مخصوص نشستیں ملنے کے بعد دو تہائی کا جشن
گزشتہ روز الیکشن کمیشن نے سپریم کورٹ کے تازہ فیصلہ کی روشنی میں خواتین و اقلیتوں کے لیے مخصوص نشستیں ان تمام پارٹیوں میں بانٹ دی ہیں جنہیں پہلے بھی ان کا ’حق دار‘ قرار دیا گیا تھا۔ قومی اسمبلی سیکرٹریٹ کے ایک اعلان کے مطابق اب حکمران اتحاد کو ایوان میں تقریباً دو تہائی اکثریت حاصل ہو گئی ہے۔
دو تہائی اکثریت ملکی آئین میں ترمیم کے لیے درکار ہوتی ہے۔ اسی لیے گزشتہ سال چھبیسویں ترمیم کے لیے حکومت کو شدید تگ و دو کرنا پڑی تھی اور آئینی عدالت کے معاملہ پر مولانا فضل الرحمان کی بات مان کر صرف آئینی بنچ پر اکتفا کرنا پڑا تھا۔ تاہم اب مسلم لیگ اپنی حامی جماعتوں پیپلز پارٹی اور متحدہ قومی محاذ کے ساتھ قومی اسمبلی کی 336 میں سے 219 سیٹوں پر قابض ہو چکی ہے۔ اب ان تین جماعتوں کو کسی آئینی ترمیم کے لیے صرف دو تین ووٹوں کی ضرورت ہوگی جو جمعیت علمائے اسلام (ف) کو ’زحمت‘ دیے بغیر بھی پوری کی جا سکتی ہے۔ ایسے میں سوال پیدا ہوتا ہے کہ ایک ایسی حکومت جس پر پہلے ہی انتخابی دھاندلی کے ذریعے یا ہائبرڈ انتظام کے تحت اقتدار میں آنے کا الزام ہے، کیوں کر ایک متنازعہ اور جعلی طریقے سے حاصل کردہ مخصوص نشستوں کی بنیاد پر آئین جیسی مقدس دستاویز میں ترمیم کرنے کی مجاز قرار دی جا سکتی ہے۔
البتہ اس کا انحصار حکمران جماعت مسلم لیگ (ن) کی ہوشمندی اور سیاسی بصیرت پر ہو گا۔ یعنی اگر وہ کوئی آئینی ترمیم کرنا چاہتی ہے تو متنازعہ امور پر کسی ترمیم سے گریز کیا جائے۔ اور اگر ایسا کوئی اقدام ناگزیر ہو تو پھر پارلیمنٹ میں وسیع تر بین الجماعتی اتفاق رائے پیدا کیا جائے۔ تاہم ملک میں سیاسی اختلاف، تصادم کی جو صورت اختیار کرچکا ہے، اس میں نہ تو ایسی کوئی کوشش کامیاب ہونے کا امکان ہے اور نہ ہی حکومت اکثریت کے گھمنڈ میں سیاسی مفاہمت پر راضی ہوگی۔ دو تہائی اکثریت ملنے کے بعد سب سے زیادہ ضروری اگرچہ مذہبی شدت پسندی اور دہشت گردی کے خلاف کارروائیوں کو مستحکم کرنے کے لیے قانون سازی یا آئینی ترامیم کی ضرورت ہوگی تاکہ عدالتیں جلد از جلد مقدمات کے فیصلے دے سکیں اور دہشت گرد عناصر تک یہ پیغام پہنچے کہ انہیں قانون کے شکنجے میں لانے کا اہتمام کیا جا رہا ہے۔ ایسی کسی پیش رفت پر تو شاید کسی بھی سیاسی جماعت کو اختلاف نہیں ہو گا کیوں کہ ملک میں مذہبی انتہاپسندی اور دہشت گردی کے خاتمہ کے لیے سیاسی اتفاق رائے موجود ہے۔
تاہم زیادہ تر یہ اندیشہ محسوس کیا جا رہا ہے کہ اقتدار پر گرفت مضبوط ہونے کے بعد شہباز شریف کی قیادت میں حکومت عوامی خواہشات پورا کرنے، ان کی ضروریات کا خیال رکھنے اور اس نئی طاقت کو سیاسی اعتدال کے ساتھ بروئے کار لانے کی بجائے، ایسے اقدامات کی کوشش کرے گی جس کے تحت اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھ مضبوط ہوں اور عمومی جمہوری اساس کمزور ہو۔ اس حوالے سے خاص طور سے عدلیہ کے اختیارات پر مزید شب خون مارنے اور میڈیا پر کنٹرول کے نئے طریقے اختیار کرنے کے لیے قانون سازی کے علاوہ آئینی ترمیم بھی لائی جا سکتی ہے۔ چھبیسویں آئینی ترمیم پر بھی یہی الزام عائد ہوتا ہے کہ اس کے ذریعے اعلیٰ عدلیہ کو کمزور کرنے اور خود مختارانہ طور پر فیصلے کرنے والے ججوں سے نجات حاصل کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ دیگر صوبوں کی عدلیہ سے ججوں کے اسلام آباد ہائی کورٹ تبادلے اور ان کی سابقہ سنیارٹی کو برقرار رکھتے ہوئے مزاحمت کرنے والے بعض ججوں کو نظر انداز کرنے کا اہتمام کیا گیا تھا۔ اب مزید سیاسی قوت حاصل ہونے کے بعد جو ترامیم لائی جائیں گی، ان سے بنیادی حقوق پر مزید وار کیے جا سکتے ہیں۔
مزید براں الیکٹرانک میڈیا کے علاوہ سوشل میڈیا پر عام طور سے اختلافی رائے کو روکنے کی کوشش کی جا سکتی ہے۔ ملک میں پہلے بھی سخت قوانین موجود ہیں جن کا بے دریغ استعمال کیا جاتا ہے۔ نام نہاد مین اسٹریم میڈیا تو پی ٹی وی کی طرح اس وقت سرکاری ترجمان سے زیادہ حیثیت نہیں رکھتا۔ تمام میڈیا ہاؤسز کو خبر ہے کہ کون سی خبر یا تبصرہ نشر یا شائع کیا جاسکتا ہے۔ وہ اپنے اشتہارات کی آمدنی محفوظ رکھنے اور سرکاری عتاب سے بچنے کے لیے کوئی ایسا مواد شائع کرنے پر راضی نہیں ہوتے جو ملک میں جمہوری روایت اور عوامی ضرورتوں کا مقصد پورا کرتا ہو۔ اس طرح ملک میں شدید گھٹن کا ماحول ہے اور نام نہاد جمہوریت ہونے کے باوجود عام شہری محسوس کرنے لگے ہیں کہ وہ کسی آمرانہ نظام میں سانس لے رہے ہیں جہاں ان کی ضرورتوں پر بات کرنے کی بھی اجازت نہیں ہے۔ اندیشہ ہے کہ مخصوص نشستیں ملنے کے بعد حکمران اتحاد انکسار اور سیاسی سوجھ بوجھ سے کام لینے کی بجائے تکبر اور سخت گیر رویہ کا مظاہرہ کرے گا۔ ’عوامی نمائندہ‘ ہونے کا دعویٰ کرتے ہوئے، عوام کی خواہشات کے برعکس قانون سازی ہوگی اور اداروں کو مستحکم کرنے کی بجائے کمزور کرنے کی کوشش کی جائے گی۔
حتی کہ بعض عناصر یہ قیاس آرائیاں بھی کر رہے ہیں کہ حکومت کوئی ایسی آئینی ترمیم لانے کی کوشش بھی کر سکتی ہے جس کے تحت موجودہ پارلیمنٹ کی مدت پانچ سال سے بڑھا کر دس سال کردی جائے تاکہ حکمرانوں کو 2029 میں انتخابات کا سامنا کرنے کی بجائے 2034 تک حکومت کرنے کا موقع مل جائے۔ امید کرنی چاہیے کہ اس قسم کی قیاس آرائیاں محض بے بنیاد اندازے ہیں اور شہباز شریف کی حکومت اس قسم کا عاقبت نا اندیشانہ اور عوام دشمن فیصلہ کرنے کی کوشش نہیں کرے گی۔ انہیں یاد رکھنا چاہیے کہ ملکی تاریخ میں پہلے بھی متعدد بار اقتدار کو مستحکم کرنے کی نام نہاد کوششیں کی جاتی رہی ہیں۔ اور دو تہائی کے بل بوتے پر عوامی خواہشات کے برعکس فیصلہ کیے گئے لیکن ایسی کوشش کرنے والے سیاسی لیڈر اس مقصد میں کامیاب نہیں ہوئے۔ جس وقت یہ لگ رہا تھا کہ کسی حکومت کو اب کوئی چیلنج درپیش نہیں ہے، عین اسی وقت کوئی ایسا سانحہ رونما ہوا کہ صرف ایک سیاسی پارٹی ہی اقتدار سے محروم نہیں ہوئی بلکہ ملک میں جمہوری نظام کو بھی شدید دھچکا لگا۔
شہباز شریف کی اسٹیبلشمنٹ دوستی کے بارے میں دو رائے نہیں ہیں لیکن انہیں خود اور مسلم لیگ (ن) کے صدر نواز شریف کو اچھی طرح جان لینا چاہیے کہ عسکری اداروں سے دوستی کے باوجود انہیں ملکی اقتدار میں حصہ عوام سے ووٹ لے کر ہی ملتا رہا ہے۔ عسکری قیادت کسی ایسے لیڈر کو اقتدار میں لانے سے گریز کرتی ہے جسے عوامی قبولیت حاصل نہ ہو۔ ایسے میں اسٹیبلشمنٹ کی کاسہ لیسی کرتے ہوئے بھی حکومت کو جمہوری امید کی اس شاخ کو نہیں کاٹنا چاہیے جس پر ان کا اپنا آشیانہ بھی بنا ہوا ہے۔
فروری 2024 میں ہونے والے انتخابات مشکوک اور مشتبہ ہیں۔ حکومت نے بھی کبھی یہ ثابت کرنے کی کوشش نہیں کی کہ وہ خالصتاً عوامی پسندیدگی کی بنیاد پر ووٹوں کی طاقت سے اقتدار سنبھالنے میں کامیاب ہوئی ہے۔ بلکہ سرکاری صفوں میں موجود عناصر یہ ماننے میں بھی شرم محسوس نہیں کرتے کہ وہ ہائبرڈ انتظام کے تحت برسر اقتدار ہیں۔ اس کے باوجود مسلم لیگ (ن) یا پاکستان پیپلز پارٹی کے بارے میں یہ گمان رکھنا چاہیے کہ وہ سیاسی پارٹیاں ہیں اور انہیں سیاسی جمہوری طریقے کی وجہ سے ہی عزت و پذیرائی نصیب ہوئی ہے۔ سیاسی عناصر کے لیے دھاندلی زدہ انتخابات یا کسی ہائبرڈ انتظام کے تحت اقتدار ملنے پر قابل فخر نہیں ہونا چاہیے اور نہ ہی اسے اپنی کامیابی سمجھنے کی غلط فہمی میں مبتلا ہونا چاہیے۔
مخصوص نشستوں میں تحریک انصاف کے حصے پر قبضہ کر کے دونوں بڑی سیاسی پارٹیوں نے اپنی ساکھ کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔ جعلی طریقے سے حاصل ہونے والی اس دو تہائی اکثریت کو آئین میں رد و بدل کے لیے استعمال کرنے کی بجائے حکومت کو چاہیے کہ ملکی انتخابات کے بارے میں تمام شبہات دور کیے جائیں۔ اس کا آسان ترین طریقہ یہی ہے کہ پہلی فرصت میں قبل از وقت انتخابات کا اعلان کیا جائے۔ اس طرح تحریک انصاف کے شکوے بھی دور ہوجائیں گے اور سیاسی پارٹیوں کی عوامی مقبولیت کا راز بھی افشا ہو جائے گا۔ تاہم اس سے پہلے ایسا اہتمام ضرور کیا جائے کہ کسی بھی نئے انتخابات کو شفاف اور شک و شبہ سے بالا بنایا جا سکے۔


