کیا ہندوستانی نوجوان امریکہ میں آئی ٹی کے بعد سیاست میں رہنمائی پر تیار ہیں؟
شوبز اور سیاست کا رشتہ کوئی نیا نہیں ہے۔ فنکاروں نے ہمیشہ عوامی رائے پر گہرا اثر ڈالا ہے، اور کئی ایسے بھی ہیں جنہوں نے محض اداکاری یا گلوکاری تک خود کو محدود نہیں رکھا بلکہ سیاست کے میدان میں بھی قدم رکھا۔ یہ رجحان نہ صرف پاکستان بلکہ دنیا بھر میں بھی پایا جاتا ہے، جہاں فنکار اپنی مقبولیت اور اثر و رسوخ کو سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرتے ہیں۔
پاکستان میں کئی ایسے مشہور چہرے ہیں جنہوں نے اپنی فنی زندگی کے عروج پر یا اس کے بعد سیاست میں شمولیت اختیار کی۔ ان میں سے کچھ نے اپنی محنت، عوامی مقبولیت اور سیاسی بصیرت کے بل بوتے پر کامیابی کی نئی داستانیں رقم کیں۔ جن میں طارق عزیز، کنول نعمان، جمال شاہ، عتیقہ اوڈھو، عنایت حسین بھٹی اور مسرت شاہین کے نام قابل ذکر ہیں۔ یہ فنکار صرف اسٹیج یا کیمرے کے سامنے ہی نہیں بلکہ پارلیمنٹ کے ایوانوں اور عوامی جلسوں میں بھی اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوانے میں کامیاب رہے۔ جبکہ کچھ اداکاروں کو سیاسی میدان کی کٹھن راہوں پر مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
اسی طرح امریکہ میں ہالی ووڈ سے متعلق کئی ایسے نام ہیں جنہوں نے اداکاری کے بعد سیاست میں نمایاں مقام حاصل کیا، جن میں سب سے نمایاں مثال رونلڈ ریگن کی ہے جو ہالی ووڈ کے ایک معروف اداکار ہونے کے بعد امریکہ کے صدر بنے۔ اسی طرح، آرنلڈ شوارزنیگر نے کیلی فورنیا کے گورنر کا عہدہ سنبھالا۔
بالی ووڈ کے کئی اداکاروں جیسے امیتابھ بچن، جیا بچن، ونود کھنہ، دھرمیندر، ہیما مالنی، شتروگھن سنہا، سنیل دت، جیا پرادھا، راج ببر وغیرہ نے اپنی شاندار فنی زندگی کے بعد سیاست کے میدان میں قدم رکھا اور وہاں بھی اپنی پہچان بنائی۔ ان میں سے کچھ نے تو غیر معمولی کامیابیاں حاصل کیں اور اہم حکومتی عہدوں تک پہنچے۔ یہ رجحان اس بات کی عکاسی کرتا ہے کہ بھارت میں فلمی ستارے صرف تفریح کا ذریعہ نہیں بلکہ عوامی رائے پر بھی گہرا اثر رکھتے ہیں۔
ستر اور اسی کی دہائی بھارتی فلم انڈسٹری کا ایک زریں دور تھا، جب تجارتی فارمولوں سے ہٹ کر آرٹ فلموں کا چلن عام ہوا۔ یہ وہ زمانہ تھا جب سلور سکرین پر حقیقت کی عکاسی اور سماجی شعور بیدار کرنے کا فریضہ نبھایا جا رہا تھا۔ نصیرالدین شاہ، اوم پوری، شبانہ اعظمی، اور سمیتا پاٹل جیسی قد آور شخصیات نے اپنی لازوال اداکاری سے ان ”با مقصد“ فلموں کو نئی بلندیوں پر پہنچایا۔ ان فنکاروں نے محض تفریح نہیں بلکہ سماج کو درپیش مسائل کی نشاندہی بھی کی۔
ان دنوں، جب یہ ستارے اپنی چمک بکھیر رہے تھے، میرا نائر نامی ایک نوجوان خاتون امریکہ کی ممتاز ہارورڈ یونیورسٹی میں بصری علوم کی گہرائیوں میں غوطہ زن تھیں۔ میرا نائر کا خاندانی پس منظر بھی ان کی فنکارانہ سوچ کی طرح متنوع تھا؛ ان کے والد سکھ تھے جبکہ والدہ کا تعلق ہندو گھرانے سے تھا۔ ہارورڈ سے فارغ التحصیل ہونے کے بعد میرا نائر نے دستاویزی فلموں کے ذریعے اپنی کہانی کہنے کا آغاز کیا۔ ان کی محنت اور تخلیقی صلاحیتوں نے انہیں جلد ہی ایک کامیاب ہدایتکار اور فلم ساز بنا دیا، اور انہوں نے سلام بمبے، مون سون ویڈنگ، اور مسسی سپی مسالہ جیسی عالمی سطح پر تسلیم شدہ اور ایوارڈ یافتہ فلمیں بنا کر اپنی صلاحیتوں کا لوہا منوایا۔
یہ وہ زمانہ تھا جب ان کی ذاتی زندگی میں بھی ایک اہم موڑ آیا۔ پنجابی سکھ والد اور آبائی طور پر ہندو والدہ کی بیٹی میرا نائر نے یوگنڈا کی کمپالا یونیورسٹی میں سیاسیات کے استاد اور ہندوستانی گجرات کے ایک مسلمان محمود ممدانی سے شادی کر لی۔ یہ ایک ایسا رشتہ تھا جو نہ صرف دو مختلف ثقافتوں کو جوڑ رہا تھا بلکہ دو روشن خیال اور ترقی پسند ذہنوں کو بھی یکجا کر رہا تھا۔
اس فنی اور فکری امتزاج کا اثر ان کے بیٹے پر بھی ہوا۔ دونوں میاں بیوی کے سیاسی اور سماجی رجحانات نے ان کے بیٹے کی شخصیت کی تشکیل میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان کا بیٹا اپنے والد کے ساتھ امریکہ ہجرت کر گیا اور سنہ 2018 میں امریکی شہریت حاصل کی۔ اپنی تعلیم مکمل کرنے کے بعد ، اس نوجوان نے سوشلسٹ سیاست کا دامن تھام لیا۔ یہ وہی زہران ممدانی ہیں، میرا نائر اور محمود ممدانی کے بیٹے، جو اب نیویارک کے سیاسی افق پر ایک نئی تاریخ رقم کرنے جا رہے ہیں۔ وہ نیویارک کے پہلے مسلمان، پہلے ایشیائی اور پہلے افریقی میئر بننے کی دوڑ میں شامل ہیں، اور حیران کن طور پر اپنے سوشلسٹ اور غیر روایتی امریکی سیاسی رجحانات کے باوجود اس مقام تک پہنچنے والے ہیں۔
بالی ووڈ شوبز اور امریکی سیاسی مسائل کے امتزاج سے تیار کردہ ان کی کی کمپین ویڈیو ان کے خون میں شامل فنی اور سیاسی شعور کی غماز ہے۔
زہران کی سیاست میں کامیابی کی کئی وجوہات ہیں :
* قوتِ ابلاغ: ان کی تقریری اور ابلاغی صلاحیتیں انہیں عوامی سطح پر اپنے خیالات کو موثر طریقے سے پیش کرنے میں مدد دیتی ہیں۔
* قربانی اور سماجی کام: وہ سماجی کاموں میں بھی سرگرم رہے ہیں، جس سے ان کی عوامی خدمت کا جذبہ ظاہر ہوتا ہے اور لوگ ان پر زیادہ اعتماد کرتے ہیں۔
* نظریاتی وابستگی: وہ ایک مضبوط سیاسی نظریے سے وابستہ ہیں، اور ہر موقع پر اپنے علاقے کے عوام کو پہلا درجہ دیتے ہیں، جو ان کی کامیابی میں اہم کردار ادا کر رہا ہے۔
امریکی سیاسی افق پر تیزی سے مقبولیت حاصل کرنے والے زہران ممدانی کا سفر بھی اسی روایت کا ایک تسلسل ہے، جہاں فن اور شعور کی پرورش پانے والا ایک فرد اب عوامی نمائندگی کے لیے تیار ہے۔ ان کا یہ سفر اس بات کا غماز ہے کہ سیاسی میدان میں تبدیلی اور نئے خیالات کی گنجائش ہمیشہ موجود رہتی ہے۔

