راتوں رات امیر ہونے کا دھوکہ


جب وقت گزارنے کے لیے سوشل میڈیا کا سہارا لیا جائے، تو ایک عجیب سی ذہنی اُلجھن محسوس ہوتی ہے۔ ٹک ٹاک، انسٹاگرام، اسنیپ چیٹ، یوٹیوب اور فیس بک جیسے پلیٹ فارمز پر ہر لمحہ نئی رِیلز اور ویڈیوز کا سلسلہ جاری رہتا ہے۔ ہر دوسری رِیل میں کوئی نہ کوئی شخص امیر بننے کا دعویٰ کر رہا ہوتا ہے :

”ایک دن میں اتنے ڈالرز کما لیے!“
”ایک ہفتے میں اتنے پاؤنڈز مل گئے!“
”ایک مہینے میں اتنے پاکستانی روپے بنا لیے!“
اگلی رِیل میں کوئی شخص اپنی آن لائن کمائی سے موبائل، گاڑی یا بنگلہ دکھاتا ہے :
”یہ دیکھیے، میری کمائی سے خریدا گیا بنگلہ!“
”فری لانسنگ اور کانٹینٹ کریئشن سے پیسہ بنا کر لگژری کار لے لی!“

پھر دیکھنے والوں کو اُکسایا جاتا ہے کہ آپ بھی آن لائن کام شروع کریں اور راتوں رات امیر بن جائیں۔ ہر وقت نئے نئے آن لائن ارننگ کے طریقے سامنے لائے جاتے ہیں۔ ای بزنس، کانٹینٹ کریئشن، فری لانسنگ، ایفلیئٹ مارکیٹنگ اور کیا کچھ نہیں۔

رہی سہی کسر فیملی ولاگرز نکال دیتے ہیں، جو ہر ویڈیو میں اپنی بڑھتی ہوئی آمدنی اور مالی تحفظ کی نمائش کرتے ہیں۔ اِن کے ولاگز میں مہنگی گاڑیاں، قیمتی گھڑیاں، برانڈڈ شاپنگ، بین الاقوامی سفر اور لگژری زندگی کے ہر پہلو کی چمک دمک ہوتی ہے۔ کوئی شادی ہو، نکاح ہو یا سالگرہ۔ یہ لوگ ہر موقع کو کیمرے پر محفوظ کرتے ہیں۔ لیکن ان تقریبات کا اصل مقصد صرف ایک ہوتا ہے، دولت کی نمائش۔

آج کا ڈیجیٹل دور ضرور نئے مواقع پیدا کرتا ہے، لیکن ان مواقع کو حاصل کرنے کے لیے صرف موبائل اور انٹرنیٹ نہیں، بلکہ علم، سمجھ، صبر اور محنت کی ضرورت ہوتی ہے۔ افسوس کے ساتھ کہنا پڑتا ہے کہ سوشل میڈیا عام انسان کے جذبات اور خواہشات کا فائدہ اٹھاتا ہے، اور انہیں خواب دکھا کر صرف اپنا مواد چلاتے ہیں۔ ان سب کو دیکھ کر صرف نوجوان ہی نہیں، سمجھدار لوگ بھی پل بھر کو ہل جاتے ہیں۔ ہر کوئی سوچتا ہے کہ کوئی ایسا طریقہ مل جائے جس سے وہ بھی ان جیسے ہو جائیں۔ ہر کسی کے دل میں خواہش جاگتی ہے کہ رات بھر میں پیسہ برسنے لگے۔ لیکن سوال یہ ہے :

کیا یہ سب کچھ واقعی اتنا آسان ہے؟
کیا کوئی شارٹ کٹ ہے جو کسی کو ایک دن میں کروڑ پتی بنا دے؟

یہ بھی سچ ہے کہ اکثر کانٹینٹ کریئٹرز کسی نہ کسی موقع پر محنت کر کے ہی اس مقام تک پہنچے ہیں۔ لیکن یہ الگ بحث ہے کہ ان کا طریقہ درست ہے یا نہیں۔ کیا یہ کامیابی اصل محنت کا نتیجہ ہے، یا صرف نمائشی رنگوں کا جادو؟ دیکھنے والے لوگوں کو یہ سمجھنا چاہیے کہ کانٹینٹ کریئٹرز کا اصل مقصد اپنی ویڈیوز کو وائرل کرنا ہوتا ہے۔ اس لیے وہ آن لائن ارننگ کے نئے طریقے دکھاتے ہیں، تاکہ الگوردم ان کا مواد اُٹھا لے، اور انہیں لائکس، شیئرز اور فالوورز ملیں۔ یہ سب ایک ڈیجیٹل دوڑ کا حصہ ہے۔

میں یہ نہیں کہتا کہ آن لائن ارننگ نہیں ہوتی۔ بالکل ہوتی ہے۔ لیکن یہ سوچنا کہ کوئی موبائل اُٹھائے، کچھ کلکس کرے اور اگلے دن کروڑ پتی بن جائے۔ یہ بس ایک خواب ہے۔ اصلیت یہ ہے کہ ڈیجیٹل دنیا میں بھی کامیابی کے لیے محنت ضروری ہے۔ چاہے پلیٹ فارم آن لائن ہو یا آف لائن۔ اصل کامیابی وہ ہوتی ہے جو وقت کے امتحان سے گزری ہو، نہ کہ وہ جو صرف کیمرے کے لینس میں چمک رہی ہو۔

اصل مسئلہ یہ ہے کہ ہمارا نوجوان محنت سے گھبراتا ہے۔ ہر وقت رِیلز دیکھ کر خواہشوں میں جیتا ہے۔ مہنگا موبائل، برانڈڈ کپڑے، لگژری سفر۔ سب چاہیے، لیکن بغیر محنت کے۔ اسی لیے وہ راتوں رات امیر بننے کے دھوکے میں اُلجھا رہتا ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ ہر کامیابی کے پیچھے محنت، صبر اور لگن ہوتی ہے۔ آن لائن ارننگ بھی ایک فن ہے جو سیکھنا پڑتا ہے۔ اس کے لیے وقت، مستقل مزاجی اور حکمتِ عملی درکار ہے، کوئی شارٹ کٹ نہیں۔

آخر میں بس ایک بات ”جتنی تیز دوڑو گے، اُتنا ہی زیادہ گرنے کا خطرہ ہو گا۔“

امیر بننے کا راستہ ضرور ہے، لیکن وہ راستہ صرف محنت سے گزرتا ہے۔ سوشل میڈیا پر چمکتی ہوئی ویڈیوز دیکھ کر دھوکہ مت کھائیے۔ ہر چمکنے والی چیز ضروری نہیں کہ اصل بھی ہو۔ راتوں رات امیر بننے کا خواب اگر حقیقت میں بدلنا ہے، تو محنت کا راستہ اختیار کرنا ہی ہو گا۔

Facebook Comments HS