پاکستان میں اقلیتی طلباء کی مذہبی تعلیم


Emmanuel Neno

پاکستان میں جہاں اسلام ریاستی مذہب کی حیثیت رکھتا ہے، وہیں آئینِ پاکستان اقلیتوں کو مذہبی آزادی اور مساوی شہری حقوق کی ضمانت دیتا ہے۔ آرٹیکل 22 ( 1 ) واضح طور پر بیان کرتا ہے کہ ”کسی بھی تعلیمی ادارے میں زیر تعلیم کسی شخص کو اُس کے اپنے مذہب کے علاوہ کسی اور مذہب کی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور نہیں کیا جائے گا“ ۔ تاہم، بے شمار غیر مسلم طلباء کے لیے یہ آئینی حق عملی طور پر محض کاغذوں تک محدود رہ گیا ہے۔

ایک غیر منصفانہ تعلیمی نظام

پاکستان کے سرکاری اور نجی اسکولوں میں پہلی جماعت سے ہی اسلامیات کو مسلم طلباء کے لیے لازمی قرار دیا گیا ہے۔ اصولی طور پر غیر مسلم طلباء کو اسلامیات کے بجائے اپنے اپنے مذہب کے مطابق تعلیم دی جانی چاہیے۔ مگر زمینی حقیقت یہ ہے کہ۔ :

•اُنہیں زبردستی اسلامیات کی کلاسز میں بٹھایا جاتا ہے،
•اُنہیں دورانِ تعلیم اپنے مذہب کی باقاعدہ تدریس سے محروم رکھا جاتا ہے،
•وہ غیر رسمی، غیر مربوط اور اکثر غیر تسلیم شدہ ذرائع سے مذہبی تعلیم حاصل کرنے پر مجبور ہوتے ہیں۔

یہ رویہ اقلیتی طلباء میں احساسِ بیگانگی، شناختی کشمکش اور روحانی کمزوری کو جنم دیتا ہے۔ نتیجتاً، ان کی جذباتی نشوونما اور تعلیمی ماحول میں شمولیت شدید متاثر ہوتی ہے۔

مثبت پیش رفت: نصاب کی منظوری اور سرکاری منظوری

2023 میں ایک امید افزا اقدام سامنے آیا، جب نیشنل کریکولم کونسل (NCC) نے اقلیتی برادریوں اور ماہرینِ تعلیم کی مشاورت سے جماعت اول تا پنجم تک سات اقلیتی مذاہب کے لیے مذہبی تعلیم کے نصابات اور درسی کتب کی منظوری دی۔ ان مذاہب مسیحیت، ہندومت، سکھ مت، بہائیت، زرتشتیت، کالاش، اور بدھ مت میں شامل ہیں۔ یہ نصابات احترام، ذمہ داری، اور بین المذاہب شراکت سے تیار کیے گئے اور و زارتِ وفاقی تعلیم و پیشہ ورانہ تربیت کی ویب سائٹ پر باقاعدہ طور پر اپلوڈ کیے گئے ہیں۔ کتب کی اشاعت کے لیے نیشنل بُک فاؤنڈیشن کو ذمہ داری دی گئی، اور درسی کتب کے حتمی مسودے مکمل کر لیے گئے۔

بے معنی خاموشی: تاخیر کیوں؟

نصاب کی منظوری اور تکنیکی مراحل مکمل ہونے کے باوجود، یہ کتب تاحال شائع یا تقسیم نہیں کی گئیں۔ نہ کوئی سرکاری بیان جاری ہوا، نہ ٹائم لائن دی گئی، اور نہ ہی کسی وزارت نے اس تاخیر کی ذمہ داری قبول کی۔ اقلیتی برادریاں، والدین، اور سول سوسائٹی تنظیمیں بے چینی اور مایوسی کا شکار ہیں۔ یہ خاموشی کئی سوالات کو جنم دیتی ہے :

•جب نصاب منظور ہو چکا ہے، تو کتب کی طباعت میں تاخیر کیوں؟
•کیا یہ محض انتظامی رکاوٹ ہے یا دانستہ نظر اندازی؟
•کیا آئینی وعدے محض رسمی اعلان تھے؟
تاخیر کی قیمت: روحانی پیاسے بچے

یہ تاخیر صرف ایک فائل یا عمل درآمد کا مسئلہ نہیں، بلکہ بے شمار بچوں کی روزمرہ کی تعلیمی زندگی اور روحانی شناخت سے جڑی ہوئی ہے۔ اس تاخیر کے اثرات گہرے اور ذاتی ہیں۔

•بچے اپنے مذہب کی تعلیم رسمی اور محفوظ تعلیمی ماحول میں حاصل نہیں کر پاتے،
•کچھ بچے مجبوری میں اسلامیات پڑھتے ہیں، تاکہ وہ دوسروں جیسے نظر آئیں یا امتحانات میں اچھے نمبر لیں،
•کچھ بچوں کو اپنی مذہبی شناخت سے اجنبیت کا سامنا ہوتا ہے،
•غیر رسمی تعلیم، اگر میسر بھی ہو، تو وہ غیر مربوط، غیر مساوی اور اکثر ناقابلِ قبول ہوتی ہے۔
یہ صورتحال نہ صرف آئینی وعدوں کی خلاف ورزی ہے بلکہ ایک اخلاقی ناکامی بھی ہے۔

عملی اقدامات: وقت کم ہے، کام بہت

مذہبی تعلیم سے متعلق اس پالیسی کو موثر انداز میں نافذ کرنے کے لیے مندرجہ ذیل اقدامات ناگزیر ہیں
1۔ نیشنل بک فاؤنڈیشن کے ذریعے ان منظوری شدہ کتب کی فوری اشاعت اور ملک گیر تقسیم عمل میں لائی جائے۔

2۔ تمام صوبائی حکومتوں سے مکمل ہم آہنگی کے ساتھ ان کتب کو اسکولوں میں متعارف کروایا جائے تاکہ یہ صرف وفاقی دائرے تک محدود نہ رہے۔

3۔ اقلیتی برادریوں سے تعلق رکھنے والے اساتذہ کی بھرتی اور تربیت کی جائے تاکہ وہ اپنی مذہبی تعلیم باقاعدہ طریقے سے دے سکیں۔

4۔ وزارتِ تعلیم کو چاہیے کہ تاخیر کی وجوہات، مجوزہ ٹائم لائن اور آئندہ اقدامات سے متعلق شفاف معلومات فراہم کرے۔

5۔ ایک آزاد مانیٹرنگ اور جائزہ لینے والا ادارہ قائم کیا جائے جو کتب کی تدریس، ترسیل اور اثرات کی نگرانی کرے۔

6۔ مستقبل میں نصاب سازی، پالیسی فیصلوں اور درسی کتب کی تیاری میں اقلیتوں کی مستقل اور ادارہ جاتی نمائندگی یقینی بنائی جائے۔

آئینی حقوق رعایت نہیں ہوتے

اقلیتی مذاہب کے نصابات کی منظوری ایک اہم سنگِ میل ضرور ہے، مگر اگر اس پر عمل درآمد نہ کیا جائے تو یہ ایک علامتی اعلان سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ مذہبی تعلیم کوئی رعایت نہیں بلکہ اقلیتوں کا آئینی، انسانی اور روحانی حق ہے۔ اقلیتی طلباء کو بھی وہی وقار، مساوی مواقع اور مذہبی شعور کا حق حاصل ہے جو اکثریتی برادری کے طلباء کو میسر ہے۔

تاخیر کا مطلب انکار ہے۔ اور انکار امتیاز کو جنم دیتا ہے۔

اب وقت ہے کہ آئینی وعدوں کو الفاظ سے نکال کر عمل میں لایا جائے، قبل اس کے کہ ایک اور نسل اپنے حق سے محروم ہو جائے۔

Facebook Comments HS