ایران کی شکست۔ ایک خواہش رائیگاں
ایران، اسرائیل اور اس کے حواریوں کے درمیان ہونے والی حالیہ جنگ کے تناظر میں جہاں مختلف طبقہ فکر کے دانشوروں نے اپنے اپنے خیالات کو سپرد قلم کیا، وہاں پاکستانی لیفٹسٹس کا رویہ حیران کن حد تک عصبیت سے چور چور ہے۔ محض مذہبی سوچ، انتہا پسندی کو نہیں جنتی ہے۔ مذہب دشمنی کی زرخیز کوکھ سے بھی یہ عفریت جنم لیتا ہے۔ آئیے اس کا تفصیلی جائزہ لیتے ہیں۔
انسانی رویوں میں نفرت ایک ایسا جذبہ ہے جو عقل کو کوڑھی کر دیتا ہے۔ ایرانی انقلاب کو سیاسی بندوبست لکھنے والے روشن خیالی کا لبادہ اوڑھے لبرلز ہوں یا ایران اور اسرائیل کو درپردہ دیرینہ دوست کا طعنہ دینے والے شمشیر عصبیت کو صیقل کیے ہوئے فرقہ پرست، حالیہ جنگ نے ان دونوں کی فکری بد دیانتی کو سر عام برہنہ کر دیا ہے۔
صاحبو! ایسی بھی کیا کم نظری کہ کسی فرد واحد کا نہیں بلکہ ایک زندہ قوم کا ظلم کے خلاف کیے گئے شعوری فیصلے کو آپ سود و زیاں کے میزان میں تولنے لگیں۔ جہاں رجولیت سے عنقا اسلامی ممالک تو ایمان کے آخری درجے، دل سے برا سمجھنے سے بھی خائف ہیں کہ مبادا تخت و تاج سے ہاتھ نہ دھونا پڑ جائے۔ وہاں فرعون وقت کو، باوجود اس کے سارا استعمار اس کے ساتھ ہے، للکارنا جرات موسیٰ نہیں ہے تو اور کیا ہے۔
جذباتی بیانات سے صرف نظر کرتے ہوئے، حقائق پر نظر ڈالنے کی دعوت، اُس وقت مطلق شعبدہ بازی نظر آتی ہے جب آنکھوں سے محض دین پرستی کی عینک اتارنے کا تقاضا تو ہو مگر مذہب عنادی سے ہنوز بصارت مغلظ رہے۔ ورنہ کیوں کر ممکن ہے روز روشن کی طرح نظر آنے والی استقامت و مقاومت کی قامت کو کم کرنے کی کوشش کرتے ہوئے اسے شکست سے تعبیر کیا جائے۔ یا شاید کم ہمتی کی دلدل میں دھنستے ہوئے پست حوصلہ دل و دماغ، اس جوانمردی کا تدارک کرنے سے قاصر ہیں کہ کوئی آزاد قوم، اس زمانے میں، جہاں کج کلاہ کر دینے والی عمارتیں بنوانے والے جدید بدو، مرحب و انتر کے خوف سے مغلوب، دامے درمے سخنے ظلم کی معاونت کر رہے ہوں اور جہاں ترقی یافتہ کہلائے جانے والی مغربی مملکتیں فلسطین پر جاری مظالم کی سرکاری سطح پر مذمت کی استطاعت نہ رکھتی ہوں، وہاں اکیلا ایران کس طرح اس دور میں جرات حیدری کا مظہر بنا ہوا ہے۔
عزیز من! ہیہات منا الذلہ کہنے کی کم سے کم قیمت گھر بار لٹا دینے کا حوصلہ ہے۔ سو ایران نے یہ فیصلہ شعوری طور پر کیا ہے۔ معیشت کی قربانی، سفارتی محاذ پر تنہائی، متعدد ممالک کی سیکرٹ سروسس کا ایران کے داخلی محاذ پر یکسوئی سے کام کرنا، یہ سب آزادی کا خراج ہی تو ہے۔ رہی بات ایٹمی سائنسدانوں اور عسکری قیادت کی شہادت کی تو یہ قربانیاں تو بہادر قوم کے سینے میں سجے وہ تمغے ہیں جن کو کوتاہ بین مغلوبیت کی نشانیاں قرار دیتے پھرتے ہیں۔
مجھے سخت تعجب ہوتا ہے جب اس طرح کی تحریر نظر سے گزرتی ہے کہ ”اکتوبر 2023 میں ایران خطے میں اپنی طاقت کے عروج پر تھا جب حماس نے اسرائیل پر حملہ کر کے 1200 افراد کو قتل اور قریب 700 افراد کو اغوا کیا۔ اس پر اسرائیل نے غزہ میں حماس کے خلاف کارروائی شروع کی جس میں ہزاروں معصوم فلسطینی نشانہ بن چکے ہیں“ ۔ مندرجہ بالا جملے سے بھلا اور کیا مراد ہو سکتی ہے کہ ان تمام معصوم فلسطینیوں کی شہادت کا ذمہ دار اسرائیل نہیں، بلکہ براہ راست حماس بالواسطہ ایران ہے۔ اور گویا اس حملے سے پہلے اسرائیل فلسطین میں گل پاشی کر رہا تھا۔
جہاں اس جنگ سے فرقہ پرستی کی دھند چھٹی ہے وہیں اہل ضمیر کے دلوں کو تقویت بھی ملی ہے۔
عزیزو! اہل خرد کا قلم قوم کی امانت ہوتا ہے۔ تاریخ جب فیصلہ کن موڑ سے گزر رہی ہوتی ہے تو اس امانت میں سہواً یا عمداً کسی غلطی کی گنجائش نہیں ہوتی۔ اس امانت کی اپنی جان سے زیادہ حفاظت کیجئے ورنہ وقت کا فیصلہ بے رحمانہ حد تک منصفانہ ہوتا ہے۔ اگر حرف حق کہنے کا ولولہ نہ ہو تو سچوں میں شامل ہونے کے لئے ادنیٰ ترین عمل، لبوں کو سی لینا ہے۔ اب ان جملوں کو انگشت بدنداں کیے پڑھیے کہ ”رجیم چینج“ کا ببانگ دہل نعرہ لگاتی اسرائیلی حکومت کے لئے یہ کیسے لکھا جا سکتا ہے کہ
” اگرچہ ایران کا پیشوائی نظام موجود ہے اور عالمی قوتیں اسے ختم کر کے مزید انتشار پیدا کرنا بھی نہیں چاہتی ہیں“ ۔ بھلا اس کے سوا اس جنگ کا ہدف ہی کیا تھا۔ جہاں تک یہ کہنا کہ ”ایران اس جنگ میں اپنا کوئی ہدف حاصل نہ کر سکا“ سراسر تنگ نظری ہے۔ یہ جنگ ایران پر مسلط کی گئی تھی اور ایران نے محض اس کا کامیاب دفاع ہی نہیں کیا بلکہ اب تک نا قابل شکست سمجھی جانے والی قوت کے بھرم میں وہ شگاف ڈالا ہے جسے اب کبھی بھرا نہ جا سکے گا۔
آزاد قوموں کی زندگی میں یہ لمحے بارہا آتے ہیں اور قربانیوں کا تسلسل ان کی آزادی کو دوام بخشتا ہے۔ غلام فکر کو چاہیے کہ اس کی تلچھٹ سے کچھ تو روشنی کشید کر لے۔


