منزل باراں
بادل چھائے تھے، گہرے اور بھاری، جیسے آسمان نے کوئی پرانا غم سنبھالا ہوا ہو۔ بارش پوری آب و تاب سے برس رہی تھی، دن چڑھتے ہی شام کا گمان ہونے لگا تھا۔ شہر کی سڑکیں، گلیاں، مکان سب کچھ بھیگتا جا رہا تھا اور وہ بھی۔
آج سرکاری چھٹی تھی، لیکن وہ حسبِ معمول ناشتہ کیے بغیر جلدی سے نکلا اور ایک طویل مسافت کے بعد بس اسٹاپ پر آ کھڑا ہوا۔ عمر کی ساٹھویں سیڑھی پر قدم رکھ چکا تھا، اور یہ روز کا معمول، یہ سفر، یہ بارش، یہ تھکن سب اُس کے شناسا تھے۔ زندگی نے کبھی اسے چھاؤں دی، کبھی دھوپ۔ لیکن اطمینان؟ وہ شے تو جیسے کسی اور زمانے میں رہ گئی تھی۔
بس آئی تو وہ بغیر کسی تردد کے سوار ہو گیا۔ نشست کہیں نہ ملی۔ سب موبائل کی اسکرینوں میں گم، کسی کو دائیں بائیں کا ہوش نہ تھا۔ کاغذی ہدایتیں موجود تھیں، ”بزرگوں، خواتین، معذوروں کے لئے نشست چھوڑیں“ ، مگر اب لوگ نظریں بچانا سیکھ چکے تھے۔ وہ خاموشی سے ایک کونے میں کھڑا رہا، ہلکا سا بھیگتا ہوا، سوچوں میں گم۔
”یہ سماج بھی ایک بس کی مانند ہے،“ وہ سوچنے لگا، ”جہاں ہر کوئی اپنی باری کا انتظار کر رہا ہے، مگر کبھی باری آتی ہی نہیں۔“
دل میں کسی پر شکوہ نہیں، صرف ایک سوال تھا زندگی کی بنیادی ضروریات حاصل ہونے کے باوجود یہ خالی پن کیوں؟ کبھی کبھار تو وہ خود اپنی قسمت پر حیران رہ جاتا۔ پھر دل ہی دل میں رب کا شکر بھی ادا کرتا اور اُس سے ایک چھوٹا سا مطالبہ بھی آج صرف اتنا کہ دفتر خیریت سے پہنچ جاؤں، بارش میں بھیگ گیا تو دن برباد ہو جائے گا۔
بس کی کھڑکی سے بارش کے قطرے یوں بہہ رہے تھے جیسے وقت کی گردش۔ وائپر خراب تھا، اور وہ ڈرائیور کے چہرے کی سنجیدگی کو بغور دیکھ رہا تھا۔ کہیں کوئی غلطی نہ ہو جائے۔ ایک تو سفر کی تاخیر، دوسرے باہر نکلتے ہی بارش کی ٹھنڈی تلوار۔
دفتر کے کولیگ سے میسیج پر حال چال کا تبادلہ ہوا تو کچھ دیر کو دھیان بٹا۔ ”فکر نہ کرو، سب بہتر ہو جائے گا۔“ جواب میں یہی الفاظ ملے۔ مگر دل تو بے چین ہی رہا۔ ذہن سڑکوں پر بہتے پانی کی تصویریں کھنگالتا رہا، اور اندر ایک پرانا گیت گنگنانے لگا وہی جو بچپن میں بارش کے دنوں میں بے فکری سے سنا کرتے تھے۔
”کاش آج چھٹی کر لیتا، بچوں کے ساتھ بیٹھ کر چائے پیتا، بیوی کے بنائے پکوڑے کھاتا۔ یہ بارش تو ویسے بھی مفت کی تفریح ہے۔“
بس دھیرے دھیرے منزل کی طرف رواں تھی۔ موبائل اسکرین پر شہر کی دگرگوں صورتحال کی خبریں، سڑکوں پر تیرتا پانی، بند راستے، اور سہمے چہرے۔ سب دکھائی دے رہے تھے۔
آخری اسٹاپ پر اترا تو وہاں واقعی پانی جمع تھا گھٹنوں تک۔ بارش اب بھی مسلسل برس رہی تھی۔ وہ کچھ لمحے وہاں کھڑا رہا۔ ایک دبی سی صدا اندر سے نکلی، ”کاش آج چھٹی کر لیتا۔“ مگر فوراً دب گئی، جیسے کئی برسوں کی تربیت نے اس خواہش کو سننے سے انکار کر دیا ہو۔
بارش میں وہ دھیرے دھیرے دفتر کی طرف بڑھنے لگا۔ پاؤں کیچڑ میں دھنس رہے تھے، کپڑے بھیگ چکے تھے، اور دل پر ایک نمی سی چھائی ہوئی تھی۔ آنکھیں نم تھیں، شاید بارش کی وجہ سے، شاید جذبات کی شدت سے۔
چارلی چپلن یاد آیا۔ ”میں بارش میں رو لیتا ہوں تاکہ کوئی دیکھ نہ سکے۔“
وہ آسمان کی طرف دیکھ کر مسکرایا، ایک ہلکی سی آہ بھر کر بولا:
”یہ دن بھی گزر جائے گا۔“
دفتر کے گیٹ پر پہنچ کر اس نے گہرے سانس لیا۔ خود کلامی کرتے ہوئے آہستگی سے کہا:
”میں کامیاب ہو گیا۔ منزل پر پہنچ گیا۔“
بارش اب بھی برس رہی تھی، لیکن وہ تھم چکا تھا۔


