پاکستان کی سیاحتی آفتیں : فہم عامہ، قابلیت اور انصاف کا فقدان


 

قومیں اور ممالک تاریخ، تجربے، مشاہدے، علمی فکر اور تدبر سے سیکھتے ہیں۔ لیکن کچھ ممالک اور لوگ سیکھنے سے گریزاں ہوتے ہیں۔ جہالت، مشترکہ ضد، کند ذہنی اور حاکمانہ/مالکانہ عنصر کی وجہ سے نہ سیکھنے اور نہ ہی کچھ کرنے کی صلاحیت باقی رہ جاتی ہے۔ ہماری سیاسی، سماجی، علمی، حکومتی، ریاستی اور ادارتی سمجھ، فہم اور منصوبہ بندی دنیا کے ان چند ممالک میں شمار ہوتی ہے جہاں آفتوں /ہنگامی حالات کا مقابلہ کرنے کی قوت بہت کم اور نچلے درجے کی ہے۔ وقت کے ساتھ ساتھ اس قوت سے متعلق حکمت، صلاحیت اور عملی معلومات پیچھے رہ گئی ہے۔ اسی وجہ سے ہمارے ہاں کوئی بھی چھوٹی ہنگامی صورتحال جلد ہی ایک بڑی تباہی میں بدل جاتی ہے۔

سوات دریا میں کل آنے والے اچانک سیلاب کے باعث خاندانوں کے المناک ڈوبنے اور اس سے کچھ سال قبل مری میں ہونے والا دلخراش برفباری کا واقعہ صرف اکیلے حادثات نہیں ہیں۔ یہ پاکستان میں آفتوں کی تیاری اور جوابی کارروائی میں موجود گہری، انتظامی ناکامیوں کے واضح ثبوت ہیں، خاص طور پر ملک کے تیزی سے بڑھتے ہوئے سیاحت کے شعبے کے بارے میں۔ یہ المناک واقعات فہم عامہ کے استعمال، ادارتی قابلیت، حکومتی گورننس، اور بچاؤ کی صلاحیتوں میں ایک پریشان کن خلا کو ظاہر کرتے ہیں۔

تازہ سانحے۔ سوات کا المیہ اور مری کے واقعے سے نہ سیکھے گئے سبق

27 جون 2025 کو، سوات دریا کے کنارے پر ایک خاندانی پکنک اس وقت مہلک ثابت ہوئی جب پانی کا اچانک بہاؤ نو انسانوں کو اپنے ساتھ بہا لے گیا۔ یہ واقعہ نیشنل ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی ( این ڈی ایم اے ) اور صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (PDMA) کی طرف سے فلش فلڈ کی پیش گوئی کرنے والی سرکاری و ارننگز اور دریا کے قریب جانے پر سیکشن 144 کی پابندی کے باوجود پیش آیا۔ عینی شاہدین نے بتایا کہ بچاؤ والے ”واقعے سے گھنٹوں بعد پہنچے، اور ان کے پاس تیز بہاؤ سے لوگوں کو نکالنے کے لیے نہ ایسی لانچیں تھیں اور نہ ہی اس لائق سامان“

جنوری 2022 کے مری برفانی طوفان میں کم از کم 22 انسانی جانیں ضائع ہوئیں، جن میں سے کئی ٹھنڈ (ہائپوتھرمیا) اور کاربن مونو آکسائیڈ پوائزننگ/زہریلی گیس کی وجہ سے برف میں پھنسی گاڑیوں میں ہوئیں۔ یہ آفت اس لیے پیش آئی کہ حد سے زیادہ گاڑیاں ایک ایسے چھوٹے شہر میں داخل ہوئیں جس کی سڑکوں پر بمشکل 4,000 گاڑیاں آ سکتی ہیں، جس کی وجہ سے تاریخی ٹریفک جام ہو گیا۔

فہم عامہ اور ادارتی صلاحیت

یہ واقعات ”فہم عامہ“ انفرادی اور ادارتی وسیع کمزوریوں کو اجاگر کرتے ہیں۔ سوات میں سیاحوں نے واضح پابندیوں کو نظر انداز کیا۔ مری میں، کئی لوگ بھاری برف میں بلاک شدہ ایگزاسٹ پائپوں سے پیدا ہونے والے کاربن مونو آکسائیڈ کے مخصوص، مہلک خطرے سے بے خبر تھے۔ یہ عوامی معلومات کی مہم میں ایک بڑی ناکامی کی طرف اشارہ کرتے ہیں، جو صرف عام خبرداری سے آگے بڑھ کر لوگوں کو عملی، خطرے کی معلومات دینے میں ناکام رہی ہیں۔

آسٹریلیا کے مشہور محقق پروفیسر مائیکل کینلن نے اپنی تحقیق میں واضح کیا ہے کہ کسی سانحے کے ہونے تک کئی اسباب ایک دوسرے کے پیچھے ہوتے رہتے ہیں، حالات کو درگزر کیا جاتا ہے یا آنکھیں بند کی جاتی ہیں یہاں تک کہ ایک بڑا حادثہ/سانحہ برپا ہو جائے۔ سوات کے سانحے میں اچانک پانی کا آنا اہم سبب تھا لیکن اس کے پیچھے انتظامی، قانونی، علمی اور عام انسانی بچاؤ والے رویوں کی خلاف ورزیاں ہیں جو دہائیوں سے ہو رہی ہیں۔

خطرے والی حالتوں اور علامات کو پرکھنے والی انتظامی قوت کی ناکامی، اداروں اور لوگوں کے درمیان انتہائی کمزور رابطہ کاری میں انتظامیہ کا سب سطحوں پر یہ عمل کہ جو پھنسے ہیں وہی مقابلہ کریں اس کی چند مثالیں ہیں۔

اشرافیہ کے ہاتھ سے جکڑے اس ملک میں عوام کے بچاؤ کے لیے کچھ نہیں، تمام وسائل اور بچاؤ صرف انہی کے لیے ہیں یہ ان کا استحقاق ہے۔ پاکستان اشرافیہ کے قبضے سے لڑ رہا ہے، جہاں معاشرے کا ایک چھوٹا، با اثر طبقہ عوامی اخراجات سے غیر متناسب طور پر فائدہ حاصل کرتا ہے، بڑے پیمانے پر پھیلی اقتصادی عدم مساوات اور وسائل کی تقسیم کے نمونے مضبوطی سے ظاہر کرتے ہیں کہ بروقت اور جامع ایمرجنسی خدمات تک رسائی سماجی و اقتصادی حیثیت اور پاور سے جڑی ہے۔ ”شخص کی حفاظت“ کا بنیادی حق اکثر ایک استحقاق کے طور پر کام کرتا ہے، نا کہ ہر شہری کا حق۔ محروم اور کمزور برادریاں /طبقات اور علاقے اکثر آفتوں کا بڑا بوجھ اٹھاتے ہیں اور دوبارہ تعمیر کرنے کے لیے جدوجہد کرتے ہیں۔

آفتوں سے سیکھنے کی اہمیت اور اس کے نتائج

بڑے حادثات، آفتوں اور سانحات سے سیکھنے کا عمل انتہائی اہم ہے۔ کچھ سماجی سائنسدانوں کا خیال ہے کہ یہ بڑے حادثات حقیقت میں قوموں کی آنکھیں کھولنے میں اہم کردار ادا کرتے ہیں اور ملک کو مجموعی طور پر آئندہ آفتوں سے بچاؤ اور ان کے نقصان کم کرنے کا سبب بنتے ہیں۔ لیکن کچھ ممالک اور لوگ سیکھنے سے آنکھیں بند کر لیتے ہیں اور نتیجے میں مستقبل میں آنے والی آفتیں مزید تباہ کن ثابت ہوتی ہیں۔ آفتوں سے سبق سیکھنے کی صورت میں ممالک اور قوموں کے حق میں تین مثبت نتائج نکلتے ہیں۔

ایک۔ آفتوں سے بچاؤ یا ان کے نقصانات کو کم کیا جا سکتا ہے۔

دو۔ اگر حکومت آفتوں سے بچاؤ کی پالیسیاں اور قوانین صحیح طریقے سے عمل میں لائے گی تو ملک میں آفتوں سے متعلق اموات کم کی جا سکتی ہیں اور اس کے ساتھ ساتھ دیگر نقصانات میں بھی کمی لائی جا سکتی ہے۔

تین۔ جب تک حکومت اور ریاستی فیصلہ سازوں اور اداروں کو ذمہ دار نہیں ٹھہرایا جائے گا، ان پر اثر انداز ہو کر آفتوں کو کم کرنے /بچاؤ کی پالیسیوں، قوانین اور پراجیکٹس پر عمل کرنے کے لیے زور نہیں دیا جائے گا تو حکومت سستی دکھائے گی۔ کبھی کبھی تو حکومت کے کانوں پر جوں تک نہیں رینگتی۔

اقوام متحدہ اور عالمی بینک کی کتاب ”فطری خطرہ، غیرفطری حادثہ“ (Natural hazard، Un۔ natural Disaster) کے مطابق ایک فعال ریاست میں روڈ رستے، ہسپتال، عام لوگوں کے لیے سواری کا نظام/پبلک ٹرانسپورٹ، قانون اور قواعد پر عمل بہتر ہوتا ہے وہاں قدرتی حادثات سے نقصان کم ہوتے ہیں۔ اسی وجہ سے ہمیں دیکھنے میں آتا ہے کہ قانون کی پابند قوموں اور ترقی یافتہ دنیا میں ترقی پذیر ممالک کے مقابلے میں اسی انداز اور مقدار والی آفت کے نتیجے میں موت اور دیگر نقصان کم ہوتے ہیں۔ تحقیقات بھی یہ بتاتی ہیں کہ قدرتی خطروں والی حالتوں کو انسانی عمل (غیر قدرتی ہاتھ) کے ذریعے آفتوں میں تبدیل کیا جاتا ہے۔

اب مہذب دنیا ہر مصیبت، آفت کو پروردگار کی مرضی اور مشیت (Act of God) ماننے کے لیے تیار نہیں ہیں۔ دنیا کے تینوں الہامی مذاہب اسلام، عیسائیت اور یہودیت میں (اور دیگر کئی مذاہب میں بھی) کچھ علماء کرام نے آفتوں کو عذاب سے تشبیہ دی ہے۔ لیکن جو غلط عمل انسان خود کرتا ہے اور اس کے نتیجے میں آفتیں آتی ہیں، اس کو پروردگار کا کام کیسے کہہ سکتے ہیں؟ مری اور سوات میں ہونے والے غیر ذمہ دارانہ عمل جن کے نتیجے میں بے گناہ انسان اجل کا شکار ہوئے، انہیں رب کی مرضی قرار دے کر ذمہ داریوں سے منہ نہیں موڑا جا سکتا! پروردگار کا فرمان ہے کہ جس کسی نے ایک انسان کو بچایا گویا اس نے پوری انسانیت کو بچایا۔

ڈاکٹر ٹیڈ اسٹینبرگ کے مطابق آفتوں کو ”خدا کا کام“ کا نام دینا حقیقت میں ذمہ داری سے بھاگنا ہے۔ اور اپنے آپ کو /ذمہ دار اداروں اور حکومتوں کو اس ذمہ داری سے آزاد کرنے کے برابر ہے۔ حقیقت میں ان آفتوں کے آنے میں، ان کے بڑھے ہوئے نقصانات میں انسانوں اور متعلقہ اداروں کا ہاتھ ہوتا ہے۔ اس میں وقت پر تیاری نہ کرنا، خراب منصوبہ بندی، قانون پر عمل نہ کرنا، سیاسی طور پر کمزور حکومت ہونا، گورننس اور کرپشن کا بڑا عمل دخل ہوتا ہے۔

آگے کا راستہ

آفات کا مقابلہ کرنے اور اس کے نقصانات کو کم کرنے کے لیے کچھ بنیادی تجاویز عرض کی جاتی ہیں :

1۔ ادارتی قوت میں اضافہ: آفتوں کا مقابلہ کرنے کے لیے ادارتی اور قانونی ڈھانچہ اب تبدیل ہو چکا ہے۔ خاص طور پر این ڈی ایم اے بننے کے بعد صوبائی ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی (پی ڈی ایم اے ) اور ضلعی سطح پر ڈسٹرکٹ ڈیزاسٹر مینجمنٹ اتھارٹی بنے بھی اب 13 سال سے زیادہ ہو چکے ہیں لیکن ان اداروں میں گویا دانت ہی نہیں ہیں۔ انہیں میرٹ اور مہارت کو مدنظر رکھتے ہوئے مضبوط کرنے کی ضرورت ہے۔

2۔ فعال بلدیاتی نظام/شہری/لوکل حکومتیں : پوری دنیا کے فعال اور مہذب ممالک میں بلدیاتی اداروں کا آفتوں کا مقابلہ کرنے میں اہم کردار ہوتا ہے۔ ان اداروں کو میرٹ پر پروان چڑھنا چاہیے۔ ان پر تھوپے گئے ملازمین کا بوجھ، مقامی سیاسی اثر و رسوخ رکھنے والے ”مقرر“ معزز کی منتھلی والا عمل ختم کر کے، ان کے بجٹ کو اچھے طریقے سے خرچ کرنے کا سلسلہ قائم کرنا چاہیے۔

3۔ مربوط ملکی اور صوبائی منصوبہ بندی: تعلقے سے لے کر تمام شعبوں کی منصوبہ بندی کرتے ہوئے ضلعی، ڈویژن اور صوبائی سطح پر آنا چاہیے۔ (بہتر تو یونین کونسل سے ہو گا، لیکن اگر تعلقے کی سطح پر گئے تو بہتر منصوبہ بندی کے لیے وہ بھی اچھا ہو گا) اس منصوبہ بندی کے نتیجے میں کام، اسکیمیں اور پراجیکٹ بننے چاہئیں۔ پی سی ون پر فارما میں بھی بہتری لا کر اور دیگر متعلقہ سیکشنز کو شامل کر کے پرکھا جائے۔

4۔ اداروں کے درمیان رابطہ: سہکاری اور مشترکہ ادارتی پروگراموں کو بڑھایا جائے۔ اس کے کچھ اشارے، ٹارگٹ اور مشترکہ سمجھ کے لیے عملی اقدامات کیے جائیں۔

5۔ حکومتی پالیسیوں کو ترجیحات اور لوگوں کے مسائل سے ملا کر دیکھنے کی ضرورت ہے۔

6۔ انگریزی کی ایک کہاوت ہے کہ ”An Elephant in the room“ (کمرے میں ہاتھی کا ہونا اور وہ کسی کو نظر نہ آنا) ۔ اس ہاتھی جس کا محرک ”پیسے کا لین دین“ ہے، اس کو کم کر کے کسی بکری جتنا تو کیا جا سکتا ہے۔

7۔ بہتر تعلیمی نظام، میرٹ، میرٹ اور میرٹ کو بنیاد بنا کر اگر کوئی قدم اٹھائے جائیں گے تو بہت سے مسائل حل ہو جائیں گے۔

پاکستان کی سیاحت کی صلاحیت بہت زیادہ ہے، لیکن اس کی پائیداریت انسانی زندگیوں کو محفوظ رکھنے پر مکمل طور پر منحصر ہے۔ سوات اور مری میں ہونے والے المناک واقعات صرف بدقسمتی والے حادثات نہیں ہیں ؛ یہ عوامی حفاظت کے لیے ایک مسلسل، ادارتی، اور منصفانہ طریقے کے لیے ایک بلند اور واضح پکار ہیں۔

Facebook Comments HS