سانحہ سوات۔ سیلفی ضروری یا سیلف پروٹیکشن


سوات میں مینگورہ بائی پاس کے قریب ہونے والا المناک واقعہ پوری قوم کو غمزدہ کر گیا۔ جس میں خواتین و بچوں سمیت ایک ہی خاندان کے 18 افراد کی ہلاکت کی خبریں رپورٹ ہو رہی ہیں۔ اور ویڈیوز اور تصاویر میں دیکھا جاسکتا ہے یہ بدقسمت خاندان کس طرح سے لوگوں کو مدد کے لئے پکارتا رہا اور مدد نہ ملنے پر بے بسی کے عالم میں ایک ایک کر کے اپنے سامنے اپنے معصوم بچوں خواتین اور مردوں کو دریائے سوات کی بے رحم لہروں کی نذر ہوتے ہوا دیکھتا رہا۔ اس بدنصیب خاندان میں سے اکثر کی لاشوں کو مختلف مقامات سے تلاش کر کے ان کی نماز جنازہ ادا کی جا چکی ہے جبکہ کچھ کی لاشوں کی تلاش تاحال جاری ہے۔ پوری قوم اس غمزدہ خاندان کے دکھ میں برابر کی شریک ہے۔

یہ اپنی نوعیت کا پہلا واقعہ نہیں ہے۔ بالکل اسی طرح کا واقعہ ماضی میں بھی ہوا تھا جس میں چند بدنصیب دوست اسی طرح سے مدد مانگتے مانگتے دریا کی لہروں کی نذر ہو گئے تھے۔ اس سال بھی ابھی تک اور ماضی میں بھی ملک کے مختلف علاقوں میں اس طرح کے بہت سے واقعات رونما ہو چکے ہیں۔ کوئٹہ کے علاقے ثوب کی ایک ندی میں چار بہنوں اور مردان کے دو افراد کی دریائے سوات میں اسی طرح ڈوب کر جاں بحق ہونے کی خبر سامنے آئی ہے۔ اس سے قبل ماضی میں کشمیر کی آبشار کنڈل شاہی کے لکڑی کے پل اور خیبر پختونخوا کے ہینگنگ پلوں پر تصویریں بنوانے والے طلبہ و طالبات زیادہ وزن کی وجہ سے پل گر جانے کی وجہ سے جاں بحق ہو گئے تھے۔

ان واقعات پر غیر ذمہ دارانہ سیاست کرنا یقیناً دانشمندی نہیں ہے۔ تاہم اس سلسلے میں کوئی دوسری رائے نہیں کہ سانحہ سوات اور اسی طرح کے دیگر واقعات متعلقہ علاقوں کے ذمہ داران کو ان سیاحتی مقامات پر خاص طور پر مون سون کے دنوں اور بالعموم عام دنوں میں ریسکیو کے فوری اور بہتر انتظامات کرنے اور میکینزم بنانے کی طرف توجہ دلاتے ہیں۔ کیونکہ یہ پہلو لمحہ فکریہ ہے کہ مبینہ طور ماضی میں بھی، اب بھی دریاؤں کی لہروں میں پھنسے یہ لوگ کئی گھنٹے تک مدد کے منتظر رہے۔ لیکن بد قسمتی سے سرکاری اداروں کی ریسکیو ٹیمیں ان تک بروقت نہ پہنچ سکیں۔ لہذا بالخصوص خیبرپختونخوا، کشمیر، بلوچستان، گلگت بلتستان سمیت تمام صوبائی حکومتوں کو اس قسم کے سانحات سے بچنے کے لئے خصوصی انتظامات کرنے چاہئیں۔ کیونکہ مون سون کے دنوں میں آنے والے سیلاب اور بارشوں میں مناسب انتظامات نہ ہونے کی وجہ سے ملک بھر میں ہمیں بڑے پیمانے پر جانی و مالی نقصانات اٹھانے پڑتے ہیں۔

ان واقعات کا ایک دوسرا اہم سماجی پہلو یہ ہے کہ ہمارے معاشرے میں موبائل فونز کا استعمال جہاں سماجی رابطے، معلومات، ابلاغ اور سٹیزن جرنلزم کا اہم ذریعہ بن چکا ہے وہیں اس کے بہت زیادہ غیر محتاط استعمال کی لت نے معاشرے میں غیر صحتمندانہ عادات، نفسیاتی و ذہنی مسائل پیدا کیے ہیں۔ اس کے علاوہ ضروری و غیر ضروری طور پر اپنی جانوں کو خطرے میں ڈال کر سیلفی لینے اور ٹک ٹاک بنانے کا رجحان خطرناک حد تک بڑھ چکا ہے۔ ایک سروے کے مطابق پاکستان میں ایک سال کے دوران سینکڑوں افراد غیر محتاط طور پر سیلفی ٹک ٹاک اور تصاویر بنانے کی وجہ سے جان کی بازی ہار جاتے ہیں۔ اور وقت کے ساتھ ان واقعات میں اضافہ رپورٹ ہو رہا ہے۔ موجودہ المناک واقعے میں بھی بدقسمتی سے ایک ہی خاندان کے 18 افراد اور گزشتہ سالوں میں چند دوستوں اور دیگر بے شمار رپورٹ کیے جانے والے واقعات میں ہلاکت کی وجہ غیر محتاط طریقے سے ٹک ٹاک، تصویریں اور سیلفی بنانے کی خواہش ہی بنی ہے۔ تازہ واقعہ کی تصویروں اور ویڈیوز میں ہم دیکھ سکتے ہیں کے افسوسناک طور پر اس سانحے میں صرف بچے یا نوجوان ہی شامل نہیں بلکہ بڑی عمر کے مرد و خواتین بھی شامل ہیں۔ جنہیں سمجھداری کا ثبوت دیتے ہوئے نہ ہی خود اس غیر ذمہ دارانہ فعل کا مرتکب ہونا چاہیے تھا بلکہ باقی اہل خانہ کو بھی سختی سے اس فعل سے روکنا چاہیے تھا۔ لیکن افسوس کہ اس لت کا شکار اب ہر عمر کے لوگ ہو چکے ہیں اور اسی مائنڈ سیٹ اور رویہ کی وجہ سے یہ انتہائی دردناک واقعہ پیش آیا۔

اس معاشرتی پہلو کے پیش نظر اس سانحے کی ذمہ داری مکمل طور پر کسی ادارے یا حکومت پر ڈالنا مناسب نہیں ہو گا۔ اس میں سیاحوں اور شہریوں کو اپنی ذمہ داری کا احساس بھی کرنا ہو گا اور اس قسم کے سانحات سے بچنے کے لئے ٹک ٹاک، سیلفی اور تصاویر بناتے ہوئے اپنی زندگیوں کو داؤ پر لگانے سے باز رہنا ہو گا۔ ہر جگہ اور ہر وقت آپ کے تحفظ کے لئے حکومتی اداروں کا پہنچنا ممکن نہیں۔ اور سیلفی، ٹک ٹاک اور تصاویر یقیناً آپ کی قیمتی جانوں سے زیادہ قیمتی نہیں۔ لہذا سیلفی، ٹک ٹاک اور تصاویر بنانے کی اس لت کا شکار ہو کر اپنی جان اور عزت کو خطرہ میں نہ ڈالیں اور روزانہ رپورٹ ہونے والے واقعات سے سبق سیکھتے ہوئے اپنے ایسے شوق اور پروفیشنل معاملات کو انتہائی محتاط انداز میں پورا کریں اور سیلفی پر سیلف پروٹیکشن کو ترجیح دیں۔

Facebook Comments HS