کو جیسے بھول ہی چکے تھے۔ خود دونوں ممالک کے عوام ایک دوسرے سے ملنے جلنے اور ایک دوسرے کی طرف آنے جانے کے خواہاں تھے۔ اس کا ایک ثبوت وزیرِ اعظم واجپائی کی پاکستان آمد اور وزیرِ اعظم نواز شریف کے ساتھ مل کر دوستی کی بنیاد رکھنے کی کوشش تھی۔ (کاش کارگل نہیں ہوا ہوتا) ۔
اس سے پہلے بھی تو دونوں ممالک کے درمیان دو بڑی جنگیں ہو چکی تھیں۔ پھر بھی عوام ملنے جلنے اور ایک دوسرے کی طرف آنے جانے کے خواہشمند تھے۔ سوال پیدا ہوتا ہے کہ چھے سے دس مئی دو ہزار پچیس کے درمیان ہونے والی فضائی جھڑپوں کے بعد ایسا کیا ہو گیا ہے کہ دونوں ممالک کے عوام بھی ایک دوسرے کے دشمن بنے نظر رہے ہیں۔ دلوں میں خفگی ہے، جو کہ اب چہروں سے بھی عیاں ہے۔ یہاں جرمنی میں ہم بہت ساری سماجی اور ثقافتی تقریبات میں اچھے دوستوں کی طرح مل بیٹھتے تھے۔ فنکار، دونوں میں سے کسی ملک سے بھی آتے، اُن کے پروگرام دیکھنے ہندوستانی، پاکستانی، بغیر کسی تفریق کے موجود ہوتے تھے۔
جیسا کہ اوپر بھی تحریر ہو چکا ہے، جنگ میں نقصان دونوں اطراف کا ہوتا ہے، کسی کا زیادہ اور کسی کا نسبتاً کم۔ جس کا نقصان زیادہ ہوتا ہے، وہ غصے میں آ جاتا اور نئے سرے سے اگلی جنگ کی تیاری شروع کر دیتا ہے۔ جس کا نقصان کم ہوتا ہے، وہ خوشیاں منانے لگتا ہے۔ بے شک نئے حملے سے بچنے کی تیاری بھی اُس کے اگلے پروگرام کا حصہ ہوتی ہے۔ اور جو بھی ہو لیکن ایک بات طے ہے کہ دونوں طرف بھوک افلاس اور بے روزگاری بڑھ جاتی ہے۔ (کون نہیں جانتا کہ جنگ کتنا مہنگا کھیل ہے ) ۔
ابھی دونوں اطراف کے دماغوں میں جذباتی وفور کا عفریت موجزن ہے (خوشی اور دکھ، ہر دو نوع کے جذبات میں ایسا ہی ہوتا ہے ) ۔ جب تک یہ خبیث دیو ہماری سوچوں کو جکڑے ہوئے ہے، بھلائی کی کوئی صورت نظر نہیں آ رہی۔ ایسا نہ ہو کہ جب ہم عقل و خرد کے راستے کو مڑیں تو امن کی راہیں مسدود ہو چکی ہوں۔
جرمنی اور فرانس نے سینکڑوں برسوں تک جنگیں لڑنے کے بعد آخرِ کار صلح کا عَلم اُٹھایا اور یوں یورپی یونین کی بنیاد پڑی۔ حکومتیں کیا سوچتی ہیں یہ الگ بات ہے۔ ہمیں، عوام کو یہ جان لینا چاہیے کہ اگر پورے خطے میں امن ہو گا تو ہی ہم ترقی کر سکیں گے۔ ورنہ بھوک ننگ اور بے روزگاری کا جن ہمیں لقمہ بناتا چلا جائے گا۔


