مقامی مطابقت، قومی ہم آہنگی: نصاب سازی کی نئی جہت
تعلیم، انسان کی شخصیت سازی کا بنیادی ذریعہ ہے اور نصاب اس تعلیمی عمل کا دل و دماغ ہے۔ وقت کے ساتھ دنیا میں علم کی نوعیت، طلب اور طریقۂ ترسیل بدل رہا ہے، اور ان تبدیلیوں کے ساتھ ہم آہنگ رہنا ایک قومی، تعلیمی اور اخلاقی ذمہ داری بن چکی ہے۔ بالخصوص جب ہم بات کرتے ہیں پاکستان جیسے ملک کی جو مختلف زبانوں، ثقافتوں اور خطوں پر مشتمل ہے، تو نصاب سازی کے ہر مرحلے پر ہمیں اس تنوع کو مثبت انداز میں اپنانا اور سمو دینا چاہیے۔
بطور ایک نصاب ساز، ریویور اور ایک مضمون نگار، میرا مشاہدہ اور تجربہ یہی کہتا ہے کہ ایک موثر نصاب وہی ہوتا ہے جو نہ صرف علمی لحاظ سے مضبوط ہو، بلکہ مقامی ماحول، معاشرتی تجربات، اور علاقائی زبان و ثقافت سے جڑا ہوا بھی ہو۔ یہ بات بلوچستان سمیت پاکستان کے ہر خطے کے لیے یکساں اہمیت رکھتی ہے۔
ہمیں نصاب میں ایسے عناصر شامل کرنے کی ضرورت ہے جو بچوں کی ذہنی، جذباتی اور سماجی سطح پر ان کی اپنی زندگی سے مطابقت رکھتے ہوں۔ جب بچہ اپنی کتابوں میں اپنے ماحول، اپنے مسائل، اپنے ہیروز اور اپنی زبان کی جھلک دیکھتا ہے تو وہ تعلیم سے جُڑتا ہے، سیکھنے کے عمل کو بوجھ نہیں بلکہ خوشی محسوس کرتا ہے۔ یہی تعلق علم کو عمل میں تبدیل کرنے کا راستہ فراہم کرتا ہے۔
بلوچستان، پاکستان کا وہ خطہ ہے جو قدرتی وسائل، ثقافتی تنوع اور تاریخی ورثے سے مالا مال ہے، لیکن یہاں کے تعلیمی چیلنجز مخصوص نوعیت کے ہیں۔ ان چیلنجز کا حل یہ نہیں کہ ہم بلوچستان کو باقی ملک سے الگ کریں، بلکہ یہ ہے کہ ہم قومی نصاب میں مقامی مطابقت کو شامل کر کے ایک ایسا ماڈل تشکیل دیں جو پورے پاکستان کے لیے مفید، قابل قبول اور موثر ہو۔
نصاب کی تشکیل میں شفافیت اور مقامی مشاورت کلیدی اہمیت رکھتی ہے۔ ایک ایسی نصابی ساخت جس میں صرف مرکزی اداروں کی رائے کو فوقیت دی جائے، زمینی حقائق سے کٹی ہوئی ہوتی ہے۔ اس کے برعکس، جب ہم مقامی اساتذہ، ماہرین تعلیم، اور تعلیمی رہنماؤں کو شامل کرتے ہیں، تو نصاب نہ صرف حقیقت پسندانہ ہوتا ہے بلکہ اس کا نفاذ بھی بہتر طریقے سے ممکن ہوتا ہے۔
اس وقت ضرورت اس امر کی ہے کہ ہم پاکستان کے تمام خطوں کے لیے ”ایک جیسا“ نہیں بلکہ ”مطابقت رکھنے والا“ نصاب تشکیل دیں۔ ایسا نصاب جو قومی مقاصد، عالمی رجحانات اور مقامی ضروریات کا حسین امتزاج ہو۔ بلوچستان کے بچوں کو بھی وہی معیارِ تعلیم دیا جائے جو ملک کے دیگر شہروں میں میسر ہے، مگر اس انداز میں جو ان کے جغرافیائی، ثقافتی اور معاشرتی پس منظر سے ہم آہنگ ہو۔
ہمیں اختلافات کی نہیں، ہم آہنگی کی زبان بولنی ہے۔ ہمیں تفریق کے نہیں، تنوع کے علمبردار بننا ہے۔ بلوچستان ہو یا گلگت، کراچی ہو یا سوات۔ ہر بچے کو حق ہے کہ وہ ایسا نصاب پڑھے جو اُس کی شناخت کا احترام کرے، اُس کے خوابوں کو سمت دے، اور اُس کے اندر اعتماد پیدا کرے۔
میں بطور ایک ریویور اور ڈویلپر یہ سمجھتی ہوں کہ اگر ہم نصاب سازی کو محض مرکزی حکم یا روایتی سانچے کی بجائے ایک مشاورتی، تحقیق پر مبنی اور مقامی ربط رکھنے والا عمل بنا دیں، تو ہم نہ صرف تعلیم کی نوعیت بدل سکتے ہیں بلکہ اپنے بچوں کے مستقبل کو بھی نئی جہت دے سکتے ہیں۔ یہ ایک قومی ضرورت بھی ہے اور اجتماعی ذمہ داری بھی۔
تعلیم صرف کتابوں کا بوجھ نہیں، شعور کی روشنی ہے۔ اور یہ روشنی اُس وقت تک مکمل نہیں ہو سکتی جب تک وہ ہر بچے کے دل و دماغ تک اس کی اپنی زبان، اپنی زمین، اور اپنی زندگی کی زبان میں نہ پہنچے۔


