جام صاحب کا ناکستان: ایک ادبی حماقت نامہ
جام صاحب کی ایک کوالٹی ہے، وہ یہ کہ آپ کی ناک ایسی نایاب چیز ہے جو شاید نیشنل جیوگرافک والوں کی ڈاکیومنٹری کی فہرست میں بھی آپ کو نہ ملے۔ آپ ارد گرد کی خوشبو ایسے سونگھ لیتے ہیں جیسے پاکستانی الیکشن سے پہلے نتائج۔
اگر کوئی چیز کہیں سو کلومیٹر دور بھی کیوں نہ ہو رہی ہو، تو جام صاحب کی ناک کو فوراً وائی فائی کے سگنلز موصول ہو جاتے ہیں۔
اگر مختلف موبائل نیٹ ورکس والے ان کی ناک کی خدمات حاصل کر لیں، تو پاکستان بھر میں سگنل کے سارے مسائل ہمیشہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائیں۔ چولستان کے وہ صحرا جہاں اونٹ بھی راستہ بھول جاتے ہیں، وہاں بھی جام صاحب کی ناک کے ذریعے 4 G تو کیا، شاید 5 G چلنا شروع ہو جائے۔ آپ کی اسی خوبی کی وجہ سے ہم نے جناب سے درخواست کی کہ ہماری کتاب مفت میں شائع کرا دیں، ہم آپ کے زندگی بھر کے لئے آسان مند رہنا چاہتے ہیں۔ کئی دن بعد جام صاحب ہمیں ایک ادبی محفل میں یہ کہہ کر لے گئے کہ ”یہاں دعا سلام سے آپ کی کتاب شائع ہو جائے گی۔ اندھا کیا مانگے؟ صرف دو آنکھیں۔ ہم بھی فوراً اٹھ کر چل دیے۔ جیسے ہی محفل میں قدم رکھا، ہمیں فوراً سمجھ آ گیا کہ جام صاحب ہمیں یہاں کیوں ورغلا لائے ہیں۔
کیوں کہ جام صاحب ہمیشہ اس جگہ پر شوق سے جاتے ہیں، جہاں کھانے اور ناچ گانے کا بھرپور انتظام ہو اور ان دونوں کا تعلق ان کی بھوک سے ہے۔ ایک پیٹ کی بھوک اور دوسری آنکھوں کی۔ پیٹ کی بھوک تو خیر مٹ جاتی ہے لیکن آنکھوں کی بھوک مٹائے نہیں مٹتی۔ اس محفل میں دونوں کا خشوع و خضوع کے ساتھ اہتمام تھا۔ جام صاحب اور ہمارے درمیان ایک نیت کو چھوڑ کر باقی ایسا کچھ بھی نہیں جو آپس میں ملتا جلتا ہو۔
سوچ میں، نظریے میں، حتیٰ کہ کھانے کے انتخاب تک، بس اگر کوئی چیز ہمیں بچپن سے جوڑے ہوئے ہے، تو وہ یہی نیت۔ حالانکہ دنیا میں لوگ ایک نکتہ اختلاف پر تعلقات ختم کر دیتے ہیں، اور ہم ہیں کہ ہر چیز میں مختلف ہونے کے باوجود ہمارے تعلق کی روحانیت کا یہ عالم ہے کہ بچپن سے ہی ایک بنیاد پر کھڑا ہوا ہے۔
اگر یہی برداشت اور رواداری پوری دنیا میں آ جائے، تو شاید عالمی امن کا مسئلہ ہمیشہ کے لیے حل ہو جائے۔ محفل رنگ برنگے چہروں کے ساتھ سجی ہوئی تھی، اور ایک طرف جہاں ہجوم کچھ ضرورت سے زیادہ بیٹھا ہوا تھا، اس میں ایک صاحب اردو ادب کے ہر ادیب اور خطیب کو ہر موسم کے الفاظ میں خراجِ تحسین پیش کیے جا رہے تھے، جیسے ادب کی محفل نہ ہوں، کوئی گلی محلے کے سیاستدانوں کا میلہ۔ موصوف کو کسی کی ناک پر اعتراض، تو کسی کی آواز پر، کسی کی صورت یا پھر کسی کے انداز پر۔ جیسے ”اعلیٰ“ ادب کے تمام معیارات جناب کے پیٹ میں محفوظ ہوں۔
جناب کی صورت اور مزاج دونوں ہی اتنے ”اعلیٰ“ تھے کہ شعوری سطح سے مکمل طور پر بالاتر، اور محفل میں موجود ہر فرد ان کی غیر معمولی باتوں پر ایسے جھوم اُٹھتا، جیسے کے جناب نے اردو ادب کے نقشے پر کوئی نیا نکتہ نظر کولمبس کی طرح دریافت کر لیا ہو۔
اُردو ادب کا ایسا کوئی ڈپارٹمنٹ نہیں تھا جو محترم نے چھوڑا ہو۔ جناب نے خود کو ”آرڈر آف دی اردو“ ثابت کرنے کی ہر ممکن کوشش کی۔
پہلے تو ہمیں لگا کہ شاید ہمارا ذائقہ خراب ہے، مگر جب جام صاحب سے بات ہوئی تو عقدہ کھلا کہ ہمارا ذائقہ تو بالکل سلامت ہے، اصل میں کچھ لوگ ایسے حکیم لقمان کی طرح اعلیٰ اخلاق کے مالک ہوتے ہے جو دوسروں کو خوش کرنے کے لئے بے لطف چیزوں سے بھی لطف اٹھانے کا ایسا اظہار کرتے ہیں جیسے کسی نے حلوہ پوری کھلا دی ہو، یعنی زبان جل رہی ہوتی ہے، مگر چہرے پر تبسم ایسا جیسے شہد کی چاٹ کھا رہے ہوں۔
جناب صاحب اگر ہمارے پہنچنے سے پہلے کلام نہ کر رہے ہوتے تو ہم اپنی عادت کے مطابق اس کی شکل سے جو اخذ کرتے، وہ ایک جملے میں یو ہوتا کہ ”یہ شخص افریقہ کے کسی ریگستان سے آیا ہوا ہے“ ، لیکن شکر ہے کہ آپ اپنے اعلیٰ زبان ہونے کی وجہ ہمیں اس غلط فہمی کا مرتکب ہی نہیں ہونے دیا۔
پتہ نہیں کیوں اگر ایسا ہوتا تو ہمیں زندگی بھر ان معصوم افریقی لوگوں کے ساتھ اس پاک ہستی کا موازنہ کرنے پر پشیمانی ہوتی۔
محفل کے اختتام پر ہم ایک ایسے انسان سے ملے جو اردو ادب کی سوسائٹی کے سابقہ ممبر تھے۔
انہوں نے بتایا کہ یونیورسٹی میں نئے سرے سے سوسائٹی بن رہی ہے، اس میں اردو ادب پر ہی کام کیا جائے گا۔
اس کے بعد جام صاحب کے مشورے پر ہم اسی وقت جسمانی طور پر اس سوسائٹی کا حصہ بننے کے لئے تیار ہو گئے۔ جام صاحب سے مشورہ لینا ایسا ہی ہے جیسے حکومت سے تعلیم اور صحت کے لئے بجٹ نکلوانا، جب تک پیسوں کی ”کرنسی“ نہ ہو، دماغ کی ”مشین“ چالو ہی نہیں ہوتی۔ تاریخ گواہ ہے کہ موصوف کے دماغ میں اچھے مشورے کا سورج تبھی طلوع ہوتا ہے جب معدہ ”ہلکی پھلکی ضیافت“ کی روشنی سے منور ہو۔ لیکن یہ پہلا موقع تھا جب تاریخ کی پیشانی پر پسینہ آ گیا، کیوں کہ بغیر کچھ کھلائے بھی مشورہ ایسا نکلا کہ گویا تاریخ خود اپنے فیصلے پر شرمندہ ہو رہی ہو۔
ہم یونیورسٹی کی لٹریری سوسائٹی میں اس ادبی محبت کے ساتھ کہ شاید یہ کل کو ہماری کتاب شائع کروانے میں معاون ثابت ہوگی، اور ہم اس کا حصہ بننے کی غرض سے جنرل سیکرٹری کے لیے درخواست دی۔
انٹرویو ہونے کے بعد انہوں نے ہماری قابلیت زیادہ ہونے کے باعث اس پوسٹ کے بجائے ہمیں ایگزیکٹو ممبر بنانا ہی بہتر خیال کیا۔ جب لٹریری سوسائٹی کی فہرست پڑھی تو اندازہ ہوا کہ وہ ہماری قابلیت کو صحیح معنوں میں شاید جانچ ہی نہیں پائے، کیوں کہ اگر جان پاتے تو یہ عہدہ بھی ہمیں کبھی نہ دیتے۔
ہم نے اپنے آپ کو اس پوسٹ پر دیکھ کر بڑا دل کرتے ہوئے حلف نہ اٹھانے کا فیصلہ کیا اور باقاعدہ اس عزت کا جو ہمیں دی گئی تھی، اظہار بھی پیغام کے ذریعے کیا۔ دوسرے دن ہمیں کال آ گئی، اور پوچھنے پر دوسری طرف سے کہا گیا کہ میں پریزیڈنٹ ہوں۔ ہم حیران تھے کہ ہاں، یہ ٹھیک ہے کہ جنابِ عالی آصف علی زرداری صاحب کی آواز مریخ کی مخلوق سے کافی ملتی جلتی ہے، لیکن یہ عورت کی آواز، اور دوسرا جناب تو کھانا بھی صرف اس وجہ سے کھاتے ہیں کہ صحت بنی رہے، ورنہ بغیر مطلب تو وہ اپنے آپ کو بھی لفٹ نہ کرائیں۔ پھر ہم سے پوچھا گیا: ”جناب عثمان عاشق!“
”جی ہاں!“
”آپ کو مبارکباد پیش کرتی ہوں!“ دوسری طرف سے کہا گیا۔
”میں فلزا، لٹریری سوسائٹی نئی پریزیڈنٹ۔“
ہم تھوڑی دیر کے لیے حیران تھے کہ پریزیڈنٹ بننے پر دوسروں سے مبارکباد وصول کرتے ہیں، اور یہ پہلی پگلی ہے جو خود کال کر کے مبارکباد دے رہی ہے۔ اس کے بعد انہوں نے ہماری ایگزیکٹو ممبر پوسٹ کا ذکر کیا اور درخواست کی کہ مصنف صاحب کل کے پروگرام میں آپ شرکت کریں۔
ہم نے شکوہ کیا کہ ہم نے تو جنرل سیکرٹری کے لیے درخواست دی تھی، اور ہمیں ایگزیکٹو ممبر بنا دیا گیا۔ محترمہ نے جواب دیا کہ آپ کو ایگزیکٹو ممبر بنانے کی وجہ یہ تھی کہ درخواست دینے والوں کی تعداد بہت زیادہ تھی۔ اس وجہ سے جو لوگ پریزیڈنٹ کے لیے درخواست دے چکے تھے، انہیں میں سے کسی ایک کو، ممبر زیادہ ہونے کی وجہ سے جنرل سیکرٹری بنا دیا گیا۔ تو ہم نے کہا، ”پگلی! یہ پہلے تو ہمیں اس بارے میں آگاہ کرتی تاکہ ہم یونیورسٹی کے وائس چانسلر کے لیے احتیاطی تدابیر کو سامنے رکھتے ہوئے درخواست دیتے، تو کم از کم آج صرف ایگزیکٹو ممبر تو نہ ہوتے۔
دوسرے دن ہم بھی مردوں والی کمزوری کا شکار ہوتے ہوئے سوسائٹی کے پروگرام پر پہنچ گئے، سوسائٹی کے اجلاس میں پہنچے تو ایسا لگا جیسے قومی اسمبلی کے اجلاس میں آ گئے ہوں۔ ہر کوئی اپنی بات منوانے میں لگا ہوا تھا، اور ہم ایک کونے میں بیٹھے بس یہ سوچ رہے تھے کہ یہاں ہماری حیثیت کیا ہے؟
کچھ وقت گزرنے بعد محترمہ کے نہ ملنے پر ہمارے ذہن میں ملکہ ترنم کے الفاظ گھومنے لگے کہ ان کو بھی کسی ایسی ہی صورتحال کا جب 1973 میں سامنا ہوا تو ان کی زباں سے یہ الفاظ نکلے تھے :
سانوں نہر والے پل تے بلا کے،
خورے ماہی کتھے رہ گیا؟
(ہمیں نہر والی پل پر بلا کر
بتاؤ، محبوب کہاں کھو گیا؟ )
ساڈی آکھاں چوں نیندراں اڈا کے،
ساڈے پیراں وچ بیڑیاں پا کے،
(ہماری آنکھوں سے نیند چرا کر
ہمارے قدموں میں زنجیریں باندھ کر)
ساہنوں پیار والی پوڑی تے چڑھا کے،
خورے ماہی کتھے رہ گیا؟
(ہمیں محبت کی سیڑھی پر چڑھا کر،
بتاؤ، محبوب کہاں کھو گیا؟ )
سانوں پیار دے بھلیکھے وچ پا کے،
سانوں نہر والے پل تے بلا کے،
خورے ماہی کتھے رہ گیا؟
(ہمیں محبت کے دھوکے میں رکھ کر
ہمیں نہر کے پل پر بلا کر
بتاؤ، محبوب کہاں کھو گیا؟ )


