پاک بھارت جنگ کی خواہشمند اشرافیہ


”امریکہ نے ہماری ایٹمی لیبارٹریز پہ اپنے جنگی طیاروں کے ذریعے حملہ کرنے سے پہلے ہمیں اطلاع دی“ ایران کی حکومت کی جانب سے باضابطہ بیان جاری کیا گیا۔ پھر عالمی اشرافیہ کے نمائندے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کا عالمی میڈیا پہ بیان جاری ہوا ”ہم ایرانی حکومت کے شکر گزار ہیں کہ اس نے قطر وغیرہ میں امریکی اڈّوں پہ حملہ کرنے سے پہلے ہمیں مطلع کیا“ ۔

ایک ارب سے زیادہ انتہائی غریب افراد رکھنے والے دو ممالک پاکستان اور بھارت میں بھی ایک بے رحم، خود غرض اور سفاک اشرافیہ ہے جو اپنے مخصوص مفادات کی تکمیل کے لیے دوبارہ سے ان دو ممالک کے درمیان جنگ دیکھنا چاہتی ہے۔ یہ اشرافیہ جب میڈیا کے سامنے آتی ہے تو ایک دوسرے کے ممالک اور لیڈرشپ کے خلاف دھواں دھار بیان جاری کر رہی ہوتی ہے لیکن اندر خانے یہ ایک دوسرے کے دوست اور خیر خواہ ہیں۔

ایک ملک کی اشرافیہ کا نمائندہ لیڈر دوسرے ملک کی اشرافیہ کے نمائندہ لیڈر کی بیٹی یا پوتی یا نواسی کی منگنی یا شادی وغیرہ کی تقریبات میں پورے پروٹوکول کے ساتھ شرکت کرتا ہے تو دوسرے ملک کی اشرافیہ کے باوردی نمائندے کو اپنے ملک میں فلم سٹار رانی مکر جی کے ساتھ ناشتہ پہ پروٹوکول دیا جاتا ہے یعنی دونوں ممالک کی اشرافیہ ایک ہی تھالی کے ”چٹے بٹے“ ہیں۔ میرے شہر بہاول پور کے قریب ایک مسجد اور مدرسہ کے بچوں، عورتوں اور بوڑھوں کو میزائل حملہ میں مارنے کے بعد مودی حکومت نے بھی عالمی میڈیا پہ بیان جاری کیا کہ اس نے یہ حملہ کرنے سے پہلے پاکستان کو مطلع کیا تھا۔ سوال یہ پیدا ہوتا ہے کہ دونوں ممالک کی اشرافیہ کے نمائندے آپس میں ایک دوسرے کے دوست ہونے کے باوجود دونوں ممالک کے درمیان جنگ کیوں چاہتے ہیں؟ اس بلاگ میں ہم اسی بات کا جائزہ لیتے ہیں۔

جنوبی ایشیا میں عام آدمی کس طرح کے حالات سے گزر رہا ہے اس کی ایک مثال تو آج تیس جون 2025 کو جاری ہونے والا ایک نوٹیفیکیشن ہے جس کا مفہوم کہتا ہے کہ اگرچہ آپ انتہائی غریب اور سفید پوش ہونے کی وجہ سے پروٹیکٹڈ کنزیومر میں شمار ہوتے ہیں لیکن آئندہ سے آپ پہ لاگو ہونے والے گیس فکسڈ چارجز میں اضافہ کیا جاتا ہے۔

اب آپ اپنا خون نکلوا کر بیچو، چوری کرو، مالی کرپشن کرو یا بھیک مانگو جو بھی کرو سوئی گیس اور بجلی کے بھاری بل ادا کرو یا پھر خود کشی کر لو کیونکہ جس دھوکے میں تم پڑے ہوئے ہو کہ ایک ملک مذہب کے نفاذ کے لیے بنا تھا اور دوسرا سیکولرازم کے لیے تو بھائی حقیقت یہ ہے کہ دونوں ممالک انگریز کو دیس بدر کر کے مقامی اشرافیہ کو پالنے کے لیے بنائے گئے تھے۔

مختلف مواقع پہ آنے والے غیر حتمی تخمینوں کے مطابق بھارت میں غربت کی زندگی گزارنے والے افراد کی تعداد نوّے کروڑ اور پاکستان میں اٹھارہ کروڑ سے زیادہ ہے پھر ان میں کروڑوں افراد وہ ہیں جو خطِ غربت سے بھی نیچے زندگی گزار رہے ہیں۔ ان غریبوں کے لیے نہ تو سہولتیں ہیں اور نہ انصاف بس ان کو روٹی کے لالے پڑے ہوتے ہیں۔ دوسری طرف ان دو ممالک کی اشرافیہ ہے جس کے لیے سارے سرکاری وسائل مفت ہی مفت ہیں۔ نسل در نسل یہ اشرافیہ ان دو ممالک پہ حکومت کرتی چلی آ رہی ہے اور ان ممالک کے تمام وسائل کی بلاشرکت غیرے مالک چلی آ رہی ہے۔

عام آدمی کی نظر میں شاید اشرافیہ کا تصور یہ ہو کہ ایسا امیر آدمی جو زرعی زمین رکھتا ہو، بنگلہ اور گاڑی رکھتا ہو، قیمتی لباس پہنتا ہو اور اس کی میز پہ کئی کھانے ہوں تو بس وہی اشرافیہ کا اکیلا نمائندہ ہے۔ عرض ہے کہ بہت پہلے اکبر شیخ اکبر نے چھوٹے بچوں کے لیے لکھی جانے والی ایک کہانی پڑھی تھی اُس میں لکھا تھا کہ دور بہت دور سمندر میں ایک جزیرہ ہوتا تھا وہاں اشرافیہ سے مراد بڑے فوجی افسران، بیورو کریٹس، جج، بڑے پولیس افسران، دولتمند سیاستدان، جاگیردار، صنعتکار، سرمایہ دار اور بڑے مذہبی و روحانی رہنما تھے جن کے عیش و آرام کے لیے ریاست عام آدمی پہ ٹیکسوں، سوئی گیس اور بجلی کے بھاری بلوں، کھانے پینے کی اشیاء اور ادویات کی ہوش ربا قیمتوں اور دیگر مد میں وصولیوں کے ذریعے وسائل جنریٹ کرتی اور پھر یہ سارے وسائل اشرافیہ کو ہر طرح کی سہولتیں مفت فراہم کرنے کے لیے خرچ کر دیتی۔

انڈیا اور پاکستان میں غریب اور سفید پوش طبقے، مڈل کلاس خاص طور پہ لوئر مڈل کلاس اور عام آدمی کی حالت بہت خراب ہے۔ ان دونوں ممالک میں امریکہ اور یورپ کی طرح کوئی سوشل ویلفیئر سسٹم نہیں ہے۔ امریکہ او ر یورپ خاص طور پہ سیکنڈے نیوین ممالک اور کینیڈا وغیرہ میں آپ سرکاری نوکری نہ بھی کرتے ہوں پھر بھی بوڑھے ہونے پہ ہر شہری کے لیے ماہانہ پنشن مقرر کر دی جاتی ہے تاکہ وہ بڑھاپے کی زندگی پرسکون طریقہ سے گزار سکے اور جنوبی ایشیا میں اصلاحات کے نام پہ کہا جاتا ہے کہ پنشنر کی بیوہ صرف دس سال تک پنشن وصول کرے اور بڑھاپا کی باقی زندگی سڑک پہ بھیک مانگ کر گزارے۔

احباب! جب بھی ان دو ممالک کے عوام کے اندر اشرافیہ کے خلاف بغاوت والے جذبات پیدا ہونے لگتے ہیں تو اشرافیہ ان کا ذہن، ان کے خیالات اور جذبات کا رُخ بدلنے کے لیے دونوں ممالک کے درمیان جنگی ماحول پیدا کر کے ”جنگ جنگ“ کا کھیل کھیلنا شروع کر دیتی ہے اور پھر ان دونوں ممالک کے عوام اپنے بُرے حالات کو بھول کر اس اشرافیہ کو ہی اپنا نجات دہندہ سمجھنے لگ جاتے ہیں۔ انڈیا اور پاکستان کے عوام سے راقم کی درخواست ہے کہ وہ جنگی جنون کو ہوا دینے والوں کو اپنا خیر خواہ نہ سمجھیں۔ مذہب، زبان، نسل اور قومیت کے نام پہ نفرتوں کو ہوا دے کر اشرافیہ آپ کا دھیان اس طرف آنے ہی نہیں دیتی کہ آپ کی موجودہ حالتِ زار کی اصل ذمہ دار وہی ہے۔

احباب! اب ہم ایک اور موضوع کی طرف چلتے ہیں۔ 27 جون 2025 کو سپریم کورٹ آف پاکستان نے ایک فیصلہ دیا جس کے نتیجہ میں پاکستان تحریکِ انصاف کو قومی اور صوبائی اسمبلیوں میں مخصوص نشستوں سے محروم ہونا پڑا۔ عمران خان کے چاہنے والوں کا تو دعوٰی ہے کہ وہ حالیہ پاکستانی سیاسی تاریخ کا سب سے بڑا مقبول لیڈر ہے یہاں تک کہ وہ اگر کسی بجلی کے کھمبے کو بھی بطور امیدوار جنرل الیکشن میں کھڑا کر دے تو خان کے چاہنے والے اس لوہے کے کھمبے پر بھی مہریں لگا دیں گے۔ سپریم کورٹ کا یہ فیصلہ درست تھا یا نہیں ہم اس بحث میں نہیں جانا چاہتے کیونکہ سامنے توہینِ عدالت، پیکا ایکٹ اور دیگر کئی قوانین موجود ہیں اور اس شدید حبس کے موسم میں ہم کھلی ہوا میں سانس لینا چاہتے ہیں۔ یہ جو کبھی کبھی بہاول پور میں رات کو برسنے والی بارش کے بعد صبح صبح ہم اپنے موٹر سائیکل کا رخ شہر سے باہر اسلامیہ یونیورسٹی روڈ کی طرف کر دیتے ہیں تاکہ کھلی تازہ ہوا میں جی بھر کر سانس لے سکیں تو بات کو سمجھ جائیں کہ ابھی ہم بادل، بارش، بادِ صبا اور پکوڑوں کو انجوائے کرنا چاہتے ہیں۔

ہاں، چونکہ مخصوص نشستوں پہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے بعد حکومت میں شامل اتحادی جماعتوں کو بڑی دو تہائی اکثریت مل چکی ہے تو اب ان کے پاس نئے صوبے بنانے کے لیے قانون ساز اداروں میں دو تہائی عددی اکثریت نہ ہونے کا کوئی عذر نہیں رہا۔ راقم حکومت اور اسمبلی میں موجود تمام سیاسی جماعتوں کو تجویز دیتا ہے کہ آپ فوری طور پہ ایگزیکٹو آرڈر کے ذریعے بہاول پور صوبہ بحال کریں اور پھر مشترکہ قانون سازی کے ذریعے ملک میں اٹھارہ سے انیس نئے صوبے بنائیں کیونکہ اسی میں پاکستان کی معاشی بقا اور ترقی مضمر ہے۔

Facebook Comments HS