فن کار دیش دروہی نہیں ہوتے


1965 کی جنگ کے بعد پاکستان اور بھارت کے تعلقات میں مسلسل اتار چڑھاؤ آتے رہے، لیکن فن و ثقافت کا رشتہ ان کشیدہ حالات کے باوجود مکمل طور پر منقطع نہیں ہوا۔ اگرچہ سرکاری سطح پر پابندیاں رہیں، مگر دونوں ممالک کے اداکار وقتاً فوقتاً ایک دوسرے کے فلمی منظرنامے کا حصہ بنتے رہے۔ 1982 میں زیبا بختیار نے بھارتی فلم حنا میں مرکزی کردار ادا کیا، جس سے وہ بھارت میں بے حد مقبول ہوئیں۔ بعد ازاں جاوید شیخ، معمر رانا، علی ظفر، فواد خان اور ماہرہ خان نے بھی بالی وڈ فلموں میں کام کیا۔ علی ظفر کی تیری بن لادن اور فواد خان کی خوبصورت اور کپور اینڈ سنز جیسی فلموں نے بھارتی ناظرین کے دل جیتے۔ دوسری طرف، نصیرالدین شاہ، اوم پوری، کرن کھیر اور کئی بھارتی فنکاروں نے پاکستانی فلموں اور ڈراموں میں اداکاری کی، جن میں خدا کے لیے اور مالک نمایاں ہیں۔ مگر ہر بار جب کوئی سیاسی یا عسکری کشیدگی پیدا ہوئی، ان فنکارانہ روابط پر قدغن لگا دی گئی، اور فنکاروں کو ملک دشمن کہہ کر نشانہ بنایا گیا۔ اس کے باوجود، دونوں طرف فن اور فن کاروں نے بارہا ثابت کیا کہ وہ سرحدوں کا محتاج نہیں۔

ایک ایسا ہی کیس موجودہ صورت حال میں سوشل میڈیا کی زینت بنا ہوا ہے جس میں انڈین پنجاب کے اداکار اور گلوکار دل جیت نے اپنی پنجابی فلم ریلیز کی اس کی ریلیز کے بعد انڈین میڈیا اور سوشل میڈیا پر ان کی مخالفت کا بازار گرم ہو گیا صرف اس بنا پر کہ اُن کی فلم میں ایک پاکستانی اداکارہ شامل ہے۔ حیرت انگیز طور پر اس فلم کی شوٹنگ اس وقت مکمل ہو چکی تھی جب پہلگام حملہ پیش ہی نہیں آیا تھا، مگر اس کے باوجود دلجیت پر ’دیش دروہی‘ کا الزام عائد کیا جا رہا ہے۔ یہ ردِعمل نہ صرف غیر منصفانہ ہے بلکہ اس سے فن، ثقافت اور اظہار کی آزادی پر سوال اٹھتا ہے۔ ایسا معلوم ہوتا ہے جیسے حب الوطنی کا معیار صرف سیاسی بیان بازی رہ گیا ہو، اور فنکاروں کو محض سرحدوں کے بیچ قید کر کے دیکھا جا رہا ہو۔ دلجیت جیسے فنکار، جو عالمی سطح پر پنجابی ثقافت اور موسیقی کو فروغ دے رہے ہیں، کو اس انداز میں نشانہ بنانا نہ صرف افسوسناک ہے بلکہ اس بات کا ثبوت بھی ہے کہ بھارت میں آج فن کو سیاست کی بھینٹ چڑھایا جا رہا ہے۔

دلجیت دوسانجھ کے خلاف جاری مہم دراصل بھارتی حکومت کی اس طاقت ”کی ناکامی کا مظہر ہے، جس کے ذریعے وہ دنیا کو ایک ترقی یافتہ، روادار اور ثقافتی طور پر روشن خیال ملک کے طور پر پیش کرنا چاہتی ہے۔ جب ایک عالمی سطح پر پہچانے جانے والے پنجابی فنکار کو محض اس بنیاد پر ملک دشمن قرار دیا جائے کہ اُس کی فلم میں ایک پاکستانی اداکارہ شامل ہے۔ اور وہ بھی ایک ایسے وقت میں جب فلم کی شوٹنگ کسی سانحے سے پہلے مکمل ہو چکی ہو۔ تو یہ بات صاف ہو جاتی ہے کہ بھارت کی میڈیا وار، ثقافتی جنگ اور عالمی بیانیہ مکمل طور پر کمزور ہو چکا ہے۔ حکومتِ ہند جو دنیا کو یہ تاثر دینا چاہتی تھی کہ وہ فن، موسیقی اور اظہارِ رائے کا احترام کرتی ہے، وہ خود اپنے ہی فنکاروں پر پابندیاں لگا کر یہ ثابت کر رہی ہے کہ اس کی سب سے بڑی کمزوری اُس کا اپنا عدم برداشت ہے۔ دلجیت کے خلاف مہم دراصل اس جنگ میں اُس کی اخلاقی اور فکری شکست کا ثبوت ہے، جسے وہ خود اپنی سرحدوں کے اندر جیتنے میں ناکام ہو چکی ہے۔

دنیا میں بہت سے ممالک ایسے ہیں جن کے درمیان شدید سیاسی اختلافات اور سرد جنگیں جاری رہی ہیں، مگر انہوں نے فنکاروں، ادیبوں اور گلوکاروں کو نشانہ نہیں بنایا۔ مثال کے طور پر امریکہ اور روس کے تعلقات کئی دہائیوں تک سرد جنگ کی لپیٹ میں رہے، مگر اس دوران روسی موسیقار، ناول نگار اور فلم ساز مغربی ممالک میں پذیرائی حاصل کرتے رہے، اور امریکی فنکار بھی روسی سامعین کے درمیان مقبول رہے۔ چین اور تائیوان کے سیاسی اختلافات بھی شدید ہیں، لیکن دونوں اطراف کے فلم ساز، مصنفین اور موسیقار ایک دوسرے کے ساتھ کام کرتے ہیں یا کم از کم ایک دوسرے کے کام کو روکا نہیں جاتا۔ جنوبی کوریا اور جاپان کے تاریخی تنازعات کے باوجود جاپانی انیمیشن اور کورین ڈرامے سرحد پار مقبول ہیں۔ حتیٰ کہ ایران اور امریکہ جیسے نظریاتی مخالف ممالک میں بھی فنونِ لطیفہ کے میدان میں مکمل پابندی کی روش نہیں اپنائی گئی۔ ایسے میں بھارت جیسے جمہوری ملک کا اپنے ہی فنکاروں کو صرف اس لیے نشانہ بنانا کہ انہوں نے کسی پاکستانی اداکار یا اداکارہ کے ساتھ کام کیا، نہ صرف فن کے دائرے کو محدود کرتا ہے بلکہ عالمی سطح پر بھارت کی جمہوریت پسندی کے دعوے کو بھی مشکوک بنا دیتا ہے۔ دنیا کی باشعور اقوام سیاست اور فن میں حدِ فاصل قائم رکھتی ہیں، کیونکہ وہ جانتی ہیں کہ فنکار سرحدوں کے نہیں، انسانیت کے نمائندے ہوتے ہیں۔

اگرچہ ہم پاکستانی بھی ان معاملات میں کچھ وسیع القلب ثابت نہیں ہوئے ہیں لیکن کچھ حقائق ایسے ہیں جنہوں نے پاکستان کو انڈیا میں موجودہ حکومت سے بہتر ثابت کر دیا ہے

2015 میں عدنان سمیع نے بھارتی شہریت اختیار کرنے کے بعد متعدد مواقع پر پاکستان مخالف بیانات دیے، جن پر پاکستانی عوام کی جانب سے سخت ردعمل بھی آیا۔ اس کے باوجود پاکستانی حکومت یا پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) نے ان کے سوشل میڈیا اکاؤنٹس پر کوئی مخصوص یا انفرادی پابندی عائد نہیں کی۔ ان کے اکاؤنٹس پاکستان میں اُس وقت عارضی طور پر نظر نہ آنے کی وجہ صرف یہ تھی کہ پورے پلیٹ فارم، خصوصاً ایکس (سابقہ ٹویٹر) ، پر قومی سطح پر عارضی پابندی لگائی گئی تھی، جس کا تعلق ملکی سیاسی حالات سے تھا، نہ کہ کسی ایک شخصیت سے۔ اس حقیقت سے واضح ہوتا ہے کہ پاکستان نے ذاتی رنجش یا کسی فنکار کی شہریت کے فیصلے کی بنیاد پر سوشل میڈیا سینسرشپ نہیں کی،

بھارت نے ”“ آپریشن سیندور 2025 کے بعد پاکستانی فنکاروں، ڈراموں، فلموں، گانوں اور ویب سیریز پر مکمل پابندی عائد کر دی۔ نہ صرف تمام بڑے OTT پلیٹ فارمز جیسے Netflix، Amazon Prime، Zee 5 سے پاکستانی مواد ہٹایا گیا، بلکہ یوٹیوب پر پاکستانی چینلز جیسے HUM TV، ARY Digital اور Geo کو بھارتی ناظرین کے لیے بلاک کر دیا گیا۔ اس شدید اور علانیہ پابندی کے بعد بھارت میں لاکھوں ناظرین کو ”This video is not available in your country“ جیسے پیغامات دیکھنے کو ملے۔

اس کے برعکس، پاکستان نے اس بھارتی اقدام کا کوئی انتقامی ردعمل نہیں دیا۔ پاکستان کی میڈیا پالیسی مستقل، دفاعی اور نسبتاً خاموش رہی ہے، اگرچہ پاکستان میں 2016 سے بھارتی ڈرامے اور 2019 سے فلمیں ٹی وی اور سینما پر بند ہیں، لیکن یوٹیوب یا OTT پر پاکستانی حکومت نے کوئی نئی پابندی عائد نہیں کی۔ آج بھی پاکستانی ناظرین یوٹیوب پر بھارتی گانے، فلمی سین، اور شوز تک رسائی حاصل کر سکتے ہیں، جب کہ بھارت نے صرف سیاسی بنیادوں پر فن، ثقافت اور میڈیا کا دروازہ مکمل بند کر دیا۔

یہ فرق اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستان نے اس معاملے میں بالغ نظری، سنجیدگی اور ثقافتی رواداری کا مظاہرہ کیا۔ پاکستان نے فن کو نفرت کی سیاست کا شکار نہیں بنایا، بلکہ یہ پیغام دیا کہ ثقافت، اظہار اور فن کو سرحدوں کا قیدی نہیں ہونا چاہیے۔ پاکستان نے یہ ثابت کر دیا کہ وہ اختلافات کے باوجود فن اور مکالمے کا احترام کرنے والا معاشرہ ہے، جو جنگی ماحول میں بھی فنکار کو دشمن نہیں سمجھتا۔

Facebook Comments HS