ادب اور ادیبوں سے جڑے طنزیہ و مزاحیہ قصے


عطاء الحق قاسمی جی کہتے ہیں کہ
ایک صاحب میرے پاس اپنی کتاب کا نیا ایڈیشن لائے اور بولے
”لیں جی قاسمی صاحب!
میری کتاب کا دوسرا ایڈیشن بھی آ گیا ہے،
قاسمی صاحب نے کتاب لیتے ہوئے رسان سے کہا
”پہلا کہاں گیا؟
کہتے ہیں کہ اس پر وہ صاحب جانے کیوں ناراض ہو گئے اور دوبارہ کبھی ان کے پاس نہیں آئے۔

فیصل آباد میں ایک شاعری کی کتاب کی تقریب پذیرائی ہوئی تو سٹیج سیکرٹری نے صاحب کتاب کو سٹیج پر کچھ ان الفاظ میں بلایا کہ

”اب میں دعوت دیتا ہوں۔ خالق کائنات کو“
اصل میں اس کتاب کا نام ”کائنات“ تھا۔

کہتے ہیں کہ ساہیوال میں ایک مشاعرہ تھا تو منتظمین نے لاہور سے ایک فارم مہمان خصوصی کو بلا لیا، اب جو بھی شاعر یا شاعرہ ڈائس پر پہنچے اور کلام سنانے لگے تو پہلے سامنے بیٹھے ایک صاحب کو کچھ یوں مخاطب کرے

آتش صاحب! ذرا شعر دیکھیے گا
آتش صاحب! مطلع عرض ہے
آتش صاحب! مقطع پر توجہ کیجیے گا
آتش صاحب! حاصلِ کلام شعر ہے

آتش صاحب یہ آتش صاحب ہی ہوتے دیکھ کر لاہور سے آئے مہمان خصوصی بے چینی سے کرسی پر بار بار پہلو بدلنے لگ گئے اور بالآخر ان کا پیمانہ صبر لبریز ہو گیا اور انہوں نے ساتھ بیٹھے ایک صاحب سے پوچھا

حضرت! یہ آتش صاحب کون ہیں؟ کیا چیز ہیں؟ کیا بلا ہیں؟
تو ان صاحب نے مسکراتے ہوئے بتایا کہ
جناب! اس مشاعرے پر ساری انویسٹمنٹ ان صاحب یعنی آتش صاحب ہی کی ہے ”

اس پر مہمان خصوصی نے ایک لمبی سی ہوں کی اور آرام سے بیٹھ گئے اور جب رات گئے ان کی باری آئی تو وہ ڈائس پر پہنچے اور بولے

”میں جب سے آیا ہوں تو میں نے یہاں ایک بڑی خوبصورت روایت دیکھی ہے کہ جو بھی صاحب یا صاحبہ یہاں اپنا کلام سنانے پہنچے /پہنچی ہیں تو انہوں نے اپنا کلام آتش صاحب کی نذر کیا تو میں بھی اسی خوبصورت روایت کو آگے بڑھاتے ہوئے اپنا کلام“ نذر آتش ”کرتا ہوں۔

کراچی کے ایک شاعر کو انقلابی شاعر فیض احمد فیض سے بڑی چڑ تھی اور وہ ان کی تضحیک کا کوئی بھی موقع ہاتھ سے جانے نہیں دیتے تھے، ایک محفل میں وہ گفتگو کر رہے تھے کہ اچانک ماتھے پر بار بار ہاتھ مارنے لگ گئے

کسی نے پوچھا
کچھ بھول گئے ہیں کیا؟
کہنے لگے
جی ہاں۔ ایک شاعر کا نام بھول گیا ہوں اور یاد کرنے کی کوشش کر رہا ہوں
کسی نے پوچھا
کچھ اشارہ سا دیجیے، ہم بھی کوشش کرتے ہیں
لمحہ بھر بعد لگے فرمانے کہ
اس شاعر کا نام اس وزن پر ہے جو عورتوں کو ہر ماہ ایک مسئلہ پیش آتا ہے
سب ششدر رہ گئے، ایک صاحب نے پوچھا
سمجھ نہیں آئی حضرت
اچانک زور سے چلائے اور کہنے لگے
لو یاد آ گیا
کسی نے کہا
شاعر کا نام؟
کہنے لگے
ابے نہیں۔ وہ عورتوں کا مسئلہ۔ وہ کیا ہے۔ حیض۔ ہاں حیض،

اس پر کچھ نے زوردار قہقہہ لگایا اور کچھ مسکرا پڑے تھے کہ دیکھیے نفرت اور تعصب انسان کو کس انتہا تک لے جاتی ہے۔

کہتے ہیں کہ کچھ عرصہ پہلے ڈی جی خان میں ایک مشاعرے کے بعد ڈپٹی کمشنر نے جب رات گئے معاوضے دیے تو سینیئر شعراء کو کم اور خوبصورت اور نو آموز شاعرات کو بھاری بھرکم مشاہرہ دیا تو ایک سینئر شاعر نے ڈپٹی کمشنر سے کہا

”رات ہمارے ساتھ بہت زیادتی کی گئی ہے“
تو ڈپٹی کمشنر صاحب انہیں پکڑ کر کونے میں لے گئے اور آہستہ سے بولے
”حضرت؛آپ بھی کمال کرتے ہیں، اس عمر میں ایسی باتیں چھپائی جاتی ہیں یوں بتائی نہیں جاتیں“
(جاری ہے )

Facebook Comments HS