کہاں گئے وہ لوگ“ اور عباس اطہر”

”کہاں گئے وہ لوگ؟“ عباس اطہر کے کچھ کالموں کا مجموعہ ہے۔ اگر ان کالموں کو بغور اور صاف دل سے پڑھا جائے تو یہ مکمل طور پر بلھے شاہ کے اس مصرع کی تفسیر ہیں کہ ”کیہہ جاناں میں کون؟“ ۔ یادِ رفتگاں پر مشتمل یہ تمام تحریریں ایسی ہیں کہ ان کی خواندگی کے دوران بار بار احمد مشتاق کا مندرجہ ذیل شعر جیسے یاد آ کر رک سا جاتا ہے۔ رہ گیا مشتاق دل میں رنگِ یادِ

Read more

کالم پاکستانی، ہندوستانی شہریوں کے نام

نفرت سے کیا ملا ہے؟ نفرت سے کیا ملے گا؟ کیا تم نہیں جانتے، مسائل صرف بات چیت سے حل ہوتے ہیں؟ جنگوں سے صرف نقصان ہوتا ہے، جانی بھی اور مالی بھی۔ کبھی اُس کا زیادہ، کبھی اُس کا زیادہ۔ تم دونوں مل کر تماشا بنے ہوئے ہو اور دنیا تمہارا تماشا دیکھ رہی ہے۔ اس خطے میں امن ہو گا تو ہی دونوں طرف ترقی ہو گی۔ کوئی بھی اکیلا بڑی ترقی نہیں کر سکے گا۔ آج تم

Read more

افسانہ: قربانی کی عورت (آخری حصہ)

کنزا جب کنیز یوسف کے بتائے ہوئے ہوسٹل میں پہنچی تو وہاں کی مالکہ تمکنت اعجاز بذاتِ خود، اُس کے استقبال کے لئے وہاں موجود تھیں۔ اگلے دو گھنٹوں میں ہی کنزا کو یقین ہو گیا کہ وہاں اُس کی ہر مطلوبہ سہولت موجود ہے۔ مسز تمکنت کے رویّے سے یہ شہادت بھی مل گئی کہ وہ بیگم کنیز یوسف کا بہت احترام کرتی ہیں اور شاید اُن کی احسان مند بھی ہیں۔ اب کنزا کے یہاں آنے سے، انہیں

Read more

قربانی کی عورت – دوسرا حصہ

اپنے کام سے فارغ ہو کر یاسر ایک بار پھر کنزا سے بارعب آواز میں مخاطب ہوا ”کبھی مت بھولنا کہ اب تم میری بیوی ہو۔ میری آنکھوں کے ذرا سے سوال پر بھی تمہارے جسم کی باہیں مجھے ہر وقت کھلی ملنی چاہئیں“ ۔ وہ بستر سے اُتر کر واش روم گیا اور وہاں سے سیدھا باہر چلا گیا۔ کوئی شخص اپنی نوبیاہتا بیوی کے ساتھ ایسا ذلت آمیز سلوک بھی کر سکتا ہے؟ یہ سوال کنزا کے دماغ

Read more

قربانی کی عورت

چاروں ٹانگیں رسیوں سے بندھی ہونے کے باوجود، زمین پر لٹائے ہوئے بکرے کو تین آدمیوں نے پکڑا ہوا تھا۔ قصائی بھی تیار تھا مگر جواد ہاشمی نے چھُری اپنے بیٹے تقی ہاشمی کو پکڑا کر تکبیر کا حکم صادر کر دیا۔ چھری چلتے ہی بکرے کی گردن سے خون کا ایک فوارا پھوٹا۔ کچھ چھینٹے جواد ہاشمی اور تقی ہاشمی کے چہروں پر بھی پڑے۔ قصائی نے اپنے کندھے پر پڑا صافہ جواد ہاشمی کی طرف بڑھایا کہ وہ

Read more

آزاد مہدی کا ناول ”پیرو“ میری نظر میں

میں کبھی بھی کوئی ناول تو کیا، کوئی افسانہ بھی بھاگتے دوڑتے نہیں پڑھتا۔ مجھے اس کام کے لئے پوری یکسوئی درکار ہوتی ہے۔ میرے خیال میں اچھے فکشن کی قرات کا پہلا تقاضا ہی یہی ہے کہ قاری کہانی کے ماحول میں پہنچے اور اُس کے اہم کرداروں سے ذہنی ہم آہنگی پیدا کرے۔ اس لئے صرف 176 صفحات کے ناول ”پیرو“ کو پڑھنے میں میرے دو دن لگ گئے۔ بقول جگر مراد آبادی اک آگ کا دریا ہے

Read more

باغِ نشاط کی طرف

جب شروع شروع میں فنونِ لطیفہ کی دیوی نے میرے دل و دماغ کو روشن کیا تو سب سے منور علاقہ شاعری کا تھا۔ شعر پڑھنا، اس کے معنی کی گہرائیوں تک اترنے کی کوشش کرنا، بحور، اوزان کی ریاضی کی دریافت اور لفظوں کی نشست و برخاست کو سمجھنے کی سعی، میرے لئے سب سے زیادہ لطف انگیز کاروبار تھا۔ نئے نئے قافیوں سے پھوٹتے ہوئے چشموں کی تفہیم اور تازہ بہ تازہ مرکب الفاظ کی جادوگری سے واقفیت،

Read more

اے عشق جنوں پیشہ

یہ 1972 ء کا زمانہ تھا۔ فزکس اور میتھ کی تعلیم کو خیر باد کہہ کر میں شاعر اور ادیب بننے کے خواب دیکھ رہا تھا۔ اِدھر اُدھر جہاں سے کچھ پڑھنے کو ملتا، میں خود کو مطالعہ سے لیس کرنے کی فکر میں مبتلا رہتا۔ اور کچھ نہ کچھ لکھنے کی سعی بھی جاری رہتی۔ انہی دنوں آیا ”رادوگا“ اشاعت گھر ماسکو سے شائع شدہ، دستوئیفسکی کے ناول ”ذلتوں کے مارے لوگ“ کا پہلا اردو ترجمہ۔ میں نے یہ

Read more

جہاں کہیں بھی محبت نہیں ہے : افسانہ

یہ تیسری بار تھی کہ وسیم نے کسی پیشہ ور عورت کے ساتھ ہوٹل میں رات گزاری اور انجام پچھتاوے کی صورت میں ہوا۔ لڑکی تو اس بار بھی حسین و جوان تھی اور تعاون کرنے والی بھی، مگر خود اُسے ہی سمجھ نہیں آ رہی تھی کہ وہ اصل میں چاہتا کیا ہے؟ پہلے دو بار بھی ایسا ہی ہوا تھا۔ اُس کے انتخاب میں کوئی کمی نہیں تھی اور نا ہی اہتمام میں کوئی کجی۔ پہلی دو بار

Read more

عورت، لذّت اور گناہ

” عاتکہ! میں تمہیں بتا نہیں سکتی، کتنا مزہ آیا مجھے۔ میں نے جب سے ہوش سنبھالا ہے، میں یہی سوچتی رہی ہوں کہ ماں باپ کے منع کرنے اور کبھی کبھی تو مار کھانے کے باوجود لڑکیاں یہ کام کیوں کرتی ہیں؟ لیکن آج میں خود اس سے لطف اندوز ہوئی تو تھوڑی دیر کے لئے مجھے ایسا محسوس ہوا، جیسے میں جنت کی فضاؤں میں پرواز کر رہی ہوں۔ تب میں نے سمجھا کہ لڑکیاں ڈانٹ ڈپٹ اور

Read more

ایک پاگل خانے کی کہانی

ایک دفعہ کا ذکر ہے ملک فارس میں۔ ارے یار کیا کر رہے ہیں آپ؟ یہ لفظ فارس نہیں پارس ہے۔ ہم تو ہمیشہ سے فارس ہی سنتے آئے ہیں۔ ہمیشہ سے تو آپ تھے بھی نہیں اور ہمیشہ سے یہ بھی فارس نہیں تھا۔ اصل لفظ ”پارس“ تھا۔ پھر چودہ سو سال قبل حملہ آور آئے۔ حملہ آوروں کی زبان میں ”پاک“ کی ”پا“ نہیں تھی تو پارس کی پا کہاں سے آتی؟ انہوں نے پارس کو فارس بنا

Read more

چھوٹی سی عورت بھی کبھی۔۔۔

آج کا یہ گنجان آباد، گندا مندا قصبہ، ابھی تیس سال قبل ایک خوبصورت گاؤں ہوا کرتا تھا۔ خیر اُس کی بات بعد میں۔ ابھی تو چلتے ہیں یہاں موجود بابا لکڑ شاہ کے مزار پر ۔ یہ بابا لکڑ شاہ کون تھا؟ اس بارے بھی کافی متضاد معلومات ملتی ہیں۔ کچھ زیادہ پرانے لوگوں کا کہنا ہے کہ پینتیس چالیس سال کا سرخ و سفید باریش آدمی کبھی کسی شمالی علاقوں سے یہاں آیا اور اُس نے جلانے والی

Read more

عورت یا جنسی مشین

رات کافی بیت چکی تھی۔ سڑکیں ویران اور گلیاں سنسان تھیں۔ پورا شہر خاموشی کی اندھی چادر اوڑھے سو رہا تھا۔ بس کہیں کہیں کسی کتے کے رونے کی لمبی آواز، خاموشی کے اس عفریت کا سینہ چیرتی ہوئی محسوس ہو رہی تھی۔ ایسے میں ایک بڑی سی گاڑی آ کر اس عالی شان گھر کے گیٹ پر رکی۔ یہ گھر دور سے دیکھنے پر بھی اس پورے علاقے میں نمایاں نظر آتا تھا۔ اس گاڑی کی قیمت، کسی بڑے

Read more

دنیا جائے بھاڑ میں

جب گھر کے باقی تمام افراد اپنے اپنے کاموں کے لئے چلے گئے تو ماں نے گھر کی ملازمہ کو بھی مارکیٹ بھیجا اور باہر کا گیٹ بند کر دیا۔ پھر اندر آئی، کمرے کو لاک کیا، بیٹی کے پاس آ کر بیٹھ گئی اور بولی۔ ”ہاں اب بتاؤ مسئلہ کیا ہے؟“ ۔ بیٹی نے اُلٹا سوال کیا ”کاہے کا مسئلہ امّی جان؟“ ۔ ”ایک تو کوئی مجھے سمجھائے کہ آج کل کی بیٹیاں بڑی ہو کر یہ کیوں سمجھنے

Read more

فالتو کردار

ڈرامہ پروڈیوسر کا چہرہ غصے سے لال بھبھوکا ہو رہا تھا۔ اس کی دھاڑتی ہوئی آواز ہال کی چھت سے ٹکرا کر سارے ماحول میں سر پھوڑتی پھر رہی تھی۔ ”تم اتنے وڈے ہدایتکار؟“ وہ شہر کے بڑے سٹیج ڈرامہ پروڈیوسروں میں سے ایک تھا۔ اس کی عادت تھی کہ جب بھی زیادہ خوش ہوتا یا غصے میں بپھرتا تو اپنی بات میں پنجابی زبان کے کچھ الفاظ ضرور استعمال کرتا۔ ”تمہیں صرف ایک دن پہلے پتہ چلا کہ اتنا

Read more

ایک مختصر مکالماتی افسانہ ”دماغ کی خرابی“

انیلا کی ماں اسے برا بھلا کہتے کہتے گالی گلوچ پر اتر آئی تھی ”تو کتی، حرامزادی، اپنے باپ کی طرح بے حس۔ وہ حرامی بھی ایسا ہی تھا۔ تین بچے پیدا کرائے اور پھر طلاق کے کاغذات میرے ہاتھ میں تھما کر دفعان ہو گیا“ ۔ ”یہ تو آپ زیادتی کر رہی ہیں ماں۔ مجھے میرے باپ سے ملا رہی ہیں؟“ ۔ ”جب تو اتنے اچھے موقع کو خود ٹھوکر مار کر آ جائے گی تو اور کیا دعائیں

Read more

ناول ”بت پرستوں کی نئی نسلیں“ ۔ آخری باب

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

ناول ”بت پرستوں کی نئی نسلیں“ ۔ سولہواں باب

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (15)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

ناول بت پرستوں کی نئی نسلیں (14)

نوٹ : بُت پرستی اُن کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو اُن کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ِہلاہل تھا، جو اُن کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بُت کو تراش کر اُس کی پُراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود اُن کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (13)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

ناول بُت پرستوں کی نئی نسلیں (12)

پلوشہ نہا دھو کر اور تیار ہو کے صوفے پر بیٹھی اپنے موبائل پر کچھ دیکھ رہی تھی جب اس نے محسوس کیا کہ روشن داد جاگ گیا ہے۔ وہ فوراً اٹھ کر اس کے پاس پہنچی۔ اس کے ماتھے پر ’صبح بخیر‘ کہتے ہوئے ایک بوسہ ثبت کیا اور بولی ”اب اگر آپ بیدار ہو ہی گئے ہیں تو ذرا واش روم کا رخ کیجئے“ ۔ روشن داد اٹھ کر بیٹھ گیا اور پلوشہ کا ہاتھ پکڑ کر اسے

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (11)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (10)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (9)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

ہائے! وہ انصاف پسند بادشاہ (مختصر افسانہ)

بادشاہ بنتے ہی اس نے طے کیا کہ وہ ایسے کام کرے گا، جن کی وجہ سے اسے ایک انصاف پسند بادشاہ کے طور پر یاد رکھا جائے۔ رعایا سے اس کی محبت کی کہانیاں سنائی جائیں۔ اسی لئے وہ راتوں کو بھیس بدل کر شہر کے حالات معلوم کرنے نکل جاتا اور ضرورت مندوں کی مدد بھی کرتا۔ باتیں ایک کان سے دوسرے تک پھیلتی گئیں۔ سارا شہر اس گمان کا شکار ہو گیا کہ جونہی انہیں کوئی مسئلہ

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (8)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (7)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (6)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (5)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (4)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں: تیسرا باب

تیسرا باب : باپ اور بیٹے میں خاموش مخاصمت —————————————————- نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ

Read more

ناول بت پرستوں کی نئی نسلیں (2)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

بت پرستوں کی نئی نسلیں (1)

نوٹ : بت پرستی ان کا مذہب نہیں تھا۔ یہ تو ان کے اذہان کے جنگلوں میں ہزاروں سالوں سے پھیلا ہوا، وہ سم ہلاہل تھا، جو ان کی نسلوں کی شریانوں میں لہو کی طرح سرایت کر چکا تھا۔ وہ کسی رنگ، بے رنگ، وجودی یا غیر وجودی بت کو تراش کر اس کی پراسرار انداز میں پوجا شروع کر دیتے۔ کچھ دیر بعد انہیں احساس ہوتا کہ یہ تو خود ان کے ہاتھوں سے تراشا ہوا ہے، تو

Read more

حاملہ بیٹی کی ویڈیو

شمسہ اور وقار نے خود شمسہ کے مطالبے پر شادی سے پہلے ہی طے کر لیا تھا کہ وہ پانچ سال تک ماں باپ نہیں بنیں گے۔ بات مگر ان دونوں کے درمیان ہی تھی۔ دونوں کے رشتہ دار اور دوست احباب بار بار خوشی کی خبر کے لئے پوچھتے رہتے تھے۔ مگر ادھر مکمل خاموشی چھائی ہوئی تھی۔ آخر شادی کے پانچ سال بعد شمسہ حاملہ ہو گئی۔ البتہ کچھ پیچیدگیوں کی وجہ سے ڈاکٹروں نے پانچ ماہ تک

Read more

عورت کے نئے ہتھیار

نیاز علی ایک صوبائی حکومتی محکمہ کے مقامی دفتر میں اعلیٰ عہدہ پر فائز تھے۔ ایماندار تھے، اس لئے اوپر کی آمدنی عنقا تھی۔ والدین کی اکلوتی اولاد ہونے کی وجہ سے ماں باپ کا یہ گھر انہیں ورثہ میں مل گیا۔ گھر بے شک کوئی پرشکوہ اور قابل رشک تو نہیں تھا مگر اتنا بڑا ضرور تھا کہ خود ان کی تنخواہ سے نہیں بنایا جا سکتا تھا۔ انہی کی طرح ان کی بیٹی انوشہ کا بھی کوئی بہن

Read more

اور لڑکی میں جن آ گیا (دوسرا اور آخری حصہ)

رجو، اب باپ کے گھر واپس پہنچی تو وہ بہت سے قیمتی ملبوسات، سونے کے زیورات اور ایک مربع اراضی کی مالک تھی۔ اس لئے جب اس نے سب کو صاف صاف لفظوں میں کہا کہ اس کی طلاق کی وجہ سے کوئی اس سے دکھ یا ہمدردی کا اظہار نہیں کرے گا، یہ طلاق اس کے لئے خوشی کی بات ہے اور اس کی جیت بھی، تو کسی کی بھی اس کے آگے بولنے کی جرات نہ ہوئی۔ رجو

Read more

اور لڑکی میں جن آ گیا (1)

عروسی جوڑے میں ملبوس، سونے کے زیورات سے سجی، چودہ سال کی معصوم سی ”رجو“ نکاح کے بعد اس وسیع و عریض حویلی میں لائی جا چکی تھی۔ بے شک کاغذات میں اس کی عمر اٹھارہ سال لکھی گئی تھی اور اب وہ ساٹھ سالہ چودھری حاکم کی منکوحہ تھی۔ لیکن ابھی اسے سہاگ رات کے لئے تیار کرنا باقی تھا۔ حویلی کے رسم و رواج کے مطابق اس عمل کی نگرانی بڑی چودھرانی کی ذمہ داری تھی۔ اس حویلی

Read more

فارحہ ارشد کا افسانہ

”امیر صادقین! تم کہاں ہو؟“ حسن کی ایک تعریف یہ بھی ہے کہ ہم اس کے جمال و جلال سے متاثر ہوں، اسے محسوس کریں مگر اس کے بیان کی طاقت سے محروم رہیں۔ کچھ ایسی ہی میری حالت، فارحہ ارشد کے افسانے پڑھنے کے دوران ہوئی ہے۔ اس سال پورا مئی اور جون کا زیادہ حصہ، میں پاکستان میں تھا۔ اس کا بڑا فائدہ تو یہ ہوا کہ بہت سے پرانے دوست احباب سے تجدید ملاقات ہو گئی۔ کچھ

Read more

کیسی عجیب عورت

منزہ کے ماں باپ اور ملنے جلنے والے، کاشف کے ماں باپ اور بہن بھائی وغیرہ سب کو فکر لگی ہوئی تھی۔ اس نے ایسا کیوں کیا؟ وہ ہے کہاں؟

الغرض آس پاس کے سب لوگ پریشان تھے کہ جس نے اپنی محبت کو پانے کے لئے، اتنے سالوں تک۔ اس قدر صبر اور استقامت سے انتظار کیا، وہ اسے حاصل کرنے کے بعد یوں چھوڑ کر کیوں چلی گئی؟

وہ محبوب جس کی جدائی میں وہ برسوں اکیلی تڑپتی رہی، اب اس سے جدا ہونے پر کیوں تلی ہوئی تھی؟

Read more

ایک بے بس بیوی کا بستر (آخری حصہ)

پہلے مختصر سی روئیداد اس رات کی۔ سلمان عالم نے نکاح کے بعد ، پہلے رشیدہ کو آئندہ پیش آنے والے حالات سے متعلق اپنے خیالات سے آگاہ کیا۔ پھر، کہاں کہاں، کس کس احتیاط کی اور کیوں ضرورت ہے؟ یہ تفصیل بتائی۔ اس کے بعد وظیفہ ء زوجیت ادا کیا اور مولوی سلمان صاحب سو گئے۔ رشیدہ بھی پہلے تو تقریباً آدھ گھنٹہ کے لئے گہری نیند سوئی مگر پھر اس کی آنکھ کھل گئی۔ وہ کافی کوشش کرتی

Read more

افسانہ: ایک بے بس بیوی کا بستر – دوسرا حصہ

افسانہ: ایک بے بس بیوی کا بستر – پہلا حصہ بلے نے درد سے کراہتی ہوئی شیدو کی تکلیف کو مکمل طور پر نظرانداز کر کے بے دردی کے ساتھ اس کی شلوار اتار دی۔ شیدو اپنی چوٹوں کی دکھن سے بلبلا رہی تھی، مگر بلا اپنے جسم کی آگ بجھانے میں مصروف ہو گیا۔ ایک خاوند کی حیثیت سے وہ اسے اپنا حق سمجھتا تھا۔ شیدو کی کراہیں اتنی بلند تھیں کہ دیوار کی دوسری طرف آسانی سے سنائی

Read more

افسانہ : کنواری لڑکی خریدنی ہے

ایک بڑے شہر کی بڑی یونیورسٹی اور اس میں ایک بڑے جاگیردار کا بڑا بیٹا بلال حسین شاہ۔ گریجویشن کے دو سالوں کے دوران ہی اس کا شمار یونیورسٹی کے مقبول ترین طلبا میں ہونے لگا تھا۔ اس جیسے وجیہ، خوش لباس اور نرم گفتار تو اور بھی کئی تھے مگر ویسا ہی باعلم، بردبار اور زیرک کوئی دوسرا نہیں تھا۔ اکنامکس کا طالب علم لیکن اردو اور انگریزی ادب پر بھی گہری نظر۔ سیاسیات اور تاریخ میں بھی فکر

Read more

ایک بے بس بیوی کا بستر

دیہاتوں میں آج بھی مزدور پیشہ لوگوں کو نیچ ذات کا سمجھا جاتا اور کمی کمین کہہ کر پکارا جاتا ہے۔ ایسی ہی ذات کی ایک چھوٹی سی بچی رشیدہ بی بی بھی ایک گاؤں میں رہتی تھی۔ وہ روز اپنی ماں کو اپنے باپ کے ہاتھوں پٹتا دیکھتی تو ڈر کے مارے سہم جاتی۔ رات کو سوتے میں کبھی آنکھ کھل جاتی تو اسے اکثر ماں باپ کے کمرے سے عجیب عجیب آوازیں سنائی دیتیں۔ کبھی اسے ایسا لگتا

Read more

تم ایک بے کار عورت ہو

شاکر علی اور ان کی زوجہ، عابدہ بیگم کے درمیان پہلا جھگڑا تب ہوا جب ان کی بیٹی مناہل نے اچھی پوزیشن سے میٹرک پاس کر کے کالج جانے کا عندیہ دیا۔ عابدہ بیگم اس کی مزید تعلیم کے سخت خلاف تھیں۔ جبکہ شاکر علی کی خواہش تھی کہ وہ کم از کم گریجویشن ضرور کرے۔ وہ بے چارے جو خود میٹرک کے بعد کسی نہ کسی طرح ایک سرکاری محکمے میں جونیئر کلرک بھرتی ہونے میں تو کامیاب ہو

Read more

عورت کو غلطی کے حقوق

writer403@gmail.com  دو بھائی، دو بہنیں، پانچویں خود نورین اور ماں باپ، کل ملا کر سات افراد کا کنبہ تھا، جس میں نورین نے آنکھ کھولی اور پلی بڑھی۔ والدہ، بنت ِ فاطمہ اور والد، محمد حسنین بھی اچھے تعلیم یافتہ تھے۔ گھر میں بہت سی کتابیں تھیں اور ماحول بھی بڑا علمی ادبی تھا۔ والدہ بے شک پانچ وقت کی نمازی تھیں اور ہر صبح قران شریف کی تلاوت بھی اُن کا معمول تھالیکن والد عید کی نماز کو ہی

Read more

مَردوں کا پردہ بکارت

ملک پور ایک چھوٹا سا مضافاتی قصبہ تھا۔ وہ بھی پنجاب کے دور افتادہ علاقے میں۔ ملک بشیر وہیں پیدا ہوا اور پلا بڑھا۔ اس نے کسی نہ کسی طرح میٹرک تو پاس کر لیا تھا لیکن اس کے بعد نہ تو اس نے آگے پڑھنے کی کوشش کی اور نا ہی کوئی ہنر سیکھنے کی طرف دھیان دیا۔ البتہ کبھی کسی ایک اور کبھی کسی دوسرے دوست کے ساتھ مل کر کوئی کاروبار شروع کرتا اور ناکام ہوتا رہا۔

Read more

سہاگ رات کی سفید چادر کی حقیقت

حلیمہ، باپ کی لاڈلی ہونے کے باوجود ایک سیدھی سادھی لیکن پراعتماد لڑکی تھی، جو حسن و خوبصورتی کے اعلیٰ پیمانوں پر بھی پوری اترتی تھی۔ اچھی سے اچھی تعلیم حاصل کرنا، اس کے خاندان میں ایسے ہی ضروری تھا، جیسے روز کپڑے پہننا اور کھانا پینا۔ اس نے بھی ایم اے، ایم ایڈ کیا اور ایک اچھے سکول میں ٹیچنگ کرنے لگی۔ شادی کے لئے رشتے آنے لگے تو اس کی صرف ایک ہی شرط تھی کہ وہ شادی

Read more

افسانہ نامرد

ایک بڑی رئیل اسٹیٹ کمپنی کے نوجوان ایم ڈی، عدنان ملک نے چار بجے سہ پہر دفتر میں اپنا سارا کام نمٹا دیا۔ ڈرائیور گاڑی لئے دروازے پر انتظار کر رہا تھا۔ وہ عدنان ملک کو لے کر ہسپتال کی طرف روانہ ہو گیا۔ عدنان بہت خوش تھا کیونکہ وہ آج بیوی اور نومولود بچے کو گھر لے جانے والا تھا۔ وہاں اس نے بیوی اور بچے کے استقبال کے لئے بہت ہائی فائی انتظام کر رکھا تھا کہ یہ اس کا پہلا بچہ اور اس امیر کبیر خاندان کا وارث تھا۔

Read more

کیڑے مکوڑے (مختصر افسانہ)

نادر قریشی نے راستے بھر اپنی چودہ سالہ بیٹی ریحانہ کو سمجھایا تھا مگر پھر بھی وہ موٹرسائیکل سے اترتے ہی سیدھی ماں کے پاس پہنچی اور رو رو کر سارہ المیہ بیان کر دیا۔ نادر قریشی موٹرسائیکل کھڑی کر کے کمرے کی طرف لپکا ہی تھا کہ اس کی بیوی آسیہ، بیٹی کا دکھڑا سن کر ایک بپھری ہوئی شیرنی کی طرح اس پر جھپٹی۔ اسے گریبان سے پکڑا اور اس پر موٹی موٹی گالیوں اور بد دعاؤں کی

Read more

لفظ ”لبرل“، لغات اور پاکستان: چند آراء

انگریزی زبان سے آیا ہوا لفظ ”لبرل“ ، لغات میں جو معنی رکھتا ہے تقریباً ً وہی سوچ پوری دنیا میں رائج ہے۔ مگر پاکستان کے مختلف طبقات اسے جدا جدا مفاہیم میں استعمال کرتے ہیں۔ اسی تناظر میں ہم نے چند احباب سے رائے لینے کی کوشش کی ہے۔ جیسا کہ ”ہم سب“ کی پالیسی بھی ہے، ہم نے متنوع نقطہ ہائے نظر کو بغیر کسی تدوین کے یہاں یکجا کر دیا ہے۔

کچھ احباب نے ”لبرل“ کے معنی بتاتے ہوئے اختصار سے کام لیا ہے۔ ان کے نزدیک لبرل کا مطلب ہے آزاد خیال، صلح کل کا ماننے والا، غیر جانبدار اور جس کے لئے گمان کی نسبت دلیل اہم ہو۔

Read more

ممتا کی مجبوری

اس چھوٹے سے قصبے میں بسوں ویگنوں کا یہ اڈا ابھی نیند سے پوری طرح جاگا بھی نہیں تھا۔ سورج کی پہلی کرنوں نے اس کی ٹوٹی پھوٹی، میلی کچیلی دیواروں کو پہلا بوسہ ہی دیا تھا کہ وہ عورت سہمے سہمے قدم اٹھاتی وہاں داخل ہوئی۔ چکنی مٹی جیسے رنگ کی ایک با وقار سی چادر میں اس نے خود کو لپیٹ رکھا تھا۔ سر کے بالوں کی ایک ضدی لٹ جو چادر سے باہر لٹک رہی تھی، غماز

Read more

سیاسی وابستگی یا بت پرستی کے شاخسانے

ہمارے علاقے کی تاریخ گواہ ہے کہ کئی ہزار سال سے بت پرستی ہمارا محبوب مذہب رہی ہے۔ یہ گمان کہ مسلمان ہونے کے بعد ہم نے بت پرستی ترک کر دی ہے اب خام خیالی کے شائبہ کی زد میں ہے۔ شاید بت پرستی کی جڑیں ہمارے ڈی این اے میں اتنی گہری پیوست ہو چکی ہیں کہ بتوں کی پوجا کسی نہ کسی صورت ضرور جاری رہتی ہے۔ اگر ایسا نہ ہو تو ہم بے چینی کا شکار

Read more

نام نہاد عظمت اور ہماری خوش فہمیاں

                      بچپن میں ایک کہانی سنی تھی، کنویں کے مینڈک کی۔ جہاں حادثاتی طور پر سمندر میں رہنے والا ایک مینڈک آ جاتا ہے اور کنویں کے مینڈک کو سمندر کی وسعت کے بارے میں بتاتا ہے تو کنویں کا مینڈک حیرت سے اسے پوچھتا ہے کہ کیا سمندر اس کنویں سے بھی زیادہ وسیع ہوتا ہے؟ کچھ اسی طرح کا قصہ رومانیہ کے باشندوں کا بھی تھا۔ اشتراکی حکومت

Read more

سلطان پورہ کے دوہرے قتل کا اصل قصہ کیا تھا؟

سلطان پور نام کا یہ مضافاتی قصبہ کبھی اس بڑے شہر سے دس کلومیٹر کے فاصلے پر واقع تھا۔ مگر پھر شہر پھیلتا گیا اور یہ مضافاتی قصبہ شہر کا حصہ بن گیا۔ نام بھی بدل کر سلطان پورہ ہو گیا۔ کیوں اور کیسے ہوا؟ کوئی نہیں جانتا۔ البتہ اب یہ سب جانتے ہیں کہ سلطان پورہ جرائم پیشہ لوگوں کا گڑھ ہے۔ یہاں منشیات اور ہتھیاروں سمیت ہر قسم کا غیر قانونی کام ہوتا ہے۔ اسی لئے لڑائی جھگڑے

Read more

ایک سچے عیسائی اور خالص جرمن کا دل

جرمنی کے ایک بڑے صوبے ”بویریا“ کے ایک چھوٹے سے شہر میں رہنے والے پینتالیس سالہ ”اذاک ولہم“ کو اپنے خالص جرمن اور ایک سفید فام عیسائی ہونے پر بڑا فخر تھا۔ اتنا فخر کہ اسے غرور بھی کہا جائے تو مبالغہ نہ ہو گا۔ اس کا خیال تھا کہ صرف سچے عیسائی اور خالص جرمن کو ہی یہ حق پہنچتا ہے کہ وہ ساری دنیا پر حکومت کرے۔ بے شک وہ ایسے خیالات کا اظہار صرف اپنے خاص اور

Read more

مردوں کو جنسی تشدد پر اکسانے والی عورتیں

ہمارے وزیراعظم صاحب نے بالآخر جنسی جرائم کے بنیادی عوامل کا سراغ لگا لیا ہے۔ انہوں نے یہ تہلکہ خیز انکشاف قومی ٹیلیویژن پر ایک خاتون صحافی کے سوال کے جواب میں کیا۔ انہوں نے اس راز سے پردہ اٹھاتے ہوئے ارشاد فرمایا کہ ان تمام جرائم کی بنیاد عورتوں کی فحاشی ہے۔ وزیراعظم صاحب کی جوانی کا زیادہ حصہ چونکہ یورپ میں گزرا ہے ، اس لئے وہ اچھی طرح جانتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں جتنے بھی جنسی جرائم ہوتے ہیں وہ سب عورتوں کی فحاشی کی وجہ سے ہی ہوتے ہیں۔

Read more