خواب، محبت اور زندگی 41


mahnaz rahman

حصہ سوم: محبت

اس حصہ میں ذکر ہو گا احفاظ سے میری ’فلمی قسم کی‘ شادی کا۔ شادی کے بعد کے ابتدائی ہنگامہ خیز اور پر آشوب سالوں کے حوالے سے بائیں بازو اور خاص طور پر صحافی احباب میں دو فلموں کا تذکرہ رہتا تھا۔ ایک تو ہالی ووڈ مووی THE WAY WE WERE تھی جس میں رابرٹ ریڈ فورڈ اور باربرا اسٹیئرسینڈ نے کام کیا تھا۔ دونوں مرکزی کرداروں کے نظریات مختلف تھے۔ فلم میں رابرٹ ریڈ فورڈ کا کردار ایک ڈھیلے ڈھالے بے باک سے شخص کا تھا جو احفاظ کی سنجیدگی اور اصول پسندی سے یکسر مختلف تھا۔ ایک مرتبہ جب میری ناراضگی طول پکڑ گئی تو احباب فلم کے اختتامی سین کا حوالہ دیتے تھے جب دو محبت کرنے والے الگ الگ راستوں پر چل پڑتے ہیں۔

بہرحال اصل وجہ یہ تھی کہ صحافی احباب کی رائے میں احفاظ اور رابرٹ ریڈ فورڈ میں بہت زیادہ مشابہت تھی اور مجھ میں انہیں باربرا اسٹیئرسینڈ کی شباہت نظر آتی تھی۔ پھر اس وقت بھی میں انقلاب کی دھن میں ایک کمیونسٹ پارٹی کے لئے کام کر رہی تھی جب کہ احفاظ چین میں ثقافتی انقلاب کے تجربے کے بعد کسی پارٹی میں شامل نہیں ہونا چاہتے تھے اور خود کو ٹریڈ یونین کے کام کے لئے وقف کر چکے تھے۔ بد قسمتی سے اس زمانے میں انہوں نے کبھی مجھ سے اپنی اس مایوسی کے بارے میں بات نہیں کی۔ وہ اپنے روایتی لیننسٹ اسٹائل میں مجھے انقلابی سیاسی سرگرمیوں میں حصہ لینے سے روکنے کی کوشش کرتے تھے۔ انہوں نے کبھی مجھے آرام سے کچھ سمجھانے کی ضرورت محسوس نہیں کی اور نہ ہی وجہ بتائی کہ آخر وہ کیوں نہیں چاہتے ہیں کہ میں بائیں بازو کی کسی بھی پارٹی کے لئے کام کروں۔ ان کو جو صحیح لگتا تھا، وہ تحکمانہ انداز میں بتانے کے عادی تھے۔ ظاہر ہے میرے لئے ایسے فرمودات کی تکمیل ممکن نہ تھی جو مجھے معقول نہ لگیں۔ اس پر وہ ناراض ہوتے مگر کچھ کہے بغیر اپنے خول میں چلے جاتے۔ یہ بھی ایک عجیب خاموش انتقام ہوتا تھا۔

ہماری شادی اور اس کے بعد ابتدائی سالوں میں جو کچھ ہوا، اس کے حوالے سے ایک اور فلم جس کا بائیں بازو اور صحافت سے منسلک احباب بہت مرتبہ حوالہ دیتے تھے، وہ شبنم اور ندیم کی فلم ”آئینہ“ تھی۔ اس میں لڑکی امیر ہوتی ہے اور اس کے والدین غریب ہیرو سے اس کی شادی کے سخت مخالف ہوتے ہیں۔ خیر میرے والدین تو امیر طبقے سے تعلق نہیں رکھتے تھے لیکن احفاظ کے خاندان کے مقابلے میں وہ خوش حال تو تھے اور ماڈرن لائف اسٹائل بھی رکھتے تھے۔ احفاظ کا غریبانہ طرز زندگی ان کے لئے ایک مسئلہ تو تھا۔ جس کے نتیجے میں احفاظ کے دل میں میرے والدین کے لئے تلخ جذبات پیدا تو ہونے ہی تھے جیسے ’راجا ہندوستانی‘ میں عامر کے دل میں اور فلم آئینہ میں ندیم کے دل میں پیدا ہوئے۔

ہماری شادی ایک اتار چڑھاؤ سے بھرپور کہانی تھی اور بعد کی زندگی بھی ایسے ہی نشیب و فراز سے بھرپور رہی۔ شاید زندگی اسی کا نام ہے۔ اب جا کر سمجھ آئی ہے کہ نہ احفاظ کے پاس جذبات کو سنبھالنے کا ہنر تھا نہ میرے پاس، اور شاید ہم دونوں ہی اس دانش سے محروم تھے جو ایک دوسرے کے ساتھ تحمل اور صبر کے ساتھ گزارا کرنے کے لئے ضروری ہوتی ہے۔ صبر و تحمل سے کام لے کر ہم اپنی زندگی کو آسان بنا سکتے تھے لیکن جیسا کہ گلزار نے کہا:

صبر سے عشق محروم ہے

باب 7۔ راجا پاکستانی۔ بولی ووڈ والو! ذرا سائیڈ پر ہو جاؤ

1970 کے بعد سے ملک میں سیاسی ہواؤں نے رخ بدلنا شروع کر دیا اور ہمارے گھر کے حالات میں بھی تبدیلی آ گئی۔ میرا بھائی ایاز جامشورو انجینئرنگ کالج میں پڑھ رہا تھا۔ قوم پرست گروپ اسے آئے دن ہراساں کرتے تھے اور وہ ہوسٹل سے اپنا سوٹ کیس اٹھا کر شکارپور واپس آ جاتا تھا۔ امی ابی نے کہہ سن کراس کا تبادلہ کراچی میں این ای ڈی کالج میں کروا دیا۔ میں بھی شکارپور میں بے کار بیٹھی ہوئی تھی۔ امی اپنی فطری حقیقت پسندی کے تحت یہی چاہتی تھیں کہ میں کسی کالج میں لیکچرر لگ جاؤں لیکن سندھ کے قوم پرست گروہ اردو بولنے والوں کے لئے ڈومیسائل اور مستقل رہائشی سرٹیفکیٹ اور لسانیت کی بنیاد پر ملازمتوں کے مواقع مسدود کرتے جا رہے تھے، ہمیں ’مکڑ‘ کہا جاتا تھا۔ یہ لفظ ان کے سیاسی تعصب اور نفرت کی عکاسی کرتا تھا۔ اس لئے امی کا یہ خواب پورا ہونے کا کوئی امکان نہیں تھا۔

اسی جمود کے دور میں مجھے اپنے ہی خاندان سے گہری اجنبیت اور بے گانگی محسوس ہونے لگی تھی۔ اس بے گانگی کی سب سے بڑی وجہ ان کا روایتی پروفیشنل منیجیریل کلاس (PMC) والا انداز فکر تھا۔ اس کے لئے حمزہ علوی نے تنخواہ دار طبقے یا Saliriat Class کی اصطلاح استعمال کی تھی۔ یعنی وہ تعلیم یافتہ طبقہ جو ملازمتوں کے ذریعے سماجی حیثیت اور مقام حاصل کرتا ہے۔ یہ احساس میرے اندر پہلے سے موجود رہا ہو گا لیکن وہ دبی دبی سی بغاوت جو کبھی صرف ایک بے نام سی بے چینی تھی، اب میرے اندر ایک پختہ احساس بن کر ابھرنے لگی تھی۔ مجھے لگتا تھا کہ ابی نے ایک فیکٹری کا منیجر بن کر اپنی پیشہ ورانہ زندگی میں جو کامیابی حاصل کی تھی، اس کے بعد سے وہ اس طبقے کے مستند رکن بن گئے تھے۔ انہوں نے اتنی اچھی کارکردگی کا مظاہرہ کیا تھا کہ مالکان نے انہیں ملتان جا کے وناسپتی گھی کی ایک اور فیکٹری لگانے کے لئے کہا اور انہوں نے یہ فریضہ بھی کامیابی سے انجام دیا۔

سماجی ترقی اور مالی خوش حالی کے ساتھ وہ عزت و وقار اور سرمایہ دارانہ اقدار کے پر جوش حامی بن چکے تھے۔ پیپلز پارٹی کے سوشلزم کے نعرے کے مقابلے میں انہوں نے سرمایہ داروں کا ساتھ دیا۔ دوسری طرف مزدوروں کا اپنے حقوق کے حوالے سے جوش و جذبہ بڑھتا جا رہا تھا۔ اس زمانے میں ایک ایسا واقعہ بھی پیش آیا جس نے مجھے احساس دلایا کہ میں تضادات سے بھری ہوئی زندگی گزار رہی ہوں۔ مجھے آج بھی اس کے بارے میں سوچ کر شرم آتی ہے۔

ہمارا گھر شکارپور فیکٹری کی اوپر والی منزل پر تھا۔ ایک روز فیکٹری کی یونین کے کارکنوں نے اپنے مطالبات کے حق میں مالکان اور انتظامیہ کے خلاف جلوس نکالا۔ انتظامیہ تو دراصل ابی ہی تھے۔ مزدوروں کا شور سن کر ہم سب بہن بھائی بالکونی کی طرف دوڑے۔ نیچے سے مزدوروں کا چھوٹا سا جلوس نعرے لگاتا ہوا گزر رہا تھا: ”قریشی کتا۔ ہائے ہائے“ ۔ میں مزدوروں سے ہمدردی رکھتی تھی اور ان کے مطالبات کے حق میں تھی لیکن اپنے باپ کے لئے یہ نعرہ سننا میری برداشت سے باہر تھا۔ جب کارکنوں کا جلوس دوسری مرتبہ ہماری بالکونی کے نیچے سے یہی نعرہ لگاتے ہوئے گزرا تو میں اوپر کھڑی ہوئی چیخنے لگی۔ اور انہیں برا بھلا کہنے لگی۔ اس وقت ایک بیٹی کی اپنے باپ کے لئے محبت اس کے سوشلسٹ نظریات پر غالب آ گئی تھی۔ شاید ہم انسان اور ہماری زندگی ایسی ہی ہے۔

شاید اسے بھی باب ششم کے بائیں بازو کے اسباق میں شامل کیا جا سکتا ہے۔ اگرچہ یہ بات درست ہے کہ تاریخ کے نام نہاد مادی تصور کے مطابق ہمارا طبقہ ہمارے بہت سے محسوسات، عقائد اور اعمال کا تعین کرتا ہے، لیکن خونی رشتے، قبائلی جذبات اور کئی دوسرے عوامل بھی ہماری سوچ اور رویوں پر اثر انداز ہوتے ہیں۔ انسان کی فطرت میں تنوع ہے جسے کسی ایک نظریاتی سانچے میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ (میں وضاحت کرتی چلوں کہ یہاں میں صرف افراد کی بات کر رہی ہوں، نظام کی نہیں۔ نظام کی سطح پر میں مارکسی تجزیے کو صحیح مانتی ہوں اور عقل سلیم کا تقاضا بھی یہی ہے۔ سرمایہ دار اشرافیہ نے محنت کش طبقے کے خلاف ایک ختم نہ ہونے والی طبقاتی لڑائی چھیڑ رکھی ہے جو ہمارے گرد و پیش میں صاف دکھائی دیتی ہے ) ۔

Facebook Comments HS