ڈاکٹر خان اور ہماری محسن کشی
ڈاکٹر عبد القدیر کی وفات 10 اکتوبر 2021 کو ہوئی۔ 4 روزہ پاک بھارت جنگ اور 28 مئی 2025 ء کو ان کی قبر پر پھول نچھاور کرنے والوں کی قطاریں لگی ہوئی تھیں۔ ایٹمی دھماکوں کا کریڈٹ حاصل کرنے والوں نے ”یوم تکبیر“ پر ڈاکٹر عبد القدیر خان کو نظر انداز کیا ماضی میں ان سے اس، کامیاب ایٹمی پروگرام کا کریڈٹ بھی لینے کی کوشش کی گئی جس کی بنیاد پر آج ہمارا دفاع ناقابل تسخیر ہے۔
پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کا ڈاکٹر عبد القدیر خان کا لازوال کردار ہے جو ان سے کوئی نہیں چھین سکتا وہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔ مگر پرویز مشرف جیسے محسن کش سے جب امریکہ نے ڈاکٹر خان کی حوالگی کا مطالبہ کیا تو انہوں نے امریکی دباؤ کے سامنے ہتھیار ڈال دیے، مگر بہادر بلوچ لیڈر میر ظفر اللہ خان جمالی نے ڈاکٹر خان کو امریکہ کے حوالے کرنے سے انکار کر دیا۔ پاکستان پر ایران اور لیبیا کو ایٹمی ٹیکنالوجی اسمگل کرنے کے الزام پر فوجی حکمران پرویز مشرف نے ساری ذمہ داری ڈاکٹر عبد القدیر خان پر عائد کر دی اس کے باوجود ڈاکٹر خان نے پاکستان کو بچانے کے لئے سارا بوجھ اپنے کندھوں پر اٹھایا جھوٹے الزام کے ”اعتراف“ پر ان کے دل پر جو قیامت گزری ہوگی اس کو وہی جان سکتے ہیں کسی اور کے لیے یہ ممکن نہیں۔
میں کارواں کی راہ سمجھتا رہا جسے
صحرا کی ریت پر وہ ہوا کی لکیر تھی
اکتوبر 2021 کی بی بی سی کی رپورٹ کے مطابق ایران کی نطنز فیسیلیٹی میں پروگرام کا قیام کافی حد تک ان ڈیزائنز اور مٹیرئیلز کی بنیاد پر کیا گیا نظر آتا ہے جو پاکستان ڈاکٹر قدیر خان کے نیٹ ورک نے ایران کو سپلائی کیے تھے۔ فروری 2007 سے ایران جوہری پروگرام پر کام کر رہا تھا۔ امریکی صدر ٹرمپ اور اسرائیل دونوں کا دعوی ہے کہ ایران کی ایٹم بنانے کی صلاحیت کو ختم کر دیا گیا۔
دسمبر 2004 میں شائع ہونے والی ایک خبر کے مطابق برطانوی خفیہ ادارے اور امریکی سی آئی اے نے 1990 کے اواخر میں ڈاکٹر خان کے خفیہ نیٹ ورک میں رسائی حاصل کر لی تھی اور ان ایجنسیوں نے کئی آپریشن کیے۔ اس معاملے کی سب سے اہم کڑی دسمبر 2003 میں امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے اور برطانوی ایجنسی ایم آئی سکس کو لیبیا کے حکام سے ملی جب لیبیا نے اپنے جوہری پروگرام کو ترک کرتے ہوئے ایٹمی ہتھیاروں کے ڈیزائن افسران کو تھما دیے تھے۔ ان معلومات کے مطابق ان ڈیزائنز کے علاوہ جوہری پروگرام سے متعلقہ پرزہ جات پاکستان کے ایٹمی سائنسدان ڈاکٹر عبدالقدیر خان نے مہیا کیے تھے اور یوں امریکہ کو ایک اہم جواز مل گیا کہ وہ پاکستان پر زور دے کہ وہ ڈاکٹر خان کے خلاف کارروائی کرے۔ ان حالات میں 4 فروری 2004 کو پاکستانیوں نے ٹی وی سکرین پر ایک دھماکہ خیز منظر دیکھا جس کی گونج پاکستان سمیت پوری دنیا میں سنائی دی۔ یہ دھماکہ ڈاکٹر عبدالقدیر خان کا یہ اعتراف کیا کہ ”انھوں نے جوہری راز دوسرے ممالک کو بیچے ہیں جس سے پاکستان کی حکومت بے خبر تھی۔ ’تحقیقات سے ثابت ہوا کہ بہت سی رپورٹ شدہ سرگرمیوں کی ابتدا میرے کہنے پر ہوئی۔ ‘ متعلقہ سرکاری حکام کے ساتھ اپنے انٹرویوز میں مجھے ثبوتوں اور نتائج کا سامنا کرنا پڑا اور میں نے رضاکارانہ طور پر تسلیم کیا کہ اس میں سے زیادہ تر سچ اور درست ہیں میرے پیارے بھائیو اور بہنو! میں نے غیر مشروط معذرت کے لیے آپ کے سامنے پیش ہونے کا انتخاب کیا۔ میں یہ بھی واضح کرنا چاہتا ہوں کہ حکومت کی طرف سے ان سرگرمیوں کے لیے کبھی بھی کسی قسم کی اجازت نہیں دی گئی تھی۔“ اس بیان پر یہ سوال بھی بار بار اٹھتا رہا کہ کیسے ہو سکتا ہے کہ اتنا اہم سائنسدان جوہری راز اور ٹیکنالوجی بیچتا رہے اور ملک میں کسی کو بھی خبر نہ ہو، خصوصاً پاک فوج اور اس کی خفیہ ایجنسیوں کو ۔ ڈاکٹر خان نے جس شکستہ دلی کے ساتھ یہ بیان دیا تھا وہ پوری قوم کو نظر آ رہا تھا۔
برطانوی اخبار دی گارڈین کی ایک حالیہ میں رپورٹ میں دعویٰ کیا گیا ہے کہ ایران کے سابق صدر ہاشمی رفسنجانی، 80 کی دہائی میں جب وہ صدر نہیں تھے ڈاکٹر عبدالقدیر سے ملنے پاکستان بھی گئے۔ سابق ایرانی صدر نے 2005 میں یہ اعتراف بھی کیا تھا کہ ان کے ملک نے خفیہ طور پر مواد خریدنے کے لیے بلیک مارکیٹ کا رخ کیا تھا۔ ایران کا کہنا ہے کہ امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سنہ 2018 میں جے سی پی او اے (جوائنٹ کمپری ہینسیو پلان آف ایکشن) معاہدے سے دستبردار ہو گئے تھے جس کے نتیجے میں ایران پر مزید پابندیاں لگائی گئیں اور یہ اسی کا ردِعمل تھا۔
ڈاکٹر خان نے ایک بین الاقوامی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے صاف کہا کہ ان کا پاکستان کے علاوہ کسی ملک کے کسی قسم کے جوہری پروگرام سے تعلق نہیں خصوصاً ایران سے۔ ایران ”این پی ٹی ’( جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ معاہدہ ) کا ممبر ہونے کی وجہ سے آئی اے ای اے کبھی بھی، کسی بھی وقت اس کے جوہری پروگرام کا معائنہ کر سکتی ہے‘ ، اس لیے یہ کہنا ہی غلط ہے کہ وہ بم بنا رہا ہے۔ جہاں تک شمالی کوریا کی جوہری صلاحیت کا تعلق ہے وہ کئی دہائیوں سے چین اور روس کے کیمپ کا حصہ ہے ’بم بنانے کے لیے اسے کسی اور ملک کے پاس جانے کی ضرورت نہیں۔ ‘ اس الزام پر کہ لیبیا ان کے بیچے ہوئے رازوں اور ٹیکنالوجی کی وجہ سے جوہری بم بنانے کی کوشش کر رہا تھا، ڈاکٹر قدیر کا جواب تھا کہ ’جو ملک سائیکل نہیں بنا سکتا وہ جوہری بم کس طرح بنائے گا۔
ڈاکٹر خان کا کہنا تھا کہ وہ ایک سرکاری ملازم تھے بھلا کس طرح وہ از خود ایٹمی ٹیکنالوجی بیرون ملک بھجوا سکتے تھے؟ ڈاکٹر اے کیو خان لیبارٹریز کی حفاظت کا فول پروف سسٹم تھا سوئی تک وہاں باہر نہیں جا سکتی تھی! ”اعتراف جرم“ کے بعد ہل سائیڈ روڈ پر ڈاکٹر خان کی رہائش گاہ کو سیکورٹی کے نام پر ”غیر علانیہ“ زندان میں تبدیل کر دیا گیا، جس میں ڈاکٹر خان اپنی زندگی کی آخری سانس تک ”قید“ رہے اگر وہ کھلی فضا میں سانس لینا چاہتے تو حکام بالا سے کلیئرنس درکار ہوتی تھی۔
ڈاکٹر عبد القدیر خان نے 1976 ء کے بعد سے شاید ہی کوئی دن ”آزاد شہری“ کے طور پر گزارا ہو۔ انہوں نے پاکستان کو ایٹمی قوت بنانے کے جس کام کی بنیاد رکھی تھی اس کا تقاضا بھی تھا کہ ڈاکٹر خان۔ دنیا کی ”نظروں“ سے اوجھل رہیں، لیکن انہیں کے آر ایل سے ریٹائر ہونے کے بعد وفات تک ”حفاظتی تحویل“ میں رکھا گیا۔ آج جس طرح اسرائیل امریکہ کی اشیر باد سے ایران کا ایٹمی پروگرام ختم کرانے کے لئے چڑھ دوڑا ہے اگر 1998 ء میں اس وقت کے وزیر اعظم جرات سے کام لے کر ایٹمی دھماکے نہ کرتے تو پاکستان بھارت اور اسرائیل کی بلیک میلنگ کا شکار ہوتا۔ چار عشرے قبل مغرب کو ہمارے ایٹمی پروگرام کے بارے میں کچھ ”سن گن“ ہوئی تو بی بی سی کا نمائندہ ڈاکٹر خان تک پہنچنے اور کہوٹہ پلانٹ کا سراغ لگانے کی کوشش میں اپنی درگت بنوا بیٹھا جب کہ فرانسیسی سفارت کار کہوٹہ جانے کے ”شوق“ میں اپنے دانت تڑوا بیٹھے پھر کسی نے کہوٹہ کا رخ نہ کیا۔ مسلسل نظر بندی پر وہ حکومت سے سخت ”نالاں“ تھے۔ قید تنہائی کے لمحات کی انہوں نے اس شعر میں عکاسی کی۔
گزر تو گئی ہے خیر سے زندگی قدیر
ستم ظریف مگر کوفیوں میں گزری ہے۔ اگر ڈاکٹر خان کا ایٹمی قوت بنانے میں کوئی کردار نہ ہوتا تو وہ امریکہ کو کیوں مطلوب ہوتے؟ ان کے سامنے کوئی پرویز مشرف کا نام لیتا تو ان کا خون کھول اٹھتا۔ ڈاکٹر خان کے ساتھ جو سلوک کیا گیا وہ کسی دشمن کے ساتھ نہیں کیا جاتا۔
ڈاکٹر خان زندہ ہوتے تو شاید انہیں اسرائیل ایران جنگ کے پس منظر میں پھر کٹہرے میں کھڑا کر دیا جاتا اسی لیے وہ قبر میں مٹی کی چادر اوڑھے ہمارے حکمرانوں کی محسن کشی کی داستان سنا رہے ہیں۔
میرا ماتم اسی چپ چاپ فضا میں ہو گا
میرا نوحہ انہی گلیوں کی ہوا لکھے گی۔


