صلیبیں اپنی اپنی، قسط نمبر 46 : شکستہ خواب
”کس کا آہ و نالہ ہے؟ کس کا افسوس؟ کس کے جھگڑے ہیں؟ کس کی شکایتیں ہیں؟ کس کے فضول زخم ہیں؟ کس کی دھندلی آنکھیں ہیں؟ ان کے جو دیر تک شراب میں بیٹھے رہتے ہیں، جو ملے جلے مشروب کے پیچھے لگے رہتے ہیں۔ جب شراب سُرخ ہو، جب پیالے میں چمکے اور آسانی سے اُترے، تو اُسے نہ دیکھ۔ آخر میں وہ سانپ کی طرح کاٹتی ہے اور اَفعی کی طرح ڈنک مارتی ہے۔ تیری آنکھیں عجیب چیزیں دیکھیں گی اور تیرا دل الٹی سیدھی باتیں کہے گا۔ تو ایسا ہو جائے گا جیسے کوئی سمندر کے بیچ میں لیٹا ہو یا مستول کے سرے پر۔“ امثال 23 : 29۔ 34
مریم کو احساس نہیں تھا کہ وہ کتنی دیر سے وہاں بیٹھی تھی۔ اس کی بائیں کہنی میز پر تھی اور رخسار اُس کی مُٹھی کے اوپر ٹِکا ہوا تھا۔ کمرے میں چار بڑی بڑی گول میزیں تھیں جن میں سے ہر ایک کے گرد آٹھ کرسیاں تھیں اور وہ ان ہی میں سے ایک کرسی پر بیٹھی تھی۔ سامنے ایک کاؤنٹر تھا جس پر ایک جانب گلاسوں کی قطاریں لگی تھیں اور اُس کے پیچھے الماری میں چنی ہوئی شراب کی بوتلیں تھیں۔ اگرچہ وہ منظر مریم کے سامنے تھا مگر اُس نے خود کو خالی الذہن کر کے اس سے علیحدہ کر لیا تھا۔ اچانک اسے اپنے کندھے پر کسی کا ہاتھ محسوس ہوا۔ ظاہر ہے کہ عارف ہی رہا ہو گا۔ پھر بھی اس نے آہستہ سے اپنا سر اٹھایا اور گردن موڑ کر اوپر دیکھا۔
”تم یہاں بیٹھی ہو اور میں تمہیں پورے گھر میں ڈھونڈھ رہا ہوں،“ عارف نے مسکرا کر کہا، مگر اسے مریم کی آنکھوں میں اجنبیت سی نظر آئی۔ کیا یہ اجنبیت ہی تھی، یا بے رخی، یا پھر خوف؟ عارف مریم کی نظروں کو کوئی معنی نہ پہنا سکا۔
”کیا بات ہے؟ تم ٹھیک تو ہو نا؟“ اس نے مریم کی ٹھوڑی اپنی انگلیوں کی پوروں پر اٹھاتے ہوئے سرگوشی میں کہا۔
”نہیں عارف، میں ٹھیک نہیں ہوں،“ مریم نے اٹھتے ہوئے جواب دیا۔ اس کی چادر ایک جانب کندھے سے نیچے سرک گئی تھی۔ اس نے چادر کے کونے کو پکڑ کر آہستہ سے کندھے کو ڈھانپ لیا۔
”کیا بات ہے؟“ اس مرتبہ عارف کی آواز میں گھبراہٹ تھی۔
”غلطی میری تھی،“ مریم نے کچھ توقف کے بعد کہا، ”مجھے پہلے ہی تمہیں بتا دینا چاہیے تھا کہ مجھے شرابیوں سے خوف محسوس ہوتا ہے۔“
”شرابیوں سے خوف محسوس ہوتا ہے؟“ عارف نے پیشانی سکیڑ کر کہا، ”کیا تم سمجھتی ہو کہ میں شرابی ہوں؟“
”تو پھر وہ سب کیا ہے؟“ مریم نے الماری کی طرف اشارہ کر کے پوچھا۔
عارف نے ایک قہقہہ لگایا اور بولا، ”مریم، اس الماری میں دنیا کی مہنگی ترین شراب ہے۔ یہ شراب پینے کے لیے نہیں بلکہ محفوظ رکھنے کے لیے ہوتی ہے کیوں کہ شراب جتنی پرانی ہوتی ہے، اُتنی ہی قیمتی ہوتی ہے۔“
”کتنی قیمتی ہوتی ہے؟“
”میں تمہیں دکھاتا ہوں،“ عارف نے جواب دیا اور الماری سے دو بوتلیں نکال کر لے آیا۔ ایک بوتل میز پر رکھ کر دوسری مریم کو دکھانے لگا۔ یہ ایک چوکور، براؤن رنگ کی بوتل تھی۔
” میرے پاس یہ پچیس سال پرانی میکّالن کی اسکاچ وہسکی ہے جو کسی بھی بار میں سب سے مہنگی ہوگی،“ عارف نے پُر جوش لہجے میں کہا۔
مریم نے کوئی اظہارِ خیال نہیں کیا۔ عارف نے دوسری بوتل اٹھائی جو گہرے سبز رنگ کی لمبوتری شکل کی تھی۔ اُس نے کہا، ”اسی طرح یہ ریمی مارٹن ہے جو سب سے مہنگی فرنچ کونیاک شیمپین ہے۔ یہ بھی پچیس سال پرانی ہے۔ “
”تو پرانی شراب بیچنا تمہاری بزنس ہے؟“
عارف نے مریم کے جملے کی کاٹ کو محسوس کیا مگر پی گیا۔
”یہ بزنس نہیں، مشغلہ ہے،“ اُس نے مسکرا کر کہا، ”کچھ لوگوں کو پرانے سکّے اور ڈاک کے ٹکٹ جمع کرنے کا شوق ہوتا ہے، مجھے پرانی شراب جمع کرنے کا شوق ہے۔“
”اور یہ سب کیا ہے؟“ مریم نے میز کرسیوں کی طرف ہاتھ لہرا کر پوچھا۔
”یہ دراصل پارٹی روم ہے۔ دوستوں کی دعوت یہیں کی جاتی ہے، اب بھی پروگرام بن رہا ہے کہ سارے دوستوں سے تمہیں ملانے کے لیے پارٹی ہوگی۔“
”اور تمہاری پارٹیوں میں شراب نہیں پی جاتی؟“
”مریم، تم کیوں اتنی پریشان ہو رہی ہو؟ میرے دوستوں میں کوئی شرابی نہیں ہے۔“
”تمہارے نزدیک شرابی کس کو کہتے ہیں؟“
”جو اتنی پیے کہ اُسے نشہ ہو جائے۔ مجھے آج تک نشہ نہیں ہوا۔“
”تو پھر لوگ کیسے شرابی بن جاتے ہیں؟“
”جنہیں اپنے اوپر قابو نہیں ہوتا۔ اگر میں اپنے لیے حد مقرر کرلوں اور کبھی اسے پار نہ کروں تو کس طرح شرابی بنوں گا؟“
”اور اگر کسی کی حد ہو کہ سرے سے پیے ہی نہیں تو کس طرح شرابی بنے گا؟“
”مریم، تم کیوں اس مسئلے میں الجھ رہی ہو،“ عارف کے لہجے میں جھنجھلاہٹ شامل ہوتی جا رہی تھی، ”میں تو سمجھتا ہوں کہ سماجی طور پر شراب نوشی میں کوئی حرج نہیں ہے۔ تم نے بھی تو یوحنّا کی انجیل میں پڑھا ہو گا کہ ایک شادی کی تقریب میں شراب کم پڑ گئی تو یسوع نے پانی کو شراب بنا دیا تھا۔“
”پڑھا ہے، اور ہمیشہ میری خواہش رہی ہے کہ کاش یسوع نے شراب کو پانی بنا دیا ہوتا۔“
”مریم، تم پریشان مت ہو۔ میں اس کمرے میں تالہ لگوا کر چابی تمہیں دے دوں گا۔ یہ کمرہ اب کبھی استعمال نہیں ہو گا۔“
عارف نے مریم کو اپنی طرف کھینچ کر اپنی آغوش میں بھینچ لیا۔ مریم اس کے سینے سے لگ کر پھوٹ پھوٹ کر رونے لگی۔
”میں کیا کروں عارف، میرے بچپن کے بھوت اور شیطان میرے دماغ سے نہیں نکل پاتے۔“
”تم بالکل پریشان نہ ہو۔ میں تمہارے ساتھ ہوں،“ مریم کے گرد عارف کے بازوؤں کا گھیرا تنگ ہو گیا۔
***
مریم کپڑے بدل کر نکلی تو عارف نے صحن میں ناشتے کے لیے ایک چھوٹی سی میز اور دو کرسیاں بچھا دی تھیں۔ صحن نصف دائرے کی شکل میں بنا تھا، جس کے پیچھے برآمدے کی جالی دار جافری تھی، جس پر سنہری دھوپ چھن چھن کر گر رہی تھی۔ سامنے کی دیوار کے ساتھ ساتھ پھولوں کے تختے تھے، جن میں ہر رنگ کے پھول کھلے ہوئے تھے۔
گلاب کی سرخ اور گلابی کلیاں ہوا کے ہلکے جھونکوں سے لہرا رہی تھیں اور گیندے کے پیلے اور نارنجی پھولوں کی قطاریں دھوپ میں چمک رہی تھیں، جیسے زمین پر چھوٹے چھوٹے سورج بکھر گئے ہوں۔ دیوار کے کونے پر چنبیلی کی بیل چڑھی ہوئی تھی، جس کے دودھیا پھولوں سے مدھم سی مہک نکل رہی تھی۔ بوگن ویلیا نے اپنی شوخ رنگت کے ساتھ دیوار کو ڈھک دیا تھا۔ زمین پر بکھری ہوئی پھولوں کی پنکھڑیوں نے صحن کی اینٹوں پر رنگ برنگا قالین بچھا دیا تھا۔ کئی تتلیاں پھولوں کا معائنہ کر رہی تھیں۔ کبھی پیلے پھول پر بیٹھتیں تو کبھی گلاب کی پنکھڑیوں کو چھو کر اڑ جاتیں۔ پوری دیوار مختلف بیلوں سے ڈھکی ہوئی تھی۔ البتہ دروازے کے گرد بیلوں کو بڑی صفائی سے تراش دیا گیا تھا۔ پورے صحن میں گویا رنگوں اور خوشبوؤں کا ایک سیلاب تھا۔
ناشتے کی میز ابلے ہوئے انڈوں، ٹوسٹ، جام، مکھن، کارن فلیکس، دودھ کے جگ اور چائے کے لوازمات سے بھری ہوئی تھی۔
”فرمائیے ملکہ عالیہ، ناشتے میں کیا پسند کریں گی؟“ عارف نے سر جھکا کر پوچھا۔
” بادشاہ سلامت جو بھی عنایت فرمائیں گے، وہی بندی کا ناشتہ ہو گا۔“ مریم نے مسکرا کر اپنی پیشانی کو چھو کر کہا اور کھلکھلا کر ہنس دی۔
عارف نے ٹوسٹ پر جام لگا کر مریم کی پلیٹ میں رکھا ہی تھا کہ باہر کے دروازے کی گھنٹی بجی۔
عارف نے زور سے کہا، ”آ جاؤ!“
”تم باہر جا کر دیکھو گے نہیں کہ کون آیا ہے؟“ مریم نے پوچھا۔
”کیا ضرورت ہے؟ جو ہو گا، سامنے آ جائے گا۔“
دروازہ کھلا اور ایک لمبا تڑنگا لڑکا اندر آ گیا۔
”ابے تو یہاں کیا کر رہا ہے؟ تجھے تو آج چھٹی کرنی ہے،“ عارف نے کہا۔
”میں سوچا، آج کباب میں ہڈّی بن جائے گا، سلاموالیکوم بھابھی۔“
”والیکم سلام؟“ مریم نے سوالیہ انداز میں سلام کا جواب دیا۔
”مریم، یہ مُزمل ہے، بلکہ مَوجمِّل ہے، میرا باورچی،“ عارف نے مریم کو مخاطب کر کے کہا۔
”یار، بھابی تو بڑا زوردار لایا ہے! “ مَوجمِّل نے آنکھ مار کر عارف سے کہا۔ مریم شرما کر مسکرا دی۔
اِس کی بات کو زیادہ سنجیدگی سے نہیں لینا۔ یہ فضول سا آدمی ہے۔ ”
”بھابی، میں منہ پھوٹ آدمی ہے، مگر تم عادت ڈال لے گا۔“
”جا، اندر سے اپنے لیے کرسی لے آ،“ عارف نے کہا اور مَوجمِّل اندر چلا گیا۔
”ایک بات سمجھ میں نہیں آئی عارف، یہ تمہارا باورچی ہے مگر لگتا تمہارا جڑواں بھائی ہے۔“
”یہی سمجھ لو۔ مَوجمِّل کریم چاچا کا بیٹا ہے اور یہ میرے ساتھ ہی پلا بڑھا۔ بچپن میں ہم دونوں کی بڑی کشُتیاں ہوتی تھیں۔ پھر جب میں اسکول میں داخل ہوا تو پاپا نے اسے بھی میرے ساتھ داخل کر دیا، مگر میٹرک کے بعد یہ غنڈہ گردی میں پڑ گیا اور میرا گارڈ بن گیا۔ جب میری کسی سے ان بن ہوجاتی تھی تو میں مّوجمِّل کو اشارہ کر دیتا تھا کہ اُسے دو چار ہاتھ لگا دے۔“
”تو پھر یہ آگے نہیں پڑھا؟“
”نہیں۔ اسی لیے کریم چاچا نے اسے اپنے ساتھ لگا لیا۔“
مَوجمِّل ایک ہاتھ میں کرسی اور دوسرے ہاتھ میں چائے کی پیالی اور طشتری لے کر برآمدے سے نکلا اور عارف نے اس کے لیے جگہ بنانے کو اپنی کرسی ایک طرف کھسکا لی۔
”بس، میں چائے پیئے گا،“ مَوجمِّل نے چائے دانی اُٹھاتے ہوئے کہا۔
”کیوں، کچھ کھا لے نا،“ عارف نے کہا۔
”نہیں بھائی، میں گھر سے کھا کے آیا ہے۔“
”کل جب ہم آئے تو میں نے فریج کھول کر دیکھا۔ اس میں تو تل دھرنے کی جگہ نہیں۔“
”پرسوں میں دو تین دن کا کھانا پکایا تھا، کہ تم دونوں کھائے اور عیش کرے۔“
”آج تو ہم پاپا کی طرف جا رہے ہیں، تُو کل آ جانا۔ میں کام پر جاؤں گا۔ تو اپنی بھابھی کو کمپنی دینا۔“
”ابھی کام پہ جانے کا جلدی کیا ہے بھائی، دو ایک دن اور چھٹی کر لے۔“
”نہیں یار، کافی کام ادھورا پڑا ہے۔“
”ٹھیک ہے، میں کل آ جائے گا۔“
”لیکن میری بیوی کو پھنسانے کی کوشش مت کرنا ورنہ میں تجھے مار ڈالوں گا،“ عارف نے ہنستے ہوئے اسے گھونسہ دکھا کر کہا۔
”نا بھائی، تیرا بیوی، میرا بھابی!“ مَوجمِّل نے ہاتھ جوڑ کر کہا۔
مریم بڑی دلچسپی سے دونوں کی باتیں سن رہی تھی۔ مَوجمِّل کا جملہ سن کر اُس نے قہقہہ لگایا۔
”اور اگر میں خود پھنس گئی تو؟“ مریم نے کہا۔
”تب بھی میں اس کا گلا دبا دوں گا،“ عارف نے ہنستے ہوئے مَوجمِّل کی گردن کو دونوں ہاتھوں سے پکڑ کر ہلا دیا۔

