پاکستان قوم کی غلط فہمیاں


shafay sabir

ایک غلط فہمی دور کر لیں وہ یہ کہ پروٹوکول کی بیماری صرف حکمرانوں اور افسر شاہی میں ہے۔ یہ بیماری ہر پاکستانی کو لاحق ہے۔ اس کا علمی مظاہرہ ہم روزانہ دیکھتے ہیں۔ بینکوں میں لائن بنانے کی بجائے ہم کوئی ”ریفرنس“ ڈھونڈتے ہیں کہ ہماری باری جلد آ جائے۔ ہسپتالوں میں او پی ڈی میں پرچی بنانے کی لائن بنانا بھی ہمیں اچھا نہیں لگتا، وہاں ”پروٹوکول“ لینے کے لئے ہسپتال کے عملہ کو پیسے دے کر جلدی کام کروانے کی کوششیں کی جاتی ہیں۔ ایسی کئی مثالیں موجود ہیں۔ پروٹوکول حاصل کرنے کی تگ و دو میں مصروف لوگ ہم ہر جگہ دیکھتے ہیں۔

ایک صاحب کی کال آئی، کہنے لگے ڈاکٹر صاحب ہم پسیانوالہ سے نکل پڑے ہیں، الائیڈ ہسپتال میں اپنے کسی جاننے والے سے کہہ دیں کہ ایک بیڈ خالی رکھیں، ہم مریض کو لا رہے ہیں، اور پروٹوکول بھی دلوا دیں، میں نے جل کر جواب دیا، اگر آپ کہتے ہیں کہ وینٹیلیٹر بھی رکھ لوں؟ ہنس کر جواب دیا نہیں نہیں اس کی ضرورت نہیں۔

اسی ٹاپک پر گفتگو چل رہی تھی کہ ایک ڈاکٹر صاحب بولے، یار شافع، یہ جو لوگ پروٹوکول کے خلاف بولتے ہیں، اگر ان کو کل اتھارٹی مل جائے تو یہی لوگ یہی پروٹوکول فل دھوم دھام سے لیں گے۔

کچھ چیزیں ہم میں رچ بس گئی ہیں اور ان میں پروٹوکول کی بیماری بھی شامل ہے۔ مسئلہ پروٹوکول نہیں، مسئلہ ان مسائل کا ہے، جو اس پروٹوکول کی وجہ سے ہوتے ہیں۔ جیسے کوئی صاحب بہادر کا گزر کسی شاہراہ سے ہو اور اس کے لیے جو روٹ لگتا ہے، نتیجے میں جو کوفت عوام الناس کو اٹھانی پڑتی ہے، ہمیں اس سے مسئلہ ہے۔ بالکل ایسے ہی دیر سے آیا مریض، اگر کسی ہسپتال کے ملازم کو ”سو پچاس دے کر“ پروٹوکول لے کر پہلے پرچی بنوا کر چیک کروا اور دوائی لے لیتا ہے تو اس بیچارے کا کیا قصور جو لائن میں صبح سے کھڑا ہے؟

خود پروٹوکول حاصل کرنے کے لئے ہر ذریعہ استعمال کرنے والے عوام حکمرانوں اور اشرفیہ کے پروٹوکول لینے پر ناک چڑھاتے ہیں اور یہی وہ اصل منافقت ہے، جس کا شکار ہماری پوری قوم بن چکی ہے۔

بات سے بات نکلتی ہے، ایک اور سخت غلط فہمی میں ہم سب پاکستانی مبتلا ہیں کہ ہمارے ملک کے حکمرانوں، افسر شاہی اور ایلیٹ کلاس ہی کرپشن کرتی ہے جبکہ عام آدمی اور مڈل کلاس کا کرپشن سے دور دور تک کوئی لینا دینا نہیں۔ پاکستان میں ہر بندا اپنے لیول تک کا کرپٹ ہے، جیسے جیسے عہدہ بڑھتا جاتا ہے، کرپشن بڑھتی جاتی ہے لیکن ایک فرق یہ واضح نظر آتا ہے کہ بڑوں کی بڑی کرپشن نظروں میں آ کر بھی اوجھل ہو جاتی ہے جبکہ چھوٹی کرپشن پر قانون اندھا ہو جاتا ہے۔

عام آدمی اور مڈل کلاس، اشرافیہ کی بنسبت زیادہ کرپٹ اور اخلاقی انحطاط کا شکار ہے۔ مثال کے طور پر، ہر سرکاری محکمہ کا عام آدمی جو کہ کلرک ہے، وہ انتہا درجے کا کرپٹ ہو گا، چھوٹے سے چھوٹے کام کے لئے آپ کی ناک کی لکیریں نکلوا دے گا، ہر کام پر رکاوٹ کھڑی کرے گا جب تک آپ اس کو راضی نا کر لیں۔

ہر درجہ چہارم کا ملازم، ہر غلط طریقہ کار سے پیسے کمائے گا، سیکورٹی گارڈ پیسے لے کر گاڑیوں کی غلط پارکنگ کروائے گا، آپا پیسے پکڑ کر ہسپتال کے کام کروائے گی، آپریشن تھیٹر سٹاف جھوٹ بول کر ڈریسنگ کرنے کے پیسے لیں گے اور چل سو چل۔ آپ کو زندگی کے ہر شعبے میں عام آدمی کرپشن کرتا نظر آئے گا، اگر آپ اسے ٹوکیں گے تو اس کا یہ جواب ہو گا، مہنگائی بہت ہے، تنخواہ کم ہے، گزارہ نہیں ہوتا۔ حکمران بھی تو کرپشن کرتے ہیں، ہم نے تھوڑی بہت کر لی تو کیا قیامت آ گئی وغیرہ وغیرہ۔

اخلاقی انحطاط اس قدر زیادہ ہے کہ مہنگائی اور کم تنخواہ کو اپنی ناجائز آمدنی کو جائز قرار دینے کا جواز بتایا جاتا ہے۔ ایک عام مشاہدہ یہ بھی ہے کہ جب ایک عام آدمی کسی بڑے عہدے پر پہنچ جاتا ہے تو وہ باقیوں کی نسبت زیادہ کرپشن کرتا ہے اور اس کی گردن میں زیادہ سریا آتا ہے۔

اشرافیہ اپنے مقاصد کے لئے ایک دوسرے کا تحفظ کرتی ہے، جبکہ ایک عام آدمی دوسرے عام آدمی کو آگے بڑھتا نہیں دیکھ سکتا، اسی لیے وہ اس کی ناکامی کا منتظر ہوتا ہے۔ پاکستان میں شریف وہی ہے جس کو موقع نہیں ملتا اور کرپشن بس وہی نہیں کرتا جس کے پاس کوئی اختیار نہیں ہوتا اور یہی تلخ حقیقت ہے۔

Facebook Comments HS

ڈاکٹر شافع صابر

ڈاکٹر شافع صابر سر گنگا رام ہسپتال لاہور میں، آرتھوپیڈک سرجری میں پوسٹ گریجویٹ ٹریننگ کر رہے ہیں

shafay-sabir has 70 posts and counting.See all posts by shafay-sabir