میں ہوں اور میرے ساتھ بھی میں ہوں
کچھ عرصہ پہلے سماجی رابطے کی ویب سائٹس پر یہ فقرہ ایک میم بن کر زبان زد عام رہا۔ اگر اس فقرے کو سنجیدگی سے بھانپا جائے تو یہ اپنے اندر بہت گہرے اور عملی مطالب چھپائے ہوئے ہے۔ عام فہم ہے کہ انسان جتنا خود کے ساتھ صدقِ دل سے خود ہو سکتا ہے، اتنا کوئی دوسرا کسی صورت نہیں ہو سکتا۔ اس بات سے کوئی بھی اختلاف نہیں کر سکتا مگر خود کے لئے خود کی اس اہمیت کو عملی طور پر سمجھنے والے لوگ بہت کم ہیں۔ میرے ایک دوست جو دوست سے بہت بڑھ کے ہیں، نے مجھے اس بات کا احساس دلایا۔ میں اُس کے جنم دن کی مناسبت سے اس موضوع پر مختصر لکھ کر اُسے ایک منفرد تحفہ دینا چاہتا ہوں۔ اُمید ہے اسے پسند آئے گا۔
بلاشبہ انسان کے دنیا پر وجود کے ساتھ ہی طرح طرح کے رشتے اُس کی زندگی میں وجود پاتے ہیں اور اس کے ساتھ مخلصی کے زبانی و فعلی دعوے بھی کرتے ہیں۔ خون کے رشتوں کے ساتھ ساتھ انسان اپنی پسند سے اپنے دوست بناتا ہے اور دوستوں کا ساتھ ہونا اُسے اکثر نشیب و فراز میں باہمت رکھتا ہے۔ یہاں یہ بات سمجھ لینا میچورٹی کی بنیادی نشانی ہے کہ کوئی جتنا بھی مخلص کیوں نہ ہو وہ سب سے پہلے خود کے ساتھ مخلص ہوتا ہے، جب بھی آپ کا اُس کی شخصیت کے ساتھ تضاد آتا ہے، وہ آپ کو پس پشت ڈال دیتا ہے جبکہ آپ بھی اکثر ایسا ہی کرتے ہیں۔ ایسے میں ہمیں تعلق کو رواں رکھنے کے لئے کافی چیزوں پر سمجھوتے کا کُلیہ اپلائی کرنا پڑتا ہے۔ لہذا ایک ہی شخص ایسا ہے جس کے ساتھ کھلی ڈھلی زندگی گزاری جا سکتی ہے، جہاں کسی طرح کی روک ٹوک کا سامنا نہیں کرنا پڑتا اور وہ انسان خود ہے۔ اب ساری زندگی خود کے ساتھ نہیں گزاری جا سکتی اور نہ ہی زندگی کا زیادہ تر وقت۔ مگر مصروف زندگی میں کچھ لمحات یا کچھ دن خود اور صرف خود کے ساتھ انسان کو ہر اعتبار سے زندہ رکھتا ہے۔ حتی کہ آپ اپنے پسندیدہ شخص کے ساتھ زندگی گزار رہے ہوں، تب بھی آپ کو کچھ ایسے لمحات اور دن چاہیے ہوتے ہیں کہ جو آپ صرف خود کے ساتھ گزاریں۔
یہ کہا جاتا ہے کہ خود کو جاننے کا بہترین طریقہ یہ ہے کہ خود کے ساتھ وقت گزارو۔ اکیلے سفر ہو یا دور کسی سیاحتی مقام پر اکیلے رہنا ہو، تنہائی میں خود کے ساتھ وقت گزارنا اکثر اعتبار سے انسان کے لئے مفید اور تعمیری ثابت ہوتا ہے۔ انسان باقی دُنیا سے تو جُدا ہو کر خود کے بہت قریب آ جاتا ہے۔ ایسے میں اُسے اپنی خوبیاں اور خامیاں جانچنا کا نادر موقع میسر آتا ہے۔ قدرتی مناظر میں تنہا رہنا اُسے ذہنی دباؤ سے دور لے جاتا ہے اور سکون مہیا کرتا ہے۔ خود اعتمادی، آزادی اور خود انحصاری جیسے جذبات بھی اس سرگرمی میں پائے جاتے ہیں۔ دراصل اس طرح انسان کمفرٹ زون سے نکل کر اپنی شخصیت کے چھپے ہوئے پہلو دریافت کرتا ہے۔ یہ ساری چیزیں انسان کی شخصیت کو نکھارنے میں کلیدی کردار ادا کرتی ہیں۔
خود کے ساتھ وقت گزارنے کا ایک لازمی جُز یہ ہے کہ آپ موبائل فون اور سماجی سائٹس سے بھی خود کو دور کر لیں۔ اگر وہاں پر ایکٹو رہیں گے تو حتمی امکان ہے کہ آپ تنہا ہو کر بھی تنہا نہیں ہوں گے۔ لہذا جب آپ موبائل اور سماجی سائٹس سے دور ہوتے ہیں تو آپ سکون کے ایک الگ مقام کو پانا شروع کر دیتے ہیں۔ آپ کے پاس بلاوجہ سوچنے اور چیزوں سے متاثر ہونے کے لئے کچھ نہیں ہوتا۔ اس اثنا میں انسان اپنی سوچوں، افکار اور اطمینان کے مختلف درجے تہہ کر سکتا ہے۔ C۔ R Long اور J۔ R Averill اپنی تصنیف Solitude میں لکھتے ہیں کہ تنہائی کا انسان کی صحت پر مثبت اثر ہوتا ہے۔ یہ انسان کی کا سٹریس کم کرتی ہے اور خود شناسی کو بڑھاتی ہے۔
ہر انسان اپنے حساب سے خود کے ساتھ گزارنے کے لئے وقت اور جگہ مختص کر سکتا ہے۔ مگر کچھ ایسی چیزیں ہیں جو ہر کسی کے ہاں مشترک ہو سکتی ہیں۔ انسان کو کسی ایسی جگہ کا انتخاب کرنا چاہیے جہاں کوئی عنصر اُس کے سکون میں خلل نہ ڈال سکے۔ موبائل فون اور سوشل میڈیا کو ترک کرنا چاہیے۔ ایسے میں انسان کو حال پر توجہ دینی چاہیے، ماضی اور مستقبل کی سوچوں سے کنارہ سود مند رہے گا۔ اُسے اپنے خیالات اور گرد و نواح میں اتنا گم ہوجانا چاہیے کہ اُسے اپنے زندگی میں چل رہے باقی معاملات بھول جائیں۔ اگر یہ سب ہو جائے تو یہ ایک شاندار تھیراپی ہوگی جو زندگی کے نشیب و فراز میں انسان کو مضبوط ثابت کرے گی۔
اگر بات کو سمیٹا جائے تو یہ کہا جائے گا کہ خود سے ملنے کا راستہ تنہائی کے صحرا سے گزرتا ہے۔ لہذا مصروف زندگی کے کچھ پل تنہائی اور شدید تنہائی میں خود کے ساتھ گزارنا، کسی سفر اور سیاحت پر تنہا نکل جانا، انسان کو خود کے قریب کرتا ہے اور شخصیت میں نکھار لانے کا موجب بن سکتا ہے۔
دوست سے بہت بڑھ کر اُس شخص کو جنم دن بہت مبارک۔

